All India Tabligh-E-Seerat

All India Tabligh-E-Seerat TRUST REGD NO-F22526,
SOCIETY REGD NO-1034-1998

PRESIDENT : HAZRAT ALLAMA MAULANA ALHA'J MOHAMMED WARIS JAMAL QADRI PRESIDENT OF ALL INDIA TABLIGH-E-SEERAT.

17/04/2026
*مجاہد ملّت اور ان کی قامت زیبائی*  _ازقلم رئیس التحریر علامہ وارث جمال قادری مرکزی صدر آل انڈیا تبلیغ سیرت_  *امام التا...
07/11/2024

*مجاہد ملّت اور ان کی قامت زیبائی*
_ازقلم رئیس التحریر علامہ وارث جمال قادری مرکزی صدر آل انڈیا تبلیغ سیرت_

*امام التارکین و سیّد التواضعین سرکار مجاہد ملّت حضرت علامہ الحاج الشاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری عباسی متولی رؤفیہ اسٹیٹ دھام نگر اڑیسہ علیہ الرحمہ* برصغیر ہند کے ان اعاظم رجال و اساطین امّت سے تھے جن کے وجود کے فیضان و برکات سے متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ مستنیر و مستفیض تھا اور جن کی حکمرانی کا سورج کروڑہا کروڑ دلوں میں ہمیشہ سوا نیزے پہ رہا۔ آپ نے اپنی امارت و ریاست اور علمی فضل و کمال پر سادگی کی دبیز چادر اوڑھ رکھی تھی۔ والیٔ ریاست ہونے کے باوجود وہ ایسے درویش عالمِ دین تھے جن پر علم و فضل کی ریاست اور ادائے درویشی کو بیک وقت ناز تھا۔ صاحبِ طبقاتِ کبریٰ حضرت امام عبد الوہاب شعرانی کی طرح اربابِ شریعت و علمائے دین نے انہیں صف کا امام سمجھا اور اربابِ طریقت و اہلِ سلوک و معرفت نے انہیں اپنے طبقے کا مقتدیٰ جانا۔
لیس علی اللہ بمستنکرٍ ان یسجمع العالم فی واحدٍ
وہ ایسے دور میں ایک مسلّم الثبوت مذہبی قائد و رہنما کی حیثیت سے اُبھرے جب برصغیر ہند میں صف بہ صف قدآور،عظیم علمی، دینی،روحانی شخصیات موجود تھیں
۔ جن کا تنہا وجود کئی اداروں، انجمنوں اور جماعتوں پر حاوی ہوا کرتا تھا۔ ان کی عظمت و جلالت اور ان کی طرف عوام و خواص کا ۔۔۔ و رجوع اور ان کی مقبولیت کا گراف کبر فی موت الاکابر کا رہین منت نہیں تھا بلکہ بڑے بڑوں کے درمیان وہ ایسے بڑے تھے کہ ع وہ بھیڑ میں بھی جائے تو تنہا دکھائی دے۔
مغلِ اعظم شہنشاہ محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر کے جانشینوں کی نااہلی نیز تلک الایامُ نُداوِلُھَا بین الناس کے باعث جب ہندوستان میں مسلمان سیاسی ادبار کے شکار ہوئے اور انہیں ہر طرف سے خوف و ہراس اور زوال و ذلّت نے آگھیرا۔ ایسے نازک ترین حالات و رستاخیز ماحول میں سوادِ اعظم اہلِ سنّت و جماعت کے وہ اکابر اور مذہبی، دینی، ایمانی، روحانی، مقتدیٰ۔ پورا برصغیر جن کے وجود کی برکتوں سے مصدر فیوض و برکات، معدن انوار و تجلیات اور مخزن رشد و ہدایت بنا جن کے علم و فضل کا دبدبہ اور جن کی عظمت و شوکت و روحانیت کا شہرہ عرب و عجم، حل و حرم میں ہوا۔ انھوں نے بروقت امۃ مسلمہ کو سہارا دیا اور ایک صدی سے زائد زوال پذیر امّت کو سنبھالے رکھا صرف اہلِ سنّت و جماعت ہی کے افراد اس لیے کہ وہ جماعتیں جو انتشارِ امّت اور وحدتِ اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کا باعث ہوئیں وہ تو اپنی اپنی ولادت کے دردِزہ کی منزلوں سے بھی بہت دور تھیں!
