Aashiq E Rasool

Aashiq E Rasool Assalamu Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuhu
Ajeeb Faiz Hai Aaqa (SAW) Apki Muhabbat Ka,
Durood Aap Pay Parhu’n Aur Khud Sanwar Jaaun

06/01/2023

*اخلاق الصالحین:-5*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جو عمل میں نے ظاہر کردیا ہے میں اس کو شمار میں نہیں لاتا یعنی اس کو کالعدم سمجھتا ہوں کیونکہ لوگوں کے سامنے اخلاص حاصل ہونا مشکل ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایسا لباس پہنتے تھے کہ ان کے احباب کے سوا کوئی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ عالم ہیں اور فرمایا کرتے تھے کہ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسا چھپائے جیسے برائیوں کو چھپاتا ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دیکھا کہ وہ حرم شریف میں ایک بہت بڑے حلقہ درس میں حدیث کا املاء فرما رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قریب ہوکر ان کے کان میں کہا کہ اگر تیرا نفس تجھے عُجب میں ڈالے یعنی اگر نفس کو یہ بات پسندیدہ معلوم ہوتی ہے تو تو اس مجلس سے اُٹھ کھڑا ہو اسی وقت حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں تشریف لے گئے تو آپ کے حلقۂ درس کو دیکھ کر فرمانے لگے:اگر یہ حلقہ کسی صحابی کا ہوتا تو میں اپنے نفس پر عجب سے بے خوف نہ ہوتا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب حدیث کی املاء کے لئے اکیلے بیٹھتے تو نہایت خائف اور مرعوب بیٹھتے ۔ اگر ان کے اوپر سے بادل گزرتا تو خاموش ہوجاتے اور فرماتے کہ میں ڈرتا ہوں کہ اس بادل میں پتھر نہ ہوں جو ہم پر برسائے جائیں ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
ایک شخص حضرت اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں ہنسا تو آپ نے اس کو جھڑکا اور اُٹھا دیا اور فرمایا کہ تو علم طلب کرتا ہوا ہنستا ہے جس علم کے طلب کے لئے اللہ تَعَالٰی نے تجھے مکلف فرمایا ۔ پھر آپ نے دوماہ تک اس کے ساتھ کلام نہ کیا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۸)*

05/01/2023

*اخلاص:-1*
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہر ایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہد عابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصود محض رضائے حق سبحانہ و تَعَالٰی ہوتا تھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل. *(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)*
کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔ *(حاکم)*
حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ناظرین سے مخفی نہیں کہ ایک لڑائی میں ایک کافر پر آپ نے قابو پالیا ۔ اس نے آپ کے منہ مبارک پر تھوک دیا تو آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ بات کیا ہے ؟بجائے اس کے کہ انہیں غصّہ آتا اور مجھے قتل کر دیتے انہوں نے چھوڑدیا ہے ۔ حیران ہوکر پوچھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ؎
گفت من تیغ از پئے حق مے زنم
بندۂ حقم نہ مامور تنم
شیر حقم نیستم شیر ہوا
فعل من بر دین من باشد گواہ
کہ میں نے محض رضائے حق کے لئے تلوار پکڑی ہے میں خدا کے حکم کا بندہ ہوں اپنے نفس کے بدلہ کے لئے مامور نہیں ہوں ۔میں خدا کا شیر ہوں اپنی خواہش کا شیر نہیں ہوں ۔ چونکہ میرے منہ پر تونے تھوکا ہے اس لئے اب اس لڑائی میں نفس کا دخل ہوگیا اخلاص جاتا رہا، اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے کہ میرا کام اخلاص سے خالی نہ ہو ؎
چونکہ درآمدعلتے اندر غزا تیغ را دیدم نہاں کردن سزا
جب اس جنگ میں ایک علّت پیدا ہوگئی جو اخلاص کے منافی تھی تو میں نے تلوار کا روکنا ہی مناسب سمجھا ۔ وہ کافر حضرت کا یہ جواب سن کر مسلمان ہوگیا ۔اس پر مولانا رومی فرماتے ہیں ؎
بس خجستہ معصیت کاں مرد کرد
نے زخارے بردمد اوراق ورد
وہ تھوکنا اس کے حق میں کیا مبارک ہوگیا کہ اسے اسلام نصیب ہوگیا ۔ اس پر مولانا تمثیل بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح کانٹوں سے گل سرخ کے پتے نکلتے ہیں اسی طرح اس کے گناہ سے اسے اسلام حاصل ہوگیا ۔
حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے: ’’من طلب الدنیا بعمل الٓاخرۃنکس اللّٰہ قلبہ وکتب اسمہ فی دیوان اہل النار‘‘ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)*
جو شخص آخرت کے عمل کے ساتھ دنیا طلب کرے ۔ خدا تَعَالٰی اس کے دل کو الٹا کردیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں کے دفتر میں لکھ دیتاہے ۔حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ قول اس آیت سے ماخوذ ہے جو حق تَعَالٰی نے فرمایا:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ *(پ۲۵، الشورٰی:۲۰)*
کہ جو شخص (اپنے اعمال صالح میں )دنیا چاہے ہم دنیا سے اتنا جتناکہ اس کا مقرر ہے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لئے کوئی حصّہ نہیں

