Shamsi Welfare Society Mumbai

Shamsi Welfare Society Mumbai Page
# E-mail ID: [email protected]

31/03/2025

تقبل منا صيامنا ، وصلاتنا ، وقيامنا ، وتلاوتنا ، وصالح الأعمال، وأدام عليكم الصحة والعافية، ووفقكم لخيري الدنيا والآخرة✨

✨عيدكم مبارك وكل عام وأنتم بخير.✨

✨EID MUBARAK to YOU & YOUR FAMILY ✨

22/12/2024

بھارت میں بندر کو پکڑنا انتہائی سادگی سے کیا جاتا ہے۔
وہ زمین میں ایک گڑھا کھودتے ہیں اور اس میں تنگ گردن والی مٹی کی مٹی کی ہنڈیا رکھتے ہیں، پھر اس میں اخروٹ بھر دیتے ہیں۔
بندر آتا ہے، اور جب وہ گڑھا دیکھتا ہے اور اس میں اخروٹ نظر آتے ہیں، تو وہ اپنا ہاتھ اندر ڈالتا ہے اور جتنی زیادہ مقدار میں اخروٹ لے سکتا ہے، اُتنا لے لیتا ہے۔ پھر وہ اپنا ہاتھ کھینچتا ہے لیکن وہ نہیں نکال پاتا، کیونکہ اس کا ہاتھ جتنا بھرا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی تنگ مٹی کے منہ میں پھنس جاتا ہے۔
شروع میں وہ غصے میں آ کر اچھلتا ہے، چلاتا ہے اور اپنی پوری طاقت سے اپنی مٹھی کھینچتا ہے، لیکن بے فائدہ۔ اسے کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ اپنی مٹھی کو ڈھیلا کر دے اور اخروٹ چھوڑ دے۔ ایک گھنٹے بعد، وہ سکون پاتا ہے، اور پھر شکاری آ کر اسے پکڑ لیتے ہیں۔

*سبق...*
کسی بھی چیز کو پکڑے رکھنے کے بجائے، جب تمہیں یہ سمجھ آجائے کہ تم نے غلط اندازہ لگایا ہے، تو اپنی گرفت کو ڈھیلا کر دینا بہتر ہے۔ زیادہ جکڑنا، زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔"

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کبھی کبھار زندگی میں کچھ چیزوں کو چھوڑ دینا یا چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنا بہتر ہوتا ہے، بجائے اس کے کہ ہم اپنی غلطیوں پر اصرار کرتے رہیں اور ان میں پھنسے رہیں۔

14/12/2024

‏*40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت*
نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی !
اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔
1. *پہلی نصیحت:*
ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔
2. *دوسری نصیحت:*
ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔
3. *تیسری نصیحت:*
جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔
4. *چوتھی نصیحت:*
کھانے میں کمی کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
*"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"*
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔
5. *پانچویں نصیحت:*
جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک پیدل چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔
6. *چھٹی نصیحت:*
غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ...
غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔
اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔
7. *ساتویں نصیحت:*
جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" یعنی حتیٰ الوسع پیسے کو استعمال میں لائیں اور سہولیات حاصل کریں یہ نہیں کہ پیسے بچائیں اور خود مشقت اٹھائیں ۔ اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھیں ، پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، خود زندگی نہیں ہںے ۔
8. *آٹھویں نصیحت:*
اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی ایسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکتے ، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —
اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔
9. *نویں نصیحت:*
عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔
10. *دسویں نصیحت:*
اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہ

14/12/2024

‏*40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت*

نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی !
اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔

1. *پہلی نصیحت:*
ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔

2. *دوسری نصیحت:*
ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔

3. *تیسری نصیحت:*
جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔

4. *چوتھی نصیحت:*
کھانے میں کمی کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
*"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"*
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔

5. *پانچویں نصیحت:*
جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک پیدل چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔

6. *چھٹی نصیحت:*
غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ...
غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔
اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔

7. *ساتویں نصیحت:*
جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" یعنی حتیٰ الوسع پیسے کو استعمال میں لائیں اور سہولیات حاصل کریں یہ نہیں کہ پیسے بچائیں اور خود مشقت اٹھائیں ۔ اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھیں ، پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، خود زندگی نہیں ہںے ۔

