Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai

Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai is a non-profit organisation based in Kurla Mumbai (Maharashtra) Indi

Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai is a non-profit organisation based in Kurla Mumbai (Maharashtra) India ....

  2سورہ فاتحہ: نام اور فضیلتشیخ عبدالرشید سلفیSurah Fatiha: Naam aur FazeelatShaikh Abdur Rasheed Salafihttps://youtu.be...
09/10/2026

2

سورہ فاتحہ: نام اور فضیلت
شیخ عبدالرشید سلفی

Surah Fatiha: Naam aur Fazeelat
Shaikh Abdur Rasheed Salafi

https://youtu.be/UAV4ca5yKHg

تفسیر قرآن سیریز - پارٹ ٢

📌 Join Our Channel For More Updates
https://whatsapp.com/channel/0029Va9tCT0BA1f40CvohJ14

۔۔┈┉┅━━━❁━━━┅┉┈Ongoing ilmi DuroosAqeedah wa Sunnat mein Salaf...

گناہ کے ماحول سے ہجرت اور مال کی قربانی، سچی توبہ کا عملی نمونہ❍ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ...
08/10/2026

گناہ کے ماحول سے ہجرت اور مال کی قربانی، سچی توبہ کا عملی نمونہ

❍ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، تو انہوں نے عرض کیا:
”يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأُجَاوِرَكَ، وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ‘‘.
اے اللہ کے رسول ﷺ! میری توبہ (کی تکمیل اور شکرانے) کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کے اُس گھر یا محلے کو چھوڑ دوں جہاں مجھ سے یہ گناہ سرزد ہوا تھا، اور اسے چھوڑ کر آپ کی ہمسائیگی اختیار کر لوں، اور یہ کہ میں اپنے تمام مال سے صدقہ کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے بالکل الگ اور دستبردار ہو جاؤں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری طرف سے اس سارے مال میں سے ایک تہائی صدقہ کر دینا ہی کافی ہے۔
[سنن أبي داود: ٣٣١٩، مسند أحمد: ١٥٧٥٠، سنن الدارمي: ١٦٩٩، وقال الألباني : إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ]

