ALIG Society Rampur

ALIG Society Rampur A ALIGARH MUSLIM UNIVERSITY OLD BOYS BODY

Assalamalaekum It was a pleasure to attend Sir Syed Day 2025 in Bahrain organised by AMU Alumni Association, Kingdom of ...
30/12/2025

Assalamalaekum
It was a pleasure to attend Sir Syed Day 2025 in Bahrain organised by AMU Alumni Association, Kingdom of Bahrain on 27/11/2025. I was invited as “Guest of Honour” by the Association and Mr. Vinod Jacob, Indian Ambassador to Bahrain graced the occasion as “Chief Guest”. Every Sir Syed Day anywhere in the world become memories of lifetime.
Regards
Sulaiman Mohd Khan
Advocate
Supreme Court of India.
Spokesperson, AICC.
Former Hony. Secretary,
AMU Students’ Union.

22/12/2025
31/10/2025

Sir Shah Mohammed Sulaiman Hall

22/10/2025
16/10/2025

سر سید احمد خان ، علی گڑھ تحریک اور اس کے مضمرات
یوم سرسید پر خصوصی تحریر


✍️ ذیشان مراد علیگ
————————
سر سید احمد خان ایک عظیم مفکر و مدبر تھے جو حال کی نگاہ سے مستقبل کو دیکھتے تھے ۔ آپ زندگی بھر قوم کی تہذیبی ، ثقافتی ، معاشرتی ، سماجی اور تعلیمی ترقی کے لئے کوشاں رہے ۔ یہ کہنا قطعی غلط نہیں ہوگا کہ سر سید ایک عبقری شخصیت کے مالک تھے۔ 1857ء کے بعد رونما ہونے والے قیامت خیز حالات نے سر سید احمد خان کو نڈھال کر دیا تھا ۔ قوم کی زبوں حالی اور کسم پرسی نے وقت سے پہلے آپ کو ضعیف بنا دیا تھا ۔ آزادی کی جنگ ہندو اور مسلمان دونوں نے مل کر لڑی تھی لیکن اس کا سارا الزام مسلمانوں کے سر آیا اور وہی انگریزوں کے عتاب کا شکار بھی ہوئے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے ہندوستان کا اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا ، اسی لئے انہیں ہمیشہ یہ خدشہ لاحق رہتا کہ مسلمان ہی انگریزوں کو یہاں سے بے دخل بھی کر سکتے ہیں ۔ یہی سبب رہا کہ یہاں جب کبھی آزادی کے لئے کوئی آواز بلند ہوتی تو اس کا ٹھیکرا بھی مسلمانوں کے سر ہی پھوڑا جاتا ۔ 1857 کی ناکام بغاوت نے انگریزوں کے اس تصور کو مذید استحکام بخشا ۔ اس کے بعد دہلی اور نواح دہلی میں جو قتلِ عام ہوا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ سر سید کی ایک تحریر کے آئنے میں اس عہد کی تصویر ملاحظہ فرمائیں ۔ " کوئی آفت ایسی نہیں تھی جو اس زمانے میں ہوئی ہو اور یہ نہ کہا گیا ہو کہ مسلمانوں نے کی ۔ کوئی بلا آسمان پر سے نہیں چلی جس نے زمین پر پہنچنے سے پہلے مسلمانوں کا گھر نہ ڈھونڈا ہو ۔ جو کتابیں اس ہنگامے کی بابت تصنیف ہوئیں ان میں بھی یہی کہا گیا کہ ہندوستان میں مفسد اور بد زات کوئی نہیں مگر مسلمان! مسلمان! کوئی کانٹوں والا درخت اس زمانے میں نہیں اگا جس کی نسبت یہ نہ کہا گیا ہو کہ اس کا بیج مسلمانوں نے بویا تھا اور کوئی آتشی بگولا نہیں اٹھا جس کے بارے میں یہ نہ کہا گیا ہو کہ مسلمانوں نے اٹھایا تھا ۔ "
