MSO

MSO Muslim Students Organization Of India Is The Largest Students & Youths Wing Of Sunni (Ahle Sunnah)

24/05/2026

नबी ﷺ ने फरमाया:-सबसे बेहतरीन दुआ, यौम-ए-अरफ़ा की दुआ है।Jami at-Tirmidhi:3585
24/05/2026

नबी ﷺ ने फरमाया:-
सबसे बेहतरीन दुआ, यौम-ए-अरफ़ा की दुआ है।
Jami at-Tirmidhi:3585

नबी ﷺ ने फ़रमाया:-यौमे-अरफ़ा से बढ़कर कोई दिन ऐसा नहीं जिसमें अल्लाह सबसे ज़्यादा लोगों को जहन्नम से आज़ाद करता हो। Sahi...
24/05/2026

नबी ﷺ ने फ़रमाया:-
यौमे-अरफ़ा से बढ़कर कोई दिन ऐसा नहीं जिसमें अल्लाह सबसे ज़्यादा लोगों को जहन्नम से आज़ाद करता हो।
Sahih Muslim:1348

Mso Nizamabad MSO Kolkata MSO Siwan Bihar MSO Girl's Wing MSO UP Media Incharge MSO Kaushambi MSO Bihar Mso,Balram Pur

नबी ए करीम ﷺ ने फ़रमाया:-जो शख़्स किसी माँ और उसके बच्चे के बीच जुदाई डालता है, तो अल्लाह क़ियामत के दिन उसे उसके चाहने ...
22/05/2026

नबी ए करीम ﷺ ने फ़रमाया:-
जो शख़्स किसी माँ और उसके बच्चे के बीच जुदाई डालता है, तो अल्लाह क़ियामत के दिन उसे उसके चाहने वालों से जुदा कर देगा।
जामिअ अत-तिर्मिज़ी:1566

पैगंबर मुहम्मद ﷺ ने फ़रमाया:“सबसे बेहतर क़ुर्बानी वह है जो सबसे ज़्यादा क़ीमती और मालिक को सबसे प्रिय हो।”(मुस्नद अहमद: ...
22/05/2026

पैगंबर मुहम्मद ﷺ ने फ़रमाया:
“सबसे बेहतर क़ुर्बानी वह है जो सबसे ज़्यादा क़ीमती और मालिक को सबसे प्रिय हो।”
(मुस्नद अहमद: 15005)

Muslim Students Organisation of India (MSO) has requested the National Testing Agency (NTA) to reschedule the CUET UG Ex...
22/05/2026

Muslim Students Organisation of India (MSO) has requested the National Testing Agency (NTA) to reschedule the CUET UG Examination scheduled on 28 May 2026, as it coincides with Bakra Eid (Eid-ul-Adha), one of the most important festivals for Muslims.

We urge the authorities to ensure equal convenience and a fair opportunity for thousands of students appearing in the examination.



*Follow MSO of India Official WhatsApp Channel*

https://whatsapp.com/channel/0029VaNhFko4dTnFHI00RP3D

نوجوانوں کی دستوری رہنمائی اورآءینی بیداری مہم کا آغازمسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم وائی او) نے دستوری بیداری کے لئ...
21/05/2026

نوجوانوں کی دستوری رہنمائی اور
آءینی بیداری مہم کا آغاز

مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم وائی او) نے
دستوری بیداری کے لئے سپریم کورٹ کے نوجوان وکیل صاحبان کی خدمات حاصل کی ہیں

(پریس ریلیز ، نئی دہلی ، 21 مئی 2026)

قوم و ملت اتحاد ، شعور ، تعلیم اور باہمی تعاون سے بنتی ہے۔ جب نوجوان اپنے اسلاف کی علمی دینی روایات اور ترجیحات کو ساتھ لے کر عصری تقاضوں کے مطابق آگے بڑھتے ہیں تو معاشرہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہے۔ اسی فکر کو عام کرنے اور ملت کے نوجوانوں میں تعلیمی ، سماجی اور آئینی بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا MYO نے ایک علمی و فلاحی مجلس برپا کی جس میں دینی و عصری تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذمہ داریوں ، اقلیتوں کے حقوق اور قومی یک جہتی جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

