Family First Guidance Centre

Family First Guidance Centre Family First Guidance Centre, an affordable mental health initiative in the Juma Masjid of Bombay Book Your Appointment:
http://bit.ly/APPOINTMENT_REQUEST_FORM

A holistic community wellness and counseling centre providing affordable services for prevalent social, psychological, financial & spiritual issues.

حج کے بعد کی زندگی یعنی تجدیدِ عہدِ بندگی مفتی اشفاق قاضی حج بیت اللہ کوئی رسمی عبادت یا مقدس مقامات کی زیارت کا نام نہی...
05/06/2026

حج کے بعد کی زندگی یعنی تجدیدِ عہدِ بندگی
مفتی اشفاق قاضی
حج بیت اللہ کوئی رسمی عبادت یا مقدس مقامات کی زیارت کا نام نہیں، بلکہ یہ بندۂ مومن کی زندگی میں ایک ہمہ گیر روحانی انقلاب کا آغاز ہے، یہ وہ عظیم تربیتی عمل ہے جس میں انسان اپنے رب کے حضور تمام ظاہری امتیازات، دنیوی حیثیتوں اور نفسانی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر سراپا عجز و انکسار بن جاتا ہے، حج ایک ایسی روحانی ورکشاپ ہے جو انسان کو نئی زندگی عطا کرتی ہے اور اسے گناہوں سے توبہ کرکے بندگی کے ایک نئے سفر پر گامزن کرتی ہے، جب ایک حاجی مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی سابقہ کوتاہیوں اور لغزشوں سے نجات کا عہد کرتا ہے، حج کے بعد اس کی زندگی ایک صاف اور سفید کورے کاغذ کی مانند ہونی چاہیے جس پر تقویٰ، اطاعتِ الٰہی، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی نئی داستان لکھی جائے، اگر اس عظیم عبادت کے بعد بھی انسان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس نے حج کی ظاہری مشقت تو اٹھائی، مگر اس کی روح اور پیغام کو پوری طرح نہیں اپنایا، حج کے دوران حاجی کی زبان پر مسلسل ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کا ورد جاری رہتا ہے، یہ دراصل بندے کی جانب سے اپنے رب کے حضور وفاداری اور اطاعت کا اعلان ہے، میدانِ عرفات میں بہنے والے آنسو، گناہوں پر ندامت اور مغفرت کی دعائیں، محض وقتی جذبات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک نئے عہد کی بنیاد ہوتی ہیں، عرفات کا میدان انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے اور اسے زندگی کا رخ بدلنے کی دعوت دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا عرفات کی وہ کیفیت وطن واپسی کے بعد بھی باقی رہتی ہے؟ ایک سچے حاجی کی پہچان یہی ہے کہ اس کے دل کی نرمی، خشیتِ الٰہی اور احساسِ جواب دہی حج کے بعد بھی برقرار رہے، بیت اللہ کے طواف کے دوران اس نے جو دعائیں کیں، ملتزم سے لپٹ کر جو التجائیں پیش کیں اور کعبہ کے سامنے جو عہد وپیمان کیے، وہ سب اس بات کا اعلان تھے کہ اب اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع ہوگی، اگر کوئی شخص واپسی کے فوراً بعد انہی گناہوں اور غفلتوں کی طرف لوٹ جائے جن سے نجات کے لیے اس نے دعا کی تھی، تو یہ بہت بڑی محرومی ہے، سفرِ حج کا ایک نہایت ایمان افروز مرحلہ مدینہ منورہ کی حاضری بھی ہے، روضۂ اقدس کے سامنے حاضری اور مسجدِ نبوی ﷺ میں عبادت کا شرف انسان کے دل کو عشقِ رسول ﷺ سے سرشار کر دیتا ہے، وہاں پہنچ کر حاجی اپنے آقا ﷺ کی سنتوں پر عمل کا عزم کرتا ہے، اس لیے حج کے بعد اس کی گفتگو، معاملات، اخلاق اور طرزِ زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے، اگر مدینہ سے واپسی کے بعد بھی انسان کے کردار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اسے سنجیدگی سے اپنے آپ کا محاسبہ کرنا چاہیے، بعض اوقات حج ایک روحانی انقلاب کے بجائے محض ایک سماجی لقب بن کر رہ جاتا ہے، حالانکہ حج کا اصل مقصد انسان کے باطن اور ظاہر دونوں کی اصلاح ہے، اگر حج کے بعد بھی نمازوں میں سستی، جھوٹ، غیبت، چغلی، دھوکہ دہی، سود، بددیانتی اور حقوق العباد کی پامالی جاری رہے تو یہ غور و فکر کا مقام ہے کہ اس عظیم عبادت کا اثر کہاں ظاہر ہوا؟ حج انسان گناہوں سے پاک کرنے کے لیے کرتا ہے، لیکن بعض لوگ اپنی غفلت کے باعث دوبارہ انہی برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ایسے شخص کی مثال اس فرد کی سی ہے جو نہایت قیمتی لباس پہن کر پھر کیچڑ میں جا بیٹھے، یہی وجہ ہے کہ احادیثِ نبویہ ﷺ میں حجِ مبرور کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے، حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس دوران کوئی فحش بات یا گناہ نہ کیا، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا ’’حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔‘‘سوال یہ ہے کہ حج کے مقبول ہونے کی علامت کیا ہے؟ اس بارے میں امام حسن بصریؒ کا قول نہایت بصیرت افروز ہے کہ حجِ مبرور کی نشانی یہ ہے کہ انسان دنیا کی محبت میں کمی اور آخرت کی فکر میں اضافہ محسوس کرے، اگر حج کے بعد نمازوں کا ذوق بڑھ جائے، دل میں تقویٰ پیدا ہو، غریبوں سے ہمدردی اور بندگانِ خدا کی خدمت کا جذبہ بیدار ہو جائے تو یہ قبولیت کی امید افزا علامت ہے، لیکن اگر انسان میں تکبر پیدا ہو جائے اور وہ محض ’’حاجی‘‘ کے لقب پر فخر کرنے لگے تو یہ ایک خطرناک بیماری ہے، حج کے بعد ہر حاجی کو اپنی زندگی کا نیا لائحۂ عمل ترتیب دینا چاہیے، عبادات کے میدان میں نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کو معمول بنائے، اخلاقیات کے شعبے میں جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدزبانی سے مکمل اجتناب کرے، معاملات میں حلال روزی، امانت داری اور دیانت کو اختیار کرے اور ہر قسم کے دھوکے اور ظلم و زیادتی سے بچے، اسی طرح معاشرتی زندگی میں والدین، اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور دیگر لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی فکر کرے اور محبت، رواداری اور حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائے، صالحین کی صحبت اختیار کرنا اور بری محفلوں سے دور رہنا بھی حج کے اثرات کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے، انسان اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، اس لیے نیک لوگوں کی رفاقت اسے استقامت عطا کرتی ہے اور برائیوں سے بچنے میں مدد دیتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حج ایک ابدی بیداری کا نام ہے، میدانِ عرفات کی دعائیں، کعبۃ اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور مدینہ منورہ کی مقدس فضائیں محض یادگار لمحات نہیں بلکہ ایسی امانتیں ہیں جن کا حق پوری زندگی ادا کرنا ہوتا ہے، حج کے بعد حاجی معاشرے میں اسلام کا ایک چلتا پھرتا سفیر بن جاتا ہے، لوگ اس کے کردار اور اخلاق کو دیکھ کر دین کی خوبصورتی کا اندازہ لگاتے ہیں، اس لیے ہر حاجی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ہمیں بھی ایسی زندگی نصیب فرمائے جو حج کے حقیقی پیغام، یعنی تجدیدِ عہدِ بندگی کا عملی نمونہ بن سکے۔ آمین۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