حضرت شیخ غلام علی نقشبندی، حضرت شاہ احمد سعید مجددی، حضرت شیخ عبد العزیز محدث دہلوی جنگِ آزادی کے پہلے ورق مجاہد حریت حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی، حضرت علامہ فضل رسول بدایونی، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی، حضرت مولانا خیر الدین دہلوی، بحر العلوم حضرت علامہ عبد العلی فرنگی محل، حضرت شاہ منور الدین دہلوی، حضرت علامہ مفتی ارشاد احمد رام پوری، حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی، حضرت علامہ غلام دستگیر قصوری، مولانا رضا علی خاں بریلوی، مولانا کفایت علی کافی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مجاہد اعظم مولانا احمد اللہ شاہ مراد آبادی، مولانا فیض احمد عثمانی، مولانا وہاج الدین مرادآبادی، مولانا عبد الجلیل علی گڑھی، حضرت علامہ مفتی نقی علی خاں بریلوی، حضرت سیّد آلِ رسول مارہروی، حضرت سیّد ابوالحسین احمد نوری، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی، صدر الافاضل حضرت سیّد نعیم الدین مرادآبادی، شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی، علامہ ہدایت رسول لکھنوی، حضرت علامہ سیّد مقبول کشمیری، حضرت علامہ ہدایت اللہ خاں جونپوری، حضرت مولانا سیّد دیدار علی محدث الوری، حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری، حضرت علامہ سیّد غلام مہر علی گولڑوی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا، مبلغ الاسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی مہاجر مدنی، حضرت علامہ ضیاء الدین مہاجر مدنی، استاذ العلماء مولانا لطف اللہ علی گڑھی، مولانا عبدالحئی فرنگی محل، مولانا غلام قادر لاہوری، علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خاں، محدث اعظم ہند مولانا سیّد محمد کچھوچھوی، ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری، علامہ مصطفیٰ رضا خاں، حضور شعیب الاولیاء شاہ محمد علی، عظیم ملّت علامہ مفتی شان عظیم الدین گجراتی وغیرہ قدست اسرارھم جیسی باکمال انوارِ قدسیہ کی حامل شخصیات و رجال کی جو جماعت حامل و وارث و امین ہوتی۔ جیسے سیّد العلماء حضرت علامہ سیّد آلِ مصطفیٰ مارہروی، علامہ سردار احمد محدث لائل پوری، مولانا سیّد احمد ابو البرکات، شیخ العلماء علامہ غلام جیلانی اعظمی، صدر العلماء علامہ سیّد غلام جیلانی میرٹھی، امین شریعت علامہ مفتی رفاقت حسین، حافظِ ملّت مولانا شاہ عبد العزیز مرادآبادی، تاج العلماء علامہ سیّد اولادِ رسول مارہروی، حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی، حضرت علامہ مفتی اجمل شاہ سنبھل، حضرت علامہ انوار اللہ صاحب حیدرآبادی، علامہ مفتی غلام جان ہزاروی، حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خاں نعیمی، علامہ عمر الدین ہزاروی، تاج العلماء حضرت علامہ محمد عمر نعیمی، شیخ الاسلام علامہ مفتی عبد القدیر بدایونی، حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ دہلوی، علامہ محبی سیتامڑھی، علامہ ابو النور محمد بشیر کوٹلی لوہاراں، قائد اہلِ سنّت علامہ شاہ احمد نورانی، حضرت علامہ عبد الستار خاں نیازی، مولانا حشمت علی خاں پیلی بھیت، محدث دکن حضرت علامہ سیّد ابو الحسنات عبداللہ شاہ نقشبندی وغیرہ۔ یہ وہ صف بہ صف سوادِ اعظم اہلِ سنّت اکابر اور اپنے وقت کے اساطین امّت تھے اور یہ وہی اربابِ فضل کمال و اصحاب دین و دانش تھے جن پر سوادِ اعظم کو ناز تھا۔ یہی تمام اسلامی علوم و فنون کے پیکر بھی تھے، انہیں کے چمک دمک سے برصغیر کا گوشہ گوشہ منور تھا۔
ان کا ایک بڑا حسن ان کا اخلاص و عمل اور امّتِ مسلمہ کی نگہداری و پاسداری تھا جن کی تبلیغ و تدریس و رُشد و ہدایت، بیعت و ارشاد، بحث و مناظرہ اور تقریر و تحریر خالص خدمت دین کے لیے تھا۔ رضائے رب و محبوبِ رب جن کے ہمیشہ پیشِ نظر الحب فی اللہ والبغض فی اللہ جن کا قیمتی سرمایہ! آج کی طرح سب کچھ کمرشیل نہیں تھا۔ صاحبِ تذکرہ امام التارکین سرکار مجاہد ملّت حضرت علامہ مفتی شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری عباسی کی عظمت و جلالت اور ان کی یکتائی و بے نظیری اور انفرادیت کا سکہ رائج الوقت ایسے اصحابِ فضل و کمال و اربابِ دین و دانش کے درمیان تھا، جب ہر سمت اُجالا ہی اُجالا تھا۔ جدھر نگاہ ڈالیے کوئی نہ کوئی عظمت کا مینار نظر آجاتا۔ آج کی طرح قحط رجال نہیں تھا، وہ نابیناؤں میں بینا نہیں تھے بلکہ وہ دیدہ وروں اور بیناؤں کے درمیان دیدۂ بینا رکھتے تھے۔؎
اک دانش نورانی اک دانش برہانی ہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی
بےشک وہ بندگانِ خدا کے لیے اللہ کی ایک بڑی نعمت تھے۔ وہ ایک ایسے فقیر تھے دولت جن کی کنیز! وہ ایسے درویش تھے امارت جن کی دربان۱ وہ ایسے متبحر عالم کہ علم کی ریاست جن پر نازاں اور عارف ایسے کہ موت جس پر فرحاں! علم و فضل، عزیمت و استقامت اور مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ان کی ولایت پارسائی، ہمہ گیری، جہاں گیری کا شہرہ! قدر مردم بعد مردن کے برعکس ان کی حیات ہی میں ہوا۔
جس کا مقصد زیست دین کی سرفرازی اور مسلمانوں کی سربلندی تھا۔ ؎
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلمان میں اسی لیے ہوں غازی
ان کے زندگی کا ایک بلند نصب العین تھا ؎
جس کا نصب العین تھا اعلانِ حق تبلیغ حق زندگی تھی جس کی شرع مصطفیٰ کی آئینہ
انھوں نے اس حقیقت صادقہ کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ ؎
یہ وزارتیں یہ ریاستیں سبھی چار دن کی ہیں چاندنی
مجھے اس فقیر کی شان دے کہ زمانہ جس کی مثال دے
چنانچہ امارت و ریاست پر فقیری و درویشی کو ترجیح دی اور اسلام کی سربلندی کے لیے پوری ریاست قربان کردی۔ اور تارکین امارت و ریاست کی صف میں ایک امتیازی مقام پاکر ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہوگئے۔؎