دار القلم قادری مسجد ذاکر نگر میں منعقد اس مجلس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ ، ذاکر نگر کے معزز مسلمان اور ملک و ملت کی مختلف علمی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں ڈاکٹر شجاعت علی قادری چیئرمین ایم ایس او آف انڈیا ، مولانا محمد ظفر الدین برکاتی کنوینر ایم وائی او ، قاری انیس الرحمن خان ، ڈاکٹر حیدر رضا مصباحی ، مولانا امجد رضا علیمی دار القلم اور حافظ غلام معین الدین امجدی المعین اکیڈمی وغیرہ شریک تھے. مجلس کے مہمان خصوصی اور خطیب سپریم کورٹ کے نوجوان وکیل حافظ حسنین رضا تھے جنہوں نے " دستور ہند میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار" کے موضوع پر گفتگو کی۔

مولانا محمد ظفر الدین برکاتی نے ایڈوکیٹ حسنین رضا صاحب کے تعارف میں بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی اور 2014 میں حفظِ قرآن مکمل کیا، قرأت کا کورس بھی کیا۔ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعہ الرضا بریلی شریف میں مولویت کی تعلیم حاصل کی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بے اے، ایل ایل بی مکمل کیا، آج وہ سپریم کورٹ میں ایک سینئر جج کی نگرانی میں بطور وکیل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجلس کا آغاز ایڈوکیٹ حسنین رضا نے ہی قرآن پاک کی تلاوت سے کیا پھر شاندار لب و لہجے میں نعت خوانی کی. اس کے بعد اپنے خطاب میں ایڈوکیٹ حسنین رضا نے ہندوستانی آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق خصوصاً آرٹیکل 14 سے 35 تک کی اہمیت کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئینِ ہند تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے اور اقلیتوں کے مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کمال مولیٰ مسجد ضلع دھار مدھیہ پردیش سے متعلق آستھا کی بنیاد پر دیے گئے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی مقامات اور اقلیتوں سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لئے آءینی بیداری اور قانونی شعور بے حد ضروری ہے۔

تقریب کے اختتام پرMSO کے چیئر میں ڈاکٹر شجاعت علی قادری اور MSO جامعہ کے صدر توصیف رضا نے ان طلبہ کو آواز دی اور حسنین رضا صاحب کے ہاتھوں سے انعامات اور سرٹیفکیٹس دیے جنہوں نے امسال مختلف فلاحی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں فعال حصہ لیا ہے۔ اس موقع پر طلبہ، اساتذہ اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود رہی۔
بشکریہ مولانا ظفر الدین برکاتی مصباحی

خطبہ جمعہسلسلہ خطبات - 104عنوان*قربانی واجب عبادت ہے، عبادت کی طرح انجام دیں*جامع و مرتبمولانا محمد ظفر الدین برکاتیمدیر...
21/05/2026

خطبہ جمعہ
سلسلہ خطبات - 104
عنوان
*قربانی واجب عبادت ہے، عبادت کی طرح انجام دیں*

جامع و مرتب
مولانا محمد ظفر الدین برکاتی
مدیر ماہ نامہ کنز الایمان دہلی

پیش کش
کل ہند امام فاؤنڈیشن دہلی
Contact No: 8595509193
Telegram Link: https://t.me/MarkaziImam

نوٹ : امام صاحبان مقامی ضرورت اور حالات کے مطابق تقریر کا مواد خود تیار کریں، وقت کی نزاکت کو نظر انداز نہ کریں.
*وضاحتی نوٹ*
قربانی کے لئے جو بھی جانور ہوتے ہیں وہ بھارت میں بڑی مقدار میں دستیاب ہیں، اس لئے کسی ممنوعہ جانور کی قربانی کرنے کی ضرورت نہیں، حالات کے تقاضوں کا خیال رکھنا ہی عقل مندی ہے، احتیاط ہی میں بھلائی ہے.

