04/04/2026
یوں تو موت بر حق ہے، ہر ایک کو اس کا مزہ چکھنا ہے، لیکن موت کی بعض خبروں سے ایک لمحے کے لیے سکتہ سا طاری ہوجاتا ہے ،خاص کر اس قحط الرجال کے زمانے میں جب مردان حق عنقا ہوگئے ہیں، کسی اچھے انسان، کسی قابل قدر عالم دین، کسی خانقاہ کی مثالی شخصیت کے انتقال کی خبر صرف خبر نہیں، ذاتی سانحہ جیسا کرب دیتی ہے -
جماعت اہل سنت کے مقتدر عالم دین، آستانہ چشتی چمن، پیر بیگھہ شریف، بہار کے سجادہ نشین، شیخ طریقت حضرت سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی کا وصال اسی نوعیت کا ہے-
حضرت علامہ کا شمار ان بزرگ علماء میں ہوتا تھا جنھوں نے آزادی کے بعد مسلمانوں کے حالات کو جاگتی آنکھوں سے دیکھا، اکابر علماء کے ہم نشیں رہے، قدرت کے دست فیض نے موصوف کو زبان و بیان کی نعمتِ بے بہا بخشی تھی، ایک طرف درجن بھر سے زائد وقیع کتابیں ان کے زر نگار قلم سے یاد گار ہیں تو دوسری طرف نصف صدی سے زائد عرصے تک منبر و محراب ان کی درویشانہ صداؤں سے گونجتے رہے تھے-
خاکسار نے جب قیام علی گڑھ کے دوران حضرت سید سلیمان اشرف پر مقالات کا مجموعہ مرتب کیا تو بڑے خوش ہوئے، اور از راہ کرم اس پر دو ڈھائی صفحات کا تاثراتی مکتوب بھی ارسال فرمایا - کسی سابقہ تعارف کے بغیر ایک طالب علم کی معمولی کوشش کو سراہنا کسی بڑے کے فی الواقع بڑا ہونے کی دلیل ہے -
یہ بڑے اطمینان ،انبساط اور فخر کی بات ہے کہ آپ نے اپنے پیچھے حضرت گرامی مرتبت سید سیف الدین اصدق اور سید نور الدین اصدق صاحبان جیسے لائق و فائق جانشین چھوڑے ،جن سے آپ کا مشن جاری و ساری ہے - مجھے یہ معلوم کرکے خوشی ہوئی کہ حضرت کے چہلم کے موقع پر ان کے صاحبزادۂ والا تبار حضرت سید شاہ سیف الدین اصدق صاحب کی رسم سجادگی بھی ادا ہونی ہے، اس اعزاز پر میں سیدی الوالد، وارث مخدومان جھونسی حضرت سید شاہ غلام غوث میاں قادری چشتی دامت برکاتہم زیب سجادہ خانقاہ ولیہ ،( جہاں گیر نگر، فتح پور، اترپردیش) کی نیابت میں ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں، اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ حضرت سید شاہ سیف الدین اصدق کا عہد سجادگی چشتی چمن کا عہد زریں ثابت ہو اور ان کی داعیانہ کوششوں سے ایک جہاں فیض یاب ہو.
اللہ کریم حضرت کو غریق رحمت فرمائے، علم و دعوت کی راہ میں آپ کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے اور آپ کے اہل خانہ ،متوسلین و محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
شریک غم:
خاکسار أبو حسام سید قمر الاسلام
خانقاہ ولیہ ،جہاں گیر نگر، فتح پور، اترپردیش