Indian Centre for Islamic Finance

Indian Centre for Islamic Finance Empowering communities through ethical finance

Indian Centre for Islamic Finance (ICIF) is striving to present Islamic economy and financial system as an alternative to the prevailing conventional system based on free trade and controlled economic systems. It is on one hand, creating awareness among the masses how Islamic financial system is humane, based on ethics and beneficial to all segments of the society and more particularly the margina

lized and unorganized sector. On other hand, it is networking the individuals and institutions working in this field to collectively present before the regulators, businessmen, bankers and the political leaders to accommodate Islamic banking along with conventional banking. To achieve above objectives, it has conducted several meetings, seminars, workshops and interactive sessions and also produced research materials and documents in English and Hindi apart from Urdu to create awareness among the masses. It has an ambition plan to undertake research and education to produce scholars who are well versed in Shariah as well as Modern Banking and Finance.

کام کی باتگزشتہ روز مورخہ 09 اپریل 2026 کو 'دا انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز' نئی دہلی میں ایک اہم علمی و تعارفی نشست کا ا...
11/04/2026

کام کی بات

گزشتہ روز مورخہ 09 اپریل 2026 کو 'دا انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز' نئی دہلی میں ایک اہم علمی و تعارفی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب میں انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس (ICIF) کے جنرل سیکرٹری جناب ایچ عبدالرقیب صاحب اور مجھے مدعو کیا گیا تھا۔

اس نشست کا بنیادی مقصد انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ سے تعارف اور انہیں اسلامی مالیات (Islamic Finance) کی اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔

پروگرام کا آغاز میرے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ میں نے ہی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمہیدی کلمات میں اسلام کے معاشی ڈھانچے اور مالیاتی نظام کی ابدی اہمیت پر روشنی ڈالی، میں نے واضح کیا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں معیشت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔

جناب ایچ عبدالرقیب صاحب نے اپنے خطاب میں اسلامی مالیاتی نظام کے اہم ستون 'زکوٰۃ' پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے زکوٰۃ سے متعلق چند بنیادی اور فکری سوالات کے ذریعے طلبہ کو غور و فکر کی دعوت دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زکوٰۃ کے نظام کو محض انفرادی عبادت کے بجائے ایک اجتماعی معاشی طاقت کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مدارس سے فارغ التحصیل نئے فضلاء (بالخصوص ندوۃ العلماء، دیوبند، مظاہر العلوم اور الفلاح کے طلبہ) پر زور دیا کہ وہ فقہ المعاملات اور زکوٰۃ کے موضوع پر گہرائی سے مطالعہ کریں تاکہ وہ جدید معاشی چیلنجز کا جواب دے سکیں، کیونکہ معاشرے میں زکوٰۃ کی صحیح ادائیگی اور اس کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسی طرح انہوں نے
گفتگو کے دوران قرآن کریم کی طویل ترین آیت 'آیتِ دَین' کا خصوصی تذکرہ کیا گیا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ چودہ سو سال قبل قرآن نے مالی معاملات کی دستاویز سازی (Documentation) پر اس قدر زور دیا کہ قرض کے لین دین کو لکھنے اور اس پر گواہ مقرر کرنے کا تفصیلی حکم دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں مال کی حفاظت اور شفافیت کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔

پروگرام کے آخری حصے میں طلبہ کی جانب سے پوچھے گئے چند علمی سوالات کے سیر حاصل جوابات دیے گئے۔

ایک گھنٹے پر محیط یہ علمی نشست انتہائی کامیاب رہی۔ آخر میں انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس کی ٹیم نے انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین، ڈائریکٹر اور بالخصوص جناب انیس احمد ندوی صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس علمی تبادلے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔

مفتی شہباز عالم ندوی
ریسرچ ایسوسی ایٹ
انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس، نئی دہلی ۔

کام کی باتدو اہم اور ممتاز علمی شخصیات کی انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس (ICIF) آمداس ہفتے انڈین سینٹر فار اسلامک فائنان...
09/04/2026

