05/10/2026
قمار/جُوا
حقیقت، حکم اور مفاسد
جُوا وہ مالی معاملہ ہے جس میں نفع و نقصان جیت اور ہار کے احتمال کے ساتھ وابستہ ہو، اور فریقین میں سے ایک کا مال دوسرے کے لیے بغیر کسی حقیقی عوض کے حاصل ہو،
قمار کو میسر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی صورت یا نام خواہ کچھ بھی ہو، اگر اس میں یہی حقیقت پائی جائے تو وہ قمار کے حکم میں ہے۔
حکم:
قمار حرام ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے رجس اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے اجتناب کا حکم دیا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ° إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾
[المائدة: 90-91]
اے ایمان والو! بے شک شراب، جُوا، بتوں کے لیے نصب کیے گئے آستانے اور پانسے (فال کے تیر) سب ناپاک، شیطانی کام ہیں؛ لہٰذا ان سے بالکل بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ.
شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جُوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے، اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم باز آؤ گے؟
حرمت کی حکمتیں:
١۔ محنت کے بجائے قسمت پر انحصار:
قمار انسان کو محنت، جدوجہد اور کسبِ حلال کے بجائے قسمت اور اتفاق کے ذریعے مال حاصل کرنے کا عادی بناتا ہے۔
٢۔ مال کی بربادی:
قمار میں انسان اپنا مال خطرے میں ڈالتا ہے، جس سے جمع پونجی ضائع، قرض میں اضافہ اور اہل و عیال کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
٣۔ گھریلو اور معاشرتی فساد:
مالی نقصان کے نتیجے میں گھر کا سکون برباد اور باہمی اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں چونکہ ایک کی جیت دوسرے کی ہار پر قائم ہوتی ہے، اس لیے قمار دلوں میں بغض، حسد اور دشمنی پیدا کرتا ہے
٤۔ نماز اور ذکر سے غفلت:
جیتنے والا مزید جیتنے کی حرص اور ہارنے والا نقصان پورا کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا ہے، جس سے اللہ کے ذکر اور نماز سے غفلت پیدا ہوتی ہے۔
٥۔ وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع:
قمار انسان کی عمر، ذہنی توانائی اور صلاحیتوں کو ایسے مشغلے میں صرف کرتا ہے جس سے کوئی حقیقی مفید پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔
٦۔ جرائم کی طرف پیش قدمی:
نقصان پورا کرنے کی خواہش بعض لوگوں کو چوری، خیانت، رشوت، اختلاس اور دھوکا دہی جیسے جرائم تک پہنچا سکتی ہے۔
٧۔ اخلاقی بگاڑ:
قمار کے ساتھ جھوٹ، فریب، غش، حرص اور بداعتمادی جیسی برائیاں پیدا ہوتی ہیں، اور بعض اوقات اس کے ماحول میں شراب، نشہ اور دیگر محرمات بھی شامل ہوجاتے ہیں۔
٨۔ ذہنی اضطراب اور حرص:
قمار انسان کو جیت اور ہار کے مسلسل چکر میں مبتلا رکھتا ہے۔ جیت مزید کی خواہش پیدا کرتی ہے اور ہار دوبارہ کھیلنے پر ابھارتی ہے، جس سے قناعت اور ذہنی سکون متاثر ہوتے ہیں۔
اسلام میں مال کمانے کا راستہ محنت، تجارت، صنعت، زراعت اور دیگر جائز ذرائع ہیں، جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے مفید ہیں۔ قمار اس کے برعکس بغیر حقیقی پیداوار اور جائز عوض کے مال کے انتقال کا ذریعہ بنتا ہے اور انسان میں آسان و فوری دولت حاصل کرنے کی خواہش پیدا کرتا ہے اسی لیے قمار کی خرابی صرف مالی نقصان تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ دین، اخلاق، خاندان، وقت اور معاشرتی تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے.
حلال و حرام کا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے. اس لیے نہ کسی حرام چیز کو اپنی خواہش سے حلال قرار دینا جائز ہے اور نہ کسی حلال چیز کو حرام کہنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ﴾
اور اپنی زبانوں کے جھوٹے بیان کی بنیاد پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو۔
[النحل: 116]
اور فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ﴾
اے ایمان والو! اللہ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کی ہیں، انہیں حرام قرار نہ دو۔
[المائدة: 87]
قمار بظاہر آسانی سے مال حاصل کرنے کا ذریعہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ باطل کمائی، مال کی بربادی، حرص، عداوت، وقت کے ضیاع اور اللہ کے ذکر و عبادت سے غفلت کا سبب بنتا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے مفاسد بیان کرنے کے بعد فرمایا:
﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾
’تو کیا تم باز آؤ گے؟‘
[المائدة: 91]
پس مسلمان کے لیے لازم ہے کہ قمار کی ہر اس صورت سے اجتناب کرے جس میں اس کی مذکورہ حقیقت پائی جائے اور رزق کے لیے حلال و جائز ذرائع اختیار کرے-
📝عطاء الرحمن سنابلي