07/08/2026
"حقوق العباد اور ہمارے معاشرتی رویّے"
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے حقوق ہی بیان نہیں کیے بلکہ بندوں کے حقوق کو بھی غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی ہے۔ عبادت کا حسن اس وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کا بھی وفادار ہو اور اس کی مخلوق کا بھی خیر خواہ ہو۔ اگر ایک طرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ذرائع ہیں تو دوسری طرف لوگوں کے جان، مال، عزت، آبرو اور اعتماد کی حفاظت بھی اللہ کی عظیم عبادت ہے۔ اسی لیے اسلام نے حقوق العباد کو اس قدر اہم قرار دیا کہ بندہ اگر اللہ کے حق میں کوتاہی کرے اور سچے دل سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے، لیکن اگر کسی بندے کا حق مار لے تو اس وقت تک معافی نہیں ملتی جب تک حق دار خود معاف نہ کر دے یا اس کا حق ادا نہ کر دیا جائے۔
آج کے دور میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ظاہری دینداری، مذہبی لباس، لمبی داڑھی، خوش گفتاری اور دین داری کے دعووں کے باوجود معاملات میں جھوٹ، فریب، خیانت اور دھوکہ دہی میں مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ لوگ تجارت، ملازمت، چندہ، قرض، آن لائن کاروبار، دینی اداروں اور حتیٰ کہ مذہبی جذبات کو بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف انسانوں کا حق مارتے ہیں بلکہ اسلام کی روشن تعلیمات کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ اس لیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے کردار کا محاسبہ کریں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾ "بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورۃ النحل: 90)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾ "اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ۔" (سورۃ البقرہ: 188)
نیز فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ﴾ "بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ الأنفال: 58)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده." "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
"من غش فليس منا." "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔" (صحیح مسلم)
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" صحابہ کرام نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔" (صحیح مسلم)
یہ آیات و احادیث واضح کرتی ہیں کہ حقوق العباد کی پامالی انسان کی ساری عبادتوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
اسلام میں دیانت داری کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تجارت فرمائی تو لوگوں نے آپ کو "الصادق" اور "الأمین" کے لقب سے یاد کیا۔ دشمن بھی آپ کی امانت داری پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہی اسلامی کردار تھا جس نے دلوں کو فتح کیا، نہ کہ محض وعظ و تقریر۔
لیکن آج حالات اس کے برعکس ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض لوگ نماز کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں مگر دکان پر ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ بعض کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے مگر وہ قرض لے کر واپس کرنے کی نیت نہیں رکھتے۔ کچھ لوگ دین کے نام پر چندہ جمع کرتے ہیں مگر اس رقم کو ذاتی عیش و آرام پر خرچ کر دیتے ہیں۔ بعض افراد ملازمت دلانے، بیرون ملک بھیجنے، یا کاروبار میں منافع کا لالچ دے کر لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔ یہ سب حقوق العباد کی سنگین پامالی ہے۔
اسلام صرف عبادت گزار انسان نہیں بلکہ امانت دار انسان پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایک تاجر اگر جھوٹ بول کر مال بیچتا ہے تو وہ صرف گاہک کو نہیں بلکہ اللہ کے حکم کو بھی توڑتا ہے۔ ایک استاد اگر تنخواہ تو پوری لیتا ہے مگر طلبہ کو دیانت داری سے تعلیم نہیں دیتا تو وہ بھی امانت میں خیانت کرتا ہے۔ ایک ملازم اگر سرکاری وقت میں کام کے بجائے سستی کرتا ہے تو وہ بھی حقوق العباد کا مجرم ہے۔ ایک عالم اگر لوگوں کے اعتماد کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری عام آدمی سے کہیں زیادہ ہے۔
