Falahi Dahreen Welfare Society

Falahi Dahreen Welfare Society Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Falahi Dahreen Welfare Society, Non-Governmental Organization (NGO), ANANTNA, Jammu.

ھمارانصب العین 🌻ـ غریب عوام کی خدمت, ہر وقت, ہر نادار اور بے سہارا خاندانوں کی دہلیز پر امدادی سامان پہنچانا 🌹- ھمارا عزم ـ🍁 یتیم اور غریب طلبہ وطالبات کو ماہانہ وظیفہ دینا, اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بلا تفریق پوری انسانیت کی خدمت کرنا

26/05/2026
*فضائل ماہ ذوالحج و مسائل  قربانی و احکام عید* *سبق نمبر  10* *چھوٹے جانور کے تھن کے مسائل* چھوٹے جانور کے تھن کے دونوں ...
26/05/2026

*فضائل ماہ ذوالحج و مسائل قربانی و احکام عید*

*سبق نمبر 10*

*چھوٹے جانور کے تھن کے مسائل*

چھوٹے جانور کے تھن کے دونوں سروں میں سے ایک سرا یا دونوں سرا پوری طرح کٹ جائے، یا کسی ایک سرے کا تہائی سے زائد حصہ کٹ جائے، یا پیدائشی طور پر ایک ہی سرا ہو، یا کسی آفت کی وجہ سے ایک سرا زائل ہو جائے، یا کسی بیماری کی وجہ سے صرف ایک سرے سے دودھ نکلتا ہو تو ان جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے، اور اگر صرف ایک سرے کا تہائی یا اس سے کم حصہ کٹ جائے تو اس کی قربانی جائز ہے۔

*دودھ نہ دینے والے جانور کی قربانی*

اگر جانور بغیر کسی بیماری کے دودھ نہ دیتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے اس کا تھن خشک ہو گیا ہو تو اس کی تفصیل ابھی گزری ہے۔

*دودھ نہ پلانے والے جانور کی قربانی*

جو جانور اپنے بچے کو دودھ پلانے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کی قربانی جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ عیبِ کثیر ہے جو صحتِ قربانی کے لیے مانع ہے۔

*گا بھن جانور کی قربانی*

گا بھن جانور کی قربانی کراہیت کے ساتھ جائز ہے، اگر ذبح کے بعد پیٹ سے زندہ بچہ نکل آئے تو اس کو بھی ذبح کرنا ضروری ہوگا، نیز اس بچہ کا گوشت کھانا بھی جائز ہوگا۔ اگر کوئی شخص اس بچہ کو ایام النحر میں کسی وجہ سے ذبح نہ کر سکے تو ایام النحر کے بعد اس بچہ کا زندہ صدقہ کرنا واجب ہوگا، اگلے سال اس بچہ کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔

*لنگڑے جانور کی قربانی*

جو جانور اس قدر لنگڑا ہو کہ ٹوٹے ہوئے پیر کو زمین پر رکھ کر قربان گاہ تک بھی نہ جا سکتا ہو، یعنی چوتھا پاؤں زمین پر بالکل نہیں رکھ پاتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے، لیکن اگر وہ چوتھے پاؤں کو زمین پر رکھتا ہو اور اس سے سہارا لے کر چلتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔

*پاؤں کٹے ہوئے جانور کی قربانی*

جس جانور کا ایک پاؤں مکمل کٹا ہوا ہو، یا ایک پاؤں کا تہائی سے زائد حصہ کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے، اور اگر تہائی یا اس سے کم کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔

*خصی جانور کی قربانی*

خصی جانور کی قربانی کرنا افضل ہے، کیوں کہ وہ فربہ اور اس کا گوشت عمدہ ہوا کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ سے دو ایسے چتکبرے مینڈھوں کی قربانی ثابت ہے جو سینگ والے اور خصی شدہ تھے۔

*خنثی جانور کی قربانی*

خنثی جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ فقہاء نے اس کے عدمِ جواز کی یہ علت بیان کی ہے کہ اس کا گوشت نہیں گلتا ہے، لہٰذا علت معدوم ہو تو حکم بھی بدل جائے گا، پس اگر اس کا یقین ہو کہ گوشت اچھی طرح گل جائے گا تو اس کی قربانی جائز ہے۔