04/01/2023

*आज ‌की नसीहत ज़ुबान की हिफ़ाज़त**
फिर तुम पर ज़ुबान को क़ाबू में रख कर उसकी हिफ़ाज़त करना भी लाज़िम है
*क्योंकि*
तमाम आ'ज़ा में सबसे ज़्यादा सरकश व हटधर्मी और फ़साद व दुश्मनी इसी में है ।
यही वजह है कि जब बारगाहे रिसालत में अर्ज़ की गई कि या रसूलुल्लाह ﷺ!
*आपको हम पर सबसे ज़्यादा ख़ौफ़ किस चीज़ का है?*
तो हुज़ूर नबी करीम सल्लल्लाहु तआला अलैहि वसल्लम ने अपनी मुबारक ज़ुबान पकड़ कर फ़रमाया:*
*"इस चीज़ का।"*
एक बुज़ुर्ग रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं:
"मेरा नफ़्स शदीद गर्मी में रोज़े का बोझ उठाने को तैयार है मगर फ़ुज़ूल गोई का कोई कलमा (बात) छोड़ने को तैयार नहीं।"
जब मामला ये है तो तुम पर इसकी इंतिहाई हिफ़ाज़त और ख़ूब कोशिश करना ज़रूरी है।
हज़रत सैयदना मालिक बिन दीनार रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं:
"जब तुम अपने दिल में सख़्ती , बदन और दीन में सुस्ती और रिज़्क़ में तंगी देखो तो समझ लो कि तुमने ज़रूर फ़ुज़ूल गुफ़्तगू की है।"
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६७)*

04/01/2023

*محب ِمولاعلی کی پہچان :-
حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ ’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے محبت کرنے والے برُدبار، علم والے ،خشک ہونٹوں والے، ایسے نیکوکار ہوتے ہیں جو عبادت کی وجہ سے گوشہ نشین معلوم ہوتے ہیں
حضرتِ سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’ ہم سے محبت کرنے والے خشک ہونٹوں والے ہوتے ہیں اور ہم میں سے امام وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طاعت وعبادت کی طرف بلانے والا ہو ۔ ‘‘
*محبانِ اہل بیت کی علامات :-
حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہان یقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : اہل ِبیت ِاطہار کے محبین خشک ہونٹوں والے ہوتے ہیں وہ اپنی پیشانیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جھکائے رکھتے اور موت کو یاد رکھتے ہیں دنیا دار ظالموں اور مالداروں سے کنارہ کشی اختیارکرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے دنیوی راحتوں اور آسائشوں لذتوں اور شہوتوں انواع واقسام کے کھانوں اور لذیذ شربتوں کو ترک کر دیا اور رسولوں ولیوں اور صدیقوں کی راہ پر گامزن ہوئے ، فناوزوال پذیر ہونے والی دنیا کے تارِک، ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت میں راغب رہے بالآخر انعام واکرام، فضل و احسان فرمانے والے ربِّ حنّان ومنّان، رحیم ورحمن عَزَّوَجَلَّ کے حضور جا پہنچے ۔
*[2] فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل ، باب ومن فضائل امیرالمؤمنین علی ، الحدیث : ۱۱۴۴ ، ج۲ ، ص۶۷۱۔*

03/01/2023

*آج کی نصیحت تقوی اختیار کرنا عام غلطیاں فضولیات میں وقت بربار کرنا۔۔*
" بندہ کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی نظرِ عنایت پھیر لی ہے۔ اور جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ،اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر دیا جائے۔ اور جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جائے اور اِس کے باوجود اُس کی برائیوں پر اُس کی اچھائیاں غالب نہ ہوں، تو اُسے جہنّم کی آگ میں جانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
*(الفردوس بمأثور الخطاب : باب المیم ج ۳ ص ۴۹۸ رقم الحدیث ۵۵۴۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)*

*سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔*

02/01/2023

*اللہ کے بندو موت سے غفلت موت اور عذاب سے نہیں بچاتی :-
حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَد سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایک جنازہ میں شریک ہوئے تدفین کے بعد میت کے ورثاء پر گر یہ طاری ہوگیا اور وہ رونے لگے ، تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : تم کیوں روتے ہو ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اگر تم ان احوال کا مشاہدہ کر لیتے جن کا مشاہدہ میت نے کیا ہے تو تم اس مردے کو بھول جاتے اور اپنے آپ پر روتے یاد رکھو موت تمہارے پاس آتی رہے گی یہاں تک کہ تم میں کوئی ایک بھی زندہ نہ ر ہے گا ۔ اتنا بیان کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے تمہارے لئے بہت سی مثالیں بیان فرمائیں اور تمہاری موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے ۔اس نے تمہیں ایسے کان عطاکئے ہیں کہ وہ جو سن لیتے ہیں اسے یاد کر لیتے ہیں اور ایسی آنکھیں بخشیں ہیں کہ جس چیز کو ان آنکھوں سے دیکھ لیا جاتا ہے وہ واضح ہو جاتی ہے اس نے تمہیں ایسے دِل بھی دئیے ہیں جو معاملات کو سمجھ لیتے ہیں بے شک اُس نے تمہیں بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ کا مل نعمتوں اور عمدہ اشیاء کے ساتھ تمہیں عزت بخشی، تمہارے لئے ہر چیز کی مقدار مقرر فرمائی اور تمہارے اعمال کے مطابق جزا مقرر فرمائی ۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو ! اسے پانے کی کوشش کرو خواہشات کا دم توڑنے والی موت سے ہمکنار ہونے سے پہلے پہلے ( نیک ) عمل کے ذریعے اس کے لئے تیاری کرو کیونکہ دنیا کی نعمتیں عارضی و فانی ہیں اس کی آفتوں سے نہ کسی متکبر ومغرور کا غرور بچا سکتا ہے تو نہ ہی کسی اَفواہ ساز کی بات اور نہ باطل و ناحق کی طرف میلان رکھنے والے کسی شخص کا سہارا امن دے سکتا ہے کہ جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیتا اور ہر وقت شہوت میں بدمست ہو کر خود فریبی کا شکار رہتا ہے ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ! آیات واَحادیث سے عبرت و نصیحت حاصل کرو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر و ! وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرو ! موت تم میں اپنے پنجے گاڑ چکی اور تمہیں مٹی کے گھر سے ملا کر رہے گی پھر صور
پھونکنے کے ساتھ ہی قبروں سے اُٹھنے ، میدان محشر کی طرف ہانکے جانے اور حساب کے لئے اللہ جبار و قہار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے والے ہولناک قسم کے اُمور پیش آنے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جب ہر نفس کے ساتھ ہانکنے والا ہوگا جو اسے میدان محشر کی طر ف لے جائے گااور ایک گواہ ہوگا جو اس کے اعمال کی گواہی دے گا ۔ چنانچہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۶۹) *( پ۲۴،الزمر : ۶۹ )*
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین جگمگا اُٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیا اور یہ نبی اور اُس کی اُمت کے اُن پر گواہ ہوں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور اُن پرظلم نہ ہوگا ۔
اس دن تمام شہر تھر ااُٹھیں گے ۔ منادی ندادے گا ۔ وہ دن ملاقات کا دن ہوگا ۔ پنڈلی سے پردہ اُٹھ جائے گا ۔ سورج بے نور ہوجائے گا ۔ دَرِندے محشر میں جمع کئے جائیں گے ۔ راز ظاہر ہوجائیں گے ۔ بد کاروں کے لئے ہلاکت کا دن ہوگا ۔ دل کانپ اُٹھیں گے ۔اہلِ جہنم کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے پھٹکار ہوگی جہنم ان پر اپنے آنکڑے اور ناخن نکال لے گی اور ان پر چیخے چلائے گی ۔ اس کی آگ کو ہوا مزید بھڑکائے گی ۔ اس میں رہنے والے سانس نہ لے سکیں گے نہ ان پر موت طاری ہو گی اور نہ ان کی تکلیفیں ختم ہوں گی ۔ ان کے ہمراہ فرشتے ہوں گے جو انہیں جہنم میں داخلے اور کھولتے پانی کی خوشخبری سنائیں گے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے محروم نیز اس کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام سے دو ر ہوں گے اور جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس شخص کی طر ح ڈرو جو ڈرا اور عاجزی اِختیار کی ۔ خوفزدہ ہوا اور کوچ کے لئے چل پڑا ۔ محتا ط نظروں سے دیکھا توکانپ اُٹھا تلاش میں نکلا تو نجات کے لئے بھاگ پڑا ۔ قیامت کی تیاری کے لئے زادِراہ کمر پر رکھ لیا اور یاد رکھو اللہ عَزَّوَجَلَّ بدلہ لینے کے لئے کافی ، ہر عمل کو دیکھنے والا، اعمال نامہ مضبوط فریق اور حجت کے لئے کافی ،جنت ثواب دینے میں اور جہنم عذاب دینے میں کافی ہے ۔ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتاہوں
*[1] صفۃ الصفوۃ،ابوالحسن علی بن ابی طالب،کلمات منتخبۃ من کلامہ و مواعظہ ، ج۱ ،ص۱۷۱۔۱۷۲ ، مختصرًا۔*

