Border Foundation Trust Regd.

Border Foundation Trust Regd. Border Foundation Trust ( REGD) Head office KHATANA NIWASS II ARI Mendhar Dist poonch ut of j& k .

15/06/2026
15/06/2026

۔
عرب کا یہ جغرافیہ، جہاں ریت کے سمندر اور ننگے پہاڑ اسمان سے باتیں کرتے ہیں، بظاہر جابر اور بے رحم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی کوکھ میں تاریخ کے عظیم ترین تجارتی راستے پنہاں تھے۔ جزیرہ نما عرب کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس وقت کی دو عظیم ترین عالمی طاقتوں—شمال مغرب میں بازنطینی سلطنت (روم) اور شمال مشرق میں ساسانی سلطنت (فارس)—کے درمیان ایک ناگزیر پل کی حیثیت رکھتا تھا۔ عرب کے ان تجارتی راستوں میں سب سے قدیم اور معتبر "شاہراہِ بخور" (Incense Route) تھی، جو جنوب میں یمن کے زرخیز ساحلوں، قتبان، حضرموت اور سبا کی سلطنتوں سے شروع ہو کر، حجاز کے پہاڑی سلسلوں کے متوازی چلتی ہوئی، شمال میں پٹرا (نبطیوں کے دارالحکومت) اور وہاں سے غزہ، دمشق اور اسکندریہ تک جاتی تھی۔ اس شاہراہ کا دوسرا بڑا بازو "شاہراہِ رحلت" تھا جس کا نظام قریش کے جدِ امجد ہاشم بن عبد مناف نے ترتیب دیا تھا، جہاں جاڑوں میں قافلے جنوب کی طرف یمن جاتے اور گرمیوں میں جب حجاز کی ریت ابلنے لگتی، تو یہ قافلے شمال کے سرد اور شاداب خطے شام (لیوانت) کا رخ کرتے۔ یہ راستے محض سڑکیں نہیں تھے، بلکہ ریگستان کے سینے پر ابلتے ہوئے چشموں، نخلستانوں اور پہاڑی دروں کی ایک ایسی لڑی تھے جنہیں صرف ایک ماہر بدوی جغرافہ دان کی آنکھ ہی پہچان سکتی تھی۔
مکہ سے نکل کر جب یہ قافلہ شمال کا رخ کرتا، تو جغرافیائی منظرنامہ بتدریج بدلنے لگتا۔ مکہ سے شمال کی جانب سفر کرتے ہوئے پہلا بڑا پڑاؤ یثرب (مدینہ منورہ) کا نخلستان تھا۔ مکہ اور یثرب کے درمیان کا فاصلہ تقریباً گیارہ سے بارہ دنوں کی مسافت پر محیط تھا، جو قریباً ڈھائی سو میل بنتا ہے۔ یہ راستہ سنگلاخ چٹانوں، کالی لہراتی ہوئی لاوے کی پٹیوں (حرات) اور خشک وادیوں سے گزرتا تھا۔ قافلے کے اونٹ جب "وادیِ عقیق" یا "ذی الحلیفہ" کے مقام پر پہنچتے، تو مسافروں کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ جاتی، کیونکہ یہاں میٹھے پانی کے کنویں اور کھجوروں کے گھنے باغات ان کا استقبال کرتے تھے۔ یثرب ایک زرعی بستی تھی جہاں بنو اوس اور بنو خزرج کے قبیلے اور یہودیوں کے قلعہ بند محلے آباد تھے۔ یہاں قافلے چند دن سستاتے، اپنے پانی کے مشکیزے بھرتے اور اپنے تھکے ہوئے جانوروں کو تبدیل کرتے۔ یثرب سے آگے کا راستہ مزید کٹھن اور ہیبت ناک ہو جاتا تھا۔ یہاں سے قافلہ شمال مغرب کی طرف مڑتا اور "وادیِ قریٰ" سے گزرتا ہوا "الحجر" (مدائن صالح) کے مقام پر پہنچتا۔ یہ نبطیوں کے قدیم تراشیدہ پہاڑی محلات اور قبروں کا علاقہ تھا، جہاں سرخ اور زرد پہاڑوں کو کاٹ کر دیوقامت ستون اور دروازے بنائے گئے تھے۔ یہاں کی ہواؤں میں ایک عجیب سا اسرار اور عبرت کا سکوت ہوتا تھا، اور بدوی ساربان اپنے اونٹوں کو تیز ہانکتے ہوئے اس وادی کو جلدی پار کرنے کی کوشش کرتے تھے، کیونکہ یہ قومِ ثمود کی تباہی کی داستان اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔
اس پورے سفر میں موسم عرب کے مسافروں کا سب سے بڑا دوست بھی تھا اور سب سے خوفناک دشمن بھی۔ گرمیوں کے موسم میں دن کے وقت درجہ حرارت اس حد تک بڑھ جاتا کہ ریت کے ذرے پگھلے ہوئے تانبے کی طرح چمکتے اور تلووں کو جھلسا دیتے۔ اس لیے سفر کا سارا نظام "سرى" یعنی رات کے سفر پر منحصر ہوتا تھا۔ جیسے ہی شام کا سورج افق کے نیچے اترتا اور آسمان پر نیلاہٹ کی جگہ گہری سیاہی اور چاندی جیسے چمکتے ستاروں کا ہجوم لے لیتی، قافلے کے رہنما جنہیں "دلیل" کہا جاتا تھا، متحرک ہو جاتے۔ یہ دلیل صحرا کے سچے جادوگر ہوتے تھے، جنہیں نہ تو ریت کے اڑتے ہوئے طوفان گمراہ کر سکتے تھے اور نہ ہی راستوں کی یکسانیت۔ وہ آسمان پر چمکتے ہوئے قطبی ستارے (جدی)، بنات النعش اور ثریا کی پوزیشن دیکھ کر رات کے اندھیرے میں اونٹوں کے پیروں کے نیچے دبی زمین کی خوشبو سونگھ کر بتا دیتے تھے کہ وہ اس وقت کس وادی میں ہیں۔ رات کے اس سحر انگیز ماحول میں، جب صرف اونٹوں کے قدموں کی نرم چاپ اور گھنٹیوں کی دھیمی آواز گونجتی، ساربان اپنے مخصوص لہجے میں "حدی" (اونٹوں کو چلانے کا گیت) گانا شروع کرتے۔ یہ حدی ساربان کے گلے سے نکلنے والا ایک ایسا سوز و گداز سے بھرپور ترنم ہوتا تھا جو رات کی خاموشی کو چیرتا ہوا اونٹوں کے کانوں میں رس گھولتا۔ اس گیت کے جادو سے تھکے ہارے اونٹ اپنے قدموں کی رفتار تیز کر دیتے اور ان کی گردنیں ایک خاص تال میں ہلنے لگتیں۔
لیکن اس رومانیت کے پیچھے ہر لمحہ موت کا خوف ناچتا رہتا تھا۔ صحرا کا سیاسی اور سماجی نظام قبیلے کی عصبیت پر قائم تھا۔ مرکزی حکومت کے بغیر، صحرا کے قوانین سخت اور بے رحم تھے۔ ایک قبیلے کی حد ختم ہوتے ہی دوسرے قبیلے کی قلمرو شروع ہو جاتی تھی، اور اگر قریش نے ان قبائل کے ساتھ "ایلاف" (تجارتی معاہدے) نہ کیے ہوتے، تو کسی بھی قافلے کا سلامت گزرنا ناممکن تھا۔ بنو غطفان، بنو سلیم، بنو طے اور بنو اسد جیسے طاقتور بدوی قبائل ان راستوں پر چیلوں کی طرح نظریں جمائے رکھتے تھے۔ ان کی روزی کا ایک بڑا حصہ ان قافلوں پر شب خون مارنے یا ان سے "خفارہ" (حفاظتی ٹیکس) وصول کرنے پر مبنی تھا۔ جب کبھی افق پر ریت کا کوئی مشکوک غبار اٹھتا، تو قافلے کے محافظ، جو گھوڑوں پر سوار ہوتے اور جن کے ہاتھوں میں نیزے اور تلواریں چمکتی تھیں، چوکنے ہو جاتے۔ دھڑکنیں تیز ہو جاتیں، عورتیں اور بچے کجاووں کے اندر سانسیں روک لیتے، اور مرد اپنی کمانوں کے چلے کس لیتے۔ یہ سماجی نظام بقائے باہم اور طاقت کے توازن کا ایک نازک کھیل تھا، جہاں ایک کمزور قبیلے کا قافلہ چند گھنٹوں میں لوٹ لیا جاتا اور اس کے مرد قتل یا غلام بنا لیے جاتے۔
