Al-Marjan Hajj & Umrah Services

Al-Marjan Hajj & Umrah Services Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Marjan Hajj & Umrah Services, Community Service, Duderhama Ganderbal, Srinagar.

UMRAH BOOKINGS OPEN 2025-26
QUALITY SERVICES IN AFFORDABLE RATES

Your Guide to The Blessed Journey...
آپکے سفرِمقدّس کا ہمسفر

ہمارا مقصد عُمرہ ہر کسی کے لئے...

30/04/2026

مسجد العِظام سعودی عرب کے تاریخی شہر العُلا میں واقع ایک قدیم اور بابرکت مسجد ہے، جس کا تعلق براہِ راست نبی کریم ﷺ کے سف...
12/04/2026

مسجد العِظام سعودی عرب کے تاریخی شہر العُلا میں واقع ایک قدیم اور بابرکت مسجد ہے، جس کا تعلق براہِ راست نبی کریم ﷺ کے سفرِ تبوک سے جوڑا جاتا ہے۔

وجۂ تسمیہ

اس مسجد کو "مسجد العِظام" (یعنی ہڈیوں والی مسجد) اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ 9 ہجری میں غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران وادی القریٰ (العُلا) پہنچے تو نماز کے لیے ایک جگہ مقرر فرمائی۔ اس وقت وہاں نہ اینٹیں تھیں اور نہ پتھر، چنانچہ آپ ﷺ نے قبلہ کی نشاندہی ہڈیوں کے ذریعے فرمائی جو وہاں موجود تھیں۔ اسی نسبت سے بعد میں اس مقام کو "مسجد العِظام" کہا جانے لگا۔

تاریخی اہمیت
نبی کریم ﷺ نے اسی مقام پر نماز ادا فرمائی۔
بعد میں مقامی لوگوں نے یہاں مسجد تعمیر کی، جو ایک عرصے تک بستی کی جامع مسجد رہی۔
بعض تاریخی روایات میں اس مقام کو "صعید قرح" بھی کہا گیا ہے، جہاں آپ ﷺ نے محراب کی جگہ ہڈی سے نشان لگایا تھا۔
تعمیر اور ساخت
مسجد پتھروں سے بنائی گئی ہے۔
اس کی اندرونی دیواریں مٹی سے ہموار کی گئی ہیں، جو قدیم عرب طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
وقتاً فوقتاً اس کی مرمت اور تجدید ہوتی رہی ہے۔
جدید دور میں بحالی

آخری بار 1419 ہجری میں العُلا کے ایک صاحبِ خیر نے اس مسجد کی مرمت کروائی، جس کے بعد یہ دوبارہ آباد ہوئی اور اپنی تاریخی حیثیت کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔

یہ مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کے مبارک سفر کی یادگار بھی ہے، جو ہمیں سادگی، اخلاص اور دین سے وابستگی کا درس دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے مقامات کی قدر کرنے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزدلفہ… ایک ایسا مقام جسے نہ کوئی بھول سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے۔غور کیجیے: عرفات حدودِ حرم ...
12/04/2026

مزدلفہ… ایک ایسا مقام جسے نہ کوئی بھول سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

غور کیجیے: عرفات حدودِ حرم سے باہر ہے، جبکہ منیٰ اور مزدلفہ حدودِ حرم کے اندر ہیں۔ اس فرق کی ایک نہایت خوبصورت حکمت بعض اہلِ علم نے بیان کی ہے۔

روایت ہے کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ میں مکہ آیا تو امام جعفر صادق کو ابطح کے مقام پر دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ موقف (عرفات) کو حرم سے باہر کیوں رکھا گیا اور اسے مشعرِ حرام (مزدلفہ) میں کیوں نہیں رکھا گیا؟

انہوں نے بڑی حکمت بھری بات ارشاد فرمائی:

کعبہ اللہ کا گھر ہے، حرم اس کا پردہ ہے، اور عرفات اس کا دروازہ ہے۔ جب بندے اللہ کی طرف آتے ہیں تو انہیں پہلے دروازے پر روک لیا جاتا ہے تاکہ وہ عاجزی کریں، گڑگڑائیں اور دعا کریں۔

پھر جب انہیں اجازت ملتی ہے تو وہ اگلے مرحلے یعنی مزدلفہ پہنچتے ہیں۔ یہاں ان کی دعائیں، ان کی محنت اور ان کی عاجزی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماتا ہے۔

