Al-Azhar Educational and Welfare Foundation

Call Directions Contact the organization

Al-Azhar Educational and Welfare Foundation Al-Azhar Educational and welfare Foundation Caiptanganj Basti Utter Pradesh India

07/08/2026

"حقوق العباد اور ہمارے معاشرتی رویّے"

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے حقوق ہی بیان نہیں کیے بلکہ بندوں کے حقوق کو بھی غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی ہے۔ عبادت کا حسن اس وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کا بھی وفادار ہو اور اس کی مخلوق کا بھی خیر خواہ ہو۔ اگر ایک طرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ذرائع ہیں تو دوسری طرف لوگوں کے جان، مال، عزت، آبرو اور اعتماد کی حفاظت بھی اللہ کی عظیم عبادت ہے۔ اسی لیے اسلام نے حقوق العباد کو اس قدر اہم قرار دیا کہ بندہ اگر اللہ کے حق میں کوتاہی کرے اور سچے دل سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے، لیکن اگر کسی بندے کا حق مار لے تو اس وقت تک معافی نہیں ملتی جب تک حق دار خود معاف نہ کر دے یا اس کا حق ادا نہ کر دیا جائے۔
آج کے دور میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ظاہری دینداری، مذہبی لباس، لمبی داڑھی، خوش گفتاری اور دین داری کے دعووں کے باوجود معاملات میں جھوٹ، فریب، خیانت اور دھوکہ دہی میں مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ لوگ تجارت، ملازمت، چندہ، قرض، آن لائن کاروبار، دینی اداروں اور حتیٰ کہ مذہبی جذبات کو بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف انسانوں کا حق مارتے ہیں بلکہ اسلام کی روشن تعلیمات کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے کردار کا محاسبہ کریں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾ "بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورۃ النحل: 90)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾ "اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ۔" (سورۃ البقرہ: 188)
نیز فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ﴾ "بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ الأنفال: 58)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده." "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
"من غش فليس منا." "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔" (صحیح مسلم)
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" صحابہ کرام نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔" (صحیح مسلم)
یہ آیات و احادیث واضح کرتی ہیں کہ حقوق العباد کی پامالی انسان کی ساری عبادتوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اسلام میں دیانت داری کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تجارت فرمائی تو لوگوں نے آپ کو "الصادق" اور "الأمین" کے لقب سے یاد کیا۔ دشمن بھی آپ کی امانت داری پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہی اسلامی کردار تھا جس نے دلوں کو فتح کیا، نہ کہ محض وعظ و تقریر۔
لیکن آج حالات اس کے برعکس ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض لوگ نماز کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں مگر دکان پر ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ بعض کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے مگر وہ قرض لے کر واپس کرنے کی نیت نہیں رکھتے۔ کچھ لوگ دین کے نام پر چندہ جمع کرتے ہیں مگر اس رقم کو ذاتی عیش و آرام پر خرچ کر دیتے ہیں۔ بعض افراد ملازمت دلانے، بیرون ملک بھیجنے، یا کاروبار میں منافع کا لالچ دے کر لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔ یہ سب حقوق العباد کی سنگین پامالی ہے۔
اسلام صرف عبادت گزار انسان نہیں بلکہ امانت دار انسان پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایک تاجر اگر جھوٹ بول کر مال بیچتا ہے تو وہ صرف گاہک کو نہیں بلکہ اللہ کے حکم کو بھی توڑتا ہے۔ ایک استاد اگر تنخواہ تو پوری لیتا ہے مگر طلبہ کو دیانت داری سے تعلیم نہیں دیتا تو وہ بھی امانت میں خیانت کرتا ہے۔ ایک ملازم اگر سرکاری وقت میں کام کے بجائے سستی کرتا ہے تو وہ بھی حقوق العباد کا مجرم ہے۔ ایک عالم اگر لوگوں کے اعتماد کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری عام آدمی سے کہیں زیادہ ہے۔