مدائن صالح سے آگے، قافلہ خیبر کی وادیوں کو دائیں چھوڑتا ہوا، شمال کی آخری سرحد "تبوک" کی طرف بڑھتا۔ تبوک ایک وسیع و عریض میدان تھا جہاں کھجوروں کے جھنڈ اور ایک چشمہ تھا، جو حجاز اور شام کے مابین ایک قدرتی سرحد کا کام کرتا تھا۔ یہاں پہنچ کر زمین کی رنگت بدلنے لگتی۔ کالی اور سرخ چٹانیں ختم ہوتیں اور خاکستری رنگ کے ریتلے ٹیلے شروع ہو جاتے، جو نبطی سلطنت کے دل "پٹرا" (معان) تک لے جاتے۔ پٹرا کی وادی ایک تنگ پہاڑی درے "السیق" سے گزر کر کھلتی تھی، جہاں چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے گلابی رنگ کے مندر اور خزانے دیکھ کر حجازی عربوں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔ یہاں پہنچ کر قافلہ گویا ایک بالکل نئی دنیا میں داخل ہو جاتا تھا۔ یہاں کی ہوائیں بحرِ روم کی رطوبت اور زیتون کے باغوں کی خوشبو اپنے ساتھ لاتی تھیں۔ پٹرا سے یہ راستہ مزید شمال میں دمشق کی طرف جاتا، جو شام کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا۔ دمشق کی منڈیوں میں جب مکہ کا یہ قافلہ داخل ہوتا، تو وہاں ایک جشن کا سماں ہوتا۔ رومی ریشم، ارغوانی کپڑے، شیشے کے برتن، صابن، گندم اور زیتون کے تیل کے بدلے عربوں کا چمڑا، یمنی خوشبوئیں، لوبان، اور مر مکہ کے تاجروں کے ہاتھوں مہنگے داموں بک جاتے۔ تاجروں کی جیبیں رومی دیناروں سے بھر جاتیں اور وہ چند ہفتے دمشق کے سرد اور شاداب ماحول میں گزار کر دوبارہ اپنے وطن کی واپسی کا سفر شروع کرتے۔
واپسی کا یہ سفر اس وقت مزید یادگار اور جذباتی بن جاتا جب یہ قافلے عرب کے سالانہ میلوں، خاص طور پر "عکاظ"، "مجنہ" اور "ذو المجاز" کے دنوں میں حجاز کی حدود میں داخل ہوتے۔ عکاظ کا میلہ، جو طائف اور مکہ کے درمیان واقع ایک وسیع میدان میں لگتا تھا، محض ایک تجارتی منڈی نہیں تھا بلکہ وہ عرب کا ثقافتی، ادبی اور فکری دل تھا۔ جب اونٹوں کے کجاوے اتارے جاتے اور خیمے نصب ہو جاتے، تو پورے عرب سے آئے ہوئے شاعر، خطیب، جنگجو اور حسن کے سوداگر وہاں جمع ہوتے۔ قبیلہ بنو تمیم، بنو قیس، بنو ہوازن اور قریش کے لوگ اپنے اپنے خیموں کے باہر محفلیں جماتے۔ میلے کے وسط میں ایک بڑا چمڑے کا خیمہ نصب ہوتا جہاں عرب کے مایہ ناز منصف اور نقاد بیٹھتے۔ وہاں امراؤ القیس، زہیر بن ابی سلمیٰ، لبید بن ربیعہ اور عنترہ بن شداد جیسے عظیم شاعر اپنے معلقات (وہ قصائد جنہیں بعد میں سونے کے پانی سے لکھ کر کعبے کی دیواروں پر لٹکایا گیا) سناتے۔ جب کوئی شاعر اپنے قبیلے کی بہادری، صحرا کی راتوں، اپنے وفادار اونٹ کی تعریف اور اپنی محبوبہ کے فراق میں اشعار پڑھتا، تو پورا میدان "واہ واہ" اور جذبات کے طوفان سے گونج اٹھتا۔ یہاں انسانی جذبات، قبیلے کا فخر، اور بدوی روح اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ ظاہر ہوتی۔ نوجوان تاجر رومی شراب کے جام اچھالتے، لونڈیاں دف بجا کر گاتی ہوں، اور بوڑھے سردار سیاسی اتحادوں اور شادیاں طے کرتے۔
یہ تجارتی راستے اور قافلے صرف مالِ تجارت کی آمد و رفت کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ یہ فکر و خیال، مذاہب اور تہذیبوں کے تبادلے کی سب سے بڑی شاہراہ تھے۔ انہی راستوں پر سفر کرتے ہوئے عربوں نے دنیا کو دیکھا اور دنیا نے عربوں کے اس گہرے، خاموش اور پرپیچ مزاج کو سمجھا۔ انہی راستوں سے گزرتے ہوئے مکہ کے تاجروں نے عیسائیت اور یہودیت کے افکار کا مشاہدہ کیا، جس نے جزیرہ نما عرب کے بت پرست معاشرے میں ایک فکری ارتعاش پیدا کیا۔ جب مکہ کے افق پر اسلام کا سورج طلوع ہوا، تو یہی تجارتی راستے، یہی وادیاں، اور یہی نخلستان تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کے گواہ بنے۔ مکہ سے مدینہ کی طرف جانے والا ہجرت کا وہ چھوٹا سا قافلہ، جس میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شامل تھے، اسی مدینہ جانے والی قدیم تجارتی شاہراہ کے غیر معروف اور خفیہ راستوں سے گزر کر گیا تھا، جس نے دنیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
آج جب ہم ان ویران ہو چکے راستوں، خاموش پڑی وادیوں اور ریت میں دفن ہو جانے والے کنوؤں کے قریب سے گزرتے ہیں، تو اگر ہم غور سے سنیں، تو ہمیں آج بھی رات کی سرد ہواؤں میں اونٹوں کے پیروں کی چاپ، ان کے گلوں میں بندھی گھنٹیوں کی مدہم جھنکار، اور کسی ساربان کے گلے سے نکلنے والی وہ حدی سنائی دیتی ہے جو کبھی اس بے رحم صحرا کو زندگی، محبت اور امید کا گہوارا بنا دیتی تھی۔ عرب کے یہ تجارتی راستے محض مٹی اور پتھر کے راستے نہیں تھے، یہ اس بدوی انسان کی عظمت، ہمت اور بقا کی لازوال داستان ہیں جس نے ریت کے طوفانوں اور پہاڑوں کی ہیبت کو اپنے عزم کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔

15/06/2026

Find latest News about J&K, top news stories on J&K & all over India from Cross Town News J&K India. Breaking news headlines J&K & detailed news coverage on business, politics, sports news and latest photos and videos Interviews news from Cross Town News

Address

Khatana Niwass II Ari
Mendhar
185211

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Border Foundation Trust Regd. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share