06/01/2023
*اخلاق الصالحین:-5*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جو عمل میں نے ظاہر کردیا ہے میں اس کو شمار میں نہیں لاتا یعنی اس کو کالعدم سمجھتا ہوں کیونکہ لوگوں کے سامنے اخلاص حاصل ہونا مشکل ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایسا لباس پہنتے تھے کہ ان کے احباب کے سوا کوئی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ عالم ہیں اور فرمایا کرتے تھے کہ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسا چھپائے جیسے برائیوں کو چھپاتا ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دیکھا کہ وہ حرم شریف میں ایک بہت بڑے حلقہ درس میں حدیث کا املاء فرما رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قریب ہوکر ان کے کان میں کہا کہ اگر تیرا نفس تجھے عُجب میں ڈالے یعنی اگر نفس کو یہ بات پسندیدہ معلوم ہوتی ہے تو تو اس مجلس سے اُٹھ کھڑا ہو اسی وقت حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں تشریف لے گئے تو آپ کے حلقۂ درس کو دیکھ کر فرمانے لگے:اگر یہ حلقہ کسی صحابی کا ہوتا تو میں اپنے نفس پر عجب سے بے خوف نہ ہوتا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب حدیث کی املاء کے لئے اکیلے بیٹھتے تو نہایت خائف اور مرعوب بیٹھتے ۔ اگر ان کے اوپر سے بادل گزرتا تو خاموش ہوجاتے اور فرماتے کہ میں ڈرتا ہوں کہ اس بادل میں پتھر نہ ہوں جو ہم پر برسائے جائیں ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
ایک شخص حضرت اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں ہنسا تو آپ نے اس کو جھڑکا اور اُٹھا دیا اور فرمایا کہ تو علم طلب کرتا ہوا ہنستا ہے جس علم کے طلب کے لئے اللہ تَعَالٰی نے تجھے مکلف فرمایا ۔ پھر آپ نے دوماہ تک اس کے ساتھ کلام نہ کیا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۸)*