1857ء کی ناکام جد و جہد اور آئے دن ہو رہی شورش کی وجہ سے انگریزوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی رویہ جاگزیں ہو گیا تھا اور وہ مسلمانوں کو اپنی جان کا دشمن تصور کرنے لگے تھے اور دوسری جانب مسلمانوں کے دلوں میں بھی انگریزوں کے تئیں شدید نفرت پائی جا رہی تھی ۔ وہ انگریزوں کو غاصب اور قاتل تصور کر رہے تھے ۔ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے ہی ان کے اقتدار کو غصب کیا تھا ۔ انگریزوں کے ذریعہ مسلمانوں کی حکومت اور امارت و ملکیت پر قبضہ یہ ایسا عظیم قومی سانحہ تھا کہ اس نے سوتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور خاص طور پر مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرکے حقیقت کے روبرو کر دیا ۔ مسلمانوں کو اپنے اقتدار کھونے کا غم تو تھا ہی مستزاد یہ کہ اس کی تہذیب و تمدن پر بھی حملہ ہونے لگا ۔ مسلمانوں کا مذہب اگر ایک طرف مغربی فلسفے کی ذد میں تھا تو دوسری جانب حکومت کی پشت پناہی میں عسائیت کی یلغار اس کو نشانہ بنا رہی تھی ۔ اس پر حکومت کا غضبناک رویہ حد درجہ تشویشناک تھا ۔ اس صورتحال نے حساس ذہنوں کو سوچنے اور غور وفکر کرنے کے لئے مجبور کر دیا تھا ۔ ایسے حالات میں سر سید احمد خان نے قوم کو پستی اور تنزلی سے نکالنے کے اسباب پر نہ صرف غور و فکر کیا بلکہ اس کے لئے عملی اقدام بھی کیا ۔
1857 کے حادثے نے عام ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں میں پوشیدہ عیش پسندی ، کاہلی اور نئے حالات سے مقابلہ کرنے سے گریز کی علت کو بہت حد تک نمایاں کر دیا تھا ۔ انہیں انگریزوں کے ہندوستان میں خود اپنی راہنمائی میں اپنا راستہ طے کرنا اور اپنی منزل خود متعین کرنا تھی ۔ لیکن وہ راہ نظر ہی نہیں آتی تھی جو منزل کو جاتی تھی ۔ ایسے پر آشوب حالات میں سر سید احمد خان قوم کے لئے مشعلِ راہ بن کر سامنے آئے ۔
یہ سید احمد اسی دہلی میں پیدا ھوئے تھے جس دہلی میں مغلوں کا کبھی ڈنکا بجا کرتا تھا ۔ انہوں نے مغلوں کا آخری دور بھی دیکھا تھا اور پھر اس ملک پر انگریزوں کو حاکم ہوتے ہوئے بھی دیکھا تھا ۔ صرف اتنا ہی نہیں سید احمد نے اپنی آنکھوں سے آج کی پرانی دہلی میں مسلمانوں کو سولی چڑھتے بھی دیکھا اور وہاں کی جامع مسجد میں انگریزوں کو اپنے گھوڑے باندھتے بھی دیکھا ہی ہوگا ۔ الغرض سید احمد پر مسلمانوں کے زوال کا بہت گہرا اثر پڑا تھا ۔
انہوں نے اس وقت کے تمام مسلمانوں کے مشاہدے کے برخلاف یہ فیصلہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی تباہی کا سبب یہ ہے کہ انگریز اپنے ساتھ ایک نئی دنیا لے کر آئے ہیں اور اس دنیا میں ترقی کا واحد راستہ انگریزی زبان مطلب جدید تعلیم ہے ۔ سر سید احمد 19 ویں صدی کے وہ پہلے مسلمان تھے جن کو یہ خیال آیا کہ جدید دور میں جدید تعلیم کے بغیر مسلمان کچھ نہیں کر سکتے ۔