جب رحمت نازل ہو جاتی ہے تو پھر انہیں قربانی کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور جب وہ اپنے مناسک مکمل کر لیتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں تو آخرکار انہیں اللہ کے گھر یعنی کعبہ کی زیارت کی اجازت ملتی ہے۔

اسی طرح جب ان سے پوچھا گیا کہ ایامِ تشریق میں روزہ رکھنا کیوں مکروہ ہے؟
تو انہوں نے فرمایا:

یہ اس لیے کہ یہ دن اللہ کی مہمانی کے ہیں، اور مہمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے ہاں روزہ رکھے۔

یہ حکمت ہمیں حج کے ہر مرحلے کی گہرائی اور روحانیت کو سمجھاتی ہے—کہ یہ صرف سفر نہیں بلکہ بندے کا اپنے رب کی طرف ایک باقاعدہ، مرحلہ وار اور محبت بھرا لوٹنا ہے۔

🏛 Many pilgrims leave Makkah without ever knowing this place exists.There is a FREE exhibition about Masjid al-Haram and...
12/03/2026

🏛 Many pilgrims leave Makkah without ever knowing this place exists.

There is a FREE exhibition about Masjid al-Haram and Masjid Nabawi — but it’s not inside the Haram area.

It’s called The Exhibition of the Two Holy Mosques Architecture.🕋

Inside you can see:

✅️ Old doors of the Kaaba
✅️ Pieces of the Kiswah from different years
✅️ Historical columns and architectural parts from the Haram
✅️ Detailed models of Masjid al-Haram and Masjid Nabawi

📍 Located in Umm Al-Joud, about 15–20 minutes by car from Masjid al-Haram.
(Not a place you can walk to from the Haram.)

🕘 Opening hours:
Sunday – Thursday, 8 AM – 8 PM
Free enterance

If you are interested in the history of the two holy mosques, this place is worth visiting.

Save this for your next Umrah. 🤍

غار سجدہ مدینہ منورہ کے قریب بنی حرام کے علاقے میں واقع ایک قدیم مقام کے طور پر معروف ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ یہاں نبیِ ...
06/03/2026

غار سجدہ مدینہ منورہ کے قریب بنی حرام کے علاقے میں واقع ایک قدیم مقام کے طور پر معروف ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ یہاں نبیِ کریم ﷺ کو حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت کے بارے میں خوشخبری دی گئی—کہ آخرت میں آپ ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں ناامید نہیں کیا جائے گا۔ اس بشارت پر محمد ﷺ نے بطورِ شکر طویل سجدہ ادا فرمایا، اسی نسبت سے اسے “غارِ سجدہ” کہا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر یہاں ایک قبہ بھی قائم تھا جو بعد میں ہٹا دیا گیا۔ وقت کے ساتھ اس مقام کی ظاہری صورت بدلتی رہی، مگر اہلِ محبت کے دلوں میں اس کی نسبت باقی رہی۔

یہ مقام ہمیں ایک بڑا سبق دیتا ہے:
جب بھی اللہ کی طرف سے خوشخبری یا نعمت ملے، تو شکر کے سجدے میں جھک جانا ہی بندگی کا کمال ہے۔

اصل برکت پتھروں میں نہیں،
اصل برکت نسبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت میں ہے۔

اگر ہم شکر، عاجزی اور امت کی فکر کو اپنی زندگی میں زندہ کر لیں تو یہی حقیقی “غارِ سجدہ” ہماری زندگی میں قائم ہو جائے گا۔

⚠️ If Your Umrah Flight Gets Delayed — Do THIS.First, don’t panic.Most delays right now are safety-related.It does NOT m...
05/03/2026

⚠️ If Your Umrah Flight Gets Delayed — Do THIS.

First, don’t panic.

Most delays right now are safety-related.
It does NOT mean your Umrah is cancelled.

If you are still at departure airport:

• Check updates directly from your airline (not only group chats).
• Monitor your booking status regularly.
• Inform your hotel immediately if arrival time changes.
• If booked through an agent, ask them to update the hotel for you.
• Keep written proof of delay from the airline.

About your hotel in Makkah or Madinah:

• Some hotels may release rooms if arrival is very late without notice.
• Communication is important — update them as early as possible.
• Keep delay proof in case clarification is needed.

