11/04/2026
کام کی بات
گزشتہ روز مورخہ 09 اپریل 2026 کو 'دا انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز' نئی دہلی میں ایک اہم علمی و تعارفی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب میں انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس (ICIF) کے جنرل سیکرٹری جناب ایچ عبدالرقیب صاحب اور مجھے مدعو کیا گیا تھا۔
اس نشست کا بنیادی مقصد انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ سے تعارف اور انہیں اسلامی مالیات (Islamic Finance) کی اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔
پروگرام کا آغاز میرے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ میں نے ہی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمہیدی کلمات میں اسلام کے معاشی ڈھانچے اور مالیاتی نظام کی ابدی اہمیت پر روشنی ڈالی، میں نے واضح کیا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں معیشت کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
جناب ایچ عبدالرقیب صاحب نے اپنے خطاب میں اسلامی مالیاتی نظام کے اہم ستون 'زکوٰۃ' پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے زکوٰۃ سے متعلق چند بنیادی اور فکری سوالات کے ذریعے طلبہ کو غور و فکر کی دعوت دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زکوٰۃ کے نظام کو محض انفرادی عبادت کے بجائے ایک اجتماعی معاشی طاقت کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مدارس سے فارغ التحصیل نئے فضلاء (بالخصوص ندوۃ العلماء، دیوبند، مظاہر العلوم اور الفلاح کے طلبہ) پر زور دیا کہ وہ فقہ المعاملات اور زکوٰۃ کے موضوع پر گہرائی سے مطالعہ کریں تاکہ وہ جدید معاشی چیلنجز کا جواب دے سکیں، کیونکہ معاشرے میں زکوٰۃ کی صحیح ادائیگی اور اس کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی طرح انہوں نے
گفتگو کے دوران قرآن کریم کی طویل ترین آیت 'آیتِ دَین' کا خصوصی تذکرہ کیا گیا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ چودہ سو سال قبل قرآن نے مالی معاملات کی دستاویز سازی (Documentation) پر اس قدر زور دیا کہ قرض کے لین دین کو لکھنے اور اس پر گواہ مقرر کرنے کا تفصیلی حکم دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں مال کی حفاظت اور شفافیت کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔
پروگرام کے آخری حصے میں طلبہ کی جانب سے پوچھے گئے چند علمی سوالات کے سیر حاصل جوابات دیے گئے۔
ایک گھنٹے پر محیط یہ علمی نشست انتہائی کامیاب رہی۔ آخر میں انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس کی ٹیم نے انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین، ڈائریکٹر اور بالخصوص جناب انیس احمد ندوی صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس علمی تبادلے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔
مفتی شہباز عالم ندوی
ریسرچ ایسوسی ایٹ
انڈین سینٹر فار اسلامک فائنانس، نئی دہلی ۔