MSO

Call Directions Website Contact the organization

MSO Muslim Students Organization Of India Is The Largest Students & Youths Wing Of Sunni (Ahle Sunnah)

04/10/2026

MY INDIA MY RESPONSIBILITY - 4.mp4

*🌙  Mehfil mein sabhi behne  zaroor shirkat farmaye 🌙**✨ Mahfil-e-Noor-e-Imaan — dil ko roshan karne wali mehfil*📅  *(Th...
02/10/2026

*🌙 Mehfil mein sabhi behne zaroor shirkat farmaye 🌙*

*✨ Mahfil-e-Noor-e-Imaan — dil ko roshan karne wali mehfil*

📅 *(Thursday) | ⏰ 9:00–10:00 PM*

🕌 *Topic: Fahm E Deen*
🎙️. *Aalima Fazila Zeba Fatima(Moradabad)*
*🔗 Google meet*

Zikr-o-Durood ki barkat, roohani sukoon aur Allah ki qurbat ke liye aaj humare saath judiyega.

Sirf behnon ke liye. 💙

_*Join MSO Girl's Wing*_
*(Noor E Durood O Azkar Group)*

Come, nourish your soul, and light up your heart with divine remembrance.
*All sisters are cordially invited! 🌹*

02/10/2026

MY INDIA MY RESPONSIBILITY - 3.mp4

01/10/2026

MY INDIA MY RESPONSIBILITY -2.mp4

MSO – Research Scholars’ MeetThe Research Scholars’ Meet aims to provide research scholars with a national-level platfor...
01/10/2026

MSO – Research Scholars’ Meet

The Research Scholars’ Meet aims to provide research scholars with a national-level platform to exchange ideas, collaborate, and contribute to meaningful academic discourse. The initiative seeks to encourage scholarly writings and publications while promoting the positive representation of the Ahle Sunnat wal Jamaat narrative through media and social media.

Objectives:

1. To create a national network of research scholars from diverse universities and academic disciplines.
2. To encourage research-based writings, articles, journals, and publications on contemporary issues.
3. To promote positive, fact-based, and intellectual representation of Ahle Sunnat wal Jamaat in mainstream and digital media.

📅 Date: Sunday, 4th October 2026
⏰ Time: 7:00 PM
🍽️ Dinner: Followed by Dinner

📝 Registration Form:
https://forms.gle/JQJ6ZiM7ivYGJQjB7

📍 Venue:
G 28 FF, Hazrat Nizamuddin West, New Delhi

📌 GPS Location:
https://maps.app.goo.gl/GnUH17yUk2Kw5F5PA?g_st=aw

📞 For More Information:
+91 97073 19501
Tahzeeb Khan Misbahi

خطبہ جمعہسلسلہ خطبات - 123عنوان*ایمان و عمل کی قوت کے مطابق قدرتی آزمائش* جامع و مرتبمولانا محمد ظفر الدین برکاتیمدیر ما...
01/10/2026

خطبہ جمعہ
سلسلہ خطبات - 123

عنوان
*ایمان و عمل کی قوت کے مطابق قدرتی آزمائش*

جامع و مرتب
مولانا محمد ظفر الدین برکاتی
مدیر ماہ نامہ کنز الایمان دہلی

پیش کش
کل ہند امام فاؤنڈیشن دہلی
Contact No: 8595509193
Telegram Link: https://t.me/MarkaziImam

نوٹ : امام صاحبان مقامی ضرورت اور حالات کے مطابق تقریر کا مواد خود تیار کریں، وقت کی نزاکت کو نظر انداز نہ کریں.