قربانی عبادت سے نام ونمود اور فخرو نمائش تک!مفتی اشفاق قاضیقربانی اسلام کے ان عظیم شعائر میں سے ہے جن کے ذریعے بندۂ موم...
22/05/2026

قربانی عبادت سے نام ونمود اور فخرو نمائش تک!
مفتی اشفاق قاضی
قربانی اسلام کے ان عظیم شعائر میں سے ہے جن کے ذریعے بندۂ مومن اپنے رب کے ساتھ تعلقِ وفا کو تازہ کرتا ہے، یہ صرف ایک سالانہ مذہبی رسم کا حصہ نہیں بلکہ اطاعت، ایثار، محبتِ الٰہی اور تقویٰ کا ایسا عملی اظہار ہے جس سے انسان کے باطن کو قلبی سکون میسر ہوتا ہے، عید الاضحیٰ کے ایام میں جب دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانور قربان کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اس عظیم سنت کی تجدید کرتے ہیں جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی بے مثال اطاعت سے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا، اسلام کی ہر عبادت کی طرح قربانی کی بھی ایک ظاہری صورت ہے اور ایک باطنی حقیقت، ظاہری اعتبار سے جانور ذبح کیا جاتا ہے، گوشت تقسیم ہوتا ہے اور شعائرِ اسلام کا اظہار ہوتا ہے، لیکن اس عبادت کی اصل روح انسان کے دل میں پوشیدہ وہ کیفیت ہے جسے قرآنِ کریم نے ’تقویٰ‘سے تعبیر کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے سورۂ حج میں واضح فرما دیا کہ ’’نہ جانوروں کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس کے حضور وہ دل پہنچتے ہیں جن میں اخلاص، خوفِ خدا اور اطاعت کا جذبہ موجود ہو‘‘ ، یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے آج کے دور میں سب سے زیادہ فراموش کیا جا رہا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی قربانی کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سب سے روشن مثال ہے، ایک ایسا باپ جس نے عہد کہولت (بڑھاپے)میں اللہ سے دعائیں مانگ کر بیٹا حاصل کیا ہو، اس کے لیے اپنے ہاتھوں سے اسی بیٹے کو قربان کرنے کا حکم معمولی امتحان نہیں تھا، لیکن اللہ کے نبی نے اپنی خواہشات، جذبات اور طبعی محبتوں کو حکمِ الٰہی کے سامنے قربان کر دیا، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز منظر وہ تھا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا کہ ’’آپ کو جو حکم ملا ہے اسے پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘، باپ کی اطاعت اور بیٹے کی رضا و تسلیم کا یہ واقعہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ایک پیغام بن گیا کہ اللہ کی محبت جب دل میں جاگزیں ہو جائے تو پھر انسان اپنی سب سے محبوب چیز بھی اس کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا، قربانی دراصل اسی روح کا نام ہے، یہ صرف زبانی دعووں کا نام نہیں بلکہ عملی وفاداری کا متقاضی ہے، ایک مسلمان جب اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتا ہے تو اسے اپنے دل میں یہ احساس پیدا کرنا چاہیے کہ اگر میرے رب کا حکم ہو تو میں اپنی خواہشات، اپنے مفادات بلکہ اپنی عزیز ترین چیزوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، یہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور یہی قربانی کی اصل روح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کو نہایت اہتمام کے ساتھ ادا فرمایا، آپ ﷺ کا انداز انتہائی سادہ، عاجزانہ اور اخلاص سے بھرپور ہوتا تھا، آپ اپنے ہاتھ سے قربانی کرتے، اللہ کا نام لیتے، دعا فرماتے اور اپنی امت کے ان افراد کو بھی ثواب میں شریک کرتے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، آپ ﷺ نے اپنی قربانی کو فخر و نمائش کا ذریعہ نہیں بنایا، نہ مہنگے جانوروں کی نمائش فرمائی، نہ اپنی حیثیت جتائی اور نہ ہی لوگوں کے سامنے اپنی سخاوت کا چرچا کیا، یہی اسوہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی تھا، ان کے نزدیک اصل فکر یہ ہوتی تھی کہ اللہ ہماری قربانی قبول فرمائے،ان کے دلوں میں خوفِ خدا غالب رہتا تھا، نہ کہ دکھاوا اور شہرت کی خواہش و تمنا ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج قربانی کی اس عظیم عبادت کو بھی نمود و نمائش کی آلودگی نے متاثر کر دیا ہے، معاشرے میں ایک عجیب مقابلہ بازی پیدا ہو گئی ہے، کہیں جانوروں کی قیمتیں فخر سے بیان کی جاتی ہیں، کہیں ان کے وزن اور نسل کے چرچے ہوتے ہیں اور کہیں سوشل میڈیا پر قربانی کو نمائش کا ذریعہ بنایا جاتا ہے، بھائی تجھے کتنے میں پڑا، میں تو ۲۰ ہزار کا خریدا ہوں، تیرا جانور تو ایک لاکھ کا لگ رہا ہے، تیرے بکرے کی یہ نسل نہیں لگ رہی جو تو بتارہا ہے، ایسی باتیں اور چرچے گلی محلوں میں ہورہی ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعض لوگ قربانی اللہ کے لیے کم اور لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے زیادہ کر رہے ہوں،مہنگے جانور خریدنا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں، لیکن اگر نیت میں تفاخر شامل ہو جائے تو عبادت کی روح متاثر ہو جاتی ہے، ریاکاری عبادت کا سب سے خطرناک دشمن ہے، ایک انسان لاکھوں روپے خرچ کر دے، بہترین جانور خرید لے، لیکن اگر اس کے دل میں لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش ہو تو وہ اپنی محنت کا اجر ضائع کر سکتا ہے، قربانی کا اصل مقصد اپنے نفس کو جھکانا اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنا ہے، نہ کہ اپنی دولت اور حیثیت کا اظہار کرنا، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں اور سوچیں کہ ہماری قربانی واقعی اللہ کے لیے ہے یا معاشرتی تفاخر اور دکھاوے کے لیے، اسلام نے قربانی کے ذریعے معاشرے میں ایثار، محبت اور اخوت کو بھی فروغ دیا ہے، قربانی کا گوشت غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں تک پہنچانا اس عبادت کا اہم حصہ ہے، افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ بہترین گوشت اپنے لیے محفوظ کر لیتے ہیں اور ضرورت مندوں کو کم تر حصہ دیتے ہیں، یہ طرزِ عمل قربانی کے مقصد کے خلاف ہے، اسلام کا پیغام ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین چیز پیش کرو اور اپنے غریب بھائیوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرو، حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی (یا پڑوسی) کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے‘ ‘، یہی وہ جذبہ ہے جو ایک اسلامی معاشرے کو رحمت اور محبت کا گہوارہ بناسکتاہے ، قربانی انسان کے اندر مال کی محبت کو بھی کم کرتی ہے، انسان جب اپنا سرمایہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے تو اس کے دل میں دنیا کی محبت کم اور آخرت کی فکر زیادہ پیدا ہوتی ہے، اسی لیے قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، اپنے تکبر، اپنی انا اور اپنے نفس کی قربانی دینے کا درس بھی دیتی ہے،اگر انسان نے جانور تو ذبح کر دیا مگر اس کے اندر حسد، بغض، غرور اور خود نمائی باقی رہی تو اس نے قربانی کے اصل سبق کو نہیں سمجھا، آج امتِ مسلمہ کو اس عبادت کی حقیقی روح کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے،ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ قربانی صرف گوشت حاصل کرنے یا تہوار منانے کا نام نہیں بلکہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے، ہمیں اپنے گھروں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت و وفا کے واقعات کو زندہ کرنا ہوگا، جب تک قربانی کے ساتھ اخلاص، تقویٰ اور عاجزی شامل نہیں ہوگی، اس وقت تک اس عبادت کے حقیقی اثرات ہماری زندگیوں میں ظاہر نہیں ہوں گے،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کریں،سادگی، اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے قربانی کریں، غریبوں اور محتاجوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں، اور اس عظیم الشان عبادت کو نام ونمود فخرو نمائش سے پاک رکھیں، اگر ہماری قربانیوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کا رنگ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی جھلک پیدا ہو گئی تو یقیناً یہ عبادت ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جائے گی۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

