24/02/2025
بریلی بھگوا لو ٹریپ کا خاص شکار، اب دانیا خان مرتد ہوگئی
اہل خانہ نے اغوا کا معاملہ درج کرایا، لڑکی کا ویڈیو بیان کے ذریعے مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کہا میں اپنی مرضی سے ہندونوجوان سے شادی کی ہوں، مجھے پریشان نہ کریں
بریلی ۔۲۲؍ فروری: اترپردیش کا بریلی ضلع بھگوا شرپسندوں کے خاص نشانے پر ہے، یہاں مسلسل کئی لڑکیاں بھگوا لو ٹریپ کا شکار ہوکر مرتد ہوگئی ہیں، اب حالیہ واقعہ دانیا خان کا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اتر پردیش کے بریلی کے علاقے پرے منگر کی ایک مسلم لڑکی، دانیا خان، ایک ہندو لڑکے کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ محبت میں سرشار دانیا نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیا اور اس ہندو نوجوان سے شادی کر لی۔ اس کے بعد لڑکی کے اہل خانہ نے ہندو لڑکے پر اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا۔یہ معاملہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب دانیا خان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کے اپنی شادی کی تصدیق کی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لڑکی کے خاندان کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔بریلی کی رہنے والی دانیا خان ایک ہندو لڑکے سے محبت کرتی تھی اور دونوں نے اپنی رضامندی سے شادی کر لی۔ خبروں کے مطابق دانیا نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اپنا لیا ہے۔ جب دانیا کے والدین نے پولیس میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا تو لڑکی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپلوڈ کر کے پوری حقیقت بیان کر دی۔ویڈیو میں دانیا نے کہا:"میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا۔"اس نے اپنی شادی کی تاریخ 8 فروری 2025 بتائی اور اپنی حفاظت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ دانیا نے کہا کہ اگر اسے یا اس کے شوہر کو کچھ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری اس کے والد اور پولیس پر ہوگی۔ اس نے الزام لگایا کہ پولیس اس کے اہل خانہ کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ان کی حمایت کر رہی ہے۔ویڈیو کے آخر میں دانیا نے اپنے خاندان سے درخواست کی کہ وہ انہیں مزید پریشان نہ کریں اور درج کرایا گیا مقدمہ واپس لے لیں۔سوشل میڈیا پر پہلی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے دانیا کے اہل خانہ کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں، دانیا خان نے ایک اور ویڈیو اپلوڈ کی، جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ اس کے خاندان کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ویڈیو میں اس نے کہا:"میں اپنی مرضی سے شادی کر چکی ہوں، میں بہت خوش اور محفوظ ہوں۔ میرے والدین کا اس معاملے میں کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا انہیں بلاوجہ ٹرول نہ کیا جائے۔"دانیا نے مزید کہا کہ اس کے والدین نے اسے اچھی پرورش دی ہے اور وہ ان کی بہت عزت کرتی ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ انہیں بلاوجہ نشانہ نہ بنائیں۔