25/06/2026
کربلا اور امامِ حسینؓ کی عظمت
بنامِ سید الشہداء حضرت امام حسینؓ
کربلا کی ریت آج بھی صدا دیتی ہے،
ہر ذرّہ عشقِ حسینؓ کی گواہی دیتا ہے۔
فرات بہتا رہا کناروں کے قریب،
مگر خیموں میں پیاس کا عالم عجیب۔
ننھے لب خشک تھے، آنکھوں میں دعا تھی،
ہر دل میں صبر تھا، ہر سانس وفا تھی۔
نہ دولت کا سوال تھا، نہ تخت و تاج کا،
یہ معرکہ تھا حق کا، ظلم کے راج کا۔
حسینؓ نے سر جھکایا نہیں باطل کے سامنے،
چراغِ حق جلایا اندھیروں کے زمانے میں۔
اکبرؓ کی جوانی تھی، قاسمؓ کی ادا تھی،
عباسؓ کی وفا تھی، سکینہؓ کی صدا تھی۔
زمینِ کربلا اشکوں سے نہا گئی،
آلِ نبیؐ کی قربانی امر ہو گئی۔
جب نیزوں پہ سرِ حسینؓ بلند ہوا،
تب دینِ محمدؐ کا پرچم بلند ہوا۔
شہادت نے یہ پیغام زمانے کو دیا،
حق پر رہو اگرچہ ہو ہر سمت ابتلا۔
آج بھی دلوں میں حسینؓ زندہ ہیں،
وفا کے ہر سفر میں حسینؓ زندہ ہیں۔
جو ظلم کے آگے سر جھکاتے نہیں،
وہ کربلا کے درس کو بھلاتے نہیں۔
سلام اُن پیاسوں پر جنہوں نے صبر کیا،
سلام اُن جانثاروں پر جنہوں نے حق کا سفر کیا۔
سلام امامِ عالی مقام حسینؓ پر،
سلام شہدائے کربلا کے نامِ گرامی پر۔
یا حسینؓ!
تیرا نام رہے گا جب تک یہ جہاں باقی ہے،
کیونکہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں،
حق، صبر، قربانی اور انسانیت کی لازوال داستان ہے۔
✍️ Dr. Mudassir Hussain Rather