کام کی بات

دو اہم اور ممتاز علمی شخصیات کی انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس (ICIF) آمد

اس ہفتے انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس کے دفتر میں دو مایہ ناز علمی و فکری شخصیات کی تشریف آوری ہوئی، جن کی موجودگی نے ICIF کے علمی ماحول کو مزید پُرنور بنا دیا۔
انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس نئی دہلی کے آفس میں تشریف لانے والی پہلی معزز شخصیت ڈاکٹر اقبال مسعود صاحب مقیم کینیڈا (چیئرمین شریعہ کونسل، جماعت اسلامی ہند)کی تھی۔

ڈاکٹر صاحب اپنی سادگی، کسرِ نفسی اور گہرے علمی شغف کے لیے جانے جاتے ہیں۔ فقہ اور اصولِ فقہ پر ان کی گرفت بے حد مضبوط ہے۔ جناب عبد الرقیب صاحب (جنرل سکریٹری ICIF) کی دعوت پر انہوں نے سینٹر کا دورہ کیا اور ایک طویل نشست رہی۔

اس نشست میں ڈاکٹر صاحب نے ندوۃ العلماء کے اپنے طالب علمی کے دور کی یادیں تازہ کیں، بالخصوص مولانا عمران خان صاحب (سابق مہتمم ندوہ) اور دیگر اساتذہ کا ذکرِ خیر کیا۔

اسی طرح سیاسی و سماجی حالات پر بھی مختصر گفتگو ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران پیش آنے والے واقعات اور سعودی عرب میں مختلف جماعتوں پر پابندی کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔

نیز کینیڈا میں اسلامک فائنانس کے ماڈل اور ہندوستان میں سودی نظام کے متبادل کے طور پر مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

سب سے اہم چیز چونکہ ڈاکٹر صاحب 'تاسیس شریعہ ایڈوائزری بورڈ ممبئی' کے رکن بھی ہیں اس لیے انہوں نے موجودہ دور میں فقہ المعاملات کی اہمیت اور اس کی ترویج پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر صاحب سے ایک گھنٹے کی یہ ملاقات معلومات کا ایک سمندر تھی، جس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

دوسری عظیم شخصیت ممتاز مفسرِ قرآن مولانا نعیم الدین اصلاحی صاحب کی تھی، جو جامعہ الفلاح (بلریا گنج) میں سینئر استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جناب عبد الرقیب صاحب کے اصرار پر مولانا نے انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس نئی دہلی تشریف لائے۔
اس نشست میں مولانا کو ICIF کے قیام، مقاصد اور اب تک کی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا، جسے انہوں نے بے حد سراہا۔

اسی طرح مدارس کے نصاب میں 'معاملات' اور 'معاشیات' (Economics) کے موضوعات کو شامل کرنے اور طلبہ کو اس میدان میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ساتھ ہی مولانا نے انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس کی ٹیم کو جامعہ الفلاح آنے کی پرخلوص دعوت دی تاکہ مستقبل میں علمی تعاون کی راہیں ہموار ہو سکیں۔

مختصر یہ کہ اس ہفتے کی یہ دونوں ملاقاتیں انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس کے لیے نہ صرف حوصلہ افزا تھیں بلکہ مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے نئے علمی در وا کر گئیں۔ سینٹر ان معزز مہمانوں کی تشریف آوری اور ان کی قیمتی نصائح پر ان کا تہہ دل سے مشکور ہے۔

مفتی شہباز عالم ندوی
ریسرچ ایسوسی ایٹ
انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس نئی دہلی

09-04-2026

31/03/2026

Over Ten Uzbek Banks Prepare to Launch Islamic Banking

More than ten Uzbek banks are preparing to introduce Islamic banking services.

The announcement was made by Timur Ishmetov, Chairman of the Central Bank of the Republic of Uzbekistan, in an interview with the Uzbekistan 24 television channel.