مسئلہ: خنثیٰ سے مطلق خنثیٰ نہیں بلکہ خنثیٰ مشکل مراد ہے جس میں نر و مادہ دونوں کی علامات ہوں اور ان میں سے کوئی بھی علامت مغلوب نہ ہو، اور اگر کوئی ایک علامت غالب ہو تو وہ خنثیٰ کے حکم میں شامل نہیں ہے۔

*جفتی نہ کرنے والے جانور کی قربانی*

جو جانور جفتی یعنی مادہ جانور سے ملنے پر قادر نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، کیوں کہ جانور کے اندر جفتی کی صلاحیت کا نہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے، بلکہ ایسا جانور تو خوب موٹا تازہ اور صحت مند بھی ہوا کرتا ہے، اس لیے اس کی قربانی جائز ہے۔

*بچہ نہ دینے والے جانور کی قربانی*

جو جانور کبرِ سنی یعنی عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے بچہ جننے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہو، اس کی قربانی جائز ہے۔ *

https://chat.whatsapp.com/FwFz10N5bs4IGVJkTGCMqc

*بانجھ جانور کی قربانی*

بانجھ جانور کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ اس کا گوشت نسبتاً بہتر ہوتا ہے، نیز خصی کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے، تو اسی پر اس کو بھی قیاس کیا جائے گا، کیوں کہ قوتِ تولید دونوں میں نہیں ہے۔ اسی طرح خنثیٰ جانور اور کبرِ سنی کی وجہ سے بچہ جننے سے عاجز جانور کی قربانی جائز ہے، تو بانجھ جانور کی بھی قربانی جائز ہوگی، کیوں کہ اس کا عیب ان دونوں کے مقابلہ میں اہون ہے، اور عدمِ جواز کی کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔

*کم یا زیادہ بچے والے جانور کی قربانی*

جس جانور کو ایک یا اس سے زیادہ بچے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ بچہ کا ہونا کوئی عیب نہیں ہے۔

*دبلے پتلے اور کمزور جانور کی قربانی*

جو جانور اس قدر دبلا پتلا اور کمزور ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو اور سوکھ کر بالکل ڈھانچہ نکل آیا ہو، جس کی علامت یہ ہے کہ وہ پیروں پر کھڑا نہ ہو سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے، البتہ جس کی ہڈیوں میں کچھ گودا بچا ہوا ہو، یعنی وہ چلنے پھرنے پر قادر ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔

*نجاست خور جانور کی قربانی*

نجاست خور جانور یعنی جو جانور صرف غلاظت اور نجاست ہی کھاتا ہو، جس کی وجہ سے اس کے گوشت میں بدبو پیدا ہوگئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے، اور اگر نجاست کے ساتھ دیگر پاک چیزیں بھی کھاتا ہو، جس کی وجہ سے اس کے گوشت میں خرابی نہ آئی ہو تو اس کی قربانی درست ہے۔

مسئلہ: نجاست خور جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اونٹ اونٹنی کو ۴۰ دن، گائے بھینس کو ۲۰ دن اور بکری، خصی کو ۱۰ دن تک باندھ کر رکھا جائے اور اسے پاک چیزیں کھانے کے لیے دی جائیں۔ جب اس بات کا یقین ہو جائے کہ گوشت کے اندر جو بدبو پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہو چکی ہے تو اس کی قربانی جائز ہے۔

*کھجلی اور گلٹی والے جانور کی قربانی*

اگر کسی جانور کو کھجلی کی بیماری ہو جائے اور وہ دبلا پتلا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ جانور کے دبلے پتلے ہونے کی صورت میں کھجلی کا اثر اس کے گوشت تک سرایت کر جاتا ہے، جس کی وجہ سے گوشت خراب ہو جاتا ہے اور یہ صحتِ قربانی کے لیے مانع ہے، لیکن اگر جانور موٹا تازہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ جانور کے موٹے اور صحت مند ہونے کی صورت میں کھجلی کا اثر بس اس کی کھال تک محدود رہتا ہے، اس کا گوشت خراب نہیں ہوتا ہے۔ یہی حکم گلٹی والے جانور کا بھی ہے کہ اس کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ گلٹی کا اثر صرف کھال تک محدود رہتا ہے، اس کی وجہ سے گوشت میں کوئی خرابی نہیں آتی ہے۔

*کھانسنے والے جانور کی قربانی*

کھانسنے اور سردی والے جانور کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ کھانسی عیبِ کثیر میں داخل نہیں ہے اور اس کی وجہ سے جانور کی منفعت یا جمال متاثر نہیں ہوتا ہے۔