اسلام میں کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا، جھوٹ بول کر کسی کا اعتماد حاصل کرنا، وعدہ خلافی کرنا، قرض واپس نہ کرنا، جعلی کاغذات بنانا، رشوت لینا، ملاوٹ کرنا، کم تولنا اور فراڈ کرنا سب حرام اور کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے اعمال سے وقتی دولت تو حاصل ہو سکتی ہے مگر سکون، برکت اور آخرت کی کامیابی ہرگز حاصل نہیں ہوتی۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک تعداد نے عبادت کو شخصیت کا معیار بنا لیا ہے، مگر معاملات کو دین سے الگ سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ قرآن و سنت میں معاملات، اخلاق اور حقوق العباد کو عبادات کے برابر بلکہ بعض مواقع پر ان سے بھی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ چنانچہ ایک شخص تہجد گزار، حافظِ قرآن اور بار بار عمرہ کرنے والا ہو، لیکن لوگوں کا مال کھاتا ہو، جھوٹ بولتا ہو، وعدہ خلافی کرتا ہو یا دھوکہ دیتا ہو تو اسلام کی نظر میں وہ قابلِ تعریف نہیں بلکہ سخت وعید کا مستحق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔" (صحیح مسلم)
آج جھوٹ صرف زبان تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ کوئی اپنی آمدنی کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے، کوئی اپنے منصب کے بارے میں، کوئی اپنی قابلیت کے بارے میں اور کوئی اپنی نیت کے بارے میں۔ جھوٹ کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ہر فائدہ وقتی ہوتا ہے، مگر اس کا وبال دنیا و آخرت دونوں میں سامنے آتا ہے۔
حقوق العباد کی پامالی کی ایک عام صورت قرض لے کر واپس نہ کرنا بھی ہے۔ بعض لوگ قرض لیتے وقت بڑے وعدے کرتے ہیں، لیکن جب ادائیگی کا وقت آتا ہے تو بہانے، جھوٹ اور ٹال مٹول شروع ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قرض کی ادائیگی کو اتنی اہمیت دی کہ فرمایا:
"مال دار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔" (صحیح بخاری)
اسی طرح آج بعض لوگ دینی اداروں، رفاہی تنظیموں اور مدارس کے نام پر چندہ جمع کرتے ہیں، مگر اس کا حساب شفاف نہیں رکھتے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے نام پر جمع کیا گیا مال ذاتی مفاد میں استعمال کرتا ہے تو وہ صرف مالی خیانت نہیں بلکہ دینی امانت میں بھی خیانت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ﴾ "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔" (سورۃ الأنفال: 27)
افسوس کہ آج کچھ لوگ دین کو بھی کاروبار بنا بیٹھے ہیں۔ وہ مذہبی لباس اور خوشنما خطابت کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر انہیں سرمایہ کاری، تعویذ، کرامت، یا دیگر جھوٹے وعدوں کے ذریعے مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے دین بدنام ہوتا ہے، حالانکہ اسلام کا ان کے کردار سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا کے دور میں دھوکہ دہی کی نئی صورتیں سامنے آئی ہیں۔ جعلی ویب سائٹس، آن لائن سرمایہ کاری، فرضی ملازمتوں کے اشتہارات، جعلی عطیات اور سوشل میڈیا پر مذہبی جذبات کو استعمال کر کے لوگوں سے رقم وصول کرنا بھی حقوق العباد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ نہ خود ایسی حرکت کرے اور نہ دوسروں کو اس کا شکار بنائے۔
ایک مثال پر غور کیجیے: ایک شخص نے اپنے دوست سے یہ کہہ کر پانچ لاکھ روپے لیے کہ وہ اس کے لیے بیرونِ ملک ملازمت کا انتظام کرے گا۔ نہ ملازمت ملی، نہ رقم واپس کی، بلکہ فون تک بند کر دیا۔ یہ صرف قانونی جرم نہیں بلکہ شرعی اعتبار سے بھی ظلم، خیانت اور حرام کمائی ہے۔ اگر وہ توبہ کیے بغیر دنیا سے چلا گیا تو قیامت کے دن اسے اسی مظلوم کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
اسی طرح ایک دکاندار اگر دس کلو کے بجائے ساڑھے نو کلو سامان دے، ایک ڈاکٹر غیر ضروری ٹیسٹ لکھ کر کمیشن لے، ایک وکیل جان بوجھ کر مقدمہ لٹکائے، ایک استاد بغیر محنت کے تنخواہ وصول کرے، یا ایک سرکاری ملازم عوامی کام میں رشوت لے، تو یہ سب مختلف شکلوں میں حقوق العباد کی پامالی ہے۔ شریعت میں ان سب کی جواب دہی ہوگی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: "لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات ایسے رکھو کہ اگر تم ان سے جدا ہو جاؤ تو وہ تمہارے اخلاق کو یاد کریں، نہ کہ تمہاری زیادتیوں کو۔" اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی اصل پہچان اس کی امانت، سچائی، عدل اور حسنِ سلوک ہے، نہ کہ صرف اس کا ظاہری لباس یا مذہبی نعرے۔
حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حق کو تو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک حق دار معاف نہ کرے یا اس کا حق ادا نہ کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات کی اصلاح پر بھی غیر معمولی زور دیا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں، جس کی امانت پر لوگ اعتماد کریں، جس کے وعدے پر لوگ یقین کریں اور جس کے معاملات میں عدل و انصاف نظر آئے۔
آج امت مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت کردار کی اصلاح کی ہے۔ مساجد آباد ہیں، دینی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں، وعظ و نصیحت کے حلقے قائم ہیں، لیکن اگر بازاروں میں جھوٹ، ملاوٹ، دھوکہ دہی، رشوت، خیانت اور وعدہ خلافی موجود رہے تو معاشرہ حقیقی اسلامی معاشرہ نہیں بن سکتا۔ اسلام کا مقصد صرف عبادت گزار افراد پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو پوری انسانیت کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنیں۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
"ایک درہم مشتبہ مال کو چھوڑ دینا ایک لاکھ درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔"
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام میں حلال و حرام اور حقوق العباد کی کتنی بڑی اہمیت ہے۔ آج بعض لوگ لاکھوں روپے خیرات کرتے ہیں لیکن ان کی کمائی کا بڑا حصہ دوسروں کے حقوق پامال کرکے حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسی نیکی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ہو سکتی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے تھے:
"نماز، روزہ اور نفل عبادات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے حقوق ادا کرے اور حرام سے بچے۔"
حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن نہ دولت کام آئے گی، نہ منصب، نہ شہرت اور نہ ہی ظاہری رعب و دبدبہ۔ وہاں صرف اعمال اور حقوق کا حساب ہوگا۔ جس نے کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو دھوکہ دیا ہوگا، کسی کی عزت پر حملہ کیا ہوگا یا کسی کے اعتماد کو توڑا ہوگا، اسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔
آج ہمیں اپنے آپ سے چند سوالات کرنے چاہئیں:
کیا میرے ذمہ کسی کا قرض باقی تو نہیں؟
کیا میں نے کسی کی امانت میں خیانت تو نہیں کی؟
کیا میں نے کسی کو جھوٹ بول کر نقصان تو نہیں پہنچایا؟
کیا میں نے کسی کی عزت مجروح تو نہیں کی؟
کیا میری کمائی مکمل طور پر حلال ہے؟
کیا میرے ہاتھوں کسی کا حق ضائع تو نہیں ہوا؟
اگر ان سوالات میں سے کسی کا جواب اثبات میں ہو تو ہمیں فوراً اصلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ سچی توبہ کا تقاضا یہی ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کیے جائیں، معافی مانگی جائے اور آئندہ ظلم و زیادتی سے بچنے کا عہد کیا جائے۔
خاص طور پر علماء، مشائخ، اساتذہ، تاجروں، سماجی کارکنوں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب صاحبِ حیثیت افراد امانت و دیانت کا نمونہ بنیں گے تو معاشرہ بھی اصلاح کی طرف بڑھے گا، لیکن اگر یہی لوگ دھوکہ دہی اور خیانت میں مبتلا ہو جائیں تو پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
آج کے دور کے بعض ٹھگ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ چند نوافل، چند عمرے، چند تقریریں یا چند مذہبی نعرے ان کے ظلم و فریب کو چھپا دیں گے، لیکن قرآن و سنت کا فیصلہ بالکل واضح ہے کہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ نسب کام آئے گا، نہ تعلقات اور نہ ظاہری مذہبی شناخت، بلکہ اصل کامیابی سچائی، دیانت، امانت اور عدل کے ساتھ وابستہ ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے گھروں، بازاروں، مدارس، مساجد، دفاتر اور سماجی زندگی میں حقوق العباد کو زندہ کریں۔ جھوٹ کی جگہ سچائی، خیانت کی جگہ امانت، دھوکے کی جگہ اخلاص اور ظلم کی جگہ انصاف کو فروغ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو عزت، معاشرے کو امن اور امت کو وقار عطا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد کی صحیح معرفت عطا فرمائے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے، ہر قسم کے ظلم، خیانت، دھوکہ دہی اور فریب سے محفوظ رکھے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں سرخروئی نصیب فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
✍محمد عباس الازہری
خادم التدریس دار العلوم اہل سنت فیض النبی کپتان گنج بستی۔

