18/05/2025
آل محمد (ع) کے غلاموں کی کرامات...
🔸 گاڑی جل گئی، مگر نہ سید خوئی جلے، نہ اُن کا قرآن! 🔸
سید ضیاء الخباز القطیفی حفظہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سید ابو القاسم خُوئی رحمۃ اللہ علیہ روزانہ کوفہ سے نجف آتے جاتے تھے، کوفہ میں قیام تھا اور نجف میں علمی مرکز، درسگاہ اور مسجد۔ وہ ہر لمحہ قیمتی جاننے والے بزرگ تھے، اس لیے سفر کا وقت بھی ضائع نہیں ہونے دیتے۔ راستے میں قرآن مجید کی تلاوت اور حفظ میں مشغول رہتے، یوں اُن کی ہر گھڑی ذکرِ الٰہی سے لبریز رہتی۔
رمضان المبارک سنہ 1400 ہجری کی ایک دوپہر کا واقعہ ہے کہ وہ حسبِ معمول کوفہ سے نجف کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں گاڑی ایک پتھر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ گاڑی نے فوراً آگ پکڑ لی۔ سید خُوئی پیچھے کی سیٹ پر تھے، اور ڈرائیور کے ساتھ اُن کا خادم آگے بیٹھا تھا۔ خادم اور ڈرائیور کسی طرح گاڑی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے، مگر سید (رح) خود حرکت کرنے سے قاصر تھے، اس لیے گاڑی کے اندر ہی رہ گئے اور آگ اُن کے گرد لپٹنے لگی۔
خادم نے کوشش کی، مگر آگ اتنی شدید تھی کہ سید کی لاٹھی کا چاندی کا دستہ بھی پگھل چکا تھا۔ مگر تعجب کی بات یہ کہ آگ اُنہیں چھو نہ سکی اور نہ ان کا جسم جلا، نہ ہی وہ قرآنِ مجید جسے وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے، تلاوت کرتے، حفظ کرتے۔ یہ اللہ کی جانب سے اُن کی کرامت تھی، جو آج بھی زبان زدِ خاص و عام ہے۔