Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai

Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai is a non-profit organisation based in Kurla Mumbai (Maharashtra) Indi

Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai is a non-profit organisation based in Kurla Mumbai (Maharashtra) India ....

🛑 LIVE NOW Dars  #114📘 _Sharh Kitab ut Tawheed_ 🎙 Shaikh Inayatullah Madani حفظه الله🗓 ```06 August 2026``` ▶️ YouTube L...
06/08/2026

🛑 LIVE NOW
Dars #114

📘 _Sharh Kitab ut Tawheed_

🎙 Shaikh Inayatullah Madani حفظه الله

🗓 ```06 August 2026```
▶️ YouTube Live:
🔗

┈┉┅━━━❁━━━┅┉┈Ongoing ilmi DuroosAqeedah wa Sunnat mein Salaf_ke_a...

فانی دنیا پر باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دینے کا عظیم نبوی ضابطہ ❍ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رس...
06/08/2026

فانی دنیا پر باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دینے کا عظیم نبوی ضابطہ

❍ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهِ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى‘‘.
جس شخص نے اپنی دنیا سے (ایسی) محبت کی (جو اسے آخرت سے غافل کر دے)، تو اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا۔ اور جس شخص نے اپنی آخرت سے محبت کی، تو اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا (یعنی آخرت کی خاطر دنیاوی لذتوں کو قربان کر دیا)۔ پس تم باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیز (یعنی آخرت) کو فنا ہونے والی چیز (یعنی دنیا) پر ترجیح دو۔
[مسند أحمد: ١٩٦٩٨، الزهد لابن أبي الدنيا: ٨، صحيح ابن حبان: ٧٠٩، المستدرك للحاكم: ٧٨٥٣، مسند عبد بن حمید: ۵۶۸، وقال المحققون: إسناده حسن لغيره بشواهده، وصححہ الألباني لغیرہ]