He stated that once the relevant law is formally enacted, the regulator will begin developing the regulatory framework required to establish a comprehensive Islamic finance infrastructure in the country.

The Senate of the Oliy Majlis approved the Islamic banking law in early February 2026. Under its provisions, banks will be permitted to operate either exclusively on Islamic finance principles or to offer such products alongside conventional banking services.

The law also provides for the establishment of Islamic financial councils — Sharia compliance bodies — at the Central Bank and within financial institutions.

The legislation is currently under review by President of the Republic of Uzbekistan Shavkat Mirziyoyev.

Alongside the legislative process, a first practical milestone is already planned: the opening of the country’s first Islamic window at a commercial bank is scheduled for 2026.

Market potential is assessed as substantial. According to projections by the Eurasian Development Bank (EDB), Islamic banking assets in Uzbekistan are expected to reach $2.4 billion by 2033, with sukuk issuance volumes projected to exceed $1.8 billion over the same period.

At the Central Asian regional level, total Islamic banking assets are forecast to reach $2.5 billion by 2028 and approximately $6.3 billion by 2033, while regional sukuk volumes are projected at $2.1 billion and $5.6 billion respectively.

https://invexi.org/press/over-ten-uzbek-banks-prepare-to-launch-islamic-banking/EDB analysts attribute this growth to expanding regional populations and sustained demand for Sharia-compliant financial products.

The development of Islamic banking offers Uzbekistan tangible opportunities to attract capital from Gulf Cooperation Council countries and other Islamic financial centres, diversify long-term funding sources for infrastructure and investment projects, and extend financial inclusion to segments of the population seeking Sharia-compliant services.

Source: Kursiv Uzbekistan
https://invexi.org/press/over-ten-uzbek-banks-prepare-to-launch-islamic-banking/

20/03/2026
Support ICIF’s MissionThe Indian Centre for Islamic Finance (ICIF) needs your support and donations to sustain its vital...
27/02/2026

Support ICIF’s Mission

The Indian Centre for Islamic Finance (ICIF) needs your support and donations to sustain its vital research and advocacy.
Your contributions empowererest-free, and ethical economic future. Please join us in this noble cause and donate today to help us create a more inclusive financial landscape.

What ICIF Does

ICIF promotes interest-free banking and ethical investment by providing expert consultancy and drafting policy frameworks for the mainstream economy.
We conduct academic research and organize educational workshops to spread awareness of the Islamic economic system.
Our team advocates for regulatory changes that foster financial inclusion through the effective management of Zakat and Waqf.
By bridging the gap between faith-based principles and modern finance, we work to ensure social justice for all.

27/02/2026

Support ICIF’s Mission

The Indian Centre for Islamic Finance (ICIF) needs your support and donations to sustain its vital research and advocacy.
Your contributions empowererest-free, and ethical economic future. Please join us in this noble cause and donate today to help us create a more inclusive financial landscape.

📢 Join NISM Investor Education Webinar!📈 Topic:  مالیاتی منصوبہ بندی کے بنیادی اصول (Basics Principles of Financial Plan...
21/02/2026

📢 Join NISM Investor Education Webinar!

📈 Topic: مالیاتی منصوبہ بندی کے بنیادی اصول (Basics Principles of Financial Planning)

🗓 Date: 27th February 2026

🕓 Time: 4:00 PM to 5:00 PM

🎙 Speaker: Dr. Shariq Nisar, Principal, Rizvi Institute of Management Studies and Research

🎓 Participants will receive a Certificate of Participation.

