Sonawari Bait-Ul-Mall

Sonawari Bait-Ul-Mall Works in Tehsil Sonawari for Orphans Widows ,Destitutes, Helpless people, Orphan Girls for Marriage,

https://www.facebook.com/share/p/1JVNwhmxfG/
10/08/2025

https://www.facebook.com/share/p/1JVNwhmxfG/

ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔
جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"
"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔
"کیوں؟"
"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
"خرید لیتے"
"پیسے نہیں تھے"
"گھر والوں سے لے لیتے"
"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"
"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"
"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"
"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"
"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"
فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔

("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے)
copy

صدقات ذکوٰہ و خیرات کا حقدار ادارہ
27/03/2025

صدقات ذکوٰہ و خیرات کا حقدار ادارہ

18/03/2025

حوریہ کا تعلق الجزائر سے ہے،کالج میں پڑھائی کے دوران ایک کلاس فیلو لڑکے سے انہیں محبت ہوئی،دونوں نے نکاح کرلیا ۔

شادی کو پندرہ سال گزر گئے اس دوران ان کے ہاں آٹھ بچوں کی پیدائش ہوئی لیکن اولاد کو لیکر یہ عجیب آزمائش سے گزرتے رہے،کوئی بچہ شادی کے چھ ماہ بعد وفات پاتا کوئی سال دو سال بعد اس طرح انکے آٹھ کے آٹھ بچے فوت ہوگیے ۔

شادی کے بعد گزرا ہر ماہ و سال ان کیلئے اذیت کا تھا،اولاد کی اموات کے بوجھ سے زندگی بوجھل تھی کہ حوریہ کا شوہر بھی اس دنیا سے چلا گیا ۔

شوہر کی جدائی کے کچھ عرصے بعد حوریہ کو کینسر کی تشخیص ہوئی حوریہ کیلئے گزری زندگی دکھوں سے بھری تھی ہی اب تو مستقبل بھی تاریک تھا ۔

اسپتال کے بیڈ میں پڑے کینسر سے لڑتی حوریہ کو خیال آیا ہے اس بیماری کو شکست دے کر چند سال جی بھی لوں تو کس کیلئے ؟
ماں باپ بچپن میں گزر گیے تھے،اولاد بھی بچپن میں یکے بعد دیگرے داغ مفارقت دیتے گیے،شوہر بھی چلا گیا ۔
اب جینا کس کیلئے ہے،جینے کا کوئی مقصد بھی تو نہیں ہے ۔

حوریہ انہی سوچوں میں خود سے لڑ رہی تھی کہ اچانک ان کے دماغ میں ایک خیال آیا یہ اسپتال سے نکلی اور سیدھا گھر پہنچی،ان کے جسم میں ایک عجیب توانائی امڈ آئی تھی،انہوں نے گھر کی سیٹنگ اور صفائی کرلی،کچھ چادریں ،بستر کمبل اضافی منگوا لیے،انہیں زندگی کا مقصد مل چکا تھا،اب انہیں جینا تھا،دوسروں کیلئے جینا تھا۔

حوریہ نے اپنے گھر کو “دارالایتام” قرار دیا،انہوں نے یتمیوں کی کفالت ،تربیت اور انکی پرورش کا کام شروع کر دیا ۔

یہ ماں بن کر ان یتمیوں کی نگہداشت کرتی ،کچھ عرصے میں دو سے چار اور چار سے آٹھ ہوتے یتمیوں کی خاصی تعداد انکے ساتھ رہنے لگی،یہ پورا پورا دن اور پوری پوری رات یتیم بچوں کے ساتھ گزارتی،ان بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کیلئے یہ خود بھاگ دوڑ کرتی،یتیم بچوں کیلئے کھلونے خرید لاتی ان بچوں کے ساتھ یہ گھنٹوں کھیلتی ۔

حوریہ کو دارالایتام کھولے کئی سال گزر چکے تھے اس دوران اللہ تعالی کی مدد سے انہوں نے کینسر کو بھی شکست دی،حوریہ اور اس کے کام کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی،جزائر کے لوگوں میں یہ “ام الايتام " یتمیوں کی ماں کے نام سے مشہور ہوئیں،حکومتی سطح پر انکی حوصلہ افزائی اور انکی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔

اب پورے جزائر میں حوریہ کی نگرانی میں درجنوں یتیم خانے چل رہے ہیں،یہ اب اپنی زندگی سے خوش ہیں،انہوں نے ایتام کی کفالت کے علاوہ بھی کئی فلاحی کام شروع کر رکھے ہیں۔

سبحان اللہ زندگی بھی عجیب گورکھ دھندا ہے جہاں لگے کہ سب کچھ ختم ہوچکا وہی سے ایک بھرپور آغاز ممکن ہے ۔

زندگی بہت خوبصورت ہے بس اسے جینے کا انداز ہمیں آنا چاہیے اس لیے دکھوں اور کلفتوں کے باوجود زندگی جینا سیکھیں،زندگی کا مقصد طے کرلیں،دوسروں کی خوشیوں کو اپنا مقصد بنانے والے کبھی مستقل غم میں نہیں رہ سکتے،یہ قانون قدرت ہے کہ پھول اگانے والے خوشبووں میں رہتے ہیں۔

بقلم :
فردوس جمال!!!

FOR SADKAAT ZAKAAT AND KHAIRAAT0089040100016762JAKA0SUMBAL
12/03/2025

FOR SADKAAT ZAKAAT AND KHAIRAAT
0089040100016762
JAKA0SUMBAL

11/03/2025

Address

Sumbal
193501

Telephone

01954230230

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sonawari Bait-Ul-Mall posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sonawari Bait-Ul-Mall:

Share