✺ تشریحی، عقدی اور تربیتی فوائد:
✦ یہ عظیم الشان اور چشم کشا حدیثِ مبارکہ انسانی زندگی کے سب سے بڑے امتحان، ترجیحات کے تعین، اور دنیا و آخرت کی کشمکش کے حوالے سے ایک نہایت ہی بلیغ اور عظیم نبوی ضابطہ ہے۔ اس میں ایک سچے مومن کا زاویۂ نگاہ واضح کیا گیا ہے کہ انسان بیک وقت دنیا پرستی اور آخرت طلبی کے کمال کو جمع نہیں کر سکتا۔
◈ دنیا اور آخرت؛ دو سوکنوں کی طرح:رسول اللہ ﷺ نے انسان کی نفسیات اور قلب کی کیفیت کو دو ٹوک الفاظ میں بیان فرما دیا کہ دل ایک ہے، اس میں بیک وقت دنیا کی ہوس اور آخرت کی تڑپ کمال درجے میں جمع نہیں ہو سکتیں۔
❍ علامہ عبد الرؤوف المناوی رحمہ اللہ اس نفسیاتی اور روحانی کشمکش کی نہایت ہی شاندار اور بلیغ تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”یہ دنیا اور آخرت ترازو کے دو پلڑوں کی مانند ہیں، جب ایک پلڑا بھاری ہوتا ہے تو دوسرا خود بخود ہلکا ہو جاتا ہے، اور اس کا الٹ بھی ایسا ہی ہے۔ اور یہ دونوں مشرق اور مغرب کی طرح ہیں، یہ محال ہے کہ مشرق کے راستے پر چلنے والا شخص وہ چیز پا لے جو مغرب میں موجود ہے۔ اور یہ دونوں سوکنوں کی طرح ہیں؛ اگر تم ایک کو راضی کرو گے تو دوسری لازماً ناراض ہو جائے گی۔
لہٰذا، دنیا اور دین دونوں میں کمال درجے کی مشغولیت اور کامیابی کو جمع کرنا تقریباً ناممکن ہے، سوائے ان ہستیوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی دنیاوی اور اخروی زندگی (معاش اور معاد) کی تدبیر و رہنمائی کے لیے مسخر فرمایا، اور وہ انبیاء کرام علیہم السلام ہیں۔ان کے علاوہ عام انسانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے دل دنیا کی مشغولیات میں الجھ جاتے ہیں، تو وہ آخرت سے پھر جاتے ہیں۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت انسان کو دنیا ہی کے کاموں میں مشغول اور غرق کر دینے کا سبب بنتی ہے، اور یہی انہماک اسے آخرت کی فکر سے غافل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً، اس کی زندگی طاعت و عبادت سے خالی ہو جاتی ہے اور وہ آخرت کے بلند درجات کی کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے، اور یہی درحقیقت سب سے بڑا نقصان ہے۔“ [فيض القدير: ٦؍ ٣١]
❍ امام صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جس نے اپنی دنیا سے محبت کی، اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا‘، کیونکہ دنیا کی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کی شہوات میں مشغول ہو کر ان فرائض سے غافل ہو جائے جو اس پر واجب ہیں، یوں وہ اپنی آخرت کا نقصان کر بیٹھتا ہے۔ ’اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی، اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا‘، کیونکہ کسی بھی چیز سے سچی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے غیر (یعنی دیگر چیزوں) سے اعراض کر لے۔
’پس تم باقی رہنے والی چیز‘ یعنی آخرت کو ’فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو‘۔ کیونکہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ فانی ہے، جبکہ آخرت باقی رہنے والی ہے۔ اور ایک عقلمند انسان ہمیشہ باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ہی ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ یاد رہے کہ (دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا) یہ عظیم عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے مکمل ہو سکتا ہے۔“[التنوير شرح الجامع الصغير: ١٠؍ ٣٥]
◈ حبِ دنیا کا حقیقی مفہوم اور زہدِ شرعی:اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان دنیا میں حلال کمانا، تجارت کرنا یا جائز مال رکھنا چھوڑ دے۔ شریعت کی نگاہ میں دنیا اور مال بذاتِ خود مذموم نہیں ہیں، بلکہ مذموم وہ ”محبت“ ہے جو اللہ کے حقوق پر غالب آ جائے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا﴾ کی تفسیر میں بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کی طرف اس قدر مائل ہو جاتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق پر اپنے نفسانی حظوظ اور مفادات کو ترجیح دینے لگتے ہو۔“ [لطائف الإشارات: ٣؍ ٧١٩]
پس حقیقی زہد یہ ہے کہ دنیا انسان کے ہاتھ میں تو ہو، مگر اس کے دل پر قابض نہ ہو، اور جب اللہ کی رضا اور دنیاوی مفاد کا ٹکراؤ ہو، تو انسان بے دھڑک دنیا کو قربان کر دے۔
◈ قرآنِ مجید کی تائید اور صحابہ کرام کا فہم:نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ’’فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى‘‘ درحقیقت قرآنِ مجید کے اسی ابدی پیغام کی تشریح ہے جو متعدد مقامات پر دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ [الأعلى: ١٦-١٧] بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہت بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ﴾ [النحل: ٩٦] جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔
یہ آیات اور آثار اس بات کا قطعی فیصلہ کرتے ہیں کہ ہر وہ شے جو مٹنے والی ہے، اسے اس شے پر ترجیح دینا جو ہمیشہ رہنے والی ہے، عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہے اور شریعت کے بھی۔
◈ ترجیحات کا تعین؛ موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج:آج کے مادی دور میں اس حدیث کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انسان کی کامیابی اس میں نہیں کہ اس کا بینک بیلنس کتنا ہے یا اس کا منصب کیا ہے؟ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کا دل کس چیز کے لیے دھڑکتا ہے۔
☜ جب نماز کا وقت آئے اور کاروبار عروج پر ہو، تو جو شخص دکان بند کر کے مسجد چلا جاتا ہے، اس نے اپنی دنیا کو تھوڑا سا نقصان پہنچا کر اپنی آخرت کو محفوظ کر لیا۔ اور جو گاہکوں کے لالچ میں نماز قضا کر دیتا ہے، اس نے چند سکوں کی خاطر اپنی آخرت کو آگ میں جھونک دیا۔
☜ اسی طرح جو شخص اپنے مال کو توحید و سنت کی نشر و اشاعت، مساجد و مدارس کے قیام، اور دین کا دفاع کرنے والے علمائے حق اور طلبہ کی کفالت کے لیے صدقہ کرتا ہے، وہ بظاہر اپنی دنیاوی دولت کو کم کر رہا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ’’فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى‘‘ کے نبوی حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنے فانی مال کو آخرت کی باقی رہنے والی کرنسی میں تبدیل کر رہا ہوتا ہے۔
☜ حاصلِ کلام یہ ہے کہ اس حدیثِ مبارکہ میں ہمارے لیے ایک زبردست لمحۂ فکریہ ہے۔ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ ہم نے اپنے دل کے تخت پر کسے بٹھا رکھا ہے؟ دنیا اور اس کی زیب و زینت تو بہرحال چھوٹ جانے والی ہے۔ عقلمند وہ ہے جو موت کے آنے سے قبل اپنی ترجیحات درست کر لے۔ جو فرائض کی ادائیگی، حقوق العباد کی پاسداری، اور اللہ کی راہ میں انفاق کو دنیا کے عارضی مفادات پر ترجیح دیتا ہے، وہی درحقیقت ابدی جنتوں کا سچا خریدار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی محبت اور اس کے فتنوں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
┈┉┅━━━❁━━━┅┉┈

Address

Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai – 14/15, Chunawala Compound, Opp BEST Bus Depot, L. B. S. Marg, Kurla (W) Mumbai
Mumbai
400070

Opening Hours

Tuesday 12pm - 7:30pm
Wednesday 12pm - 7:30pm
Thursday 12pm - 7:30pm
Friday 12pm - 7:30pm
Saturday 12pm - 7:30pm
Sunday 12pm - 7:30pm

Telephone

022 2652 0077

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Subai Jamiat Ahle Hadees Mumbai:

Shortcuts

Share