میں نہیں کہتا کہ تم ایسا کرو ان کی سیرت آئینہ ہے آئینہ دیکھا کرو
خلوص و للّٰہیت اور الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کل بھی کامیاب تھا اور آج بھی اس جوہر خاص کی کمیابی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ قطب عالم حضور مفتیٔ اعظم مولانا مصطفیٰ رضا خاں بریلوی کو اپنے گرد و پیش دیکھ کر یہ کہنا پڑا۔؎
ہیں صفائے ظاہری کے ساز و ساماں خوب خوب جس کا باطن صاف ہو وہ باخدا ملتا نہیں
ہے ریاکاروں کا شہر اور ریاکاری کی دھوم بوریا کا فقر بھی اب بے ریا ملتا نہیں
ان کا زمانہ اور ان کا ماحول علمی و دینی تو آج کے اعتبار سے بڑا غنیمت تھا، ہر طرف بڑے ہی بڑے تشریف فرما تھے اور ایک دوسرے کی عظمتوں کا اعتراف بھی کرتے تھے اور باہم ایک دوسرے کو تسلیم بھی کرتے تھے۔ مگر وہ آج ماحول نہیں آج تو صرف کبرنی موت الاکابر ہی کا معاملہ ہے جتنے چھوٹے چھوٹے ایں قدر تھے بڑوں کی موت نے انہیں آں قدر و بڑا بنا دیا ہے ان کی بڑائی میں ان کا اپنا دخل اور اپنی صلاحیتیں کم بڑوں اور اصحابِ فضل و کمال کی عدم موجودگی کی کارفرمائی زیادہ ہے، اس لیے وہ اپنے علاوہ کسی کو تسلیم بھی نہیں کرتا، اور اگر کہیں تسلیم و نیاز مندی نظر آتی ہے تو وہ علی العموم من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کا شاخسانہ زیادہ ہوتا ہے۔
حضور مجاہد ملّت کا ایک نمایاں وصف جو انہیں ان کے ہم عصروں میں ممتاز کرتا ہے وہ ان کا اخلاص فی الدین و اخلاص فی العمل کے ساتھ پہلو میں ایک دلِ درد مندانہ بھی تھا، جو ہر مظلوم کے لیے دھڑکتا رہتا، بالخصوص مسلمانانِ ہند کی مظلومیت اور فسادات کے بہانے ان کی بربادیوں پر ان کی بے چینیوں کو کبھی قرار نہیں ملا۔ مسلمانانِ ہند کی آبرو مندانہ بقا اور دین و سنّیت کے سرفرازی کے لیے میدانِ عمل میں وہ ہمیشہ سربکف رہے۔ خود فرماتے تھے۔
فکر کی کیسے رہیں گے ہند میں ان سے کیا مطلب کہ جو ہیں سندھ میں
ہاتف غیبی نے دی مجھ کو صدا سربکف رہنا پڑے گا ہند میں
چودھویں صدی ہجری کے نصف آخر کے آغاز ہی میں مسلمانوں کے ایک اولوالعزم پُرجوش اور ایک عظیم مذہبی رہنما کی حیثیت سے اُبھرے۔ اس وقت کی مذہبی و دینی و ملّی رہنماؤں نے امت مسلمہ کی قیادت کا جو بارِ عظیم آپ کی کندھوں پر رکھا اور آپ پر اعتماد کیا، آپ نے اس اعتماد کی بجا طور پر لاج رکھی۔ ملک و بیرونِ ملک نازک ترین حالات میں بھی آپ نے اس اعتماد کی لاج رکھی۔ آئے دن کی قید و بند کی صعوبتیں بھی آپ کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کرسکیں۔ قوم و ملّت کی سرفرازی، شوکت اسلام اور مسلمانوں کی آبرو مندانہ بقا کے لیے جو قربانیاں آپ نے دیں، دور دور تک اس کی دوسری کوئی مثال نہیں۔ سوادِ اعظم کے تشخص اور عقائد اہلِ سنّت کے تحفظ میں رخصت و مصلحت کو کبھی آپ نے اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ بلکہ ہند میں سرمایہ ملّت کے نگہبان حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کی اتباع میں عزیمت و استقامت ہی کا مظاہرہ کیا۔ جس پر ۱۹۷۹؁ء میں مدینہ طیبہ میں حرمِ مدینہ کے وہابی امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے اور اہلِ سنّت کے موقف پر ثابت قدم رہنے کی پاداش میں آپ کی گرفتاری، بےپناہ تشدد، پھر حج کے بغیر حج سے دو روز قبل جبری واپسی کا واقعہ شاہد عدل۔
تقسیمِ ملک کے بعد اصحابِ بصیرت، والیانِ امارات و ریاست و ارباب ذرائع و اسباب و حاملین کردار و عمل کی غالب ترین اکثریت ہجرت کے نام پر ترکِ وطن کر گئی، تقسیمِ ملک کا سارا الزام مسلمانوں کے سر رکھ کر یہاں رہ جانے والے ساڑھے تین کروڑ مسلمانوں پر آبرو مندانہ بقا کے تمام دروازے بند کرکے اس سرزمین کو فساد کی آڑ میں مسلمانوں کے مذہب و مدفن سے بدل دیا گیا۔
(حالانکہ ملک کا بٹوارہ مسلمانوں پر تھوپا گیا یہاں کے جاہ پرست ہندو برہمنوں نے محض اپنے اقتدار کے لیے مادرِ وطن کو خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کیا اور الزام مسلمانوں کے سر رکھا جو خود ایک مستقل بحث ہے)
تحریکِ پاکستان میں پیش پیش چونکہ علماء اہلِ سنّت ہی تھے اور تقسیم کے بعد حالات کی سنگینی اور ماحول کے بگڑے تیوروں نے بچی کھچی مذہبی قیادت کو خاصا محتاط بنا دیا، بلکہ یوں کہیے کہ بگڑے حالات اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے مسلسل مسلم کش فسادات نے مذہبی فعال قیادت کو خوف زدہ و نڈھال کردیا تھا، اس لیے اس نے خالص مذہب کا گوشہ عافیت تلاش کرلیا۔ بیعت و ارشاد، رشد و ہدایت، درس و تدریس، وعظ و تبلیغ ہی تک خود کو محدود کرلیا۔ اور جب کبھی چھوٹا بڑا اجتماع کے لیے اعلانات و اشتہارات کیے تو نمایاں طور پر یہ لکھنا نہیں بھولے کہ یہ خالص مذہبی جلسہ ہے، سیاست سے جس کا کوئی تعلق نہیں۔ تاکہ اربابِ اقتدار کو یہ اطمینان رہے کہ ہم کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائیں گے چاہے کتنی بڑی قیامت گذر جائے ہم چپ رہیں گے۔ مَنْ سَکَتَ نَجٰی کو ہم سے زیادہ کون سمجھے گا۔ ہم نے خدا کے بندوںکو خدا کے سپرد تو کر ہی دیا ہے تو بھلا اس سے بڑا محافظ حقیقی اور کون ہوسکتا ہے۔ ایسے ہمارا کام دعا کرنا ہے سو وہ ہم کر ہی رہے ہیں، یہ ہمارا فریضہ منصبی ہے جس سے ہم غافل نہیں ہیں۔ سنّی علماء نے سیاست کو شجرِ ممنوعہ سمجھ کر اس کے دروازے اپنے آپ پر خود ہی بند کرلیے جس کا بڑا نقصان ہوا۔ مٹھی بھر افراد مذہبی قیادت کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے قائد و رہنما بن گئے۔ مسلمانوں کے ٹھکرائے ہوئے ہیں، اقتدار وقت کے سامنے مسلمانوں کے نمائندہ بن کر جماعتی سطح پر کافی توانا ہوگئے جس کا بڑا فائدہ ان کے خانہ ساز مذہب کا ہوا۔
سیاست شجر ممنوع نہیں بلکہ شجر مطلوب ہے