8. *آٹھویں نصیحت:*
اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی ایسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکتے ، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —
اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔

9. *نویں نصیحت:*
عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔

10. *دسویں نصیحت:*
اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہا ہںے ۔
پر امید رہیں ، اللہ کی یاد کے ساتھ جئیں ، سفر کریں ، اور حلال طریقوں سے لطف اندوز ہںوں ۔

**آخری اور سب سے اہم نصیحت:**
کبھی بھی نماز نہ چھوڑیں ، یہ آپ کے جیتنے کا کارڈ ہںے اس زندگی میں اور اس دن میں جب نہ دولت کام آئے گی اور نہ اولاد ۔

اگر آپ کو یہ مفید لگے ، تو اسے پھیلائیں ، اور دوسروں کو محروم نہ کریں جو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں !!!
*حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ " لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہو "* !!!
اس لیے دوسروں کیلئے ہر طرح نفع مند ثابت ہوں !!!!

02/07/2024

اگر ایک تنہا کمرے میں ایک غیر مرد اور عورت کو بند کیا جائے اور ان کو صرف اتنا بتا دیا جائے کہ یہاں کیمرہ 📷 لگا ہوا ہے جو آپ کے حرکات کو ریکارڈ کر رہا ہے اور بوقت ضرورت یہ پبلک بھی ہوسکتا ہے تو کوئی بھی صاحب عقل، عزت دار اور خاندانی انسان اس خوف کے مارے غلط حرکت نہیں کرسکتا کہ کہیں لوگوں کے سامنے رسوا نہ ہو جاؤں کیوں ؟؟؟ اس لیے کہ ہمیں اس چھوٹے سے مشین پر یقین ہے اور اس کے مالک سے بھی ہے جس نے لگایا ہے اور دنیا میں اپنے جانے والوں کے درمیان رسوائی کا خوف بھی ہیں 😢
جبکہ یہی تنبیہ مالک کائنات نے سچ اور حق کتاب میں فرمایا ہے کہ آپ کا لمحہ بہ لمحہ ریکارڈ ہورہا ہے اور دونوں بازوں پر فرشتے مقرر کیے ہیں جس کا کام انسان کی ہر کام کو لکھنا ہے خلوت میں ہو یا جلوت میں ریکاڈنگ آلات کسی بھی فنی خرابی سے سو فیصد محفوظ ہیں ، ریکاڈ ڈیٹا ایک دن تمام مخلوق اپنے اور پرائے سب کے سامنے کھول دیا جائے گا ،کیا ہمیں یقین نہیں ہم اپنے رب سے نہیں ڈرتے
اللّٰہ ہمیں روز محشر کے رسوائی سے بچائے آمین ثم آمین

22/04/2023

✨اللهم تقبل منا صيامنا ، وصلاتنا ، وقيامنا ، وتلاوتنا ، وصالح الأعمال، وأدام عليكم الصحة والعافية، ووفقكم لخيري الدنيا والآخرة✨
✨عيدكم مبارك وكل عام وأنتم بخير.✨
‎ *_💫 عيد مبــــــــــــــــــــارك 💫_*
✨EID MUBARAK✨

17/10/2022

*بـادشـاہ ھــم خـود ہیـں* تمثیل کے ذریعے حقیقت بیانی
ایک بادشاہ اپنے محل کی کھڑکی سے روزانہ اپنی سلطنت کا نظارہ کرنے کا عادی تھا۔
لیکن کچھ عرصہ سے بادشاہ کو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ محل کے باہر پائے جانے والے تمام انسان بہت گندے اور میلے کُچیلے دکھائی دینے لگے ہیں۔ درختوں مکانوں پر بھی جیسے دھول جمی ہوئی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہرطرف نحوست کا راج ہو۔ کچھ دن تو بادشاہ اپنی طبیعت پر ناگوار گزرنے کے باوجود یہ منظر دیکھتا رہا۔

مگر پھر اس سے رہا نہ گیا۔ اور فورا" وزیر کو بلایا اور حکم دیا کہ ان گندے اور میلے کچیلے انسانوں اور شہر کی صفائی کا کوئی بندوبست کیا جائے۔
وزیر نے سُنتے ہی سرجھکاتے ہوئے ادب سے کہا کہ حکم کی تعمیل ہوگی بادشاہ سلامت اور بغیر کوئی سوال کیئے واپس پلٹ گیا۔