صحافی فاروق سید کا انتقال اردو صحافت و ادب کا ناقابلِ تلافی خسارہ: مفتی اشفاق قاضیممبئئ۔ ۲۰۔ مئی: بچوں کے مقبولِ عام رسا...
21/05/2026

صحافی فاروق سید کا انتقال اردو صحافت و ادب کا ناقابلِ تلافی خسارہ: مفتی اشفاق قاضی

ممبئئ۔ ۲۰۔ مئی: بچوں کے مقبولِ عام رسالہ گل بوٹے کے بانی و مدیر، معروف صحافی، ادیب اور بہترین نظامت کار فاروق سید کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر مفتی اشفاق قاضی نے کہا کہ مرحوم کا انتقال ذاتی خسارہ ہے، وہ نہایت نیک سیرت، ملنسار، خوش اخلاق اور بامروت انسان تھے، انہوں نے نصف صدی تک اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت انجام دی، مفتی اشفاق قاضی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ فاروق سید مرحوم سے کئی مواقع پر ملاقات کا شرف حاصل ہوا، وہ ہمیشہ خندہ پیشانی، محبت بھرے انداز اور شفقت کے ساتھ ملتے تھے، ان کی گفتگو میں سنجیدگی، اخلاص اور تجربے کی روشنی نمایاں ہوتی تھی، وہ نہ صرف اپنے مفید مشوروں سے رہنمائی کرتے بلکہ نوجوان قلمکاروں اور صحافت سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ متعدد پروگراموں میں مرحوم کی نظامت سننے اور ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کا موقع ملا، ان کا اندازِ نظامت نہایت شائستہ، باوقار اور دلنشیں ہوتا تھا، نپے تلے الفاظ، مسحور کن آواز اور بہترین اندازِ بیان سے وہ سامعین پر سحر طاری کر دیا کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں یکساں طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، مفتی اشفاق قاضی نے مزید کہا کہ فاروق سید جہاں بڑوں میں بے حد مقبول تھے وہیں بچوں میں بھی غیر معمولی شہرت رکھتے تھے،ان کی ادارت میں شائع ہونے والا رسالہ گل بوٹے بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور ادبی تربیت کا ایک اہم ذریعہ بن گیا تھا اور پورے ملک میں اپنی منفرد شناخت قائم کر چکا تھا، مرحوم نے بچوں کے ادب کو فروغ دینے میں جو خدمات انجام دیں وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، مفتی اشفاق قاضی نے بتایا کہ مرحوم گزشتہ دو ماہ سے علیل تھے اور منگل کی شام اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، ان کے انتقال سے اردو صحافت، ادب اور بچوں کی دنیا ایک مخلص و بے لوث اردو خادم سے محروم ہوگئی ہے، مفتی اشفاق قاضی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے اور ان کے ذریعے جاری ادبی و صحافتی مشن خصوصاً رسالہ گل بوٹے کو جاری و ساری رکھے۔ آمین۔

ممبئی میں کریئر گائیڈنس ایونٹ ۲۰۲۶کامیابی سے اختتام پذیرمفتی اشفاق قاضی کی نگرانی میں منعقد پروگرام کی پذیرائی، ۱۲۳طلبہ ...
18/05/2026