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی یہ تو علماء کو سیاست سے دور کرنے کے لیے ایک سازش کے تحت سیاست کو شجر ممنوع بنایا گیا اور اسے مسلمانوں کو باور کردیا گیا۔ ورنہ انگریزوں کے دور میں اپنے وقت کے جید ترین علمائے دین کا قبضہ سرکاری دفتروں پر کیوں ہوتا اور مشاہیر و اکابر علماء سرکار کی ملازمتوں میں کیوں آتے؟ ایک طرح سے انگریز حکومت کی مشینری ان کے دم پر تھی۔ حضرت علامہ فضل امام خیر آبادی صدر الصدور دہلی، حضرت علامہ مفتی صدر الدین آزردہ صدر الصدور دہلی، علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی منصب و صدر بریلی، حضرت علامہ فضل رسول بدایوں سرشتہ دار کلکٹری صدر دفتر سہسوانی، علامہ مفتی انعام اللہ گویامنوی قاضی دہلی و وکیل سرکار الٰہ آباد، استاذ العلماء حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی سرشتہ دار اینڈ و نئی دہلی، صدر الصدور لکھنؤ، مہتمم حضور تحصیل اور مولوی غلام قادر گوپامئوی ناظر سرشتہ دار عدالت دیوانی تحصیلدار کوڑ گاؤں وغیرہ وغیرہ۔ یہ اپنے زمانے کے عدیم النظیر علماء دین و مفتیانِ شرع متین تھے۔ حکومت کی باگ ڈور جن کے ہاتھوں میں تھی۔ زیادہ دور نہ جائیے پس ایک نظر حضور صدر الافاضل استاذ العلماء سیّد المدرسین حضرت علامہ مفتی سیّد نعیم الدین مرادآبادی جو اپنے بڑے میں مرجع علماء و ملجائے اکابر ہیں اس تعلق سے ان کی دلسوزی پر ایک نگاہ ڈالتے چلیں، اس وقت کے علماء و اکابر کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں، میں عرض کروں گا کہ علمائے دین و پیشوانِ اسلام اب قدم اٹھائیں۔ گوشۂ تنہائی سے نکلیں اس لیے نہیں کہ انہیں جاہ ملے یا منصب ملے، اس لیے نہیں کہ حکومت کا مزہ حاصل کریں فقط اس لیے کہ دین کی حفاظت ہو، اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف پیش آنے والی تجاویز وہ روک سکیں! اور مسلمانوں کے مستقبل کو وہ خطرے سے محفوظ رکھ سکیں، جو قانون ایک دفعہ پاس ہو جاتا ہے اگر اسمبلی میں علماء کا بھی کوئی عنصر ہوتا تو شاردا کا قانون پاس نہ ہوسکتا تھا۔ مسلمانوں کے ممبران پہلے روز بیدار کردئیے جاتے لیکن قانون پاس ہونے کے بعد جو کوششیں کی گئیں۔ وہ اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں، طبقہ علماء کا سیاسیات اور ملکی نظریات کی طرف اغماض کرنا مسلمانوں کو ضرر پہنچانا ہے اس وقت گول میز کانفرنس اجلاس کر رہی ہے ہندوستان کے لیے دستورِ حکومت کی تجویز ہے ہر فرقے کے نمائندے وہاں پہنچ گئے ہیں سب نے اپنے مطالبات کا ایک مسودہ مرتب کرلیا ہے ہر ایک اپنے مقاصد کا ایک نقشہ نظر کے سامنے رکھتا ہے لیکن ہمیں یہ شکایت ہے اور بجا شکایت ہے کہ ہمارے طبقہ علماء نے آج تک اس کی طرف التفات نہ کیا جو جو مسودے تجویز ہوئے اس پر نظر نہ ڈالی اور نہ یہ دیکھا کہ اسلام اور مسلمین پر ان کا کیا اثر پڑتا ہے؟ اور اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کی فلاح اور مذہب کی تحفظ حرمت کے لیے کیا امور ضروری ہیں؟ جن کا موجودہ تجویزوں میں اضافہ ہونا چاہیے اور کون چیزیں قابلِ احتراز ہیں جن کی مدافعت لازم ہے؟