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ. (سورہ عنکبوت آیت 2)
ترجمہ :
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی سی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم ’’ ایمان لائے‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟
حضرات متحرم تلاوت کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف اتنی سی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں شدید تکالیف ، مختلف اَقسام کے مَصائب ، عبادات کے ذوق، شہوات کو ترک کرنے اور جان و مال میں طرح طرح کی مشکلات سے آزمایا نہیں جائے گا؟ یاد رکھیں کہ انہیں ضرور آزمایا جائے گا تاکہ اُن کے ایمان کی حقیقت خوب ظاہر ہو جائے اور مخلص مومن اور منافق میں امتیاز ظاہر ہو جائے۔
برادران گرامی! آج کے حالات اور مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کو دیکھیں اور پھر ایک مرتبہ اس آیت کا ترجمہ پڑھیں پھر اندازہ کریں کہ ہم آزمائش سے کس قدر شکوہ کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ سب نظام قدرت کا حصہ ہے. اب آیت کا شان نزول ملاحظہ فرمائیں :
(1) یہ آیت اُن حضرات کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود مکہ مکرمہ میں تھے ، صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ نے اُنہیں لکھا کہ جب تک ہجرت نہ کر لو اس وقت تک محض اقرار کافی نہیں ، اس پر اُن صحابہ ٔکرام نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے، مشرکین اُن کے پیچھے لگ گئے اور اُن سے لڑائی کی ، ان میں سے بعض حضرات شہید ہو گئے اور بعض بچ کر مدینہ منورہ آئے، اُن کے حق میں یہ دو آیتیں نازل ہوئیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے مراد سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ ، ولید بن ولید اور عمار بن یاسر وغیرہ ہیں جو مکہ مکرمہ میں ایمان لائے۔
(2) یہ آیتیں حضرت عمار رَضِیَ اللہ عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئیں جو اللہ کی عبادت کرنے کی وجہ سے ستائے جاتے اور کفار انہیں سخت ایذائیں پہنچاتے تھے۔
(3) یہ آیتیں حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہُ کے غلام حضرت مہجع بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئیں ، یہ بدر میں سب سے پہلے شہید ہوئے اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’مہجع شہداء کے سردار ہیں اور اس اُمت میں سے جنت کے دروازے کی طرف پہلے وہ پکارے جائیں گے۔‘‘ ان کے والدین اور اُن کی بیوی کو ان کی شہادت کا بہت صدمہ ہوا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی پھر ان کی تسلی فرمائی۔( تفسیر مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲، ص۸۸۴)
*ایمانی قوت کے حساب سے آزمائش*
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا ان کی ایمانی قوت کے مطابق امتحان لینا ، اللہ کا قانون ہے ۔ بیماری، ناداری، غربت، مصیبت، یہ سب رب تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشیں ہیں جن سے مخلص اور منافق ممتاز ہو جاتے ہیں ۔یہاں آزمائشوں سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں:
(1)حضرت انس رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بڑا ثواب ، بڑی مصیبت کے ساتھ ہے اور جب اللہ کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، پس جو اس پر راضی ہوا اس کے لئے اللہ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لئے ناراضگی ہے۔ ( سنن ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۸، الحدیث: ۲۴۰۴)
(2) حضرت سعد رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی پھر درجہ بدرجہ مُقَرَّب بندوں کی، آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اس کے دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔ بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(سنن ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۶)

*اگلی آیت*
وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ. (سورہ عنکبوت آیت 3)
ترجمہ : بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا تو ضرور الله انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔
*دوسری آیت کا مفہوم*
رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے اس امت سے پہلے لوگوں کو بھی طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا لیکن وہ صدق و وفا کے مقام میں ثابت اور قائم رہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں دیکھے گا جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور یقیناً ایمان میں جھوٹوں کو بھی دیکھے گا اور ان میں سے ہر ایک کا حال ظاہر فرما دے گا۔( تفسیر مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳، ص۸۸۴-۴۸۵)
*مصیبتوں پر صبر کی ترغیب*
معلوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مَصلحتوں کے پیش ِنظر اللہ کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے، لہٰذا اس کے برخلاف ہونے کی توقّع رکھنا جائز نہیں اور یاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں اور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہے، یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگوں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکام پر مضبوطی سے عمل کرتے رہیں۔ اسی سے متعلق دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ. (سورہ بقرہ:۲۱۴)
ترجمہ :
کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر پہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اُٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

اسی ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ. (سورہ اٰل عمران:۱۴۶)
ترجمہ :
کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزوری دِکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

*پیغام ہدایت*
ابتدائی آیت میں صرف آزمائش کا تذکرہ ہے اور دوسری آیت میں آزمائش پر صبر کا تذکرہ اور ابھی تلاوت کردہ دونوں آیتوں میں خاص پیغام اور ہدایت ہے کہ مومن کو آزمائش پر صبر بھی کرنا چاہیے اور حالات کو بدلنے کی تدبیر بھی کرنا چاہیے اور ظالموں سے دبنے کی غلطی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو قوم سیاسی سماجی اور معاشی آزمائش کے وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاتی ہے اور حالات کو اپنے موافق بدلنے کی تدبیر نہیں کرتی وہ کمزور ہو جاتی ہے اور دوسری قومیں اس کو دبا دیتی ہیں جس سے اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے اور پھر دین، ایمان، عقل، عزت و آبرو سب کچھ خطرے میں پڑ جاتے ہیں.
*ایک ایمان افروز واقعہ*
صحیح بخاری شریف میں ہے، حضرت خباب بن الارت رَضِیَ اللہ عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کعبہ شریف کے سائے میں اپنی چادر سے تکیہ لگائے تشریف فرما تھے کہ ہم نے حاضر ِخدمت ہو کر عرض کیا ، یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، (ہم پر مصائب کی حد ہو گئی) ، آپ اللہ سے ہمارے لئے مدد کیوں طلب نہیں فرماتے اور اللہ سے ہمارے لئے دعا کیوں نہیں فرماتے؟ تاج دارِ رسالت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: (یہ مصیبتیں صرف تم ہی برداشت نہیں کر رہے ہو بلکہ) تم سے پہلے لوگوں میں سے کسی شخص کے لئے گڑھا کھودا جاتا پھر اس گڑھے میں اسے کمر تک گاڑ دیتے پھر آری لا کر اس کے سر پر چلائی جاتی اور کاٹ کر اس کے دو حصے کر دئیے جاتے، بعض پر لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں جن سے ان کے گوشت اور ہڈیوں کو اکھیڑ کر رکھ دیا جاتا، اس کے باوجود وہ مومن اپنے دین پر ثابت قدم رہے، اللہ کی قسم !یہ دین مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی سوار صنعا سے حَضْر مَوت تک سفر کرے گا تو اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور نہ اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا خوف ہوگا لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو۔( صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۲)
*اپنے حق میں دعائیں کریں*
کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحت و عافیت عطا فرمائے اور اگر مَصائب و آلام آئیں تو ان پر صبر کرنے اور دین ِاسلام کے احکام پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے. اٰمین۔

