Adil qasmi official

Adil qasmi official Rozana deen ki baatein jo aapko inspire aur motivate karengi.Har din naya seekhne ke liye hamse juden .

25/10/2024















24/10/2024

Mussoorie  ka behad khubsurat manzar
24/10/2024

Mussoorie ka behad khubsurat manzar

15/10/2024

Nikah Me Jaldi Kyo Karni Chahiye | Adil Qasmi Official

08/10/2024

Share This Video And Follow The Page| Adil qasmi official #

01/10/2024

Talwar ne padhaayaa kalma | Islam ki hakikat
Adil qasmi official

29/09/2024

دنیا میں کوئی بھی شخص مشکلات سے خالی نہیں ہوتا۔ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ آزمائشیں اللہ کی طرف سے انسان کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے آتی ہیں۔ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور مشکلات کا سامنا صبر کے ساتھ کرتا ہے، تو اللہ اسے ان مشکلات سے نجات دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
"إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" (سورۃ الشرح 6)
ترجمہ: "بے شک، ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔"

یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکلات کبھی دائمی نہیں ہوتیں۔ اللہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے جب انسان مشکلات میں ہوتا ہے، تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے کہ وہ اسے ان مشکلات سے نجات دے گا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ.
اللہ پر بھروسے کا ایک عظیم واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی میں ملتا ہے۔ جب حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا، تو وہ مکمل طور پر اللہ کی مدد کے محتاج ہو گئے۔ اس وقت انہوں نے اللہ سے دعا کی:
"لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ" (سورۃ الانبیاء 87)
ترجمہ: "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔"

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول کی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں، تو وہ ہماری دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ہمیں مشکلات سے نجات دیتا ہے۔
از قلم ۔ عادل کمال





27/09/2024



تنہائی کا احساس اور آخرت کی یاد
"یہ تحریر فکرِ لطیف کی عکاس ہے، جو دل اور دماغ کو ایک
نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔"

کبھی دل کی دنیا میں ایسی خاموشی اترتی ہے، جیسے کوئی نازک شام کی دھند ہو، جو آہستہ آہستہ ہر منظر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ ہر آواز مدھم پڑ جاتی ہے، جیسے دور سے آتی ہوئی کوئی گم شدہ سرگوشی، جو قریب پہنچتے پہنچتے غائب ہو جائے۔ یہ وہ لمحے ہیں جب انسان خود کو دنیا کے بے ہنگم شور سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے، جیسے وہ ایک وسیع و عریض کائنات میں تنہا کھڑا ہو اور اس کے ارد گرد کا ہر منظر ساکت ہو جائے۔

دل پر عجیب سی اداسی کا سایہ چھا جاتا ہے، جو بظاہر بے وجہ ہوتی ہے، لیکن اتنی گہری کہ روح کے اندر تک اتر جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے زندگی کے تمام رنگوں کو دھندلا کر دیا ہو، اور اب صرف ایک ہلکی سی دھند باقی ہے، جو ہر شے کو اپنے اندر لپیٹ رہی ہو۔ انسان اس دھند میں خود کو کھویا ہوا پاتا ہے، نہ کوئی راہ نظر آتی ہے، نہ کوئی منزل۔ ہر طرف ایک خاموشی اور تنہائی کی فضا ہے، جس میں بس دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، اور وہ بھی کسی بوجھل ساز کی مانند جو اپنی رفتار میں تھمتی جا رہی ہو۔

یہ کیفیت کوئی معمولی اداسی نہیں ہوتی، یہ ایک گہری سوچ، ایک غیر محسوس خلا کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دل میں سوالات کا ایک سمندر چھپا ہوا ہو، لیکن ان سوالات کو زبان ملنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ چکے ہوں۔ زندگی کے معنی و مفہوم پر غور کرتے ہوئے، انسان خود کو ایک ایسی دنیا میں پا لیتا ہے جہاں کچھ بھی واضح نہیں، سب کچھ دھندلا، بے ترتیب اور مبہم ہے۔

یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں خیالات کا دھارا رک سا جاتا ہے، لیکن دل کی گہرائیوں میں ایک شور برپا ہوتا ہے۔ جیسے کوئی سمندر ہو جو بظاہر پر سکون دکھائی دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر طوفان اٹھا ہوا ہو۔ انسان خود کو ایک ایسے مقام پر پاتا ہے جہاں اس کے ارد گرد کی ہر چیز اپنی جگہ پر ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے، لیکن دل کی حالت کسی بے لگام ہوا کے جھونکے کی مانند ہوتی ہے، جو کسی سمت کا پابند نہیں۔

اس لمحے میں، یہ تنہائی کا احساس بوجھ بن جاتا ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جو جسمانی نہیں، بلکہ روحانی اور ذہنی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں صرف انسان اور اس کے خیالات ہوتے ہیں، اور ان خیالات کی گہرائی میں کھو جانے کا خوف اور کشش، دونوں بیک وقت محسوس ہوتے ہیں۔ ہر احساس، ہر سوچ ایک بے صدا پکار بن کر دل میں گونجتی ہے، لیکن اس کا جواب کہیں سے نہیں آتا۔

یہ کیفیت شاید ہر انسان کو کبھی نہ کبھی چھوتی ہے

کبھی کبھار یہ تنہائی اس قدر گہری ہو جاتی ہے کہ ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اس دنیا کے نہیں ہیں، جیسے یہ دنیا ہمیں سکون فراہم نہیں کر سکتی، اور شاید ہماری اصل منزل کہیں اور ہے۔ لیکن یہ کیفیت دراصل ہمیں کس طرف لے کر جاتی ہے؟
یہ تنہائی محض اداسی اور بوجھل پن کا نام نہیں ہے؛ یہ وہ لمحات ہیں جو ہمیں اپنی زندگی کے اصل مقصد کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
یہ تنہائی ہمیں آخرت کی یاد دلاتی ہے،
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری اصل منزل یہ دنیا نہیں، بلکہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں ہمیشہ کے لیے ٹھہرنا ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے؟
جب ہم دنیا کی رنگینیوں اور مصروفیات سے تھک جاتے ہیں، تو یہ تنہائی ہمیں اپنی اصل حقیقت، اپنی عاقبت اور اپنے رب کی طرف پلٹنے کا پیغام دے رہی ہوتی ہے۔
ہم دنیا میں اجنبی ہیں، اور یہ تنہائی ہمیں اس اجنبیت کا احساس دلاتی ہے۔
یہ احساس دراصل ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا مسافر ہو۔" (صحیح بخاری)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی یہ زندگی ایک عارضی سفر ہے، اور ہمیں اس میں مسافر کی طرح رہنا چاہیے۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مسافر کو ہمیشہ اپنے سفر کے خاتمے کی تیاری کرنی ہوتی ہے۔
یہ تنہائی ہمیں اسی تیاری کی یاد دلاتی ہے۔

---

اللہ کی طرف رجوع: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے جب ان کی قوم نے انہیں چھوڑ دیا، وہ اکیلے رہ گئے اور ان کے سامنے شرک کی فضا چھا گئی۔ ان کی قوم کے لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام حق کی راہ پر کھڑے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کو حق کی دعوت دی، تو انہیں تنہا کر دیا گیا۔

لیکن اس تنہائی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے جو تعلق قائم کیا، وہ آج بھی ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:

> "إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ" (سورۃ الصافات، 37:99)
"بیشک میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں، وہ مجھے ہدایت دے گا۔"

یہ الفاظ نہایت طاقتور ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی تنہائی کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تنہائی میں وہ یقین اور توکل تھا کہ اللہ ان کی راہنمائی کرے گا۔
یہ تنہائی محض دنیا سے کنارہ کشی کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کی طرف سفر تھا۔

کیا ہم اپنی زندگی کی تنہائی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں؟
کیا ہم اس کیفیت کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرتے ہیں؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ تنہائی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب دنیا ہمیں چھوڑ دیتی ہے، تو اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔

---

صبر اور امتحان: حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش

حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی کا امتحان ان کی تنہائی کا ایک اور مظہر ہے۔ ان پر بیماری اور مصیبتوں کا ایسا وقت آیا کہ انہیں دنیا کی تمام نعمتوں سے محروم کر دیا گیا، یہاں تک کہ ان کے اپنے خاندان والے بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ اپنی بیماری اور تنہائی میں مبتلا ہو گئے، لیکن اس حال میں بھی انہوں نے صبر کیا اور اللہ سے شکایت نہیں کی۔

حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی زندگی کے اس سخت امتحان میں اللہ پر بھروسہ کیا اور صبر کا دامن تھامے رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

> "إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ" (سورۃ الزمر، 39:10)
"بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔"

حضرت ایوب علیہ السلام کی تنہائی اور صبر کا یہ وقت ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم دنیا کی آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، تو ہمیں بھی صبر اور اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔

کیا آپ نے کبھی زندگی میں ایسی حالت کا سامنا کیا ہے؟
جب دنیا نے آپ کو تنہا کر دیا ہو اور مشکلات نے آپ کو گھیر لیا ہو، کیا آپ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی طرح اللہ سے رجوع کیا ہے؟

---

دلوں کا سکون: اللہ کے ذکر کی اہمیت

تنہائی کے لمحات میں دل کو سکون کی تلاش ہوتی ہے۔ دنیاوی مشکلات، فانی خواہشات اور غم انسان کو بےچین کر دیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا ذریعہ عطا کیا ہے جس سے دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔ اللہ کا ذکر ہمیں اس بے چینی سے نجات دیتا ہے اور ہماری روح کو سکون پہنچاتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" (سورۃ الرعد، 13:28)
"بیشک اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔"

جب آپ کی زندگی میں تنہائی، غم اور بے سکونی ہو، تو اللہ کا ذکر ہی وہ راستہ ہے جو دل کو سکون فراہم کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "اللہ کے ذکر کی کثرت کرو، کیونکہ وہ دلوں کے زنگ کو دور کرتا ہے۔"

کیا آپ نے کبھی اللہ کا ذکر کیا ہے جب دنیا کی کوئی چیز آپ کو سکون نہ دے سکی؟
کیا آپ نے اس ذکر میں وہ سکون پایا جس کی آپ کو تلاش تھی؟

---

اخروی تیاری: حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زندگی کا سبق

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہمیں ایک اور پہلو سے غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ ایک حکمران تھے، لیکن جب انہوں نے خلافت کی ذمے داری سنبھالی، تو وہ دنیا کی تمام عیش و آرام کو ترک کر کے آخرت کی تیاری میں لگ گئے۔ ان کی زندگی کا یہ فیصلہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیاوی عیش و عشرت فانی ہیں، اور اصل کامیابی اس شخص کی ہے جو آخرت کی تیاری کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

> "يَا أَيُّهَا الإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ" (سورۃ الانشقاق، 84:6)
"اے انسان! بیشک تو اپنے رب کی طرف محنت کرتا ہوا جا رہا ہے، پس تو اس سے ملاقات کرے گا۔"

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری کو اپنا نصب العین بنایا۔
کیا ہم بھی اس دنیا کی فانی نعمتوں کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری کر رہے ہیں؟
کیا ہم اس دن کی تیاری کر رہے ہیں جب ہمیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے؟

---

ختمی پیغام:

معزز قارئین!

یہ تنہائی، جو ہم کبھی کبھار محسوس کرتے ہیں، درحقیقت ہمیں آخرت کی طرف بلاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے، اور ہمیں ایک دن اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔
ہمیں اس تنہائی کو اللہ سے قربت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
دنیاوی مشکلات، تنہائی اور غم درحقیقت اللہ کی طرف پلٹنے کا ایک موقع ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا کی آزمائشوں میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،

26/09/2024

ہم آپ کا "Adil qasmi official" میں دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں! یہاں آپ کو روزانہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں، موٹیویشنل اقتباسات، اور بصیرت آموز تعلیمات ملیں گی۔

آئیں، مل کر ایک مثبت کمیونٹی بنائیں اور ایک دوسرے کو سیکھنے اور متاثر کرنے کا موقع فراہم کریں۔ آپ کی شمولیت ہمارے لیے بہت اہم ہے!

Address

Up Siddharth Nagar
Delhi
123

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adil qasmi official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share