27/11/2025
*عربی زبان اور عُلوم و فُنون میں مہارت کے بغیر درس و تدریس فقط لفظوں کا شور ہے*
[ ✍🏻 ؛ *بتنقيحٍ وزيادةٍ والأجرُ لكاتبها الأصليّ* 👑 ]
ہر سنجیدہ طالبِ علم کے دل میں یہ سوال ضرور جاگزیں ہوتا ہے کہ مطالعہ کس طرح کیا جائے ، عربی لغت اور علوم و فنون میں مہارت کیسے حاصل ہو؟
کتنے ہی تجربہ کار اساتذہ اپنے اپنے ذوق و طریق کے مطابق اس کا جواب دیتے ہیں، مجالس منعقد ہوتی ہیں، نصیحتیں کی جاتی ہیں، کتابیں لکھی جاتی ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا سب سے سادہ اور مؤثر اصول یہی ہے ؛
"مطالعہ مطالعہ اور مطالعہ ۔"
کسی خاص ترتیب، کسی فن یا وقت، کسی مصنف یا مکتب کی قید میں پڑے بغیر، بس علم کے سمندر میں اتر جاؤ۔
علامہ ابن الجوزی علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے ؛
"میں نے اپنے زمانۂ طالبِ علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔"
یہی مطالعہ ہے جو طالبِ علم کو عالِم بناتا ہے۔
پھر کسی فقیہ کی صحبت، انسان کو مسئلہ شناس بناتی ہے، اور کسی ماہرِ فن کے قرب سے محقق بنتا ہے۔
لیکن جو یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ چند برس درسِ نظامی پڑھ لینے سے اور سند لے لینے سے وہ عالم بن جائے گا، وہ دراصل علم کے مفہوم سے ناآشنا ہے۔
درسِ نظامی ایک مضبوط بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے، مگر عمارتِ علم اس بنیاد پر مطالعے کے پتھروں سے ہی کھڑی ہوتی ہے۔
آٹھ نہیں، سولہ برس کی رسمی تعلیم بھی اس وقت تک کسی کو "عالم" نہیں بنا سکتی جب تک اس کے اندر عربی زبان میں مہارت، کثرتِ مطالعہ، ماخذات تک رسائی اور درست فہم و تدبّر کی قوت نہ پیدا ہو۔
مدرسہ کا مخصوص کتب کے مخصوص صفحات پر مشتمل مخصوص نصاب طالب علم کو فقط اس نصاب کا اچھا مدرّس تو بنا سکتا ہے، مگر عالم نہیں۔
میں نے خود ایسے بہت سے اساتذہ دیکھے ہیں جو تدریس کے فن میں یکتا ہیں، مگر علم کے سمندر سے ابھی کنارے پر ہی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ آج یہی افراد نئی نسل کے مقتدا و استاذ بن بیٹھے ہیں، اور طلبہ ان کے علم کو حرفِ آخر سمجھ کر اپنی علمی ترقی کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔
درحقیقت، مدرّس ہونا ایک فن ہے، اور عالم ہونا ایک جہان۔
مدرّس وہ ہے جو نصابی کتاب پڑھا دے۔
اور عالم وہ جو ہر فن کی ہر کتاب کے پسِ منظر، اس کے مفاہیم، اس کے اصول و نظائر کو جان لے۔
جو لفظ سے آگے معنی تک پہنچے اور معنی سے آگے حقیقت تک۔
علم محض لفاظی کا نام نہیں، علم وہ روشنی ہے جو کثرتِ مطالعہ سے دل و دماغ میں اترتی ہے۔
مطالعہ ہی وہ دروازہ ہے جو ہر فن، عربی زبان، ہر علم کی دنیا کھول دیتا ہے۔
*جو شخص عربی زبان میں مہارت نہیں رکھتا، وہ دراصل علم کے سمندر سے محروم ہے۔*
*ایسا شخص الفاظ کے خ*ل میں قید، معانی سے غافل، محض کنویں کا مینڈک 🐸 ہوتا ہے،*
*اس کی گفتگو لفاظی سے بھری ہوتی ہے مگر حقیقت سے خالی۔*
*وہ تدریس تو کر سکتا ہے، مگر اس کا علم ناقص، اس کا فہم سطحی، اور اس کی باتوں میں تاثیر نہیں ہوتی، فقط لفظوں کا شور ہوتا ہے۔*
*کیونکہ عربی زبان ہی وہ آئینہ ہے جس میں علومِ عربیہ کی اصل صورت دیکھی جا سکتی ہے۔*
*جو عربی زبان پر عبور نہیں رکھتا، وہ دراصل روشنی کے کنارے بیٹھ کر اندھیرے میں باتیں اور لفظوں سے شور شرابہ کر رہا ہوتا ہے۔*
ایک اچھا عالم وہ ہے جس کے لیے علوم و فنون کا مطالعہ روٹی اور سانس کی مانند ہو؛
جس طرح جسم خوراک کے بغیر نڈھال ہوتا ہے، ویسے ہی عالم مطالعہ کے بغیر پژمردہ ہوجاتا ہے۔
اکابرِ امت آخر دم تک مطالعہ میں مشغول رہے۔
وہ علم کو جامِ زندگی سمجھتے تھے، ایک لمحہ بھی غفلت کا تصور ان کے لیے سوہانِ روح تھا۔
جو شخص مطالعے کے ذوق میں زندہ رہتا ہے، اسے دنیا کی لذتیں اپنی طرف کھینچ نہیں سکتیں۔
اسے کتب کے ساتھ وہ انس حاصل ہوتا ہے جو عاشق کو محبوب سے ہوتا ہے۔
اور یہی ذوق، یہی لگن، یہی طلب، عربی زبان کی مہارت اور علوم و فنون کی گہرائی کا دروازہ کھولتی ہے۔
لہٰذا، اے طالبِ علم!
کبھی مطالعہ مت چھوڑ۔
علم کی راہ بے انتہا ہے ، اس پر چلتا رہ، پڑھتا رہ، اور جانتا رہ کہ
"عالم وہ نہیں جو سب کچھ جان چکا ہو، بلکہ وہ ہے جو ہمیشہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے۔"
✍🏻 ؛ *به تصحیح و افزوده و پاداش برای نویسندهٔ اصلی*من
Whatapp chhanel
https://whatsapp.com/channel/0029Va4WlARBqbr8839xMO15
Community grup
https://chat.whatsapp.com/KeOsO8MnsJ7CanBI7514kG