21/01/2026
بہار کی ممتاز تعلیمی شخصیت راشد نیر ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اِن ایجوکیشن‘ سے سرفراز
پٹنہ کے جج صاحبان کے ساتھ علمی ، فکری و تعلیمی شخصیات نے شرکت کر حوصلہ افزائی کی
پٹنہ، 24دسمبر 2025 : بہار کی معروف تعلیمی شخصیت جناب راشد نیر حفظہ اللہ کو تعلیم کے میدان میں تقریباً چار عشروں کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں ’’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ان ایجوکیشن 2025‘‘ سے سرفراز کیا گیا ۔ یہ اعزاز انہیں 21 دسمبر 2025 کو پٹنہ کے پرتعیش ہوٹل دی پناش میں منعقد ہونے والے ’’ایڈوپرینیور کانفرنس اینڈ ایجوکیشنل ایکسیلنس ایوارڈز 2025‘‘ کے پروگرام میں ڈسٹرکٹ اینڈ ایڈیشنل سیشن جج جناب انور شمیم،ریلوے جوڈیشیل مجسٹریٹ محمد منظور عالم، اسلامک ایجوکیشن بورڈ کے ذمہ دار پروفیسر عباس مصطفیٰ ،حیدر آباد یونیورسٹی کےپروفیسر زاہد الحق،فالکن گروپ آف انسٹی ٹیوشنز بنگلور کے ذمہ دارڈاکٹر عبد السبحان، گریٹ انڈیا اکیڈمی ململ (بہار) کےذمہ دار جناب نجم الہدیٰ ثانی،دانش ریاض وغیرہم کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔راشد نیر حفظہ اللہ نے بہار، بنگال اور جھارکھنڈ سمیت مشرقی ہند کے کئی علاقوں میں درجنوں تعلیمی اداروں کی سرپرستی کی ہے اور جدید تعلیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہار اور آس پاس کی ریاستوں کی متعدد تعلیمی شخصیات نے ان کے نام کی توثیق کی، جس کے بعد ایڈوپرینیور کانفرنس کی جیوری نے متفقہ طور پر اس اعزاز کے لیے ان کا انتخاب کیا۔
الخیر کو آپریٹیو کریڈٹ سوسائٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر نیر فاطمی کہتے ہیں ’’ایک قابل تحسين فیصلہ، راشد بھائی خاموشی سے عبادت کے طور پر یہ کام انجام دے رہے ہیں ۔ آپ ان سے کبھی نہیں سنیںگے کہ فلاں فلاں ادارہ ان کے خون جگر سے سینچا گیا ہے۔ کن کن حالات میں وہ یہ کام کر رہے ہیں یہ وہ اور اللہ بہتر جا نتا ہے۔ میں آج اس پروگرام میں اس لیے بھی حاضر رہا کہ مجھے اس پل کو دیکھنے کی تمنا تھی۔ دانش کو بھی مبارک ہو ہیرے کی قدر دانی کے لیے‘‘۔
بہار کے نوجوان صحافی تعلیم و تعلم سے وابستہ سلمان غنی کہتے ہیں’’دل خوش ہو گیا۔ حالانکہ راشد صاحب کی شخصیت اس ایوارڈ سے کہیں بڑی ہے۔ انھوں نے تعلیم کے میدان میں خاموشی سے جو کام کیا ہے، اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اللہ مبارک کرے اور راشد صاحب کا سایہ صحت و تندرستی کے ساتھ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔آمین‘‘۔
خواجہ محمد عرفان اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں’’بہت ہی عمدہ فیصلہ۔ راشد بھائی کو بہار کے لوگوں نے ان کے شایان شان نوازا نہیں۔معیشت نے یہ کام کرکے بہار کے لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے۔معیشت کی ٹیم کو میری طرف سے بہت بہت مبارکباد‘‘۔سماجی کارکن اور کالم نگار سرفرازعالم کے الفاظ میں ’’ماشاء اللہ، دیر سے ہی سہی درست قدم حالانکہ مزید حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔ جزاک اللہ خیرا‘‘۔
واضح رہے کہ تعلیم کے میدان میں کام کرنے والی دیگر شخصیات کو بھی ہوٹل دی پناش میں ایڈیوپرینیور ایوارڈ، بیسٹ پرنسپل ایوارڈ، بیسٹ اختراعی اسکول ایوارڈ جیسے اعزازات سے سرفراز کیا گیااور ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔یہ منفرد پروگرام معیشت فاؤنڈیشن ممبئی کے زیر اہتمام، فالکن گروپ آف انسٹی ٹیوشنز بنگلور اور گریٹ انڈیا اکیڈمی ململ (بہار) کے اشتراک سے منعقد ہو ا ہے۔ پروگرام میں مشرقی ہند کی مختلف ریاستوں سے 100 سے زائد تعلیمی ماہرین، اسکول مالکان، پرنسپلز اور ایڈوپرینیورز کی شرکت رہی ہے۔ بنگلور، حیدرآباد، لکھنؤ اور کولکاتا سے مہمان مقررین جدید طریقۂ تدریس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبے میں اختراعات پر روشنی ڈالیں۔کانفرنس کا مرکزی موضوع ’انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے درمیان ربط و تعلق‘ ہے، جس پر ٹیکنالوجی کے ماہرین اپنی مہارت پیش کیں۔ مغربی بنگال سے سمرٹن مشن اسکول، اقراٗ گلوبل اکیڈمی آئی پی ایس اکیڈمی، اتر پردیش سے الامین نیشنل اسکول،اعظم گڈھ،،جیسے اداروں کے نمائندے شرکت کی، جبکہ مشرقی بہار سے المنار ایڈوکیئر (ارریہ)، آکسفورڈ انٹرنیشنل اسکول (کشن گنج)،ویژن انٹر نیشنل اسکول (سہرسہ) اور بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن بہار کے ذمہ داران بھی شریک ہوئے۔ پٹنہ سے الحراء پبلک اسکول، ہولی ویژن پبلک اسکول،اقراء گلوبل اسکول ، اقراء پبلک اسکول( نوادہ)، سمیت متعدد دیگر اداروں کو بھی مدعو کیا گیا۔ رانچی، راؤرکیلہ اور دیگر علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں شرکت یقینی بنائی گئی ہے۔معیشت فاؤنڈیشن،معیشت اکیڈمی گذشتہ کئی برسوں سے ملک بھر میں تعلیمی بیداری، تکنیکی ترقی اور معاشی امور پر سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کر رہی ہے، جن کے مثبت اثرات مسلم سماج سمیت تمام طبقات پر مرتب ہوئے ہیں۔ ادارہ نے اس سے قبل ممبئی، کولکاتا، بنگلور، دہلی اور میگھالیہ میں کامیاب ایڈوپرینیور کانفرنسز اور ایجوکیشنل ایکسیلنس ایوارڈز کا انعقاد کیا ہے۔ پٹنہ جو تعلیمی اور تہذیبی اعتبار سے دنیا بھر میں مشہور ہےیہاں یہ ادارے کا پہلا پروگرام تھاجسے ماہرین تعلیم قدر کی نگاہ سے دیکھا اور بھرپور پذیرائی کی