Al-Azhar Educational and Welfare Foundation

Al-Azhar Educational and Welfare Foundation Al-Azhar Educational and welfare Foundation Caiptanganj Basti Utter Pradesh India

12/06/2026
12/06/2026

" ازہری ڈائری نمبر ٣٦"

"میڈیا، ایف آئی آر، میڈیا ٹرائل اور انصاف کا تقاضا"

معاشرے میں میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری عوام تک صحیح، متوازن اور مستند معلومات پہنچانا ہے۔ میڈیا نہ صرف خبروں کی ترسیل کا ذریعہ ہے بلکہ عوامی رائے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے میڈیا سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں غیر جانبداری، احتیاط اور انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھے۔
بدقسمتی سے بعض اوقات ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی واقعہ کے بعد میڈیا ایک فریق کے دعوے، الزام یا ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم کے طور پر پیش کرنے لگتا ہے۔ خبروں کی سرخیوں، ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا کی مہمات کے ذریعے عوام کے ذہن میں یہ تصور پیدا کر دیا جاتا ہے کہ گویا عدالت کا فیصلہ آ چکا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
قانونی اعتبار سے ایف آئی آر (First Information Report) صرف جرم کی ابتدائی اطلاع ہوتی ہے۔ یہ کسی شخص کے خلاف لگائے گئے الزامات کا اندراج ہے، جرم کا ثبوت نہیں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تفتیش کی جاتی ہے، شواہد جمع کیے جاتے ہیں، گواہوں کے بیانات لیے جاتے ہیں اور پھر عدالت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ صادر کرتی ہے۔ اس لیے صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
اسی تناظر میں ایک اصطلاح سامنے آتی ہے جسے "میڈیا ٹرائل" (Media Trial) کہا جاتا ہے۔ میڈیا ٹرائل سے مراد وہ صورت حال ہے جب کسی مقدمے کا فیصلہ عدالت میں ہونے سے پہلے میڈیا، ٹی وی چینلز، اخبارات یا سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں کر دیا جائے۔ اس دوران ملزم کے خلاف اس انداز میں خبریں اور تبصرے پیش کیے جاتے ہیں کہ لوگ اسے پہلے ہی مجرم سمجھنے لگتے ہیں۔
میڈیا ٹرائل انصاف کے عمل کو کئی طریقوں سے متاثر کرتا ہے۔ اول یہ کہ ملزم کی سماجی ساکھ کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ دوم یہ کہ عوامی دباؤ پیدا ہوتا ہے جس سے غیر جانبدار ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔ سوم یہ کہ متاثرہ شخص اور اس کے اہلِ خانہ کو ایسی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں ہوتا، خواہ عدالت اسے بے گناہ ہی کیوں نہ قرار دے دے۔
قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ "ہر شخص اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک اس کا جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے۔" یہی اصول انصاف کی بنیاد ہے۔ اگر میڈیا یا عوام محض الزامات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں تو عدالتی نظام کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور انصاف جذبات، قیاس آرائیوں اور افواہوں کا شکار ہو جائے گا۔
صحافت کے اخلاقی اصول بھی یہی تقاضا کرتے ہیں کہ خبر اور رائے میں فرق رکھا جائے، ملزم کو مجرم نہ کہا جائے، تمام فریقوں کا مؤقف لیا جائے اور ایسے الفاظ سے اجتناب کیا جائے جو عوام کو گمراہ کریں۔ ایک ذمہ دار صحافی کا فرض ہے کہ وہ عدالت بننے کے بجائے حقائق پہنچانے کا کام انجام دے۔
اسلامی تعلیمات بھی اس سلسلے میں نہایت واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ (الحجرات: 6)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی خبر یا الزام کو تحقیق کے بغیر قبول کرنا درست نہیں۔ اسی طرح کسی شخص کے بارے میں محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنا بھی انصاف کے خلاف ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں میڈیا ٹرائل کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ایک خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور اکثر لوگ تحقیق یا عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ایسے حالات میں میڈیا، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین سب کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ احتیاط، تحقیق اور انصاف کے اصولوں کو ملحوظ رکھیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ایف آئی آر جرم کا ثبوت نہیں، الزام جرم نہیں، اور ملزم مجرم نہیں ہوتا۔ جرم ثابت کرنے کا اختیار صرف عدالت کو حاصل ہے۔ میڈیا کا فریضہ خبر دینا ہے، فیصلہ سنانا نہیں۔ ایک منصفانہ اور مہذب معاشرہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب عدالت کا حق عدالت کو دیا جائے اور میڈیا ٹرائل کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
✍محمد عباس الازہری