ممبئی میں کریئر گائیڈنس ایونٹ ۲۰۲۶کامیابی سے اختتام پذیر
مفتی اشفاق قاضی کی نگرانی میں منعقد پروگرام کی پذیرائی، ۱۲۳طلبہ کا کریئر اسیسمنٹ اور انفرادی کونسلنگ
ممبئی۔ ۱۷؍ مئی: فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کی جانب سے سنیچر ۱۶؍مئی کو مدنپورہ کے محفل ہال میں ’’کریئر گائیڈنس ایونٹ ۲۰۲۶‘‘ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا، جس میں جماعت نہم سے بارہویں تک کے طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ صبح ۱۰بجے سے شام چھ بجے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں تقریباً ۱۵۰ رجسٹریشن ہوئے، جبکہ ۱۲۳طلبہ کا باقاعدہ کریئر اسیسمنٹ اور انفرادی کریئر کونسلنگ انجام دی گئی، یہ منفرد پروگرام فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر، معروف عالمِ دین، ممتاز شریعہ اسکالر اور تجزیہ نگار مفتی اشفاق قاضی کی خصوصی نگرانی اور سرپرستی میں منعقد کیا گیا، پروگرام کا مقصد طلبہ اور والدین کو روایتی تعلیمی شعبوں سے آگے بڑھ کر جدید اور روزگار سے مربوط میدانوں سے واقف کرانا تھا تاکہ نئی نسل بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے مستقبل کا انتخاب کرسکے، پروگرام میں شریک ہر رجسٹرڈ طالب علم کے لیے مفت ’’کریئر انٹرسٹ اسیسمنٹ‘‘ کا اہتمام کیا گیا تھا، اس ڈیجیٹل اسیسمنٹ میں طلبہ سے تقریباً ۱۵۰سوالات پوچھے گئے، جن کے جوابات کی بنیاد پر طلبہ کی دلچسپی، ذہنی رجحان اور صلاحیتوں کے مطابق چار تا پانچ موزوں کریئر آپشنز تجویز کیے گئے، اسیسمنٹ رپورٹ موصول ہونے کے بعد طلبہ نے تجربہ کار کریئر اور ایجوکیشن کونسلرز کے ساتھ انفرادی نشستیں کیں، جہاں انہیں ان کی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مستقبل کے امکانات کے مطابق تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی، پروگرام کی ایک اہم خصوصیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیس ڈومین ایکسپرٹس اور اداروں کی شرکت رہی، جنہوں نے طلبہ کو اپنے اپنے شعبوں کے بارے میں عملی معلومات فراہم کیں، ان شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ، پیرا میڈیکل، اسکل ڈیولپمنٹ، قانون، پولی ٹیکنک، دفاعی تعلیم، سیاحت، طبی تعلیم اور شارٹ ٹرم ڈپلومہ کورسز شامل تھے، ماہرین نے طلبہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کامیابی صرف سائنس، کامرس یا آرٹس تک محدود نہیں، بلکہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، تکنیکی تعلیم، اسکل بیسڈ کورسز اور مختصر مدتی ڈپلومہ پروگرامز کے ذریعے بھی بہترین روزگار اور روشن مستقبل حاصل کیا جاسکتا ہے، پروگرام میں شریک والدین نے اس اقدام کو بے حد مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رہنمایانہ پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں، کیونکہ اکثر طلبہ اور سرپرست محدود معلومات کی وجہ سے صرف چند روایتی شعبوں تک خود کو محدود کر لیتے ہیں، والدین نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ بچوں کو ایک ہی مقام پر مختلف فیلڈز کے ماہرین سے ملاقات اور معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا، منتظمین کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو ’’جاب ریڈی‘‘ بنانا اور انہیں ایسے کورسز و مہارتوں سے متعارف کرانا تھا جو کم مدت میں بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرسکیں، پروگرام میں جن اداروں اور تنظیموں نے اپنے معلوماتی ٹیبل اور رہنمائی مراکز قائم کیے تھے ان میں سرفہرست ، نیکس کور، ایچ ایس ای ٹریننگ، سی این سی ٹریننگ، اسکوپ، ایجو کاؤنسل ایونیو، ٹاٹا اسٹرائیو، رستم جی، حاجی ہاؤس ۔ یو پی ایس سی رہنمائی، لیگل ایڈ،کالسیکر، ایپ ٹیک، انیس ڈیفنس، مہاراشٹر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آٹو انسٹی ٹیوٹ، ڈی او ای ایس ( ایڈووکیٹ ندیم )، بھکتی ویدانت، صابو صدیق، وائڈ ونگس اور اکبر اکیڈمی ایچ ایس سی ٹریننگ شامل ہیں، پروگرام کے اختتام پر منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تعلیمی اور رہنمائی پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے تاکہ نوجوان نسل کو صحیح سمت، بہتر مواقع اور عملی میدانوں کی درست معلومات فراہم کی جاسکیں۔ طلبہ اور والدین نے بھی امید ظاہر کی کہ اس طرح کے پروگرام نئی نسل کے روشن مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔

کل محفل ہال میں کیرئیر گائیڈنس فیئرمحترم قارئین! موجودہ دور میں دسویں اور بارہویں جماعت کے بعد مناسب تعلیمی شعبے اور بہت...
15/05/2026

کل محفل ہال میں کیرئیر گائیڈنس فیئر

محترم قارئین! موجودہ دور میں دسویں اور بارہویں جماعت کے بعد مناسب تعلیمی شعبے اور بہترین کیرئیر کا انتخاب طلبہ اور والدین دونوں کے لیے ایک نہایت اہم اور حساس مرحلہ بن چکا ہے، اکثر طلبہ اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مستقبل کے مواقع کے بارے میں واضح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے تذبذب کا شکار رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنے مستقبل کے متعلق بہتر فیصلہ نہیں کرپاتے، اسی اہم ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر اور کاوش کی جانب سے ایک عظیم الشان “کیرئیر گائیڈنس فئیر ۲۰۲۶” منعقد کیا جارہا ہے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین طلبہ اور والدین کو جدید تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کریں گے۔ یہ پروگرام بروز سنیچر، ۱۶ مئی ۲۰۲۶، دوپہر ۱۲ بجے سے شام پانچ بجے تک محفل ہال، مورلینڈ روڈ، مدن پورہ، ممبئی میں منعقد ہوگا اور اس میں داخلہ مکمل طور پر مفت ہے، اس فئیر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سائنس، انجینئرنگ، میڈیکل، نرسنگ، فارمیسی، قانون و وکالت، یو پی ایس سی و آئی اے ایس، تجارت و کاروبار، بیرونِ ملک تعلیم، ہنر پر مبنی کیرئیرز اور دینی و عصری تعلیم کے مختلف مواقع کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی جائیں گی، اس کے علاوہ طلبہ کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنے، ذاتی نوعیت کی کیرئیر رہنمائی، ماہرین سے براہِ راست مشاورت، اسکالرشپ اور بیرونِ ملک تعلیم سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ طلبہ اور والدین اعتماد کے ساتھ مستقبل کا بہتر فیصلہ کرسکیں، یہ خصوصی فیئر جماعت ۹ تا ۱۲ کے طلبہ اور ان کے والدین کے لیے انتہائی مفید اور رہنما ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں۔
موبائل:
7837833888

فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر جامع مسجد بمبئی

15/05/2026

Career Guidance Fair 2026 | Family Firsta Guidance Centre & Kawish

Assalamu Alaikum!

