18/08/2024
کشمیر کے مذہبی میدان میں یا یوں کہیں کہ مذہبی سیاست میں یہ بھی سننے کو ملا کہ " مجھے (کسی ولی الله ) کی بارگاہ میں پہلے سے ہی مقبولیت حاصل ہے ۔ اسی طرح یہ بھی سننے کو ملا کہ " فلاں کو فلاں ولی الله نے سجایا سنھوارا ہے " اور یہ سب منبر رسول صلی الله عليه وسلم سے کہا گیا۔ بے شک حق تعالیٰ نے توبہ کے دروازے بند نہیں کئے اور تا قیام قیامت بندوں کو توبہ کا موقع فراہم کیا جائے گا اور توبہ قبول ہوتی رہے گی ۔ مگر یہ خود کی مقبولیت کے دعوے یا دوسروں کی مقبولیت کی اسناد وہ بھی منبر پاک سے ۔
یہ بات عجیب سے عجیب تر ہے ۔ ہم اُس نبی اعظم صلی الله عليه وسلم کے امتی ہیں جنہوں نے ہر دم ہر آن استغفار کیا اور امت کو استغفار کرنے کی تعلیم دی ۔
جس دین میں یہ تعلیم دی گئی ہو کہ اگر آپ کو کچھ خیر پہونچے تو اُس کو الله کا کرم مانو اور کچھ شر پہنچے تو اس کی نسبت اپنے گناہوں سے کرو تو اُس میں مقبولیت کے دعوے کرنے کی کیا حیثیت۔
جن اولیاء کی بارگاہ میں مقبولیت کا دعویٰ کیا جارہا ہے خود انہوں نے بھی ایسے دعوے کئے نہیں اور اگر کسی سے ایسا ثابت بھی ہے تو وہ وجد کی حالت میں ہے ۔اولیاء کرام نے بھی ہمیشہ توبہ و استغفار کی تعلیم دی ہے ۔
علماء حق سے گذراش ہے کہ ایسے دعوے کرنے والوں کی اور ایسی اسناد بانٹنے والوں کی گرفت ہو کیونکہ اس سے عوام کا بڑی گمراہی میں پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