09/06/2026
08/06/2026

"ازہری ڈائری نمبر ٣٥"

"موت اور زندگی"

زندگی اور موت دو ایسی حقیقتیں ہیں جن سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا۔ زندگی ایک روشن صبح کی مانند ہے جو امیدوں کے چراغ روشن کرتی ہے، اور موت ایک ایسی شام ہے جو دنیا کے تمام ہنگاموں کو خاموشی کے سپرد کر دیتی ہے۔ زندگی ایک دریا ہے جو اپنے مقررہ راستے پر بہتا ہوا سمندر کی طرف رواں دواں ہے، اور موت وہ سمندر ہے جس میں ہر دریا کو جا کر ملنا ہے۔
دنیا ایک مسافر خانہ ہے، یہاں نہ کوئی ہمیشہ کے لیے آیا ہے اور نہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ انسان اس سرائے کا مسافر ہے، کوئی تھوڑی دیر ٹھہرتا ہے اور کوئی کچھ زیادہ، مگر آخرکار سب کو رخصت ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بڑے واضح انداز میں اعلان فرمایا:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ "ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔" (سورۂ آل عمران: 185)
یہ آیت انسان کے غرور، تکبر اور دنیا پرستی کے تمام محلوں کو ایک لمحے میں منہدم کر دیتی ہے۔ جو شخص آج اپنی طاقت، دولت، حسن یا شہرت پر ناز کرتا ہے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ موت کے سامنے بادشاہ اور فقیر، حاکم اور محکوم، امیر اور غریب سب برابر ہیں۔
زندگی ایک کھلتے ہوئے پھول کی مانند ہے جس کی خوشبو چند دن فضا میں بکھرتی ہے، پھر خزاں کا ایک جھونکا اسے شاخ سے جدا کر دیتا ہے۔ موت اسی خزاں کا نام ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جو کبھی اپنے وقت سے پہلے نہیں آتی اور نہ اپنے وقت سے ایک لمحہ مؤخر ہوتی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:
﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ "جب ان کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔" (سورۂ اعراف: 34)
دنیا ایک وسیع اسٹیج ہے، انسان اس کے کردار ہیں اور موت وہ پردہ ہے جو ہر کردار کے اختتام پر گرا دیا جاتا ہے۔ کسی کا کردار مختصر ہے اور کسی کا طویل، مگر انجام سب کا ایک ہے۔ زندگی ایک کتاب ہے جس کے صفحات روزانہ پلٹ رہے ہیں۔ ہر طلوعِ آفتاب اس کتاب کا نیا صفحہ ہے اور ہر غروبِ آفتاب ایک صفحے کے بند ہوجانے کا اعلان۔ موت اس کتاب کا آخری ورق ہے، جس کے بعد اعمال کے حساب کا باب شروع ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے دنیا کی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
"مَا لِي وَلِلدُّنْيَا، مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا" "میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری مثال دنیا میں ایک ایسے سوار کی سی ہے جس نے کسی درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کیا، پھر اسے چھوڑ کر روانہ ہوگیا۔" (ترمذی)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا مستقل رہائش گاہ نہیں بلکہ چند لمحوں کا قیام ہے۔ افسوس کہ انسان عارضی قیام کو دائمی سمجھ بیٹھتا ہے اور آخرت کی تیاری سے غافل ہوجاتا ہے۔
اگر زندگی ایک امتحان گاہ ہے تو موت نتیجے کے اعلان کا وقت ہے۔ اگر زندگی ایک کھیتی ہے تو موت فصل کاٹنے کا موسم ہے۔ کسان جیسا بیج بوتا ہے ویسی ہی فصل کاٹتا ہے، اسی طرح انسان دنیا میں جو اعمال کرتا ہے آخرت میں انہی کا پھل پاتا ہے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:
﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ "جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا، اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔" (سورۂ زلزال)
عقلمند وہ نہیں جو لمبی زندگی کی تمنا کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنی زندگی کو نیکیوں سے بھر دے۔ بہت سے لوگ طویل عمر پاکر بھی گمنام رہ جاتے ہیں، جبکہ بعض لوگ مختصر زندگی میں ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں کہ صدیوں تک ان کا ذکر زندہ رہتا ہے۔ زندگی کی اصل قدر سالوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اعمال کی عظمت میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" "لذتوں کو ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔" (ترمذی)
موت کی یاد انسان کے دل سے غرور کو نکال دیتی ہے، خواہشات کی بے لگام دوڑ کو روک دیتی ہے اور آخرت کی تیاری کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جو شخص موت کو یاد رکھتا ہے وہ ظلم نہیں کرتا، کسی کا حق نہیں مارتا، تکبر نہیں کرتا اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موت فنا نہیں بلکہ ایک جہان سے دوسرے جہان میں منتقلی کا نام ہے۔ مومن کے لیے موت قید خانے سے آزادی اور اپنے رب کی رحمتوں کی طرف سفر ہے۔ دنیا کی رات جتنی بھی طویل ہو، آخرکار صبح ضرور طلوع ہوتی ہے؛ اسی طرح قبر کی تنہائی کے بعد قیامت کا دن آئے گا، جب ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوگا۔
لہٰذا زندگی کو امانت سمجھ کر گزارنا چاہیے، وقت کو غنیمت جاننا چاہیے اور ہر دن کو آخرت کی تیاری کا ایک موقع سمجھنا چاہیے۔ جو شخص دنیا میں نیکی، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق کے چراغ روشن کرتا ہے، وہ مرنے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ یہی چراغ قبر کی تاریکی میں روشنی اور آخرت کے سفر میں زادِ راہ بنتے ہیں۔
✍ محمد عباس الازہری