If you are in transit:

• Stay near your airline transfer desk.
• Airlines usually rebook transit passengers automatically.
• Keep your phone charged.
• Keep passport, visa, medication and essentials in your hand carry.
• Have some cash or a working card for food or small expenses if waiting is long.
• Be prepared for longer waiting time.

Transit passengers are under airline responsibility — you will not be abandoned.

Most important:

A delay does not reduce your reward.
Allah sees your intention.
Even the waiting is part of your journey.

Stay patient.
Stay calm.
Safety comes first.

May Allah protect every pilgrim and grant ease to those travelling 🤍

مشربہ اُمِّ ابراہیم   مدینہ منورہ کا مبارک مقاممدینہ منورہ میں واقع مسجد مشربہ اُمِّ ابراہیم اُن تاریخی مقامات میں سے ہے...
05/03/2026

مشربہ اُمِّ ابراہیم مدینہ منورہ کا مبارک مقام
مدینہ منورہ میں واقع مسجد مشربہ اُمِّ ابراہیم اُن تاریخی مقامات میں سے ہے جہاں رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کی یادیں محفوظ ہیں۔روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس مقام پر نماز ادا فرمائی۔ اس مسجد کا نام مشربہ اُمِّ ابراہیم اس نسبت سے رکھا گیا کہ یہاں رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔ ان کی والدہ محترمہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو دردِ زہ کے وقت اسی مشربہ (باغ یا بالاخانہ نما جگہ) میں سہارا لینا پڑا، چنانچہ یہ مقام اسی نسبت سے معروف ہو گیا۔لفظ مشربہ عربی میں باغ یا بلند کمرہ نما جگہ کے لیے بھی آتا ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق یہ باغ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے زیرِ تصرف تھا۔ تاریخی روایات میں اسے عوالی کے علاقے میں ایک محفوظ احاطے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے جو کھجوروں کے درمیان واقع تھا۔
یہ مبارک مقام مدینہ منورہ کے علاقے العوالی میں واقع ہے
بنی قریظہ کے شمال اور حرۂ شرقیہ کے قریب شارع العوالی پر واقع الزہراء اسپتال سے تقریباً 700 میٹر کے فاصلے پر
مسجد الفقیر سے آنے والے زائرین دائیں جانب مڑ کر اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں سرخ اینٹوں کی دیوار کے سامنے سبز دروازہ اس کی پہچان ہے؀

Most pilgrims pass this area without realizing what happened here.📍 Masjid Al-RayahLocated in the Jarwal area, north of ...
04/03/2026

Most pilgrims pass this area without realizing what happened here.

📍 Masjid Al-Rayah

Located in the Jarwal area, north of Masjid al-Haram — near Jannat Al-Mu’alla and Masjid al-Jinn.

This site is traditionally associated with the moment the Prophet ﷺ planted his banner (rayah) during the Conquest of Makkah in 8 AH.

It wasn’t a scene of chaos.
It marked the return of Makkah under Islam — with restraint, not revenge.

The structure you see today is modern.
But the location has long been identified in historical sources as the place where the banner stood.

It’s not part of the Umrah rituals.
Many never think to visit.

Small masjid.
Heavy history.

Save this for your next time in Makkah 🤍

یہ جگہ مسجد عائشہ کے بلکل سامنے ہے اس مسجد کا نام مسجد حبیب بن عدی رض اور مسجد توحید ہے پوری تحریر پڑھیں تاکہ آپ کو اندا...
04/03/2026