🗣 Language: Urdu

🔗Register Now: https://zoom.us/webinar/register/WN_BGIpxXVwTcat1Np0bC7uzQ

📺 Past Webinars:
https://www.youtube.com/

-Team NISM

کام کی باتغزہ اور مغربی کنارے میں جنگ کے معاشی اثرات اور روزگار کی صورتحالانٹرنیشنل نیوز پورٹل سلام گیٹ وے کے ویبسائٹ پر...
01/02/2026

کام کی بات

غزہ اور مغربی کنارے میں جنگ کے معاشی اثرات اور روزگار کی صورتحال

انٹرنیشنل نیوز پورٹل سلام گیٹ وے کے ویبسائٹ پر انگریزی میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں غزہ اور مغربی کنارے میں جنگ کے معاشی اثرات اور روزگار کی صورتحال کے تعلق سے بہت ہی افسوسناک رپورٹ سامنے آئے ہیں۔

اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے لیے مستقل اور مستحکم روزگار کا حصول اس وقت تاریخ کے مشکل ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ غزہ کی پٹی میں دو سال سے زائد عرصے پر محیط مسلسل جنگ کے نتیجے میں مقامی ملازمتوں کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی لیبر مارکیٹ تک رسائی بھی صرف چند اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر پیشہ ور افراد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

بے روزگاری کی سنگین صورتحال اور اعداد و شمار بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کے آغاز تک مغربی کنارے میں تقریباً ایک تہائی مرد و خواتین بے روزگار ہو چکے تھے۔

تاہم غزہ کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہے، جہاں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے اختتام تک بے روزگاری کی شرح 68 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس جنگ نے آمدنی کے تقریباً تمام ذرائع ختم کر دیے ہیں، مقامی ادارے بند ہو چکے ہیں اور تجارتی شعبہ بشمول دکانیں اور چھوٹے کاروبار مکمل طور پر تباہی کا شکار ہیں۔

اس معاشی گراوٹ نے نہ صرف تجربہ کار پیشہ ور افراد کو متاثر کیا ہے، بلکہ نوجوانوں کی ایک پوری نسل جو 2023 سے 2026 کے درمیان فارغ التحصیل ہوئی ہے، ایک ایسی مارکیٹ میں قدم رکھ رہی ہے جو عملی طور پر وجود ہی نہیں رکھتی یعنی جس کے لئے یہ الیجیبل نہیں ہیں۔

العنقاء ایسوسی ایشن کی فرح اجیل کے مطابق، ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو تعلیم یافتہ بھی ہیں لیکن ایک تباہ شدہ جاب مارکیٹ کا سامنا کر رہے ہیں جہاں پبلک سیکٹر تو غیر فعال ہے ہی پرائیویٹ سیکٹر بھی بمشکل سانس لے رہا ہے۔

اس طرح کے حالات کے جو اسباب بتائے جا رہے ہیں ان میں نفسیاتی رکاوٹیں اور عدم استحکام ایک بڑا سبب ہے کہ جہاں فلسطین کے ہنر مند افراد کے لیے ایک بڑی رکاوٹ عالمی کمپنیوں کا وہ سوچ ہے جس کے تحت وہ فلسطینی ٹیلنٹ کو غیر ہنرمند اور ناقابل بھروسہ سمجھتے ہیں۔

جبکہ اولیوز اینڈ ہیدر
(Olives & Heather)
کی سی ای او کیتھرین نکولائیسن کا کہنا ہے کہ فلسطینی دنیا کے بہترین تعلیم یافتہ لوگوں میں سے ہیں اور آن لائن کام کا 20 سے زیادہ سالوں کا تجربہ رکھتے ہیں، لیکن بین الاقوامی کمپنیاں انفراسٹرکچر کی کمی اور سیکیورٹی جیسی خدشات کی بنا پر انہیں ہائر کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، جو کمپنیاں یہ خطرہ مول لے کر انہیں جاب دیتے ہیں انہیں بہت جلد یہ احساس ہو جاتا ہے کہ فلسطینی ورکر انتہائی ہنرمند اور محنتی ہیں۔