07/06/2026

(ازہری ڈائری نمبر ٣٤)

"سوشل میڈیا کے نئے فتنوں اور علماء و مدارس کے خلاف منظم بیانیہ"
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ چند منٹ کی ویڈیوز، پوڈکاسٹ، ریلیز اور مباحثے عوامی ذہن سازی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ اس میدان میں بہت سے لوگ اصلاحِ معاشرہ، رسم و رواج کی اصلاح اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے نام پر سامنے آئے۔ ابتدا میں ان کی بعض باتیں بظاہر درست اور اصلاحی معلوم ہوئیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کچھ حلقوں نے اپنی مقبولیت اور فالوورز بڑھنے کے بعد ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔
یہ لوگ انتہائی نرم لہجے، دلکش اندازِ گفتگو اور جدید اصطلاحات کے استعمال کے ساتھ ایسا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کے ذمہ دار علماء، ائمہ اور مدارس ہیں۔ ان کی گفتگو میں براہِ راست حملے کم اور ذہن سازی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ ایسے سوالات اور شبہات پیدا کرتے ہیں جو سننے والوں کے دلوں میں دینی اداروں کے بارے میں بدگمانی پیدا کر دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی تاریخ میں علماء اور مدارس نے دین کی حفاظت، قرآن و حدیث کی تعلیم، عقائد کی پاسبانی، اخلاقی تربیت اور ملت کی رہنمائی کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے۔ اگر مدارس نہ ہوتے تو قرآن کریم کی تعلیم، حدیث رسول ﷺ کا علم، فقہ اسلامی کی روایت اور اسلامی تہذیب کا تسلسل برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا۔
یہ کہنا کہ مسلمانوں کی پسماندگی یا تمام مسائل کے ذمہ دار صرف علماء اور مدارس ہیں، نہ صرف حقیقت سے دور بلکہ تاریخ کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ مسلمانوں کو درپیش مسائل کے اسباب میں سیاسی کمزوری، تعلیمی پسماندگی، معاشی مشکلات، فرقہ وارانہ اختلافات، بیرونی سازشیں اور خود مسلمانوں کی عملی کوتاہیاں بھی شامل ہیں۔ ان تمام پیچیدہ مسائل کو صرف علماء اور مدارس کے کھاتے میں ڈال دینا ایک سطحی اور غیر منصفانہ تجزیہ ہے۔
قرآن کریم اہلِ علم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" (کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟)
ایک اور مقام پر فرمایا:
"فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ" (اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔)
یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ دین میں علماء کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔
بلاشبہ علماء اور مدارس انسانوں پر مشتمل ادارے ہیں، اس لیے ان میں اصلاح کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔ جہاں کوئی غلطی ہو وہاں خیرخواہی کے ساتھ اصلاح کی بات ہونی چاہیے، لیکن اصلاح اور تحقیر میں فرق ہے۔ تنقید اور تضحیک ایک چیز نہیں۔ جو لوگ اصلاح کے نام پر پوری دینی قیادت اور مدارس کے نظام کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ درحقیقت امت کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے ہر بیانیے کو جذبات کے بجائے علم، تحقیق اور بصیرت کی کسوٹی پر پرکھیں۔ چند کلپس، مختصر ویڈیوز اور دلکش جملے ہمیشہ حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ دین کی صحیح سمجھ معتبر علماء، مستند کتابوں اور قابلِ اعتماد دینی اداروں سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، مدارس اور عصری تعلیم یافتہ طبقہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون بنیں۔ امت کی تعمیر باہمی احترام، علمی مکالمے اور خیرخواہانہ اصلاح سے ہوگی، نہ کہ نفرت، تمسخر اور الزام تراشی سے۔