یہ جگہ مسجد عائشہ کے بلکل سامنے ہے اس مسجد کا نام مسجد حبیب بن عدی رض اور مسجد توحید ہے
پوری تحریر پڑھیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ کس طرح رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے دین اسلام کے لیے قربانیاں دیں ۔
3 ہجری میں غزوہ رجیع ہوا، رسول اکرم ﷺ نے عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو دس آدمیوں پر امیر بنا کر تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا: عسفان ا ور مکہ کے درمیان میں بنی ہذیل کا ایک قبیلہ لحیان رہتا تھا، اس کو خبر ہوگئی ۔ اس کے سو تیر اندازوں نے اس مختصر جماعت کو گھیر لیا، سات آدمی اسی جگہ لڑ کر شہید ہوگئے، تین شخص جن میں سے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے زندہ بچے، یہ تینوں جان بخشی کے عہد و پیمان پر پہاڑی سے نیچے اترے، تیر اندازوں نے کمانوں کے تانت کھول کر ان کے ہاتھ باندھے، ایک غیرت مند مسلمان اس بے عزتی کو گوارانہ کر سکا، اور مردانہ وار لڑ کر جان دے دی، اب صرف دو شخص باقی رہ گئے، ان کو لے جا کر مکہ کے بازار میں فروخت کر دیا۔
اسلام کے اس یوسف کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خریدا، جسے غزوہ بدر میں سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ ہی نے قتل کیا تھا، عقبہ بن حارث نے اپنے گھر میں لا کر قید کیا، ہاتھ میں ہتھ کڑیاں تھیں، اور موہب کو نگرانی پر مقرر کیا، عقبہ کی بیوی کھا نا کھلاتے وقت ہاتھ کھول دیا کرتی تھی، کئی مہینہ قید میں رہے، اشہر حرم گزر گئے ، تو قتل کی تیاریاں ہوئیں، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے مو ہب سے تین باتوں کی درخواست کی تھی، آب شیریں پلانا، بتوں کا ذبیحہ نہ کھلانا ، قتل سے پہلے خبر کر دینا، یہ آخری درخواست عقبہ کی بیوی سے بھی کی تھی، قتل کا ارادہ ہوا، تو اس نے ان کو آگاہ کر دیا، انہوں نے طہارت کے لیے اس سے استرہ مانگا، اس نے لا کردے دیا، اس کا بچہ کھیلتا کھیلتا ان کے پاس چلا آیا، ا نہوں نے اس کو اپنی ران پر بٹھایا، ماں کی نظر پڑی ، تو دیکھا ننگا استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، اور بچہ ان کے زانو پر ہے، یہ منظر دیکھ کر وہ کانپ اٹھی ۔ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، تمہارا کیا خیال ہے، کہ میں اپنے خون کا اس بچہ سے انتقام لوں گا، حاشایہ ہماری شان نہیں، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کی باتوں کا اس پر خاص اثر ہوا، کہتی تھی ، کہ میں نے خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی قیدی کو نہیں دیکھا، میں نے بارہا ان کے ہاتھ میں انگور کا خوشہ دیکھا، حالانکہ اس زمانے میں انگور کی فصل بھی نہ تھی، اس کے علاوہ وہ بندھے ہوئے تھے، اس لیے یقینا وہ خدا کا دیا ہوا رزق تھا، جو خزانہ غیب سے ان کو ملتا تھا۔
سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل میں مشرکین نے بڑا اہتمام کیا، حرم سے باہر تنعیم میں ایک درخت پر سولی کا پھندا لٹکایا گیا، آدمی جمع کیے گئے، مرد، عورت، بوڑھے، بچے، امیر و غریب، وضیع و شریف غرض ساری خلقت تماشائی تھی، جب لوگ عقبہ کے گھر سے ان کو لینے کے لیے آئے تو فرمایا ذرا ٹھہر جاؤ، دو رکعت نماز پڑھ لوں، زیادہ پڑھوں گا، تو تم کہو گے ، کہ موت سے گھبرا کر بہانہ ڈھونڈ رہا ہوں، نماز سے فارغ ہو کر مقتل کی طرف روانہ ہوئے، راستہ میں یہ دعا زبان پر تھی۔
اَللّٰھُمَّ احْصِھِمْ عَدَدًاوَّاقْتُلْھُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْھُمْ اَحَدًا۔
اے میرے پروردگار! تو ان کو شمار کرے، اور ان کو ایک ایک کر کے قتل کر، اور ان میںسے کسی کو نہ چھوڑ۔
پھر یہ شعر پڑھتے ہوئے سولی کے نیچے پہنچے :
و لست ابالی حین اقتل مسلما
اگر میں مسلمان رہ کر مارا جاؤں تو مجھے غم نہیں
علی ای جنب کان للہ مصرعی
کہ کس پہلو پر خدا کی راہ میں پچھاڑا جاتا ہوں
و ذلک فی ذات الالہ وان یشا
جو کچھ ہو رہا ہے خدا کی محبت میں ہو رہا ہے
یبارک علی او شال شاو ممزع
اگر وہ چاہے تو ان کٹے ہوئے ٹکڑوں پر برکت نازل کرے گا۔