اگلی صبح بادشاہ سو کر اُٹھا اور حسب معمول شہر کا نظارہ کرنے محل کی کھڑکی میں آبیٹھا۔ مگر شہر کی طرف دیکھتے ہی اسے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا کہ شہر کا منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ ہر چہرا صاف سُتھرا اُجلا اور خوش دکھائی دے رہا تھا۔ مکان اور درخت جیسے ابھی بارش میں دُھل کر صاف ہوئے ہیں۔
بادشاہ نے فورا" وزیر کو بُلایا اور پوچھا کہ یہ معجزہ تم نے یوں پلک جھپکتے میں کیسے کیا ؟
تو وزیر مُسکراتے ہوئے بولا کہ معجزے والی کوئی بات نہیں بادشاہ سلامت۔ بس آپ کے محل کی کھڑکیوں پر لگا شیشہ بہت گندہ ہوچُکا تھا۔ کل آپ کا حکم ھوتے ہی شیشہ دُھلوا دیا گیا اور ایک نیا اور اُجلا منظر آپ کے سامنے ہے۔

اس کہانی کے مطابق
بادشاہ ہم خود ہیں،
وزیر ہمارا ذہن
اور
کھڑکی کا شیشہ ہمارے جذبات۔

جبکہ کھڑکی کے شیشے پر جمنے والا گند ہمارے منفی رویے اور سوچیں اور غیر صحتمندانہ عادات۔ جو آہستہ آہستہ ہمارے جذبات کو آلودہ کرتے ہوئے ہمارے اندر اور اردگرد کے مناظر کو اسقدر دھندلا یا اندھا کردیتی ہیں کہ ذہن پر ہروقت ناکامی، مایوسی ، دکھ، حسد ، غصے اور بےچینی جیسی کیفیات طاری رہنے لگتی ہیں۔

لیکن جس لمحے ہم ان کیفیات سے تنگ آکر ان سے باہر نکلنے کا ارادہ کرتے ہوئے اپنے وزیر یعنی ذہن کو شیشے کی صفائی کا حکم دیتے ہیں تو ہمارے منفی جذبات کی جگہ مثبت جذبات جگہ بنانے لگتے ہیں۔ جیسے پُرامیدی، دلچسپی، روانی، سکون ، تندرستی، دوستیاں، خوشی، جوش اور فخر وغیرہ۔

جذبات کا شیشہ صاف ہوتو ایک عام سی ذہانت کا فرد بھی ایک کامیاب اور خوشیوں سے بھرپور زندگی گزارنے کے قابل ہوسکتا ہے۔

03/05/2022
30/03/2022

*جنات کا سائنسی تجزیہ*
*ضرور پڑھیں آپکے علم میں اضافہ ضرور ہوگا اِن شاء اللہ تعالیٰ*

‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ،
وہ آگ سے پیدا کیے گئے ،
ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں
اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔

یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔
کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟

اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔
جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟
اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔
پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum)
بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔
جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔
میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔

اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔

اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔
اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔
جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔
سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے
ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،
الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔
امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔
جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔
درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے
جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے.........
اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔
پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔
اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں

اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہےمثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے
اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔
اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔
ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے
اور یہی وہ فریکوئینسی ہے
جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔
اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے
جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن
دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔
اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔
پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ،
صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں
اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔
ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔

لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏....
میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

اگر آپ دوسری ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

تیسری ڈائیمینشن .....
میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے
چوتھی ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

پانچویں ڈائیمینشن.....
میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

چھٹی ڈائیمینشن .....
میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

ساتویں ڈائیمینشن....
آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔

آٹھویں ڈائیمینشن....
آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

نویں ڈائیمینشن....
ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔
اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔
اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں....
اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے
جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔
ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ
جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔
یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔

یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،
یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،
یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،
یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،
لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏ میرے دل کو چھوا
وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے

*الحمد للہ رب العالمین*
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے
اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

Address

Mumbai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shamsi Welfare Society Mumbai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Shamsi Welfare Society Mumbai:

Share