✍️ محمد عباس الازہری

07/06/2026

( ازہری ڈائری نمبر ٣٣)
مدارس: اختلاف نہیں، اصلاح کی ضرورت
مدارس اسلامیہ صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ سے بنی ہوئی عمارتوں کا نام نہیں ہیں بلکہ یہ وہ چراغ ہیں جن کی روشنی صدیوں سے ایمان، علم، تہذیب اور دینی شعور کو روشن کرتی آئی ہے۔ یہی وہ مراکز ہیں جہاں قرآن کی تلاوت گونجتی ہے، حدیث کا درس ہوتا ہے، فقہ و عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے، اور جہاں سے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو مساجد کی امامت، مدارس کی تدریس، دعوت و تبلیغ، تصنیف و تالیف اور امت کی فکری و روحانی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
مدارس میں دینیات، عربی، اردو اور کچھ بنیادی عصری علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ ان میں بعض مدارس امداد یافتہ ہیں، یعنی اساتذہ کی تنخواہیں حکومت کی طرف سے ادا کی جاتی ہیں جبکہ طلبہ کے قیام و طعام، بجلی، تعمیرات، کتب اور دیگر ضروریات کا انتظام عوامی تعاون اور چندوں سے کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف غیر امداد یافتہ مدارس ہیں جہاں ایک سوئی سے لے کر عمارت تک ہر چیز عوام کے تعاون سے چلتی ہے۔
لیکن افسوس کہ آج بعض لوگوں کی توجہ مدارس کی تعمیر و ترقی سے زیادہ ان کی تنقیص اور تخریب پر مرکوز نظر آتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس وقت تین قسم کے رویے پائے جاتے ہیں۔
ایک طبقہ وہ ہے جسے بعض امداد یافتہ مدرسین کی تنخواہوں سے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اگر کسی مدرس کے ساتھ انتظامی یا قانونی نوعیت کا کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو یہ لوگ اس ایک فرد کے خلاف ناراضی کو پورے مدرسے کے خلاف مہم میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ گویا کسی شاخ کے سوکھ جانے پر پورا درخت کاٹ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو مدارس مخالف عناصر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مدارس کی خامیاں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ انہیں یہ گمان ہوتا ہے کہ دوسروں کی دیواروں میں دراڑیں دکھانے سے ان کی اپنی دیواریں مضبوط ثابت ہو جائیں گی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب زلزلے آتے ہیں تو صرف ایک مکان نہیں گرتا بلکہ پوری بستیاں متاثر ہوتی ہیں۔
تیسرا طبقہ وہ ہے جو خامیوں کے وجود سے انکار نہیں کرتا، لیکن ان خامیوں کو بنیاد بنا کر اداروں کی جڑیں کاٹنے کے بجائے ان کی اصلاح اور ترقی کے لیے کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دراصل قوم کے خیر خواہ ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تعمیر ہمیشہ صبر، حکمت اور اخلاص سے ہوتی ہے جبکہ تخریب کے لیے صرف ایک چنگاری کافی ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مدرسے کی خامیوں کی فہرست تیار کرے تو اسے پہلے اپنے ادارے، اپنی جماعت، اپنے حلقے اور اپنی ذات کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ اس دنیا میں کوئی ادارہ، کوئی تنظیم اور کوئی فرد کامل نہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کہیں خامیاں ظاہر ہو جاتی ہیں اور کہیں پردوں کے پیچھے چھپی رہتی ہیں۔