01/01/2023

*آج کی نصیحت دل میں شہوت کا بیج بونے والی:-*
حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے مروی ہے کہ:
’’اپنی نظر کی حفاظت کرو کیونکہ یہ دل میں شہوت کا بیج بوتی ہے اور نظر ڈالنے والے کے لئے اس کافتنہ کافی ہے۔‘‘
لہٰذا اگرتم نظر نیچی رکھو گے تو سینہ صاف اور دل کثیر وسوسوں سے خالی ہو کر پُرسکون ہو جائے گا، نفس کثیر آفات سے محفوظ ہوگا اور تم نیکیوں میں اضافہ کروگے۔
نیز آیت مبارَکہ کےاس حصے:
اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یعنی بےشک اللہ کو ان کےکاموں کی خبرہے۔“
میں بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔
*(مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ -٦٦_٦٧)*

31/12/2022

*آج کی نصیحت آنکھ کی حفاظت:*
سب سے پہلے تجھ پر آنکھ کی حفاظت ضروری ہے کہ یہ ہر آفت اور فتنے کا سبب ہے۔
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ﴿۳۰
*(پ۱۸،النور:۳۰)*
ترجمہ کنزالایمان:
"مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ اُن کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو اُن کے کاموں کی خبر ہے۔"
یہاں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور بندے پر لازم ہے کہ اپنے مالک کے حکم پر عمل کرے ورنہ وہ بے ادب قرار پائے گا اور اُسے روک کر مالک کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آیت طیبہ میں یہ جو فرمایا گیا:
’’ ذٰلِکَ اَزْکٰی ‘‘یہ ان کے لئے ستھرا ہے یعنی ان کے دلوں کو ستھرا کرنے اور ان کی بھلائی کو بڑھانے والا ہے۔
اس فرمان سےآگاہ فرمایا گیا کہ نگاہوں کو نیچا رکھنے میں دل کی پاکیزگی اور عبادت وبھلائی کی کثرت ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی نگاہ کو نہیں روکو گے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دو گے تو وہ لایعنی چیزوں کو دیکھے گی اور اگر اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت شامِلِ حال نہ ہوئی تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔اس لئے کہ یا تو تم حرام کو دیکھو گے تو گناہ میں پڑ جاؤ گے یا پھر مباح کی طرف نظر کرو گے تو تمہارا دل اس میں مشغول ہو جائے گا اور تمہیں اس کے سبب وسوسے اور خیالات آئیں گے،بالآخر تمہارا دل بھلائی سے غافل ہو کر انہی میں لگا رہے گا۔
*( مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ آن لائن-64_65)*

30/12/2022

*شیرِخدارَ ضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دنیا سے بے رغبتی:-*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی نیکوں اور زاہدوں کی زینت سے مزین تھے ۔
حضرت سیِّدُناعمّار بن یاسر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی ٔاَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں ایسی زینت سے مزین کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر پسندیدہ زینت سے اس نے کسی کو آراستہ نہیں کیا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں نیک لوگوں کی زینت ہے یعنی دنیا سے بے رغبتی پس اب دنیا کو تجھ سے کوئی مطلب نہ تمہیں اس سے کوئی سروکار اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے مساکین کی محبت عطا فرمائی لہٰذا تم ان کے پیر وکار اور وہ تمہارے امام ہونے پر راضی ہیں
*دُنیاکی مذمت : -*
حضرت سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : بروزِ قیامت دنیا حسین وجمیل صورت میں آئے گی اور عرض کرے گی اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ مجھے اپنا کوئی ولی عطا فرما، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا : جا تیری کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی میری بارگاہ میں کوئی مقام ہے کہ میں تجھے اپنا کوئی ولی عطا کروں چنا نچہ، اسے بو سیدہ کپڑے کی
طرح لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ ‘‘
*نگاہِ علی میں دنیا کی حقیقت:-*
امیر المؤمنین مولا مشکل کشا، شہنشاہِ اولیا حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم تارک ِدنیا تھے ،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے دنیا کی حقیقت سے پردہ اُٹھ گیا، ہدایت وبصارت نصیب ہوئی او رضلالت و گمراہی سے محفوظ رہے ۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دنیا میں زُہدا ختیار کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے علم لدُنی سے نوازتا اور بغیر کسی واسطہ کے ہدایت عطافرما تا ہے ، نورِ بصیرت عطا فرماتااور ضلالت وگمراہی سے بچاتاہے
*[3] مجمع الزوائد ،کتاب المناقب ،باب جامع فی مناقب علی، الحدیث :۱۴۷۰۳ ، ج۹ ، ص۱۶۱ ، بتغیرٍ۔*