Choosing the right career after 10th or 12th can be confusing for both students and parents.
To help students discover their strengths, interests, and future opportunities, Family First Guidance Centre & Kawish proudly present:

✨ CAREER GUIDANCE FAIR 2026 ✨

📍 Venue: Mehfil Hall, Morland Road, Madanpura, Mumbai
📅 Date: 16 May 2026 (Saturday)
⏰ Time: 12 PM – 5 PM
🎟️ FREE ENTRY

🔹 Explore Career Opportunities In:
* AI & Data Science
* Engineering
* Medical
* Nursing
* Pharmacy
* Law / Advocacy
* UPSC / IAS
* Commerce & Business
* Study Abroad Guidance
* Skill-Based Careers
* Islamic & Modern Education Paths

🔹 What You Will Get:
✅ Personalized Career Guidance
✅ Aptitude & Interest Understanding
✅ Expert Counselling
✅ Scholarship & Study Abroad Information
✅ Clarity for Students & Parents

This event is specially designed for students of Class 9–12 and parents who want to make informed career decisions with confidence.

📞 Contact: +91 78378 33888

🌟 Don’t miss this opportunity to shape a brighter future!




UPSC IAS Engineering Medical AI DataScience CareerCounselling FamilyFirst StudyAbroad Nur AptitudeTest Students MumbaiEvents UPSC IAS Engineering Medical AI DataScience CareerCounselling FamilyFirst StudyAbroad NurCareerFair2026sing Pharmacy

معیشت کی بحالی اور باپ بیٹے کے رشتے کا استحکاممفتی اشفاق قاضیانسانی زندگی کے پر آشوب نشیب و فراز میں خاندان ایک ایسی جا...
15/05/2026