06/07/2026
27/06/2026

(ازہری ڈائری نمبر ٣٨)
"ناصبیت و خارجیت سے بچنے کا نام اہلِ سنت و الجماعت"

تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے اعتدال کا دامن چھوڑا، افراط و تفریط نے جنم لیا، اور انہی انتہاؤں نے امت کے اتحاد، اخوت اور دینی مزاج کو نقصان پہنچایا۔ ایک طرف محبتِ اہلِ بیت میں غلو کرنے والے پیدا ہوئے، تو دوسری جانب بغض و عداوت میں حد سے تجاوز کرنے والے سامنے آئے۔ اسی طرح ایک گروہ نے تکفیر، شدت اور خونریزی کو دین کا شعار بنا لیا، جبکہ دوسرا گروہ دین کی بنیادی تعلیمات سے دور ہوتا چلا گیا۔ ان تمام فتنوں کے درمیان جس جماعت نے قرآن و سنت، صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اطہار اور ائمۂ امت کے معتدل منہج کو مضبوطی سے تھامے رکھا، وہ اہلِ سنت و الجماعت ہے۔
اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تمام خلفائے راشدین برحق اور واجب الاحترام ہیں۔ اسی طرح حضراتِ حسن و حسین، ازواجِ مطہرات اور تمام اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا تقاضا ہے، جیسا کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت اور ادب بھی ایمان کا حصہ ہے۔
اہلِ سنت نہ ناصبیت کو قبول کرتے ہیں اور نہ خارجیت کو۔ ناصبیت وہ گمراہ رویہ ہے جو اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض یا ان کی شان میں گستاخی کو روا سمجھے، جبکہ خارجیت وہ انتہاپسند فکر ہے جو مسلمانوں کی تکفیر، بغاوت اور تلوار کے زور پر دین نافذ کرنے کی قائل ہو۔ اسلام ان دونوں راستوں کو رد کرتا ہے، کیونکہ ایک محبت کے چراغ بجھاتا ہے اور دوسرا امت کے امن کو۔
اہلِ سنت کا منہج ایک ایسے باغبان کی مانند ہے جو باغ کے ہر پھول کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ کسی ایک پھول کی محبت میں دوسرے کو نہیں روندتا، بلکہ پورے گلستان کی خوشبو کو محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح اہلِ سنت صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار دونوں سے قلبی محبت رکھتے ہیں، دونوں کا ادب کرتے ہیں اور دونوں کی خدمات کو امت کا مشترکہ سرمایہ سمجھتے ہیں۔
یہی اعتدال دراصل قرآن کی اس تعلیم کا عملی نمونہ ہے کہ امت کو "امتِ وسط" بنایا گیا؛ یعنی ایسی امت جو عدل، توازن اور انصاف پر قائم ہو۔ اعتدال صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اسلامی فکر کی روح ہے۔ جو قوم اعتدال کھو دیتی ہے، وہ اختلافات کے طوفان میں اپنی وحدت بھی کھو دیتی ہے۔
واقعۂ کربلا بھی اہلِ سنت کے نزدیک حق، صبر، استقامت اور دین کی سربلندی کا عظیم درس ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت ایمان کی علامت ہے، لیکن اس محبت کے اظہار میں شریعت کی حدود سے تجاوز نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت دیگر صحابۂ کرام کے بارے میں بھی ادب و احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا۔ اہلِ سنت کا اصول ہے کہ جن معاملات میں اکابرِ امت نے سکوت، احتیاط اور حسنِ ظن اختیار کیا، وہاں زبان کو بے لگام نہیں ہونے دیتے۔
تاجدار اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ نے اہلِ سنت کے مزاج کو نہایت جامع انداز میں واضح کیا کہ اہلِ سنت کا راستہ محبت، ادب، انصاف اور اعتدال کا راستہ ہے۔ یہی مزاج ائمۂ اربعہ، محدثین، مفسرین اور جمہور امت کا رہا ہے۔
اگر امت کو فرقہ واریت، نفرت، تکفیر اور انتشار سے بچانا ہے تو اسے دوبارہ اسی معتدل منہج کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں ایسے الفاظ، طرزِ فکر اور رویوں سے اجتناب کرنا ہوگا جو مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کریں۔ محبت ہو تو شریعت کے دائرے میں، اختلاف ہو تو ادب کے ساتھ، اور دعوت ہو تو حکمت و بصیرت کے ساتھ۔
اہلِ سنت و الجماعت کا خلاصۂ منہج یہی ہے کہ:
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا احترام۔
اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے والہانہ محبت۔
قرآن و سنت اور جمہور امت کی پیروی۔
تکفیر، شدت پسندی اور انتہا پسندی سے اجتناب۔
امت کے اتحاد، اعتدال اور اخوت کا فروغ۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اہلِ سنت و الجماعت کسی انتہا کا نام نہیں بلکہ اعتدال کا عنوان ہے۔ یہ وہ شاہراہ ہے جس کے ایک کنارے صحابۂ کرام کی عظمت ہے اور دوسرے کنارے اہلِ بیتِ اطہار کی محبت، اور ان دونوں کے درمیان قرآن و سنت کی روشن راہ ہے۔ جو اس راہ پر قائم رہا، وہ افراط و تفریط کے اندھیروں سے محفوظ رہا، اور یہی اہلِ سنت و الجماعت کی حقیقی شناخت ہے۔
✍محمد عباس الازہری