*خنزیر یا کتیا کا دودھ پینے والے جانور کی قربانی*

اگر کوئی جانور بچپن میں کتیا یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس کی قربانی درست ہے؛ کیوں کہ اس دودھ کا اثر اب تک باقی نہیں رہا، جس کی وجہ سے اس کا گوشت بھی خراب نہیں ہوا ہے، لہٰذا اس کی قربانی کر سکتے ہیں۔

*داغے ہوئے جانور کی قربانی*

جس جانور کا کسی بیماری کی وجہ سے لوہے وغیرہ سے داغ کر علاج کیا گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی نہ کی جائے۔

*زخم والے جانور کی قربانی*

جس جانور کو کتا کاٹ لے یا کسی بیماری یا کسی چیز سے ٹکرانے کی وجہ سے اسے زخم نکل آئے، اور جانور کے موٹا تازہ ہونے کی وجہ سے اس زخم کا اثر اس کے گوشت میں سرایت نہ کرے تو اس کی قربانی جائز ہے، اور اگر جانور کے دبلے ہونے یا زخم کے گہرے ہونے کی وجہ سے زخم کا اثر اس کے گوشت میں سرایت کر جائے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔

*بے خصیہ والے جانور کی قربانی*

جس جانور کے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں خصیے (فوطے) نہ ہوں تو خصی پر قیاس کرتے ہوئے اس کی قربانی جائز ہے۔

*ادھیا پر دیے ہوئے جانور کے بچے کی قربانی*

ادھیا یعنی پوسیا اور بٹائی پر دیے ہوئے جانور کے بچے پر اصل ملکیت جانور کے مالک کی ہوتی ہے اور پالنے والا اجرت کا مستحق ہوتا ہے؛ اس لیے پالنے والا اپنے نام سے اس کی قربانی نہیں کر سکتا، البتہ مالک اپنے نام سے کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔

*ہرن و نیل گائے کی قربانی*

ہرن اور نیل گائے کا گوشت کھانا گرچہ حلال ہے، لیکن ان کی قربانی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ دونوں وحشی اور جنگلی جانور ہیں۔

*گونگے اور بہرے جانور کی قربانی*

جانور کا گونگا اور بہرا ہونا عیوب میں شامل نہیں ہے؛ کیوں کہ گونگا اور بہرا ہونے کی وجہ سے نہ تو جانور کی منفعت زائل ہوتی ہے اور نہ ہی جانور کا جمال ختم ہوتا ہے، اس لیے گونگے اور بہرے جانور کی قربانی درست ہے۔

*مرغی و بطخ کی قربانی*

قربانی کے دنوں میں فقیر ہونے کی وجہ سے فقیر کا قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کرنے کے لیے مرغی یا بطخ کی قربانی کرنا مکروہ ہے، اور اس سے قربانی ادا نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی قربانی کا ثواب ملتا ہے، بلکہ ایسا شخص مجوسیوں کی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے عذاب کا بھی مستحق ہو سکتا ہے۔

*کم یا زیادہ اعضاء والے جانور کی قربانی*

جس جانور کے فطری اعضاء سے زائد یا کم اعضاء ہوں، مثلاً چار کے بجائے تین یا پانچ ٹانگیں ہوں، دو کے بجائے ایک یا تین آنکھیں ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ عیبِ کثیر ہے، اس کی وجہ سے جانور کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔

*جرسی گائے کی قربانی*

جو جانور وحشی اور گھریلو جانور کے ملاپ سے پیدا ہوا ہو، جیسا کہ جرسی گائے کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ خنزیر اور گائے کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے، تو اس کی قربانی جائز ہے؛ کیوں کہ جانور کے وحشی اور گھریلو ہونے میں اس کی ماں کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ جب جرسی گائے کی ماں گھریلو ہے تو اس کو بھی گھریلو جانور قرار دیا جائے گا، اور ماں کی طرح اس کی بھی قربانی جائز ہوگی۔
*ترتیب و پیشکش*

*فلاح دارین ٹرسٹ ویلفیئر سوسائٹی ڈار بلڈینگ جنرل بس اسٹینڈ اننت ناگ*

*CONTACT NUMBER📞*

*9419661113*
9906699969
*01932-225727*

*جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔//////*

WhatsApp Group Invite

Address

ANANTNA
Jammu

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 4pm
Saturday 9am - 5pm

Telephone

+911932225727

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Falahi Dahreen Welfare Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Falahi Dahreen Welfare Society:

Share