29/12/2022

Urdu hindi post
*फ़रिश्तों को नेकी व बदी का इल्म कैसे होता है?*
हज़रत सैयदना सुफ़ियान बिन उययनह रहमतुल्लाहि अलैहि से पूछा गया कि मलाइका बंदे का इरादा किस तरह लिखते हैं?
यानी वह फ़रिश्ते जो नेकी व बदी लिखने पर मामूर हैं वह बंदे का इरादा कैसे जानते हैं हालांकि उसने अब तक अमल नहीं किया होता?
आप ने इर्शाद फ़रमाया: "वह (फ़रिश्ते) इस तरह जानते हैं कि जब बंदा नेकी करने का इरादा करता है तो उससे मुश्क की ख़ुशबू निकलती है और वह फ़रिश्ते ख़ुशबू से मालूम कर लेते हैं कि इसने नेकी का इरादा किया है और जब बंदा बुराई का इरादा करता है तो उससे बदबू निकलती है तो उन फ़रिश्तों को मालूम हो जाता है कि इसने बदी का इरादा किया है।" यहां इरादा से पक्का इरादा मुराद है।
*(تنبیہ المغترین، ص، 48)*
*فرشتوں کو نیکی و بدی کا علم کیسے ہوتا ہے؟*
حضرت سیّدنا سفیان بن عیینہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ ملائکہ بندے کا ارادہ کس طرح لکھتے ہیں؟
یعنی وہ فرشتے جو نیکی و بدی لکھنے پر مامور ہیں وہ بندے کا ارادہ کیسے جانتے ہیں حالانکہ اس نے اب تک عمل نہیں کیا ہوتا؟
آپ نے ارشاد فرمایا: "وہ اس طرح جانتے ہیں کہ جب بندہ نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے مُشک کی سی خوشبو نکلتی ہے اور وہ فرشتے خوشبو سے معلوم کر لیتے ہیں کہ اس نے نیکی کا ارادہ کیا ہے اور جب بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے بدبو نکلتی ہے تو ان فرشتوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے بدی کا ارادہ کیا ہے۔" یہاں ارادہ سے عزمِ مُصمّم (یعنی پکا ارادہ) مراد ہے۔ *(تنبیہ المغترین، ص، 48)*

28/12/2022

*आज ‌की नसीहत तक़्वा की वज़ाहत(वर्णन)**
🌷 *कभी तक़्वा कुफ़्र से बचने को कहते हैं*
🌷 *कभी गुनाह से बचने और दूर रहने को तक़्वा कहा जाता है और*
🌷 *कभी अल्लाह तआला के सिवा हर चीज़ से मुंह मोड़ लेने को तक़्वा कहा जाता है* मगर ये अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल के ख़ास उल ख़ास बंदों का तक़्वा होता है।
बा'ज़ उल्मा फ़रमाते हैं:
🌷 *हर वह शै छोड़ देना तक़्वा है जिससे तुम्हें अपने दीन में नुक़सान का ख़ौफ़ हो* जैसे बुख़ार का मरीज़ खाने पीने और फल वग़ैरह में से अपने लिए नुक़सान पहुंचाने वाली चीज़ को छोड़ देता है।
तक़्वा की एक वज़ाहत ये भी है कि:
🌷 *अहकामात को बजा लाने और ममनूआत से बचने का नाम तक़्वा है।*
बहरहाल *तक़्वा तुम्हें तौबा, इबादत, ख़शियत और कामयाबी से हमकिनार कर देगा।*
फ़रमाने बारी तआला है:
तर्जुमा कंज़ुल ईमान: "और जो हुक्म माने अल्लाह और उसके रसूल का और अल्लाह से डरे और परहेज़गारी करे तो यही लोग कामयाब हैं।" *(सूरह अल् नूर-५२)*
फिर ये कि जिन चीज़ों से नुक़सान का अंदेशा है वह हराम, गुनाह और ज़ायद अज़ ज़रूरत हलाल का इस्तेमाल है क्योंकि ज़रूरत से ज़ायद हलाल में मशग़ूल व मुन्हमिक होना बंदे को हराम की जानिब ले जाता और गुनाहों पर उभारता है और ऐसा नफ़्स के शर और उसकी सरकशी और ख़्वाहिश और उसकी नाफ़रमानी की आदत की वजह से होता है।
लिहाज़ा जो अपने दीनी मामले में नुक़सान से मह़फ़ूज़ रहना चाहता है वह इस ख़तरे से यूं बचे कि ज़रूरत से ज़ायद हलाल को इस डर से छोड़ दे कि ये हराम की तरफ़ ले जा सकता है।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -६३_६४)*