معیشت کی بحالی اور باپ بیٹے کے رشتے کا استحکام
مفتی اشفاق قاضی

انسانی زندگی کے پر آشوب نشیب و فراز میں خاندان ایک ایسی جائے پناہ ہے جو حوادثِ زمانہ کی تند و تیز ہواؤں میں ڈھال کا کام کرتی ہے، لیکن جب اسی پناہ گاہ کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے لگیں، تو انسان نہ صرف جذباتی طور پر ٹوٹ جاتا ہے بلکہ معاشی طور پر بھی خود کو ’یتیم‘ محسوس کرنے لگتا ہے، ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنوں کی کوتاہیوں پر غصہ اور ملامت تو خوب کرتے ہیں، مگر ان کی اصلاح اور انہیں سہارا دینے کے لیے کوئی ٹھوس عمل اور ہمدردانہ راستہ نکالنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں، بات ستمبر ۲۰۲۰کےایک سرد دوپہر کی ہے جب میرے سامنے ایک ایسا ہی کیس آیا جس میں باپ اور بیٹے کے درمیان تلخیوں کی خلیج اس قدر گہری ہو چکی تھی کہ گھر کا سکون غارت ہو چکا تھا، یہ قصہ عبدالہادی (فرضی نام) کے خاندان کا ہے، جن کا دکھ محض ایک باپ کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ اس پورے نظام کی عکاسی ہے جہاں تربیت اور معیشت کے درمیان توازن بگڑ جائے تو نسلیں برباد ہونے لگتی ہیں، عبدالہادی صاحب کے دو بیٹے ہیں؛ بڑا بیٹا برکت اللہ (فرضی نام) برسوں سے دیارِ غیر میں مقیم ہے، جس نے پہلے دبئی اور پھر لندن میں اپنی محنت اور مشقت سے ایک باعزت مقام حاصل کیا،وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ ایک مثالی زندگی گزار رہا ہے اور اس کی کامیابی باپ کے لیے باعثِ فخر ہے، لیکن اسی گھر کا دوسرا چراغ، چھوٹا بیٹا رحمت اللہ، باپ کے لیے ایک مستقل ذہنی اذیت بن چکا تھا، رحمت اللہ کا مسئلہ محض بیروزگاری نہیں، بلکہ اس کا مزاج اور طرزِ زندگی خاندان کے لیے سوہانِ روح تھا، وہ ممبئی کی چکا چوند کا دلدادہ، قیمتی گھڑیوں کا شوقین اور نفیس لباس و خوشبو کا رسیا تو تھا، مگر ان تعیشات کے پیچھے محنت کا کوئی جذبہ کارفرما نہ تھا، وہ سستی، کاہلی اور کام چوری کی وجہ سے اپنوں میں ’نکما‘ مشہور ہو چکا تھا، اس کی زندگی کا بیشتر وقت دوستوں کی بے مقصد محفلوں میں گزرتا، اگرچہ اس کے اندر بولنے کا فن اور گاہک کو متاثر کرنے کا سلیقہ (جسے جنوبی ممبئی کی زبان میں ’پٹیل ہونا‘ کہا جاتا ہے) بدرجہ اتم موجود تھا، مگر مزاج کی تلخی اور استقامت کی کمی اسے کسی ایک جگہ ٹکنے نہ دیتی، والد کی نصیحتیں، منتیں اور ڈانٹ ڈپٹ اس کی بے حسی کی دیوار سے ٹکرا کر واپس آ جاتیں،معاملات نے اس وقت ایک سنگین رخ اختیار کیا جب رحمت اللہ نے ایک دکان پر سیلز مین کے طور پر کام شروع کیا، اس کی کاروباری صلاحیتوں کی وجہ سے مالک اس کے ناز نخرے برداشت کرتا رہا، لیکن جب مالک نے کاروبار میں مالی تنگی کے باعث رحمت اللہ کے ذریعے والد کے توسط سے سرمایہ کاری کی درخواست کی، تو ایک نیا فتنہ کھڑا ہو گیا، والد نے اس امید پر رقم دے دی کہ شاید اس بہانے بیٹے کا مقام مستحکم ہو جائے، مگر دکان کے مالک نے رقم وصول کرتے ہی رنگ بدل لیا، منافع تو دور کی بات، اصل رقم کی واپسی میں بھی ٹال مٹول شروع کر دی، یہ ایک شرعی اور اصولی غلطی تھی؛ جس ادارے میں آپ ملازم ہوں، وہاں نفع و نقصان کا واضح نظام مرتب کیے بغیر زبانی باتوں پر لین دین کرنا ہمیشہ فتنوں کو جنم دیتا ہے،
جب والد کا دباؤ بڑھا، تو رحمت اللہ نے ’سیدھی انگلی ٹیڑھی کرنے‘ کا خطرناک راستہ اختیار کیا، اس نے کچھ بااثر لوگوں کے ذریعے سختی سے رقم تو واپس کروا لی، مگر اس عمل نے باہمی تعلقات اور دکان کے ماحول کو اس قدر زہر آلود کر دیا کہ وہاں کام کرنا ناممکن ہو گیا، اس کے بعد کے پانچ ماہ اس خاندان کے لیے کڑی آزمائش تھے، رحمت اللہ گھر میں فارغ بیٹھ گیا اور بقول شخصے کہ ’خالی ذہن شیطان کا گھر بن جاتا ہے‘، اس کی بیروزگاری نے اسے ذہنی طور پر مزید بھٹکا دیا اور گھر کا آنگن میدانِ جنگ بن گیا، رحمت اللہ اب اپنی ’انا‘ کے خ*ل میں بند ہو کر کسی کی ماتحتی میں کام کرنے کے بجائے اپنا کاروبار کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، اسے مارکیٹ کی باریکیوں اور گاہک کی نفسیات پر عبور تو تھا، مگر سرمائے کی کمی تھی، باپ کو اس پر اعتبار نہ تھا، چنانچہ اس نے