سر سید احمد خان یہ حقیقت تسلیم کر چکے تھے کہ انگریزوں کا اقتدار ہندوستان میں قائم ہو چکا ہے ۔ انگریز مسلمانوں سے بد گمان ہیں اور انہیں بغاوت کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔ سر سید کو شدت سے احساس تھا کہ مسلمانوں کی بدحالی انتہا کو پہنچ چُکی ہے اور وہ سیاسی ، سماجی اور اقتصادی غرض ہر اعتبار سے کمزور ہو چکے ہیں ۔ اپنا حوصلہ کھو چکے ہیں ۔
سر سید احمد خان مسلمانوں کو کسی طرح پستی سے نکالنا چاہتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے جو نسخۂ تیار کیا تھا اس میں جدید تعلیم سرفہرست تھی ۔ چنانچہ مسلمانوں کو جہالت اور پسماندگی کے غار سے نکالنے کے لئے ہی سید احمد خان نے 18 جنوری 1877 کو ایک کالج کا سنگ بنیاد رکھا ۔ جس کو اینگلو اورینٹل کالج نام دیا گیا ۔ اس کالج کے قیام کے لئے سر سید احمد خان مسلمان زمینداروں اور نوابوں سے چندہ مانگ مانگ کر لاتے تھے ۔ حد یہ ہے کہ سید احمد کے کسی مخالف نے جوتا پھینک کر مارا تو انہوں نے اس کو بھی رکھ لیا اور کہا کہ اس کو فروخت کر پیسہ کالج کے قیام پر لگا دوں گا ۔ صرف اتنا ہی نہیں اس وقت مسلمانوں میں انگریزوں کے خلاف شدید غصہ تھا ، علماء نے انگریزی تعلیم کے خلاف فتویٰ دے رکھے تھے ۔ جب سر سید نے انگریزی تعلیم عام کرنے کی ٹھانی تو ملاؤں نے ان کے خلاف گردن زدنی تک کا فتوٰی دے ڈالا ۔ ظاہر ہے کہ کافر تو وہ ٹھیرائے ہی گئے تھے ۔
اس طرح سر سید احمد خان نے نہ صرف اپنے خون پسینے سے بلکہ سخت مخالفت کے بعد بھی مسلمانوں میں جدید تعلیم پھیلانے کے لئے مسلمانوں کے پیسے سے یہ کالج قائم کیا تھا ۔ آخر جب مسلمانوں میں جدید تعلیم کا رجحان بڑھا اور اس کالج میں طلباء کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو یہ خیال ہوا کہ اب انگریز حکومت کی مدد لی جائے ۔ چنانچہ اس وقت کی حکومت سے یہ درخواست کی گئی کہ اب کالج کو باقاعدہ یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ مسلمانوں کی تعلیم کا نظام بہتر سے بہتر ہو سکے ۔
1921ء میں انگریزوں نے ایک ایکٹ کے تحت مسلمانوں کے پیسوں اور کوششوں سے بنے اس کالج کو باقاعدہ ایک یونیورسٹی کا درجہ دے دیا ۔ اس طرح سر سید احمد خان کا یہ دیرینہ خواب ان کے انتقال کے 23 سال بعد اس وقت مکمل ہوا جب اس کالج کو مسلم یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہؤا ۔
سر سید ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے ۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ ایک دوسرے کے باہمی تعاون کے بغیر ان کی ترقی ممکن نہیں ۔ چنانچہ روز اول سے ہی علی گڑھ کالج کے دروازے بلاتفریق مذہب و ملت سب کے لئے کھلے ہوئے تھے ۔ اس درسگاہ کو یہ امتیاز اور فخر حاصل رہا ہے کہ یہاں ہندو اور مسلمان سب ایک ساتھ ایک ہی میز پر کھانا کھاتے ہیں اور ایک ہی میدان میں ساتھ ساتھ کھیلتے ہیں ۔
ہندو مسلم اتحاد کے سلسلہ سے 1883ء میں پٹنہ کے ایک جلسے کو خطاب کرتے ہوئے سر سید احمد خان نے کہا تھا کہ " ہندوستان ایک دلہن کی مانند ہے ، جس کی خوبصورت اور رسیلی دو آنکھیں ہندو اور مسلمان ہیں ۔ اور اگر وہ دونوں آپس میں پھوٹ و نفاق رکھیں گی تو ہماری دلہن بھینگی ہو جائے گی اور ایک دوسرے کو برباد کر دیں گے تو یہ دلہن کانی ہو جائے گی ۔ "