✺ تشریحی، فقہی اور منہجی فوائد:
✦ یہ ایمان افروز حدیثِ مبارکہ سچی توبہ کے باطنی اور ظاہری تقاضوں، گناہ کے ماحول سے دوری، اور انفاقِ مال کے حوالے سے شریعتِ اسلامیہ کے کمالِ اعتدال پر مشتمل ایک نہایت ہی جامع اور بصیرت افروز نبوی ضابطہ ہے۔ اس میں ایک سچے مومن کے لیے جذبات پر شریعت کی حاکمیت کا عظیم درس پوشیدہ ہے۔
◈ گناہ کے مقام اور برے ماحول سے ہجرت:اس حدیث کا سب سے درخشاں اور نیا تربیتی پہلو سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ ہے کہ انہوں نے توبہ کی قبولیت کے بعد سب سے پہلا قدم اس جگہ اور محلے کو چھوڑنے کا اٹھایا جہاں ان سے لغزش ہوئی تھی۔ ایک سچے تائب کی یہ علامت ہے کہ وہ ان تمام اسباب، دوستوں اور مقامات سے قطع تعلقی کر لیتا ہے جو اسے دوبارہ گناہ کی یاد دلائیں یا اس کی طرف مائل کریں۔
❍ امام ابو الولید الباجی رحمہ اللہ (۴۷۴ھ) سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”ان کا یہ عمل گناہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ہر اس چیز کو ترک کر دینے میں مبالغے پر مبنی تھا جو اس گناہ کا سبب بنی تھی... اور اسی لیے انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کی ہمسائیگی اختیار کروں گا۔“ [المنتقى شرح الموطإ: ٣؍ ٢٦٠]
یعنی گناہ کے ماحول کو چھوڑ کر صالحین کی مجالس اور نیک ماحول کو اختیار کرنا توبہ پر استقامت کے لیے بنیادی شرط ہے۔
◈ فوری احساسِ ندامت اور نفس کا کڑا محاسبہ:سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے جب لغزش سرزد ہوئی، تو ان کا ضمیر اس قدر بیدار تھا کہ انہوں نے فوراً مسجدِ نبوی آ کر خود کو ایک ستون سے باندھ لیا، اور قسم کھائی کہ جب تک اللہ ان کی توبہ قبول نہ فرما لے اور رسول اللہ ﷺ اپنے دستِ مبارک سے انہیں نہ کھولیں، وہ کچھ کھائیں پییں گے نہیں۔ یہاں تک کہ شدتِ ضعف سے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔[دلائل النبوۃ للبیھقي: ۵؍ ۲۷۱]
واضح رہے کہ ائمہ سیرت و تفاسیر کے ہاں اس لغزش کے تعین میں دو اقوال ہیں:
ایک یہ کہ یہ واقعہ غزوۂ بنو قریظہ کے موقع پر پیش آیا تھا جب انہوں نے یہودیوں کو اشارۃً بتا دیا تھا کہ ان کا انجام ذبح ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ جانے کی بنا پر انہوں نے خود کو باندھا تھا۔ تاہم بعض علماء نے ان میں نہایت شاندار تطبیق دی ہے کہ کمالِ ندامت اور شدتِ احتساب کے باعث، ممکنہ طور پر ان سے یہ عمل دو الگ الگ مواقع پر سرزد ہوا تھا۔ [دیکھئے: تاریخ الاسلام للذھبي: ۲؍ ۶۵۲]
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ سچا مسلمان گناہ ہو جانے پر حیلے بہانے اور تاویلیں نہیں تراشتا، بلکہ اپنے نفس کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اللہ کے حضور رو پڑتا ہے۔
◈ سارا مال صدقہ کرنے کی نذر اور ’ایک تہائی‘ کی شرعی حد:سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعے میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے بھی اپنا سارا مال پیش کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اپنے پاس کچھ مال روک لو“، لیکن وہاں کسی مقدار کا تعین نہیں تھا۔ جبکہ سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے اس واقعے میں نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر ’’الثُّلُثُ‘‘ (ایک تہائی) کی حد مقرر فرما دی۔
◈ لفظ ’’يُجْزِيكَ‘‘ کی لغوی و فقہی دلالت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ‘‘۔
❍ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے نذر اور ایجاب کے الفاظ ادا کیے تھے۔ کیونکہ 'یجزی' (کافی ہے) کا لفظ عموماً واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہ محض ایک اختیاری ارادہ ہوتا، تو اس کے کچھ حصے کے ادا کرنے پر 'کفایت کر جانے' کا لفظ استعمال نہ ہوتا۔“ [المغني لابن قدامة: ۱۳؍ ۶۳۱]
اس سے ثابت ہوا کہ شریعتِ اسلامیہ میں تبرع اور خیرات کی انتہائی حد ایک تہائی مال ہے۔ جیسا کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی آپ ﷺ نے وصیت کے باب میں فرمایا تھا: ’’الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ‘‘ ایک تہائی حصہ کافی ہے، اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ [صحيح البخاري: ١٢٩٥]
☜ حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ حدیثِ مبارکہ آج کے دور میں ہم سب کے لیے ایک زبردست روحانی اور عملی علاج ہے۔ جب بھی انسان سے کوئی لغزش یا گناہ سرزد ہو جائے، تو اس کی توبہ صرف زبان تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ایک سچی توبہ کا عملی تقاضا یہ ہے کہ:
❶ انسان ان تمام بری محفلوں، دوستوں اور مقامات کو فوراً چھوڑ دے جو اسے گناہ کی طرف راغب کرتے ہیں، اور مساجد و نیک محفلوں سے اپنا تعلق جوڑ لے۔
❷ اللہ کے حضور شکرانے کے طور پر حسبِ استطاعت اپنا حلال مال ضرور صدقہ کرے، کیونکہ صدقہ گناہوں کے اثرات کو مٹا دیتا ہے۔
❸ تاہم، دینِ اسلام جذباتیت کا نہیں، اعتدال کا نام ہے۔ صدقہ و خیرات، اور دینی کاموں میں تعاون کرتے ہوئے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے معاشی تحفظ کو داؤ پر لگانا شریعت کا منشا نہیں۔ اپنی کل آمدنی یا اثاثوں میں سے ایک تہائی (1/3) یا اس سے کم حصہ توحید و سنت کی اشاعت کے مراکز، دینی مدارس کے قیام اور مستحقین پر خوش دلی سے خرچ کریں۔ یقین جانیں، اعتدال کے ساتھ دیا گیا یہ مال آپ کی سچی توبہ پر مہرِ تصدیق ثبت کر کے آپ کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سرخرو کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے اور ہمارے اموال کو پاکیزہ بنائے۔ آمین!
┈┉┅━━━❁━━━┅┉┈

🛑 LIVE NOW Dars  #122📘 _Sharh Kitab ut Tawheed_ 🎙 Shaikh Inayatullah Madani حفظه الله🗓 ```08 October 2026``` ▶️ YouTube ...
08/10/2026

🛑 LIVE NOW
Dars #122

📘 _Sharh Kitab ut Tawheed_

🎙 Shaikh Inayatullah Madani حفظه الله

🗓 ```08 October 2026```
▶️ YouTube Live:
🔗

┈┉┅━━━❁━━━┅┉┈Ongoing ilmi DuroosAqeedah wa Sunnat mein Salaf_ke_a...

Address

Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai – 14/15, Chunawala Compound, Opp BEST Bus Depot, L. B. S. Marg, Kurla (W) Mumbai
Mumbai
400070

Opening Hours

Tuesday 12pm - 7:30pm
Wednesday 12pm - 7:30pm
Thursday 12pm - 7:30pm
Friday 12pm - 7:30pm
Saturday 12pm - 7:30pm
Sunday 12pm - 7:30pm

Telephone

022 2652 0077

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai:

Shortcuts

Share