طبری اور سیرت ابن ہشام جلد دوم اور رحمۃ للعالمین جلد اول میں ہے، کہ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی کے تختہ پر چڑھایا گیا، تو ایک سخت دل نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے جگر کو چھیدا، اور پوچھا کہو اب تو تم بھی پسند کرتے ہو گے کہ محمد (ﷺ) پھنس جائے اور میں چھوٹ جاؤں، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا، کہ خدا خوب جانتا ہے، کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا، کہ میری جان بچ جانے کے لیے نبی کریم ﷺ کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھے، پھر ان سے کہا گیا، کہ تم اسلام چھوڑ دو، تمہیں آزاد کر دیا جائے گا، سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ خدا کی قسم! اگر تمام دنیا کی سلطنت بھی میرے سامنے پیش کر دو، تب بھی اسلام نہیں چھوڑ سکتا، مشرکین نیزوں سے چھیدتے جاتے ، اور اس قسم کے سوال و جواب کرتے جاتے، آخر عقبہ بن حارث اور مغیرہ عبدری نے گلے میں پھندا ڈالا، اور ہمیشہ کے لیے ان کو راحت کی نیند سلا دیا۔
یہ کیسا عجیب منظر تھا، اسلام کے ایک غریب ا لوطن فرزند پر کیسے ظلم و ستم ہو رہے تھے، بطحا ئے کفر کا خونی و قاتل ، توحید کے فرزند کو کس طرح ذبح کر رہا تھا، یہ سب کچھ تھا، لیکن مجسمہ اسلام اب بھی پیکر صبرو رضا بنا ہوا تھا، اور بغیر کسی اضطراب کے نہایت سکون کے ساتھ جان دے دی۔
رسول اکرم ﷺ کو اس فاجعہ عظمیٰ کی خبر وحی کے ذریعہ ہوئی، تو فرمایا اے خبیب رضی اللہ عنہ ! تجھ پر سلام ا ور عمروبن ربیعہ ضمری کو اس شہید وفا کی لاش کا پتہ لگانے کے لیے مکہ بھیجا، عمرو رات کے وقت سولی کے پاس ڈرتے ڈرتے گئے، درخت پر چڑھ کر رسی کاٹی، جسد اطہر زمین پر گرا، چاہا کہ اتر کر اسے ا ٹھا لیں، لیکن یہ جسم زمین کے قابل نہ تھا، فرشتوں نے اٹھا کر اس مقام پر پہنچا یا، جہاں شہیدان راہ وفا کی روحیں رہتی ہیں، عمرو بن ربیعہ کو سخت حیرت ہوئی، بولے کیا زمین تو نہیں نگل گئی۔
قتل کرتے وقت مشرکین نے انہیں قبلہ رخ نہیں رکھا تھا، لیکن جو چہرہ قبلہ کی طرف پھر چکا تھا وہ کسی دوسری طرف کیونکہ پھر سکتا تھا، مشرکین نے بار بار پھیرنے کی کوشش کی ، مگر ناکام رہے۔
سعد بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے تھے، ان کا یہ حال تھا کہ کبھی کبھی یک بارگی بے ہوش ہو جایا کرتے تھے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے وجہ پوچھی، تو بولے مجھے نہ کوئی مرض ہے نہ کچھ شکایت ہے، جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی پر چڑھایا گیا، تو میں اس مجمع میں موجود تھا مجھے جس وقت خبیب رضی اللہ عنہ کی باتیں یاد آجاتی ہیں، میں کانپ کر بیہوش ہو جاتا ہوں، مجھے اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا۔
صل اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم

آیے مسجد النبوی کا ایک قالین ہٹاتے ہیں اور دیکھتے ہیں یہ مقام کیوں منفرد ہے ؟===================موجودہ مسجد النبوی صلی ا...
04/03/2026