باہر کے دوستوں کو آمادہ کرنا شروع کیا کہ وہ اس کے کام میں پیسہ لگائیں، یہ وہ وقت تھا جب یہ الجھا ہوا مسئلہ حل کے لیے ہمارے پاس لایا گیا، ہم نے محسوس کیا کہ یہاں معاملہ محض روپے پیسے کا نہیں بلکہ ایک جامع کاروباری نظام اور اعتماد کی بحالی کا ہے،ایک تفصیلی نشست میں یہ طے پایا کہ اگر باہر کے لوگ سرمایہ لگائیں گے تو وہ ’مضارب‘ (راس المال یا سرمائے کے مالک) ہوں گے اور رحمت اللہ کی حیثیت محض محنت کرنے والے کی ہوگی، جب والد کو اس کا علم ہوا، تو ان کی غیرتِ پدری اور شفقت والد نے جوش مارا، انہوں نے سوچا کہ اگر کاروبار ہی کرنا ہے تو غیروں کے بجائے گھر کے لوگ ہی اس دکان کی ملکیت کا نظام کیوں نہ بنائیں، چنانچہ لندن سے برکت اللہ اور داماد نے بھی اس گھریلو کاروبار میں سرمایہ لگانے پر رضامندی ظاہر کی،تاہم یہاں ایک نیا نفسیاتی تصادم سامنے آیا، والد چاہتے تھے کہ دکان کا معاہدہ (ایگریمنٹ) ان کے اپنے نام پر ہو تاکہ وہ بیٹے کی نگرانی کر سکیں، جبکہ دکان کا مالک صرف برکت اللہ کے نام پر معاہدہ کرنے پر بضد تھا جو دکان میں مستقل بیٹھے گا، یعنی رحمت اللہ، والد کے لیے یہ ایک کڑا اور سخت امتحان تھا؛ انہیں ڈر تھا کہ کہیں سب کچھ داؤ پر نہ لگ جائے، لیکن جب ہم نے انہیں سمجھایا کہ اگر یہ نوجوان ایک بار معاشی طور پر مستحکم ہو گیا تو پورے خاندان کا بھلا ہوگا، تو انہوں نے کشادہ ظرفی دکھائی اور بیٹے کے نام پر معاہدے کی اجازت دے دی، اس درمیان ہم نے ایک باقاعدہ تحریری سند نامہ تیار کیا جس میں ملکیت، طریقِ کار اور نفع کی تقسیم کے تمام شرعی و قانونی پہلو واضح کر دیے گئے تھے۔الحمدللہ! گزشتہ پانچ برسوں سے رحمت اللہ کا یہ کاروبار نہ صرف کامیابی سے چل رہا ہے بلکہ اس نے پورے خاندان کی کایا پلٹ دی ہے، وہ رحمت اللہ جو کبھی کاہلی کی علامت تھا، اب ایک ذمہ دار تاجر بن چکا ہے، اس کے اندر ’احساسِ ملکیت‘ نے وہ روح پھونکی ہے کہ وہ اب جی توڑ محنت کرتا ہے،والد کو بھی تمام معاملات تک رسائی دی گئی ہے، وہ روزانہ دکان پر بیٹھ کر نگرانی بھی کرتے ہیں اور بیٹے کی تربیت بھی،اس فیصلے نے نہ صرف ایک نوجوان کو بیروزگاری کی دلدل سے نکالا بلکہ اس کی اہلیہ اور بچوں کا مستقبل بھی محفوظ کر دیا۔اس کہانی کا سب سے بڑا اور اہم سبق یہی ہے کہ جب ہم اپنوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے انہیں ایک منظم نظام کے تحت موقع دیتے ہیں، تو معجزات رونما ہوتے ہیں،’فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر‘ دراصل اسی فکر کا نام ہے جو آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں بکھرتے ہوئے خاندانوں کو جوڑنے کی تگ و دو کر رہی ہے، یہ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے جو گھرانوں کو معاشی اور جذباتی استحکام فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے،آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے اردگرد ایسے کئی ’رحمت اللہ‘ کو تلاش کریں جنہیں صرف ایک موقع، ایک ہمدردانہ تھپکی اور درست معاشی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر دوسروں کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، لیکن جب بات اپنے خون کی آتی ہے تو ہم سخت گیر بن جاتے ہیں، آئیے، ہم عہد کریں کہ ہم اپنے خاندان کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے، ان کے مسائل کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے مل بیٹھ کر حل کریں گے اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے جہاں کوئی بھی شخص تنہائی اور معاشی بدحالی کا شکار نہ ہو۔یاد رکھیں!گھر کا سکون ہی دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے اور ’فیملی فرسٹ‘ اس دولت کے تحفظ کا دوسرا نام ہے، اگر آپ بھی کسی ایسے خاندانی یا کاروباری تنازع کا شکار ہیں، تو اسے اپنے دل کا بوجھ بنانے کے بجائے اسے ہلکاکرنے کے لیے ہم سے رجوع ہوں،کیونکہ آپ کا خاندان ہی آپ کی اصل طاقت ہے اور اسے بچانا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور مذہبی اسکالر، معلم حجاج، شریعہ ایڈوائزر، مصنف، کالم نگار ، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)