"آئین و قانون کی روشنی میں ہندوستان میں شہریت کا قانونی ثبوت"ملک میں وقتاً فوقتاً شہریت (Citizenship) کے مسئلے پر مختلف ...
26/06/2026

"آئین و قانون کی روشنی میں ہندوستان میں شہریت کا قانونی ثبوت"
ملک میں وقتاً فوقتاً شہریت (Citizenship) کے مسئلے پر مختلف قسم کی بحثیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد ایسے دعوے گردش کرتے ہیں جن سے عام شہری الجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ آخر قانونی طور پر ہندوستانی شہریت کس دستاویز سے ثابت ہوتی ہے؟ کیا آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، پاسپورٹ یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہی شہریت کا قطعی ثبوت ہیں، یا قانون کی نظر میں معاملہ اس سے مختلف ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا آئین اور شہریت ایکٹ 1955 (Citizenship Act, 1955) یہ طے کرتے ہیں کہ کون ہندوستان کا شہری ہے اور کس بنیاد پر شہریت حاصل یا ختم ہوتی ہے۔ ہندوستان میں عام شہریوں کے لیے کوئی ایسا الگ اور عمومی "شہریت سرٹیفکیٹ" (Citizenship Certificate) جاری نہیں کیا جاتا جسے ہر شخص اپنی شہریت کا واحد ثبوت قرار دے سکے۔ ایسا سرٹیفکیٹ صرف ان افراد کو دیا جاتا ہے جو رجسٹریشن (Registration) یا نیچرلائزیشن (Naturalization) کے ذریعے ہندوستانی شہریت حاصل کرتے ہیں۔
قانونی اعتبار سے اگر کسی شخص کی شہریت پر سوال اٹھ جائے تو عدالت کسی ایک کارڈ یا دستاویز پر انحصار نہیں کرتی بلکہ تمام متعلقہ سرکاری ریکارڈ، حالات اور شواہد کا مجموعی جائزہ لیتی ہے۔
اگر کسی شخص کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے تو اس کا باقاعدہ برتھ سرٹیفکیٹ ایک اہم دستاویز شمار ہوتا ہے، لیکن مخصوص قانونی تنازع کی صورت میں یہ اکیلا ہر حال میں شہریت کا حتمی ثبوت نہیں مانا جاتا، کیونکہ شہریت کا انحصار پیدائش کی تاریخ اور اس وقت نافذ قانونی دفعات پر بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح پاسپورٹ صرف ہندوستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے، اس لیے یہ شہریت کا ایک مضبوط قرینہ ضرور ہے، لیکن بعض قانونی معاملات میں اسے بھی ناقابلِ تردید اور آخری ثبوت قرار نہیں دیا جاتا۔
آدھار کارڈ صرف شناخت اور رہائش کا ثبوت ہے، شہریت کا نہیں۔ اسی طرح ووٹر آئی ڈی انتخابی فہرست میں اندراج اور حقِ رائے دہی سے متعلق دستاویز ہے، لیکن اگر کسی شخص کی شہریت ہی بنیادی تنازع بن جائے تو صرف ووٹر آئی ڈی کافی نہیں سمجھی جاتی۔
پین کارڈ، راشن کارڈ، رہائشی سرٹیفکیٹ اور اسی نوعیت کی دیگر دستاویزات بھی اپنی اپنی قانونی حیثیت رکھتی ہیں، مگر ان کا مقصد شہریت ثابت کرنا نہیں ہے۔
عملی طور پر عدالتیں اور سرکاری ادارے شہریت کے تعین کے لیے مختلف سرکاری ریکارڈز کو ملا کر دیکھتے ہیں، مثلاً پیدائش کا ریکارڈ، والدین کے سرکاری دستاویزات، آبائی زمین کے کاغذات، پرانے تعلیمی اسناد، سرکاری ملازمت کے ریکارڈ، مردم شماری یا دیگر سرکاری اندراجات۔ یعنی شہریت کا فیصلہ اکثر ایک مربوط دستاویزی سلسلے (Chain of Documents) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف ایک کارڈ سے۔
لہٰذا عوام کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر اعتماد کرنے کے بجائے آئین، شہریت ایکٹ 1955 اور عدالتوں کے مستند فیصلوں کی روشنی میں معاملے کو سمجھیں۔ شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اور اپنے خاندان کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ، تعلیمی اسناد، زمین و جائیداد کے قانونی ریکارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات کو محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قانونی طور پر اپنی شناخت اور متعلقہ حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
قانون کی بالادستی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر معاملہ جذبات یا افواہوں کے بجائے آئین، قانون اور مستند عدالتی اصولوں کی بنیاد پر سمجھا جائے۔
✍محمد عباس الازہری

