10/08/2026
شہداء کے بارے میں شیخ جنتی کے توہین آمیز کلمات پر شدید مذمت
شہداء اسلام کا عظیم، مقدس اور ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ انہوں نے حق، عزت، آزادی اور مظلوموں کے دفاع کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تاریخِ اسلام میں لازوال قربانیوں کی مثال قائم کی۔ ان کی عظمت، کردار اور مقامِ شہادت کے بارے میں نازیبا یا توہین آمیز زبان کا استعمال نہ صرف انتہائی افسوسناک اور ناشائستہ فعل ہے بلکہ لاکھوں کروڑوں عقیدت مندوں اور وابستگانِ شہداء کی دل آزاری کا بھی باعث بنتا ہے۔
پیروانِ ولایت جموں و کشمیر شیخ جنتی کی جانب سے شہید رہبر اور دیگر شہداء کے بارے میں منسوب کیے گئے توہین آمیز، نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ کلمات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کی آڑ میں شہداء کی توہین، ان کی عظیم قربانیوں کو مجروح کرنا یا ان کے مقدس مقام کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
خصوصاً ایک عالمِ دین اور دینی شخصیت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے منصب اور ذمہ داری کی نزاکت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے گفتگو میں تقویٰ، بصیرت، حکمت اور زبان کی حفاظت کا مظاہرہ کرے۔ ایسے حساس معاملات میں غیر محتاط اور اشتعال انگیز الفاظ نہ صرف دینی و اخلاقی اقدار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ امت کے درمیان بددلی، انتشار اور باہمی فاصلے پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
شہداء کے احترام اور ان کی عظیم قربانیوں کی پاسداری کسی فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ پوری امت کا مشترکہ فریضہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات اور فکری اختلافات کو تہذیب، احترام اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھا جائے اور ایسی گفتگو سے مکمل اجتناب کیا جائے جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح اور امت کی وحدت کو کمزور کرے۔
ہم شیخ جنتی سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہداء کے بارے میں اپنے مذکورہ کلمات سے واضح، دوٹوک اور غیر مبہم انداز میں رجوع کرتے ہوئے معذرت پیش کریں اور آئندہ اس نوعیت کے بیانات سے گریز کریں۔ شہداء کا احترام، ان کی قربانیوں کی پاسداری اور ان کے مقدس مقام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اخلاقی و دینی ذمہ داری ہے۔
جاری کردہ:
پیروانِ ولایت جموں و کشمیر
10 اگست 2026