ہندوستان کے تمام طبقۂ علماء اس سرے سے اُس سرے تک ساکت و خاموش ہیں! انہوں نے اس پر نظر ہی نہیں ڈالی کیا حیثیت دین سے یہ ضروری امر نہیں؟
گذشتہ کو چھوڑئیے، آئندہ کے لیے مستعد ہو جائیے اور جلد تایک نظر ڈالیے کہ دنیا کیا کر رہی ہے؟ مسلمانوں کے مستقبل کے لیے کیا کیا تجویزیں درپیش ہیں؟ ان کے کیا نتائج ہوں گے؟ ضروریات کا اقتضا کیا ہے؟ پہلے جو کچھ لائے ہو اس سے ایک اجتماعی شکل میں اپنے نمائندوں کو باخبر کیجیے، پچھلی غفلت قابلِ افسوس ہے۔ لیکن ابھی اور غفلت رہی تو کام قبضے سے باہر ہو جائے گا۔ جس طرح ممکن ہو صورتِ حال پر اطلاع پانے کے بعد ایک مسودہ تجاویز مرتب کیجیے، خواہ جلسوں یا ڈال کے ذریعے اس پر دوسرے علماء کی رائیں حاصل کرکے ایک نقشہ عمل مرتب فرمائیے! کونسلوں کی کاروائیوں کو بھی دیکھیے اور ممبرانِ کونسل کو جس امر میں توجہ دلانے کی ضرورت ہو انہیں زور کے ساتھ توجہ دلائیے۔ یہ بھی دیکھیے ڈسٹرکٹ اور میونسپل بورڈوں میں کیا ہو رہا ہے؟ آپ کو جلد سے جلد مستعد ہو جانا چاہیے، اگر جماعت علماء اس طرح میدانِ عمل میں آگئی تو ان شاءاللہ عزیز اسلام اور مسلمین کی بہت بڑی حمایت ہوسکے گی۔
ستم یہ ہے کہ جاہل عالم نما عالم بن کر میدان میں آئیں اور ان کی تعداد سے دنیا کو دھوکہ دیا جائے اور ان کی خودرائی و نفس پرستی کو علماء کی رائے قرار دیا جائے اور علماء کا پورا طبقہ ساکت و خاموش بیٹھا یہ سب کچھ دیکھا کرے۔ خدا اس کے منہ میں زبان ہو نہ زبان میں حرکت نہ ہاتھ میں قلم اور نہ قلم میں جنبش! اب آپ کا یہ تقاعد زہد و انکساری کی حد سے گذر کر غفلت و تغافل کے دائرے میں آگیا ہے اور اس اندازِ سکوت سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب آپ اس عقیدہ کو چھوڑ دیجیے آپ کے فرائض ایک مسجد میں وعظ کہہ کر یا ایک حلقہ میں درس دے کر یا خلوت خانے میں فتویٰ لکھ کر ادا ہو جاتے ہیں اور آپ کو اس پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ اور بدخواہانِ اسلام تحریک کے لیے کیا کیا تدابیر عمل میں لا رہے ہیں؟ یقیناً یہ آپ کا فرض ہے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اٹھیے اور اپنے فرض ادا کیجیے۔
(السواد الاعظم مرادآباد شمارہ رجب المرجب ۱۳۴۹ھ ۱۹۳۰ء (بحوالہ ماہنامہ کنز الایمان، دہلی شمارہ مارچ ۲۰۰۴ء)
یہ دردمندانہ گذارش یہ مخلصانہ التجا علمائے کرام کی بارگاہ میں کس کی ہے؟ یہ اس عظیم ہستی کی ہے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کے بعد من کل الجہات زمانے میں جس کا کوئی ہمسر نہیں تھا۔