22/06/2026

(الازہری ڈائری نمبر ٣٨ )
"مسلمانوں کے خلاف بگڑے ہوئے حالات کو سازگار کیسے بنایا جائے"
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں ایسے ادوار آتے رہتے ہیں جب حالات ان کے موافق نہیں ہوتے، ان کے خلاف فضا بنائی جاتی ہے، ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے جائز مطالبات کو بھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہندوستانی مسلمان بھی آج ایک ایسے ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں جہاں ملت کے حق میں زبان کھولنا بعض اوقات جرم تصور کیا جاتا ہے، مذہبی شناخت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ کے ایک طبقے کی جانب سے منفی تصویر پیش کی جاتی ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، حکمت، صبر، علم، کردار اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے انہیں بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بگڑے ہوئے حالات کو سازگار کیسے بنایا جائے؟
1۔ تعلیم کو سب سے بڑی ترجیح بنایا جائے:
کسی بھی قوم کی ترقی اور عزت کا سب سے مضبوط ذریعہ تعلیم ہے۔ جب تک مسلمان جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، قانون، صحافت، انتظامیہ اور تجارت کے میدان میں مضبوط مقام حاصل نہیں کریں گے، ان کی آواز مؤثر انداز میں نہیں سنی جائے گی۔ مدارس دینیہ کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی طرف بھی بھرپور توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
2۔ کردار اور اخلاق کو اپنا ہتھیار بنایا جائے:
قرآن کریم اور سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ مخالف ماحول میں بہترین کردار سب سے مؤثر دعوت ہوتا ہے۔ دیانت داری، سچائی، امانت، حسنِ اخلاق، قانون کی پابندی اور سماجی خدمت کے ذریعے معاشرے کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دشمنی کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ اخلاق سے دیا جائے۔
3۔ قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا جائے:
ہندوستان ایک جمہوری اور آئینی ملک ہے۔ اگر کہیں ناانصافی ہو تو اس کا جواب تشدد یا اشتعال نہیں بلکہ آئینی جدوجہد، قانونی چارہ جوئی اور جمہوری طریقوں سے دیا جانا چاہیے۔ قانون سے واقفیت اور قانونی اداروں سے رابطہ ملت کو مضبوط بناتا ہے۔
4۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مثبت موجودگی:
آج رائے عامہ بنانے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ اگر مسلمان اپنی بات خود پیش نہیں کریں گے تو دوسرے ان کے بارے میں اپنی مرضی کی کہانی بیان کریں گے۔ اس لیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو صحافت، ڈیجیٹل میڈیا، تحریر، تحقیق اور سوشل میڈیا کے میدان میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ حقائق اور سچائی عوام تک پہنچ سکے۔
5۔ داخلی اختلافات کو کم کیا جائے:
ملت کا ایک بڑا مسئلہ باہمی انتشار اور گروہ بندی بھی ہے۔تنظیمی اور شخصی اختلافات کو حد سے زیادہ بڑھانا اجتماعی قوت کو کمزور کرتا ہے۔ مشترکہ مسائل پر اتحاد اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ لیکن اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
6۔ معاشی خود کفالت پیدا کی جائے:
کمزور معیشت کسی بھی قوم کو کمزور بنا دیتی ہے۔ تجارت، صنعت، ہنر مندی، اسٹارٹ اپس اور پیشہ ورانہ تعلیم کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ضروری ہے۔ جو قوم معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے، اس کی سماجی اور سیاسی حیثیت بھی مضبوط ہوتی ہے۔
7۔ سماجی خدمت کے میدان میں آگے بڑھا جائے:
اسپتال، بلڈ ڈونیشن کیمپ، تعلیمی مراکز، رفاہی ادارے، قدرتی آفات میں امدادی کام اور غریبوں کی خدمت ایسے اعمال ہیں جو معاشرے میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ جب مسلمان پوری انسانیت کی خدمت کا نمونہ بنیں گے تو غلط فہمیاں خود بخود کم ہوں گی۔
8۔ نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی:
ملت کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں مایوسی، اشتعال انگیزی اور نفرت سے بچا کر علم، تحقیق، قیادت اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ جذباتی نعروں کے بجائے علمی اور عملی تیاری ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
9۔ دعا اور اصلاحِ نفس:
بیرونی حالات کی اصلاح کے ساتھ اندرونی اصلاح بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، نماز، دعا، تقویٰ، دیانت داری اور اجتماعی توبہ قوموں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قرآن کریم کا اصول ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔
مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے والے منفی حالات کا علاج جذباتی ردعمل، مایوسی یا نفرت نہیں بلکہ علم، اتحاد، کردار، معاشی استحکام، قانونی جدوجہد اور سماجی خدمت ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آزمائشوں کے دور ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ جو قومیں صبر، حکمت اور مسلسل محنت کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں، وہ بالآخر عزت اور کامیابی حاصل کرتی ہیں۔
آج ملتِ اسلامیہ کو شکایت سے زیادہ تعمیر، احتجاج سے زیادہ تیاری، اور جذبات سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم تعلیم، اخلاق، اتحاد اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنا لیں تو ان شاء اللہ موجودہ مشکلات بھی آسانیوں میں بدل سکتی ہیں اور حالات رفتہ رفتہ سازگار ہو سکتے ہیں۔
✍محمد عباس الازہری

Address

Kaptanganj
226001

Telephone

+916392469589

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Azhar Educational and Welfare Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al-Azhar Educational and Welfare Foundation:

Shortcuts

Share