آیے مسجد النبوی کا ایک قالین ہٹاتے ہیں اور دیکھتے ہیں یہ مقام کیوں منفرد ہے ؟
===================
موجودہ مسجد النبوی صلی الله علیہ وسلم کے ایک مرکزی دروازے ''باب فہد بن عبد العزیز '' سے اندر داخل ہوا جائے تو لال قالینوں کا ایک نہ روکنے والا سلسلہ آنکھوں کے سامنے موجود ہوتا ہے جو قبلہ رخ امام مسجد النبوی شریف کی محراب جسے '' محراب عثمانی کہتے ہیں ، پر جا کر ختم ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ھوتا ہے کہ اس مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کا بعد جب وہ آگے کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں تو کچھہ فاصلے پر وہ ایک ایسے مقام پر موجود ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک ایسا روحانی پہلو رکھتا ہے کہ اگر عشاق رسول صلی الله علیہ وسلم کو اسکا علم ہو تو وہ کچھہ ساعتیں یہاں رک کر اسکی زیارت کو اپنے لیے باعث شرف و صد افتخار سمجھیں گے کیوں کہ یہ وہ مقام با برکت ہے جس نے کئی مرتبہ رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے قدمین مبارک کو بوسہ دینے کا اعزاز لا فانی حاصل کیا - ہوسکتا ہے آپ اس مقام پر موجود قالین کے اوپر نماز بھی ادا کر لیں کیوں کہ یہاں فرض نمازوں کی صفیں بنتی ہے لیکن کیا کریں کہ یہ مقام قالینوں نے چھپا دیا ہے -

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ کے وقت مسجد النبوی کی حدود بہت مختصر تھیں اور ظاہر ہے کہ یہ مقام مبارک مسجد النوی شریف کے کافی باہر تھا جہاں مدینہ کے لوگوں کے مکانات ، کنویں اور باغات ہوا کرتے تھے -

اس تصویر میں لال تیر کی مدد سے جس دایرے کی جناب اشارہ کی جا رہا ہے یہ در اصل ایک صحابی سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس کنویں کا مقام ہے جسے '' بیر حا '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے - اس کنویں کا پانی بہت خوش زایقه اور شیریں تھا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم اکثر اس کنویں پر تشریف لاتے تھے اور اس کا پانی نوش فرماتے تھے - یہ کنواں اور اس کے ارد گرد سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کا ایک باغ تھا جو انکو بہت زیادہ محبوب تھا کیوں کہ پورے مدینہ المنوره اتنا خوبصورت باغ کسی اور کا نہیں تھا لیکن جب رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم پر ''سوره ال عمران '' کی آیت ٩٢ نازل ہوئی - ) جو میں نے تصویر پر کنویں کے نشان کے پاس لکھہ دی ہے جس کا ترجمہ ہے :-

'' جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو الله کی راه میں
خرچ نہیں کرو گے ' ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے ''

( کچھہ کتابوں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ آیات بھی اسی مقام پر نازل ہوئی تھیں یعنی اس کنویں یا باغ کے قریب - واللہ اعلم - )

تو ان آیات کو سن کر سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا '' یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے - میں آپکو گواہ کرتا ہوں میں نے اسے الله کی راہ میں صدقه کیا ' الله تعالی مجھے بھلائی عطا فرمائیں اور اپنے پاس اسے میرے لیے ذخیرہ کریں - آپکو ( رسول الله صلی الله علیہ وسلم) اختیار ہے آپ صلی الله علیہ وسلم جس طرح چاہیں اسکو تقسیم کر دیں ''

آپ صلی الله علیہ وسلم آپکے اس طرز عمل سے بہت خوش ہوے اور فرمانے لگے '' مسمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا ' تم اسے اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردو - '' چنانچہ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے اسے اپنے رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا ''

سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس واقعہ کے اور قرانی آیت کے نزول کے تناظر میں اس مقام کی زیارت کی جایے تو یقینا'' دلوں کو روحانی سکوں ملتا ہے -

أطم صرار — اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ دردناک واقعہمدینہ منورہ کے شمال مشرق میں، مسجدِ نبوی سے تقریباً تین کلو میٹر...
03/03/2026

أطم صرار — اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ دردناک واقعہ

مدینہ منورہ کے شمال مشرق میں، مسجدِ نبوی سے تقریباً تین کلو میٹر کے فاصلے پر، حرۂ واقم کی سمت نجد جانے والی شاہراہ پر ایک مقام ہے جسے أطم صرار کہا جاتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں یہ علاقہ جنگ و جدال کا مرکز رہا۔ بعد میں رسولِ اکرم ﷺ نے متعدد مواقع پر یہاں قیام فرمایا، جن میں غزوۂ ذات الرقاع بھی شامل ہے۔