27/12/2022

*غلام کے ساتھ حسنِ سلوک :-
حضرت سیِّدُنامیمون بن مِہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : مجھے ہمدانی نے بتایا کہ ’’ انہوں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ ایک خچر پر سوارہیں اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پیچھے آپ کا غلام نائل بیٹھا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں کے امیرتھے ۔
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن رومی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اگر مجھے جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے لیکن مجھے یہ پتہ نہ ہو کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہو گا تو میں یہ پسند کروں گا کہ مٹی ہوجاؤں اس سے پہلے کہ مجھے کسی طرف جانے کا حکم دیا جائے ۔[1]
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ محاصرہ کے دن ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تھے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اورنہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام قبول کرنے کے بعد میری حیا میں مزید اضافہ ہوا [2]
حضرت سیِّدُناعقبہ بن صہبان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : میں نے جب سے اسلام قبول کیا ،کبھی بھی اپنا سیدھا ہاتھ اپنی شرمگاہ کو نہیں لگایا ۔ [3]
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام ہانی فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے، تو اس قدر روتے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ریش یعنی ڈاڑھی مبارَک آنسو ٔوں سے تر ہوجاتی [4]
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہvسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : سوائے خالی روٹی کے عمدہ کھانے میٹھا پانی اور سایہ دار گھر ابن آدم کے لئے نعمت ہیں اور اس کے لئے اس میں کوئی فضیلت نہیں [5]
*[1] الزھد للامام احمد بن حنبل ، زھد عثمان بن عفان ،الحدیث : ۶۸۶ ، ص۱۵۵۔*
*[2] سنن النسائی ،کتاب المحاربۃ، باب ذکر ما یحل بہ دم المسلم ، الحدیث : ۴۰۲۴ ، ص۲۳۵۱ ، مختصرًا۔*
*[3] سنن ابن ماجہ ، ابواب الطھارۃ ، باب کراھۃ مس الذکربالیمین والاستنجاء بالیمین ، الحدیث : ۳۱۱ ، ص۲۴۹۶ ، بتغیرٍ۔*
*[4] جامع الترمذی ،ابواب الزھد ، باب ماجاء فظاعۃالخ ، الحدیث : ۲۳۰۸*

26/12/2022

*حضور ﷺ سے اپنی شہادت کی خبر سن کر چہر ے کارنگ بدلتا رہا :-
حضرت سیِّدُناقیس بن ابو حازم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے حضرت سیِّدُناابو سَہْلَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کیا کہ جس دن امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کرنے کے لئے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر کو گھیرے میں لے لیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : بے شک نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا ، میں آج اس وعدے کے مطابق صبر کروں گا ۔ حضرت سیِّدُنا قیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس وقت صحابۂ کرام کو اس دن کی حقیقت کا اندازہ ہوا کہ جس دن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا تھاکہ ’’ میں اپنے ایک صحابی سے راز ونیاز کی باتیں کر نا چاہتا ہوں عرض کی گئی : حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بلالائیں ؟ فرمایا : نہیں عرض کی گئی : حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ؟ فرمایا نہیں عرض کی گئی : حضرت سیِّدُنا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ؟ فرمایا : نہیں‘‘ بالآخر حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بُلایا گیا تو حضورنبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں آہستہ سے کچھ فرمانے لگے جسے سن کر حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے چہر ے کارنگ بدلتا رہا ۔ [2]
*عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دوخصوصی فضیلتیں :-
حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دو ایسی فضیلتیں حاصل تھیں کہ ان کی مثل امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق وحضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بھی حاصل نہ تھیں ( ۱ ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا صبر کرنا یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ظلماً شہید کردیا گیا ( ۲ ) تمام لوگوں کو قرآن مجید کی ایک قرا ءت پر جمع کرنا ۔ [3]
*راہِ خدا میں مال خرچ کرنا:-*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے مال کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا وخوشنودی حاصل کرتے اور اس کے بندوں پر مال خرچ کرنے میں اپنے دوستوں سے بڑھ جاتے تھے جبکہ اپنے لئے تھوڑے ہی مال اور معمولی لباس پر قناعت فرماتے ۔ اورعُلمائے کرام کا ایک فرمان یہ بھی ہے کہ : ’’ فضیلت کی اِنتہا تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنا تصوُّف ہے ۔
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دو مرتبہ جنت خریدی، ایک مرتبہ جببِئْ رِرُوْمَہ پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کیا اور دوسری مرتبہ جب غزوۂ تبوک کے لئے سامانِ جہاد فراہم کیا ۔ [4]
*[2] سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ،باب فضل عثمان ، الحدیث : ۱۱۳ ، ص۲۴۸۴ ، بتغیرٍقلیلٍ۔*
*[3] المصاحف لابن أبی داؤد ، باب اتفاق الناس مع عثمان…الخ ، الحدیث : ۳۶ ، ج۱ ، ص۴۸۔*
*[4]المستدرک ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب اشتری عثمان الجنۃ مرتین ، الحدیث : ۴۶۲۶ ، ج۴ ، ص۶۸ ، بتغیرٍقلیلٍ۔*