*پیغام عمل*

جس قوم کے فقیروں اور غریبوں کے پاس رہنے کے لئے مکانات نہ ہوں .....اور وہاں جلسہ اور جلوس میں لاکھوں روپئے صرف ہوتے ہوں، کیا وہ قوم ترقی کرسکتی ہے؟ جس قوم میں پڑوس کی بیٹی کنواری بیٹھی ہو اور بیواؤں اور یتیموں کے لئے کوئی نظم نہ ہو لیکن قوم کے دولت مند لوگ عمرہ پر عمرہ کر رہے ہوں کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جس قوم کے غریب بیماروں کے پاس علاج کا کوئی بندوبست نہ ہو اور قوم کے ڈاکٹروں کی فیس غیر قوم کے ڈاکٹروں سے
زیادہ ہو. کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جس قوم کے ہونہار نوجوان بے روزگاری کے شکار ہوں اور قوم کے مال دار لوگ اپنے محلّات سجانے اور سنوارنے میں لگے ہوں کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟ جس قوم کے لوگ اپنے امام اور مؤذن کا حق المحنت نہ ادا کرتے ہوں اور مسجدیں سنگ مرمر سے سجائی جا رہی ہوں. کیا وہ قوم ترقی کر سکتی ہے؟

ایسے ڈھیروں سوال ہیں جو ہم اور آپ اپنے آپ سے کر سکتے ہیں اور اپنی سیاسی سماجی حیثیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں. ساتھ ہی یہ غور و فکر بھی کر سکتے ہیں کہ کیا آزمائش اور ایثار کے بغیر ہمارا سماج آگے بڑھ سکتا ہے؟

MSO Kolkata MSO Siwan Bihar MSO Girl's Wing MSO Kaushambi MSO Bihar Mso Nizamabad MSO UP MSO Kerala State MSO Sambhal

30/09/2026

1 MY INDIA MY RESPONSIBILITY.mp4

30/09/2026

With Ariful Qadri Wahidi – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

علمائے دہلی و اطراف کی خصوصی فکری نشست،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملی ذمہ داریوں پر تبادلۂ خیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نئی دہلی، 27 س...
29/09/2026

علمائے دہلی و اطراف کی خصوصی فکری نشست،۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملی ذمہ داریوں پر تبادلۂ خیال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئی دہلی، 27 ستمبر: مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا کے زیرِ اہتمام ضامن المساجد، باؤلی گیٹ، درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے قریب علمائے دہلی و اطراف کی خصوصی فکری و مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں متعدد علمائے کرام اور دینی شخصیات نے شرکت کی۔
نشست میں دین و ملت اور مسلم سماج کی اصلاح و فلاح، دین کی مؤثر ترجمانی، علماء کی موجودہ دور میں ذمہ داریوں اور نوجوان نسل کی دینی و فکری رہنمائی کے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ شرکائے نشست نے اپنی آرا، تجربات اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے باہمی مشاورت اور اجتماعی جدوجہد کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں علماء اور دینی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے ہوئے معاشرے کی اصلاح، فلاح اور نئی نسل کی بہتر رہنمائی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
نشست کا اہتمام مولانا محمد ظفرالدین برکاتی (کنوینر) اور ڈاکٹر شجاعت علی قادری (نائب کنوینر) نے کیا۔ آخر میں تمام شرکائے نشست کا شکریہ ادا کیا گیا۔

रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया:-क़यामत के दिन मेरे सबसे क़रीब वह व्यक्ति होगा, जो मुझ पर सबसे ज़्यादा दरूद भेजता होगा।जामे तिर्...
29/09/2026

रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया:-

क़यामत के दिन मेरे सबसे क़रीब वह व्यक्ति होगा, जो मुझ पर सबसे ज़्यादा दरूद भेजता होगा।

जामे तिर्मिज़ी:484

Address

9 Church Road (UCO Bank), Bhogal Jangpura
Delhi
110014

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MSO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to MSO:

Shortcuts

Share