کسی بزرگ نے خوب کہا تھا کہ "اگر تمہیں دوسروں کے عیب بہت واضح نظر آتے ہیں تو سمجھ لو کہ تم آئینے کے سامنے نہیں بلکہ کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو۔"
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اصلاح کے نام پر ایسے دروازے کھول دیتے ہیں جن سے مدارس دشمن قوتوں کو اندر آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ جب دشمن کسی ادارے پر حملہ کرتا ہے تو وہ افراد اور جماعتوں میں فرق نہیں کرتا، بلکہ پورے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی لیے کہا گیا ہے:
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
مدارس کسی ایک فرد، ایک خاندان یا ایک جماعت کی ملکیت نہیں بلکہ پوری ملت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اگر آج ہم اپنی ذاتی ناراضیوں، حسد اور رقابتوں کی بنیاد پر ان اداروں کو کمزور کریں گے تو کل اس نقصان کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری کمیونٹیاں اپنے مذہبی اداروں، عبادت گاہوں اور تعلیمی مراکز کے تحفظ کے لیے متحد نظر آتی ہیں۔ وہ اپنے داخلی مسائل کو اندرونی سطح پر حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ ہم بعض اوقات اپنے اختلافات کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ دشمنوں کے لیے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خامیوں پر پردہ ڈال دیا جائے۔ اسلام نے تو احتساب اور اصلاح کا درس دیا ہے۔ لیکن احتساب اور انتقام میں فرق ہوتا ہے، اصلاح اور رسوائی میں فرق ہوتا ہے، خیر خواہی اور دشمنی میں فرق ہوتا ہے۔
اگر کسی مدرسے میں کمی ہے تو اس کی اصلاح کی جائے، اگر کسی منتظم سے غلطی ہوئی ہے تو اسے درست کیا جائے، اگر کسی استاد یا ذمہ دار سے کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا مناسب حل نکالا جائے۔ لیکن ایک فرد کی غلطی کی سزا پورے ادارے کو دینا انصاف نہیں بلکہ زیادتی ہے۔
آج مدارس کو سب سے زیادہ ضرورت چندوں کی نہیں، عمارتوں کی نہیں، بلکہ مخلص اور باشعور خیر خواہوں کی ہے؛ ایسے افراد کی جو تنقید کے بجائے تعمیر، مخالفت کے بجائے معاونت، اور حسد کے بجائے خیر خواہی کا راستہ اختیار کریں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور یہ سمجھیں کہ ادارے گرانا آسان ہے مگر ادارے بنانا نسلوں کی محنت مانگتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف کر دیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
جگا جگا کے تھک چکے ہیں ہنگامے
نشاطِ لذتِ خوابِ گراں بدل ڈالو
آئیے مدارس کو اختلافات کی آماجگاہ نہیں بلکہ علم، اخلاص، اصلاح اور اتحاد کا مرکز بنائیں۔ کیونکہ قومیں اپنے اداروں سے پہچانی جاتی ہیں، اور جب ادارے کمزور ہوتے ہیں تو قوموں کی شناخت بھی دھندلا جاتی ہے۔
✍️ محمد عباس الازہری

Address

Kaptanganj
226001

Telephone

+916392469589

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Azhar Educational and Welfare Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al-Azhar Educational and Welfare Foundation:

Share