25/12/2022

*आज ‌की हदीस शरीफ़ मेरी तरफ़ से पहुंचाओ अगरचे एक ही आयत हो हदीस नं -१*
हज़रत सैयदना अबू हुरैरा रज़ी अल्लाहु तआला अन्हु ने रसूलुल्लाह ﷺ से रिवायत किया , हुज़ूर सल्लल्लाहु तआला अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया: "जिसे पसंद हो कि वह ईमान की हलावत पाए तो वह किसी बंदे से सिर्फ़ अल्लाह ही की ख़ातिर मुहब्बत करे।"

*हदीस नं -२*
हज़रत सैयदना अबू हुरैरा रज़ी अल्लाहु तआला अन्हु ने रसूलुल्लाह ﷺ से रिवायत किया , हुज़ूर सल्लल्लाहु तआला अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया: "जिसे पसंद हो कि वह ईमान का ज़ायक़ा चख ले तो वह किसी शख़्स से मुहब्बत करे तो महज़ अल्लाह की रज़ा की ख़ातिर मुहब्बत करे।"
*(मुसनद इस्हाक़ बिन राहवेह किताबुल ईमान हदीस शरीफ़ नं -४१_४२)*

24/12/2022

*آج کی حدیث شریف مرآۃ المناجیح حدیث نمبر :372*
روایت ہے ابو سلمہ سے ۱؎ وہ زید ابن خالد جہنی سے ۲؎ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا اور نمازعشاءکو تہائی رات تک پیچھے ہٹا دیتا ۳؎ فرماتے ہیں کہ زید ابن خالد مسجد میں نماز کے لیئے یوں آتے تھے کہ ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی۔جیسے منشی کے کان میں قلم جب بھی نماز کو کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے پھر وہاں ہی مسواک رکھ لیتے۴؎ اسے ترمذی و ابوداؤد نے روایت کیا مگر ابوداؤد نے لَاَخَّرْتُ کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
*شرح*
۱؎ آپ کا نام عبدا ﷲ ابن عبدالرحمن بن عوف ہے، قرشی زہری ہیں،مدینۂ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،۷۲ سال عمر پائی، ۹۷ھ ؁میں وفات ہوئی۔ ۲؎ مشہور صحابی ہیں، عبدالملک ابن مر وان کے زمانہ میں ۷۸ھ؁ مقام کوفہ میں فوت ہوئے۔(مرقاۃ واشعہ)۳؎ یعنی یہ دونوں چیزیں فرض کردیتا کہ بغیر مسواک نماز ہی نہ ہوتی اور تہائی رات سے پہلے نماز عشاء ناجائز ہوتی۔معلوم ہوا کہ ﷲ تعالٰی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک احکام بنایا ہے کہ چاہیں فرض کریں چاہیں نہ کریں۔۴؎ یہ حضرت زید ابن خالد کا اپنا اجتہاد تھا۔ان کے سوا کسی صحابی نے بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کبھی نہ کیا۔حضرت زید"کُلِّ صَلوٰۃٍ" سے ہر نماز سمجھے حالانکہ وہاں نماز کا وضو مراد ہے، جیسا کہ ہم شروع میں تحقیقًا عرض کرچکے ہیں۔یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زیور کی حدیث سن کر وضو میں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔لہذا یہ عمل قابلِ تقلید نہیں۔میں نے کویت میں بعض شوافع کو دیکھا کہ ان کے گلے میں مسواک پڑی رہتی ہے،ہر نماز کی نیت پر مسواک کرتے جاتے تھے، حالانکہ مسواک کا کھڑا کرکے رکھنا سنت ہے۔غالب یہ ہے کہ حضرت زید نے"کُلِّ صَلوٰۃٍ"سے ہروقت کی نماز سمجھا نہ کہ ہر نماز،لہذا آپ ایک وقت کی ساری نماز کے لئے ایک دفعہ مسواک کرلیتے تھے۔مگر کویت کے وہ حضرات اور آگے بڑھ گئے کہ ہر نماز کے لیے کئی کئی بار مسواک کرنے لگے۔ﷲ تعالٰی حدیث کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔آمین !

