26/07/2026
شہرت کے لیے نہیں، تبدیلی کے لیے کام کریں
آج ہمارا معاشرہ بے شمار مسائل، کمزوریوں اور برائیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اخلاقی زوال، تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری، منشیات، نوجوانوں میں مقصدیت کی کمی، سماجی بے حسی اور دینی شعور کی کمزوری جیسے مسائل ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان مسائل کو سنجیدگی سے پہچاننے اور ان کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے؟
امت مسلمہ ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری صرف مسائل پر گفتگو کرنا نہیں، بلکہ ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف جلسے، میٹنگیں اور تنظیمی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے نہیں بھیجا، بلکہ انسانوں کی اصلاح، معاشرے کی تعمیر اور خیر کو عام کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔
آج ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم ہفتہ وار یا ماہانہ میٹنگ کو ہی اپنی ذمہ داری کا اختتام سمجھ لیتے ہیں۔ چند افراد جمع ہوتے ہیں، گفتگو ہوتی ہے، رپورٹ تیار ہوتی ہے، تصاویر لی جاتی ہیں، پھر ہر شخص اپنی دنیا میں واپس چلا جاتا ہے۔ اگلی میٹنگ تک معاشرہ اپنی جگہ کھڑا رہتا ہے، مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں اور نوجوان ویسے ہی بے سمت رہتے ہیں۔
کیا صرف میٹنگیں کرنے سے معاشرے میں انقلاب آئے گا؟ کیا صرف رپورٹیں بھرنے سے اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے گا؟ کیا صرف اعداد و شمار پیش کر دینے سے ہماری ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے؟
ہمیں اپنے دل سے یہ سوال ضرور پوچھنا ہوگا۔
آج ہماری تنظیموں اور قائدین کی سب سے بڑی ذمہ داری نوجوانوں کی تیاری ہے۔ اگر آج کے قائدین اپنے بعد آنے والی نسل کو تیار نہیں کریں گے تو کل یہ تحریکیں، ادارے اور سماجی خدمات کمزور ہو جائیں گی۔ ہر ذمہ دار کو کم از کم چند ایسے نوجوان تیار کرنے چاہئیں جو کردار، علم، خدمت اور قیادت میں اس سے بہتر ہوں۔
قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں، انسانوں سے بنتی ہیں۔ اور انسان مسلسل تربیت، رہنمائی اور عملی میدان میں اترنے سے بنتے ہیں۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ہماری ترجیح خدمت سے زیادہ رپورٹ بن جاتی ہے۔ ہم کام اس لیے کرتے ہیں کہ اعداد و شمار اچھے نظر آئیں، فنڈنگ حاصل ہو جائے یا اپنی کارکردگی دکھائی جا سکے۔ پھر اسی فنڈ کا بڑا حصہ میٹنگوں، سفروں اور انتظامی اخراجات میں خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ معاشرے کی اصل ضرورتیں وہیں کی وہیں رہتی ہیں۔
اگر معاشرے سے فنڈ لیا جا رہا ہے تو سب سے پہلے اس فنڈ کا حق اسی معاشرے کو ملنا چاہیے۔ اس علاقے کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہو، نوجوانوں کی تربیت پر خرچ ہو، ہنر سکھانے پر خرچ ہو، روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ ہو اور مقامی مسائل کے مستقل حل پر خرچ ہو۔ یہی امانت داری ہے، یہی دیانت داری ہے اور یہی حقیقی خدمت ہے۔
یہ بات درست ہے کہ بہت سی سماجی تنظیمیں مختلف مسائل پر بہترین کام کر رہی ہیں۔ کہیں ریلیف کا کام ہو رہا ہے، کہیں قانونی مدد دی جا رہی ہے اور کہیں کسی خاص مسئلے پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہے، لیکن صرف وقتی اور مسئلہ بنیاد کام معاشرے میں دیرپا تبدیلی نہیں لا سکتا۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم انسان سازی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔
آج ہمیں ایسے نوجوان چاہئیں جو دیانت دار ہوں، باکردار ہوں، تعلیم یافتہ ہوں، سماجی شعور رکھتے ہوں، اپنی قوم کا درد رکھتے ہوں اور اللہ کی رضا کے لیے خدمت کرنا جانتے ہوں۔ یہی نوجوان کل ہمارے معاشرے کی امید بنیں گے۔
آئیے آج ہم اپنی نیتوں کا جائزہ لیں۔ ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہمارا مقصد شہرت نہیں، بلکہ خدمت ہو۔ ہمارا ہدف تعریف نہیں، بلکہ تبدیلی ہو۔ ہماری خواہش عہدہ نہیں، بلکہ ذمہ داری ہو۔ اور ہماری کامیابی صرف اچھی رپورٹ نہیں، بلکہ ایک بہتر معاشرہ ہو۔
اگر ہم اخلاص، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کریں، نوجوانوں کی تعمیر پر توجہ دیں اور اپنی ہر کوشش کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دیں، تو ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ مثبت تبدیلی کی مثال بنے گا۔
یاد رکھیں، تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے نام بنانے کے لیے نہیں، بلکہ قوم بنانے کے لیے کام کیا۔
تحریر:
محمد ساجد عباس
کولکاتا