انفراسٹرکچر کی کمی اور پیمنٹ بیرئر, ادائیگیوں کے مسائل بھی ان حالات کو متاثر کر رہی ہے۔
یعنی ریموٹ ورکنگ یا آن لائن کام کے لیے بجلی اور انٹرنیٹ کی دستیابی بنیادی شرط ہے، لیکن غزہ میں گزشتہ دو سالوں سے انٹرنیٹ کی بار بار بندش اور بجلی کی نایابی نے اسے ناممکن بنا دیا ہے۔ آنلائن کام کرنے والے لوگ شمسی توانائی اور گاڑیوں کی بیٹریوں کے ذریعے اپنے لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ چلانے پر مجبور ہیں۔

اس کے علاوہ، فلسطینی ورکروں کے لیے انٹرنیشنل مارکیٹ سے جڑنے میں مالیاتی پابندیاں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ویسٹرن یونین جیسی سہولیات غزہ میں بلاک ہیں اور بینک ٹرانسفرز میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے اپنی تنخواہیں وصول کرنا بھی ایک آزمائش بن گیا ہے۔

ان تمام تر چیلنجز کے باوجود، کچھ تنظیمیں معاشی سہولیات پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ بلڈ فلسطین
(BuildPalestine)
نے 1.2 ملین ڈالر کی فنڈ ریزنگ مہم شروع کی ہے تاکہ 2028 تک اپنے تعاون یافتہ اداروں کی تعداد 25 سے بڑھا کر 65 کر سکے۔

اسی طرح ایکسوس اکیڈمی
(Axsos Academy)
نے غزہ کے نوجوانوں کے لیے 50 مکمل مالی امداد یافتہ ٹیک اسکالرشپس کا آغاز کا اعلان کردیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیک سیکٹر، جو اس وقت فلسطینی معیشت میں 4 فیصد سپورٹ کرتی ہے، روزگار کی تخلیق کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے صرف ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
مقامی سطح پر العنقاء ایسوسی ایشن جیسے ادارے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو تجربہ کار افراد کے ساتھ ساتھ نئے گریجویٹس کو بھی تربیت اور ہنر فراہم کر رہے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ فلسطینی مزدوروں اور پیشہ ور افراد کا بحران ٹیلنٹ یا قابلیت کی کمی نہیں، بلکہ وسائل تک رسائی، انفراسٹرکچر کی کمی اور عالمی برادری کے اعتماد کا بحران ہے۔

مشکل حالات کے باوجود، یہ ہنر مند افراد ثابت کر رہے ہیں کہ اگر انہیں تھوڑا سا بھروسہ اور وسائل تک رسائی دی جائے، تو وہ نہ صرف اپنے گھر بار سنبھال سکتے ہیں بلکہ معیشت کی بحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آپ نیچے کے ڈاٹا میں اس بحران کو دیکھ سکتے ہیں اور لنک کے ذریعے انگریزی مضمون بھی پڑھ سکتے ہیں۔

https://salaamgateway.com/articles?writer=Heba-Hashem

مفتی شہباز عالم ندوی

1-2-2026

*Protect yourself from hospital bills & out of pocket expenses*Ethical Health Care Foundation invites you to a *high-imp...
29/01/2026

*Protect yourself from hospital bills & out of pocket expenses*

Ethical Health Care Foundation invites you to a *high-impact online webinar* on *Shariah-based Healthcare*.

Understand *Takaful vs Insurance*, key *Shariah & legal issues*, and how *Mutual Care+* offers ethical family health protection.

🎙 *Mohd Yaseen* | Shariah Scholar, Internal Auditor - EHCF
🎙 *Khaja Riaz Mohiuddin* | Founder & Director - EHCF

🗓 *Sat, 7 Feb 2026*
⏰ 7:30–9:30 PM IST
📍 Online

👉 *Scan the QR or click on the link to register now.*
🔗 https://forms.gle/MzpZxCKWpBZm9D3y9

کام کی بات ترکی میں مفت تعلیم کا سنہری موقع (Türkiye Scholarships 2026 - Fully Funded)اگر آپ ترکی کی عالمی معیار کی  یون...
15/01/2026