23/12/2022

*आज ‌की नसीहत नफ़्स न होता तो सलामती रहती**
हज़रत सैयदना आदम व हव्वा अलैहिमस्सलाम से जो लग़्ज़िश हुई उसमें उन्हें ख़्वाहिश ही ने डाला हत्ता कि शैतान के कहने से वह बे साफ़ व बे ख़बरी के मामले में पड़ गए और उन्होंने उस ममनूआ दरख़्त (गंदुम या अंगूर) से खा लिया जिसके सबब जवारे इलाही और जन्नती ठिकाने से अलायहदा होकर इस फ़ानी व हक़ीर, खोटी और हलाकत ख़ेज़ दुनिया की तरफ़ उतार दिए गए।
फिर हाबील व क़ाबील का वाक़िआ देख लो उसमें भी हसद सबब बना था (कि क़ाबील ने हसद के सबब अपने भाई हज़रत हाबील रहमतुल्लाहि अलैहि को क़त्ल कर दिया)।
यूंही आगे चलते जाओ तो *क़यामत तक मख़लूक़ में तुम जो भी फ़ित्ना व आज़माइश, गुमराही , गुनाह और ज़िल्लत व रुसवाई देखोगे उसका सबब नफ़्स और उसकी ख़्वाहिश ही नज़र आएगी।*
अगर ये नफ़्स न होता तो मख़लूक़ सलामती और ख़ैर में ही रहती। जब ये दुश्मन इस क़दर नुक़सान पहुंचाने वाला है तो अक़्लमंद पर लाज़िम है कि उससे बचाव का एहतेमाम करे।
अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल ही अपने फ़ज़्ल व करम से तौफ़ीक़ व हिदायत देने वाला है।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -५८)*

22/12/2022

*تصوف نام ہے اپنے دل کے حال کو جاننا یہ بہترین علم ہیں*
ایک حدیث کا مفہوم ہے جس نے اپنے آپ کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا دوسری حدیث کا مفہوم ہیں مومن کا دل آئینہ ہوتا ہے جس سے وہ دوسرے کے دل کا حال جان لیے اگر آپ کسی کو نفل عبادت کی نصیت کرتے ہیں مگر اپنے گھر والوں کو فرض واجب کی نصیت نہیں کرتے تو کہی ایسا تو نہیں آپ لوگوں کو نصیت کے بہانے اپنی نفل عبادت کا اظہار کر رہے ہو گھر والوں کو ہر گنہہ سے بچنے کی نصیت کرنا آپ پر فرض واجب ہیں اور اپنی نفل عبادت کو چھپانے کا حکم ہیں جس کو فرض واجب سے زیادہ نفل کی فکر ہو اس کے لئے شیطانی وسوسوں کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے جن لوگوں کو فرض اور واجب میں ثواب نظر نہیں آتا یا ان کو فکر نہیں ہوتی ایسے لوگوں کو نفل عبادت میں اخلاص حاصل ہونا بہت مشکل ہیں ہر نماز کو جماعت سے پڑھنا واجب ہے ہر مرد کے لئے ایک مٹھی داڑھی واجب ہیں ہر عورت کے لئے ہر غیر محرم سے پردہ واجب ہیں اب جن کو ایسے واجب کی فکر نہیں ہوتی ایسے لوگ کسی دعوت کو سنّت سمجھ کر چلے جائے کسی میت کی تدفین میں ثواب سمجھ کے چلے جائے یہ صرف اپنے آپ کو دھوکھا دینا ہیں کسی دعوت میں جانا آپ کے لئے سنّت اور ثواب نہیں نہ کسی میت میں آپ کے لئے ثواب ہیں یہ صرف نیفاق ہیں نہ جاینگے تو لوگ کیا کہینگے ایسے لوگوں کو آخرت میں جواب ملیگا یہ عمل جس کے لئے کیا ثواب اسی سے مانگوں ہر عمل میں اخلاص تو تب حاصل ہوگا جب ہر عمل کو سنت کے مطابق کرنے کی سوچ ہوگی
*اللہ تعالی ہم سب اخلاص کے ساتھ سنت پر عمل کرنے کی توفیق آتا کرے آمین*

21/12/2022

*आज ‌की नसीहत चौथी रुकावट: नफ़्स*
तुम पर लाज़िम है कि बुराई का हुक्म देने वाले नफ़्स से भी बचो।
ये सबसे ज़्यादा नुक़सानदह दुश्मन है और इसकी आफ़त भी बहुत सख़्त है,इसका इलाज सबसे मुश्किल है,
इसकी बीमारी इंतिहाई ख़तरनाक और दवा इंतिहाई दुश्वार है।
इसलिए कि ये अंदर का चोर है और जो घर के अंदर का चोर हो उससे बचना मुश्किल और उसका नुक़सान ज़्यादा होता है और नफ़्स इंसान का महबूब भी होता है और महबूब के मामले में इंसान वैसे ही अंधा होता है क्योंकि मुहिब को महबूब के उयूब नज़र नहीं आते लिहाज़ा
जब इंसान अपने हर ऐब को ख़ूबी समझने लगे और अपने ‌दुश्मन और नुक़सान पहुंचाने वाले ऐबों को जानने की कोशिश न करे तो वह (नफ़्स) उसे ज़िल्लत व हलाकत में डाल देते हैं।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -५७)*

Address

Jogeshwari West
Mumbai
400102

Telephone

9867362964

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aashiq E Rasool posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share