اسلام میں کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا، جھوٹ بول کر کسی کا اعتماد حاصل کرنا، وعدہ خلافی کرنا، قرض واپس نہ کرنا، جعلی کاغذات بنانا، رشوت لینا، ملاوٹ کرنا، کم تولنا اور فراڈ کرنا سب حرام اور کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے اعمال سے وقتی دولت تو حاصل ہو سکتی ہے مگر سکون، برکت اور آخرت کی کامیابی ہرگز حاصل نہیں ہوتی۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک تعداد نے عبادت کو شخصیت کا معیار بنا لیا ہے، مگر معاملات کو دین سے الگ سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ قرآن و سنت میں معاملات، اخلاق اور حقوق العباد کو عبادات کے برابر بلکہ بعض مواقع پر ان سے بھی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ چنانچہ ایک شخص تہجد گزار، حافظِ قرآن اور بار بار عمرہ کرنے والا ہو، لیکن لوگوں کا مال کھاتا ہو، جھوٹ بولتا ہو، وعدہ خلافی کرتا ہو یا دھوکہ دیتا ہو تو اسلام کی نظر میں وہ قابلِ تعریف نہیں بلکہ سخت وعید کا مستحق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔" (صحیح مسلم)
آج جھوٹ صرف زبان تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ کوئی اپنی آمدنی کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے، کوئی اپنے منصب کے بارے میں، کوئی اپنی قابلیت کے بارے میں اور کوئی اپنی نیت کے بارے میں۔ جھوٹ کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ہر فائدہ وقتی ہوتا ہے، مگر اس کا وبال دنیا و آخرت دونوں میں سامنے آتا ہے۔
حقوق العباد کی پامالی کی ایک عام صورت قرض لے کر واپس نہ کرنا بھی ہے۔ بعض لوگ قرض لیتے وقت بڑے وعدے کرتے ہیں، لیکن جب ادائیگی کا وقت آتا ہے تو بہانے، جھوٹ اور ٹال مٹول شروع ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قرض کی ادائیگی کو اتنی اہمیت دی کہ فرمایا:
"مال دار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔" (صحیح بخاری)
اسی طرح آج بعض لوگ دینی اداروں، رفاہی تنظیموں اور مدارس کے نام پر چندہ جمع کرتے ہیں، مگر اس کا حساب شفاف نہیں رکھتے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے نام پر جمع کیا گیا مال ذاتی مفاد میں استعمال کرتا ہے تو وہ صرف مالی خیانت نہیں بلکہ دینی امانت میں بھی خیانت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ﴾ "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔" (سورۃ الأنفال: 27)
افسوس کہ آج کچھ لوگ دین کو بھی کاروبار بنا بیٹھے ہیں۔ وہ مذہبی لباس اور خوشنما خطابت کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر انہیں سرمایہ کاری، تعویذ، کرامت، یا دیگر جھوٹے وعدوں کے ذریعے مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے دین بدنام ہوتا ہے، حالانکہ اسلام کا ان کے کردار سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا کے دور میں دھوکہ دہی کی نئی صورتیں سامنے آئی ہیں۔ جعلی ویب سائٹس، آن لائن سرمایہ کاری، فرضی ملازمتوں کے اشتہارات، جعلی عطیات اور سوشل میڈیا پر مذہبی جذبات کو استعمال کر کے لوگوں سے رقم وصول کرنا بھی حقوق العباد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ نہ خود ایسی حرکت کرے اور نہ دوسروں کو اس کا شکار بنائے۔
ایک مثال پر غور کیجیے: ایک شخص نے اپنے دوست سے یہ کہہ کر پانچ لاکھ روپے لیے کہ وہ اس کے لیے بیرونِ ملک ملازمت کا انتظام کرے گا۔ نہ ملازمت ملی، نہ رقم واپس کی، بلکہ فون تک بند کر دیا۔ یہ صرف قانونی جرم نہیں بلکہ شرعی اعتبار سے بھی ظلم، خیانت اور حرام کمائی ہے۔ اگر وہ توبہ کیے بغیر دنیا سے چلا گیا تو قیامت کے دن اسے اسی مظلوم کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
اسی طرح ایک دکاندار اگر دس کلو کے بجائے ساڑھے نو کلو سامان دے، ایک ڈاکٹر غیر ضروری ٹیسٹ لکھ کر کمیشن لے، ایک وکیل جان بوجھ کر مقدمہ لٹکائے، ایک استاد بغیر محنت کے تنخواہ وصول کرے، یا ایک سرکاری ملازم عوامی کام میں رشوت لے، تو یہ سب مختلف شکلوں میں حقوق العباد کی پامالی ہے۔ شریعت میں ان سب کی جواب دہی ہوگی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: "لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات ایسے رکھو کہ اگر تم ان سے جدا ہو جاؤ تو وہ تمہارے اخلاق کو یاد کریں، نہ کہ تمہاری زیادتیوں کو۔" اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک مسلمان کی اصل پہچان اس کی امانت، سچائی، عدل اور حسنِ سلوک ہے، نہ کہ صرف اس کا ظاہری لباس یا مذہبی نعرے۔
حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حق کو تو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک حق دار معاف نہ کرے یا اس کا حق ادا نہ کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات کی اصلاح پر بھی غیر معمولی زور دیا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں، جس کی امانت پر لوگ اعتماد کریں، جس کے وعدے پر لوگ یقین کریں اور جس کے معاملات میں عدل و انصاف نظر آئے۔
آج امت مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت کردار کی اصلاح کی ہے۔ مساجد آباد ہیں، دینی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں، وعظ و نصیحت کے حلقے قائم ہیں، لیکن اگر بازاروں میں جھوٹ، ملاوٹ، دھوکہ دہی، رشوت، خیانت اور وعدہ خلافی موجود رہے تو معاشرہ حقیقی اسلامی معاشرہ نہیں بن سکتا۔ اسلام کا مقصد صرف عبادت گزار افراد پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو پوری انسانیت کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنیں۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
"ایک درہم مشتبہ مال کو چھوڑ دینا ایک لاکھ درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔"
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام میں حلال و حرام اور حقوق العباد کی کتنی بڑی اہمیت ہے۔ آج بعض لوگ لاکھوں روپے خیرات کرتے ہیں لیکن ان کی کمائی کا بڑا حصہ دوسروں کے حقوق پامال کرکے حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسی نیکی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ہو سکتی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے تھے:
"نماز، روزہ اور نفل عبادات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے حقوق ادا کرے اور حرام سے بچے۔"
حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن نہ دولت کام آئے گی، نہ منصب، نہ شہرت اور نہ ہی ظاہری رعب و دبدبہ۔ وہاں صرف اعمال اور حقوق کا حساب ہوگا۔ جس نے کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو دھوکہ دیا ہوگا، کسی کی عزت پر حملہ کیا ہوگا یا کسی کے اعتماد کو توڑا ہوگا، اسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔
آج ہمیں اپنے آپ سے چند سوالات کرنے چاہئیں:
کیا میرے ذمہ کسی کا قرض باقی تو نہیں؟
کیا میں نے کسی کی امانت میں خیانت تو نہیں کی؟
کیا میں نے کسی کو جھوٹ بول کر نقصان تو نہیں پہنچایا؟
کیا میں نے کسی کی عزت مجروح تو نہیں کی؟
کیا میری کمائی مکمل طور پر حلال ہے؟
کیا میرے ہاتھوں کسی کا حق ضائع تو نہیں ہوا؟
اگر ان سوالات میں سے کسی کا جواب اثبات میں ہو تو ہمیں فوراً اصلاح کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ سچی توبہ کا تقاضا یہی ہے کہ بندوں کے حقوق ادا کیے جائیں، معافی مانگی جائے اور آئندہ ظلم و زیادتی سے بچنے کا عہد کیا جائے۔
خاص طور پر علماء، مشائخ، اساتذہ، تاجروں، سماجی کارکنوں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ لوگ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب صاحبِ حیثیت افراد امانت و دیانت کا نمونہ بنیں گے تو معاشرہ بھی اصلاح کی طرف بڑھے گا، لیکن اگر یہی لوگ دھوکہ دہی اور خیانت میں مبتلا ہو جائیں تو پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
آج کے دور کے بعض ٹھگ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ چند نوافل، چند عمرے، چند تقریریں یا چند مذہبی نعرے ان کے ظلم و فریب کو چھپا دیں گے، لیکن قرآن و سنت کا فیصلہ بالکل واضح ہے کہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ نسب کام آئے گا، نہ تعلقات اور نہ ظاہری مذہبی شناخت، بلکہ اصل کامیابی سچائی، دیانت، امانت اور عدل کے ساتھ وابستہ ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے گھروں، بازاروں، مدارس، مساجد، دفاتر اور سماجی زندگی میں حقوق العباد کو زندہ کریں۔ جھوٹ کی جگہ سچائی، خیانت کی جگہ امانت، دھوکے کی جگہ اخلاص اور ظلم کی جگہ انصاف کو فروغ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو عزت، معاشرے کو امن اور امت کو وقار عطا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد کی صحیح معرفت عطا فرمائے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے، ہر قسم کے ظلم، خیانت، دھوکہ دہی اور فریب سے محفوظ رکھے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں سرخروئی نصیب فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
✍محمد عباس الازہری
خادم التدریس دار العلوم اہل سنت فیض النبی کپتان گنج بستی۔