کام کی بات

ترکی میں مفت تعلیم کا سنہری موقع

(Türkiye Scholarships 2026 - Fully Funded)
اگر آپ ترکی کی عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں مفت تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حکومتِ ترکیہ نے سال 2026 کے لیے اپنے مشہور "ترکیہ برسلاری" اسکالرشپ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔

اسکالرشپ کی خاص مراعات

مکمل فیس معاف: یونیورسٹی کی کوئی فیس نہیں۔
ماہانہ وظیفہ: جیب خرچ کے لیے ہر ماہ رقم۔
رہائش: بالکل مفت ہاسٹل کی سہولت۔
ہوائی ٹکٹ: آنے اور جانے کا مفت ٹکٹ۔
ہیلتھ انشورنس: علاج معالجے کی سہولت۔
ترکی زبان کا کورس: ایک سال کا مفت لینگویج کورس۔

کون اپلائی کر سکتا ہے؟

بیچلرز (Undergraduate): انٹرمیڈیٹ/12ویں جماعت کے طلباء۔
ماسٹرز (Masters): گریجویٹ طلباء۔
پی ایچ ڈی (PhD): ماسٹرز مکمل کرنے والے طلباء۔
اہم تاریخیں:
درخواست شروع ہونے کی تاریخ: 10 جنوری 2026
آخری تاریخ: 20 فروری 2026

نوٹ: اپلائی کرنے کا پروسیس بالکل مفت ہے اور کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ گھر بیٹھے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔
آفیشل ویب سائٹ: www.turkiyeburslari.gov.tr
آج ہی قدم بڑھائیں اور اپنے مستقبل کو روشن بنائیں! اس پیغام کو اپنے دوستوں اور ضرورت مند طلباء تک ضرور پہنچائیں۔

مفتی شہباز عالم ندوی

15-01-2026

Inna lillahi wa inna ilayhi raji'unThe Indian Centre for Islamic Finance (ICIF) mourns the profound loss of Dr. Manzoor ...
13/01/2026

Inna lillahi wa inna ilayhi raji'un

The Indian Centre for Islamic Finance (ICIF) mourns the profound loss of Dr. Manzoor Alam Saheb. A visionary leader, an intellectual giant, and a pillar of the community. His legacy of service and wisdom will be deeply missed.

May Allah (SWT) grant him the highest rank in Jannah.
Ameen.

Fraudulent investment schemes and Ponzi scams are on the rise, silently destroying families, savings, and public trust. ...
12/01/2026

Fraudulent investment schemes and Ponzi scams are on the rise, silently destroying families, savings, and public trust. In this critical context, the Indian Association for Islamic Economics (IAFIE) is organizing a National Seminar on Ponzi & Dubious Investment Schemes, aimed at creating awareness, protecting investors, and strengthening a trustworthy financial ecosystem. Awareness is your strongest protection—learn before you invest.

The seminar will be held on Saturday, 17 January 2026, from 10:00 AM to 5:00 PM at the Town Hall, Kozhikode. The event will be inaugurated by P. Mujeeb Rahman, Ameer, JIH Kerala, setting the tone for an insightful and impactful day.
The Keynote Address will be delivered by Sri. Rishiraj Singh IPS (Retd.), Former Additional Director of the Central Bureau of Investigation (CBI), bringing deep insights from enforcement and investigation perspectives.

The seminar will also feature expert sessions by leading professionals in ethical finance and capital markets, including Nikhil Gopalakrishnan, CEO, Pentad Securities, and KK Salman, CA, CMA, Deputy General Manager, SEBI, who will share practical guidance on identifying fraudulent schemes and understanding regulatory safeguards.
The registration fee is ₹250 for general participants and ₹150 for students.

📝 Register now: https://tinyurl.com/IAFIEPONZISEMINAR

⚠️ Limited seats available – secure your spot today.

📢 Stay informed. Stay protected. Be part of the movement against financial fraud.

Address

D-307 , Abul Fazl Enclave , Okhla
New Delhi
110025

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Indian Centre for Islamic Finance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Indian Centre for Islamic Finance:

Share