14/05/2026

Sunnah Method of Wudu || Wuzu Step by Step || Sahi Wuzu Sunnat Ke Mutabiq

Wuzu ki niyyat karein۔
Bismillah padhein۔
Dono haath gatton tak teen martaba dhoyein۔
Miswak karein ya daant saaf karein۔
Teen martaba kulli karein۔
Teen martaba naak mein pani daal kar saaf karein۔
Teen martaba poora chehra dhoyein۔
Pehle daaya phir baaya haath kohniyon samet teen teen martaba dhoyein۔
Poore sar ka ek martaba masah karein۔
Kaanon ka masah karein۔
Dono paon takhnon samet pehle daaya phir baaya teen teen martaba dhoyein۔
Wuzu ke baad yeh dua padhein:

Ashhadu an la ilaha illallahu wahdahu la sharika lahu wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasooluhu۔

Tarjuma:
“Main gawahi deta hoon ke Allah ke siwa koi mabood nahin، woh akela hai us ka koi shareek nahin، aur main gawahi deta hoon ke Muhammad ﷺ Allah ke bande aur Rasool hain۔”

13/05/2026

Hajj Ke Safar Me Padhi Jane Wali Hazrat Ibrahim (A.S.) Ki Dua || M***i Ashfaq Muhammed Ashfaq Kazi

12/05/2026

Mumbai ki tareekhi Jumma Masjid mein nau umar bachchon ke liye munfarid “Islamic S*x Education Workshop” ka ineqad.
Bachchon ko Buloogat, Taharat, Wudu, Ghusl, Haya, Social Media ke nuqsanat aur Islami zimmedariyon par rehnumai di gayi.
Jumma Masjid ki tareekh aur 800 saal purani nayab kitab bhi dikhayi gayi.

Address

Family FIrst Guidance Centre, Jama Masjid Building, Janjiker Street, Chippi Chawl, Kalbadevi
Mumbai
400002

Opening Hours

Monday 10am - 8pm
Tuesday 10am - 8pm
Wednesday 10am - 8pm
Thursday 10am - 9:45pm
Saturday 10am - 8pm
Sunday 10am - 8pm

Telephone

+917837833888

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Family First Guidance Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Family First Guidance Centre:

Share