یہی وہ راستہ تھا جس سے محمد بن مسلمہ، ابو نائلہ، عباد بن بشر، حارث بن اوس اور ابو عبس رضی اللہ عنہم، کعب بن اشرف کے واقعے کے بعد مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ بعد کے ادوار میں یہاں امام علی بن جعفر الصادق بن محمد الباقر رحمہ اللہ کی درسگاہ قائم ہوئی، جس کے ایک گوشے میں ان کی قبور تھیں، اور روایت ہے کہ وہاں سے خوشبو آتی رہتی تھی، اسی نسبت سے وہ مسجد “خوشبو والی مسجد” کہلانے لگی۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور بھوکے بچوں کا واقعہ

امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ اسلم (مولیٰ عمر) بیان کرتے ہیں:

ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حرۂ واقم کی طرف نکلے۔ جب ہم صرار کے مقام پر پہنچے تو دور آگ جلتی نظر آئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے اسلم! لگتا ہے کچھ مسافر ہیں، سردی اور رات کی شدت سے مجبور ہوں گے، آؤ ان کے پاس چلتے ہیں۔”

ہم تیزی سے وہاں پہنچے۔ دیکھا کہ ایک عورت ہے، اس کے اردگرد چھوٹے بچے رو رہے ہیں، اور آگ پر ایک ہانڈی چڑھی ہوئی ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اے روشنی والو! السلام علیکم۔”
(آپ نے “اے آگ والو” کہنا پسند نہ فرمایا۔)

عورت نے جواب دیا: “وعلیکم السلام۔”

آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:
“کیا ہم قریب آ سکتے ہیں؟”

عورت نے کہا: “اچھے طریقے سے آؤ، یا ہمیں چھوڑ دو۔”

قریب جا کر آپ نے پوچھا:
“بچے کیوں رو رہے ہیں؟”

اس نے کہا: “بھوک سے۔”

پوچھا: “ہانڈی میں کیا ہے؟”

اس نے جواب دیا:
“پانی ہے… میں انہیں بہلا رہی ہوں کہ کھانا پک رہا ہے، تاکہ سو جائیں۔ ہمارے اور عمر کے درمیان اللہ ہے!”

یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“اللہ تجھ پر رحم کرے، عمر کو تمہاری حالت کا کیا علم؟”

عورت بولی:
“وہ ہمارا حاکم ہے، پھر ہم سے غافل کیوں ہے؟”

یہ جملہ تیر کی طرح دل میں لگا۔

آپ رضی اللہ عنہ فوراً بیت المال کی طرف لوٹے، آٹے کی بوری اور گھی کا ڈبہ نکالا، اور فرمایا:
“یہ میرے اوپر لاد دو۔”

اسلم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: “میں اٹھا لیتا ہوں۔”

آپ نے فرمایا:
“کیا تم قیامت کے دن میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟”

پھر خود وہ بوجھ کندھے پر رکھا اور تیزی سے اس عورت کے پاس پہنچے۔
آپ نے اپنے ہاتھ سے آٹا گوندھا، آگ میں پھونکیں ماریں، یہاں تک کہ دھواں آپ کی داڑھی میں داخل ہوتا تھا۔ کھانا تیار کیا، بچوں کو کھلایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو کر کھیلنے لگے اور پھر سکون سے سو گئے۔

وہ عورت بے خبر تھی کہ سامنے کون ہے۔ وہ کہہ رہی تھی:
“اللہ تمہیں جزا دے، تم تو عمر سے زیادہ خلافت کے لائق ہو!”

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“جب امیر المؤمنین کے پاس جاؤ تو ان سے اچھی بات کہنا… اور وہاں مجھ سے ملنا۔”

پھر آپ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئے اور بچوں کو کھیلتے دیکھتے رہے۔
اسلم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: “چلیے واپس چلیں۔”
آپ نے فرمایا:
“اے اسلم! بھوک نے انہیں جگا رکھا تھا اور رُلا دیا تھا۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ ہنستے کھیلتے سو جائیں، تب ہی جاؤں گا۔”

Address

Duderhama Ganderbal
Srinagar
191201

Opening Hours

Monday 10am - 5pm
Tuesday 10am - 5pm
Wednesday 10am - 5pm
Thursday 10am - 5pm
Friday 10am - 12:30pm
Saturday 10am - 5pm
Sunday 11am - 2pm

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Marjan Hajj & Umrah Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share