سر سید نے 1884ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی ۔ اس کا مقصد ہندوستان کے مسلم آبادی والے علاقوں میں علیگڑھ کی طرز پر تعلیمی ادارے قائم کرنا تھا ۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اکیلا علیگڑھ کالج خواں کتنا ہی بڑا ادارہ کیوں نہ ہو جائے پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت کو پورا نہیں کر پائے گا ۔ اس لئے مسلمانوں کی متوازن اور مجموعی تعلیمی ترقی کے لئے ملک بھر میں تعلمی ادارے قائم کرنا ضروری تھا ۔ اس کانفرنس کا بھی یہی مقصد تھا ۔
یہی ہے " سر سید تحریک" یا " علیگڑھ تحریک" اور اس کے مقاصد! مگر افسوس 1898ء میں سر سید احمد خان کے انتقال کے ساتھ ہی علیگڑھ تحریک دفن ہو گئی۔ سر سید کے جانشین تعلیمی سرگرمیوں میں اپنے آپ کو وقف کرنے کے بجاۓ سیاست میں کود پڑے ۔ جس کی سر سید نے ہمیشہ مخالفت کی تھی ۔ آزادی کے نعرے بلند کرنا اتنا ہی اسان تھا جتنا مشکل تعلیمی مشن کو چلانا ۔ ان حضرات نے اس پر خار راہ کو چھوڑ کر آسان راہ اپنائی اور انجام کار سر سید کی تعلیمی تحریک دم توڑ گئی ۔
لیکن ایک بار پھر حالات نے کروٹ لی اور گمان غلط ثابت ہوا ۔ سر سید کی تعلیمی تحریک کی راکھ میں دبی چنگاری نے شعلہ کی شکل اختیار کی اور چمن سرسید علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ فرزند رامپور معروف ہاکی کھلاڑی زاکر علی خاں نے پاکستان حجرت کے بعد اپنے محسن اعظم سر سید کی تعلیمی تحریک کو جلا بخشنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کراچی میں سر سید انجینئرنگ کالج قائم کیا جس کی اب پاکستان میں ایک معروف یونیورسٹی کی حیثیت سے شناخت ہے ۔ اسی طرح ہندوستان کی سیاست میں اپنی خصوصی شناخت کے حامل اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی طلباء یونین کے سابق سیکریٹری محمد اعظم خاں نے 18 ستمبر 2006 کو اپنے وطن رامپور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی سنگ بنیاد رکھی ۔ جو آج بھی حکومت وقت کے استحصالی رویہ کے باوجود نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کر ان کا سنہرا مستقبل تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہے ۔ اس لئے ہمارا یہ کہنا یقیناً غلط فہمی نہیں ہوسکتا کہ سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک آج بھی اپنے مقصد کے اعتبار سے زندہ جاوید ہے ۔
👀👀👀

29/09/2025

Lytton Library AMU

29/09/2025

Henry Lawrence Gate AMU.

Nizam Museum A M U Aligarh
06/09/2025

Nizam Museum

A M U Aligarh

Women's college (Abdullah hall) AMU
04/09/2025

Women's college (Abdullah hall) AMU

Address

GHAIR SAIFUDDIN KHAN DO MEHLA Road
Rampur
244901

Telephone

+919837321396

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ALIG Society Rampur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ALIG Society Rampur:

Share