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں آج مسلمانانِ ہند جس نازک ترین اور کربناک دور سے گذر رہے ہیں ایسی حالت تو اس وقت نہ تھی تو کیا علمائے دین کا یہ فرض نہیں بنتا کہ حضور صدر الافاضل کے مذکورہ بالا بے چینیوں پر سنجیدہ ہو جائیں، اسلام اور مسلمان دشمن طاقتوں نے ایک سازش کے تحت ہی موجودہ سیاست کا چہرہ بگاڑا ہے اور اس سیاسی ماحول کو اتنا پراگندہ کیا ہے کہ علمائے دین اس گلیارے میں اپنے تقدس کے پیشِ نظر قدم ہی نہ رکھیں؟ جس میں وہ کامیاب رہے کیونکہ حاملین کردار و عمل اور جید ترین علماء سے تو ہر زمانے کی حکومت خوف زدہ رہی، کہ ان کافروں سے مومن ہمیشہ اور ہر محاذ پر بیدار رہتا ہے۔ کہ الفوا فراسۃ اللہ المومن فانہ ینظر بنور اللہ۔
حضور مجاہد ملّت حضرت علامہ شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری کی اپنے معاصرین و اعاظم رجال کے درمیان ایک بڑی انفرادیت یہ بھی تھی کہ وہ حضور صدر الافاضل کے فیض یافتہ تھے اور قومی و ملّی بے چینیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے انہوں نے سیات کو شجرہ ممنوعہ کبھی نہیں سمجھا بلکہ ہر دور کی سیاست پر کڑی نگاہ رکھی۔ انھوں نے کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائی اور نہ کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوئے۔ موجودہ سیاسی پراگندگی سے وہ بہت دور رہے۔
مگر جب مسلمانوں کے فلاح و بہبود کی بات آئی تو اپنی شرطوں پر سیاسی پارٹیوں کا اخلاق تعاون بھی کیا۔ اور جب کبھی سیاسی دروازے سے اسلام اور مسلمانوں پر کوئی زر پڑی وہ خاموش نہیں تھے بلکہ پوری قوت کے ساتھ اس کے خلاف میدانِ عمل میں اُترے۔ انہوں نے اپنی تنظیم آل انڈیا تبلیغ سیرت کو لےکر اسلام اور مسلمان دشمن قوتوں کو ہمیشہ للکارا اور اس سے تعلق سے اقتدار وقت کی آنکھوں میں ہمیشہ آنکھیں ڈال کر دائرہ عمل ہی تک محدود ہوکر نہ رہ جائیں بالخصوص مذاہب باطلہ کے ردّ و استیصال ہی کو آخری منزل نہ سمجھ لیں بلکہ مسلمانوں کے سلگتے مسائل اور ہندو مسلم فسادات کے نام پر ان کی یکطرفہ بربادیوں پر عملاء خاموش نہ رہیں بلکہ پوری قوت کے ساتھ اقتدارِ وقت و اربابِ حکومت کو اس طرف متوجہ کریں۔
علمائے دین کی زرف نگاہی اور ان کے فراست مومن کے سامنے ہمہ شمہ کی بات تو بات ہی کیا؟ ان کے مقابلے یہ پروفیسر، لکچرر، دانشور، ڈاکٹر، انجینئر، منسٹر وغیرہ تو عوام ہی ہیں۔
خیر سے جب وہ واقعی عالم دین ہو نہ کہ عالم نما! جیسا کہ فی زمانہ عالم کے نام عالم کے لباس میں جاہل نیم خواندہ ہی علی العموم میدان میں ہیں۔ انہیں کو دیکھ کر عوام اور سیاسی پارٹیاں حقیقی علما کا بھی وزن اور معیار ذہن میں رکھتی ہیں۔
*پیش کردہ۔ محسن رضا ثقافی جنرل سکریٹری آل انڈیا تبلیغ سیرت*

Address

A-1, Ground Floor, 58/Habib Manzil, Dimtimkar Road Nagpada
Mumbai
400008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All India Tabligh-E-Seerat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to All India Tabligh-E-Seerat:

Share