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰـكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ. (سورہ حج آیت 37)
ترجمہ : اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون ، البتہ تمہاری طرف سے پرہیز گاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری دیدو۔
*شانِ نزول*
دورِ جاہلیّت کے کفار اپنی قربانیوں کے خون سے کعبہ معظمہ کی دیواروں کو آلودہ کرتے اور اسے قرب کا سبب جانتے تھے، جب مسلمانوں نے حج کیا اور یہی کام کرنے کا ارادہ کیا تو اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہرگز نہ ان کی قربانیوں کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے اور قربانی کرنے والے صرف نیت کے اِخلاص اور تقویٰ کی شرائط کی رعایت کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں ۔(تفسیر مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۷۴۰)
*اچھی نیت اور اِخلاص کے بغیر نیک عمل مقبول نہیں*
معلوم ہوا کہ جو نیک عمل اچھی نیت اور ا خلاص کے بغیر کیا جائے وہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں۔ نیت و اِخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام محمد غزالی فرماتے ہیں’’اہلِ دل لوگوں پر ایمانی بصیرت اور انوارِ قرآن کی وجہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اَبدی سعادت تک رسائی کے لئے علم اور عبادت ضروری ہے، علم والوں کے علاوہ تمام لوگ ہلاک ہونے والے ہیں اور عمل کرنے والوں کے علاوہ تمام علماء ہلاک ہونے والے ہیں اور مخلص لوگوں کے علاوہ تمام عمل کرنے والے بھی ہلاک ہونے والے ہیں جبکہ مخلص لوگوں کو بھی بڑا خطرہ ہے(کیونکہ انہیں اپنے خاتمے اور اپنے بارے میں اللہ کی خفیہ تدبیر کا علم نہیں ) اورنیت کے بغیر عمل محض مشقت اور اخلاص کے بغیر نیت ریا کاری ہے اور یہ منافقت کے لئے کافی اور گناہ کے برابر ہے جبکہ صداقت کے بغیر اخلاص گرد و غبار کے ذرّات ہیں کیونکہ ہر وہ عمل جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے ارادے سے کیا جائے اور اس میں نیت خالص نہ ہو تواس کے بارے میں اللہ ارشاد فرماتاہے:
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا.(فرقان:۲۳)
ترجمہ: انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کر کے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنا دیں گے جو روشن دان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔
تو جو شخص نیت کی حقیقت سے واقف نہ ہو اس کی نیت کیسے صحیح ہوگی؟ یا جس کی نیت درست ہو وہ اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہوئے بغیر مخلص کیسے ہوگا؟ یا وہ شخص جو صداقت کے مفہوم سے آگاہی نہ رکھتا ہو وہ اپنے نفس سے صداقت کا مطالبہ کیسے کرے گا؟ لہٰذا جو شخص اللہ کی اطاعت کا ارادہ رکھتا ہو ، اس کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نیت کا علم حاصل کرے تاکہ اسے نیت کی معرفت حاصل ہو پھر صداقت اور اخلاص کی حقیقت سے آگاہ ہو کر عمل کے ذریعے نیت کو صحیح کرے کیونکہ بندے کی نجات اور چھٹکارے کا وسیلہ یہی دو باتیں (صداقت اور اخلاص) ہیں۔ (احیاء علوم الدین، کتاب النیۃ والاخلاص و الصدق، ۵ / ۸۶)
*جانور قابو میں کر دیے گئے*
اسی طرح ہم نے یہ جانور تمہارے قابو میں دے دیے تا کہ اس سے تمہیں اللہ کی عظمت معلوم ہو کہ اس نے ان جانوروں کو تمہارے قابو میں دیدیا جنہیں لوگوں کے قابو میں دینے پر اس کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں اور اس بات پر تم اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ان جانوروں کو مُسَخَّر کرنے اور ان کے ذریعے تقرب حاصل کرنے کے طریقے کی ہدایت دی اور اے حبیب! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، آپ ان لوگوں کو اعمال مقبول ہونے کی خوش خبری اور جنت کی بشارت دے دیں جو نیک کام کرنے میں مخلص ہیں۔(تفسیر روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ۶ / ۳۶)
*حضرت مالک بن دینار اور ایک حاجی*
حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں: میں مکہ مکرمہ کی طرف نکلا تو راستے میں ایک نوجوان کو دیکھا جس کا معمول یہ تھا کہ رات کے وقت اپنے چہرے کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہتا: اے وہ ذات ! جو نیکیوں سے راضی ہوتی ہے اور بندوں کے گناہ اسے کوئی نقصان نہیں دیتے ، مجھے ان اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو جائے اور میرے ان اعمال کو بخش دے جن سے تیرا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ پھر جب لوگوں نے اِحرام باندھا اور تَلْبِیَہ پڑھا تو میں نے اس نوجوان سے کہا: تم تلبیہ کیوں نہیں پڑھتے؟ اس نے عرض کیا: یا شیخ! پچھلے گناہوں اور لکھ دئیے گئے جرموں کے مقابلے میں تلبیہ کافی نہیں ، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میں لبیک کہوں اور مجھ سے یہ کہہ دیا جائے کہ تیری حاضری قبول نہیں ، تیرے لئے کوئی سعادت نہیں ، میں نہ تیرا کلام سنوں گا اور نہ تیری طرف نظر ِرحمت فرماؤں گا۔ پھر وہ نوجوان چلا گیا اور اس کے بعد میں نے اسے مِنیٰ میں ہی دیکھا اور اس وقت وہ کہہ رہا تھا: اے اللّٰہ! مجھے بخش دے ، بے شک لوگوں نے قربانیاں کر لیں اور تیری بارگاہ میں نذرانہ پیش کر دیا اور میرے پاس میری جان کے علاوہ اورکوئی چیز نہیں جسے میں تیری بارگاہ میں نذر کروں تو تُو میری طرف سے میری جان قبول فرما لے۔ پھر اس نوجوان نے ایک چیخ ماری اور اس کی روح قَفسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔ (تفسیر روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۳۷، ۶ / ۳۶-۳۷)
*قربانی کا مقصد*
قربانی سے بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، تقویٰ کا حصول اور سنت ابراہیمی کی پیروی ہے۔ گوشت یا خون مقصود نہیں بلکہ اس عبادت کے پیچھے چھپا اخلاص اور جذبہِ سپردگی ہی اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ رکھتا ہے۔ قربانی اور رضائے الٰہی کے حوالے سے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:
۱۔ اصل مقصد اور حکمِ الٰہی قرآنِ مجید میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تک جانوروں کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے. (سورۃ الحج، آیت 37) لہٰذا، ہر قسم کے دکھلاوے سے پاک ہو کر محض اللہ کی رضا کی نیت کرنا فرض ہے۔
۲۔ جذبہِ سپردگی کی یاد یہ عظیم عبادت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اس لازوال قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے جو انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں پیش کی۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنی ہر محبوب چیز اللہ کی رضا پر نچھاور کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
۳۔ اخلاص اور سماجی فلاح اس عمل کا ایک اور بنیادی مقصد معاشرے کے کمزور اور نادار طبقے کی مدد کرنا ہے۔ قربانی کا گوشت مستحقین تک پہنچانا انسانی اخوت اور ہمدردی کا بہترین مظہر ہے۔
4۔ ثواب اور فضیلت احادیث مبارکہ کے مطابق، قربانی کے دن اللہ کی راہ میں جانور کا خون بہانا سب سے زیادہ پسندیدہ اعمال میں سے ایک ہے۔ اس کا ثواب جانور کے زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبولیت پا لیتا ہے۔
*قربانی کے جانور*
اسلامی شریعت کے مطابق قربانی صرف 'چوپائے' (چار ٹانگوں والے جانوروں) کی جائز ہے جن میں اونٹ ، گائے ، بھینس ، بکری ، بھیڑ اور دنبہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کسی بھی دوسرے جانور کی قربانی قبول نہیں ہوتی۔ شرعی اعتبار سے ان جانوروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
اونٹ: عمر کم از کم 5 سال ہونی چاہیے۔ گائے اور بھینس: عمر کم از کم 2 سال ہونی چاہیے (گائے کی نسل سے ہونے کی وجہ سے بھینس کی قربانی بھی جائز ہے) بکری ، بھیڑ اور دنبہ: عمر کم از کم 1 سال ہونی چاہیے۔
حصص کی تقسیم: چھوٹے جانور (بکری، بھیڑ، دنبہ) میں صرف ایک ہی شخص کی قربانی (حصہ) ہوتی ہے۔ بڑے جانور (گائے، بھینس، اونٹ) میں زیادہ سے زیادہ 7 افراد تک مل کر حصہ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن برادران وطن چونکہ گاے کو عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں ،اس لئے بھارت کے مسلمان اس جانور کی قربانی نہیں کرتے، جہاں رایج ہے ،وہاں بھی مسلمانوں کو اس کی قربانی کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے اور دوسرے جانور کا انتظام کرنا چاہیے.
*قربانی اور ہندوستان*
ہندوستان میں 'قربانی' کا لفظ بنیادی طور پر دو مختلف حوالوں سے استعمال ہوتا ہے:
ایک مذہبی فریضہ (عید الاضحٰی - بقر عید) اور دوسرا وطن کی آزادی اور تعمیر میں دی جانے والی تاریخی قربانیاں. مذہبی لحاظ سے عید الاضحی کے موقع پر مالی طور پر استطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے، ہندوستان کی کءی ریاستوں کے قوانین کے مطابق ، مختلف علاقوں میں گائے کی قربانی پر پابندی ہے یا سخت احکام موجود ہیں، اس لئے مسلمانوں کی اکثریت بھیڑ ، بکرا بکری یا بھینس کی قربانی کو ترجیح دیتی ہے. جیسے آج کل مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریاستی حکومت نے گائے کی قربانی پر سخت احکام نافذ کر دیا ہے، اس لئے اب وہاں بھی مسلمانوں نے گاے کی قربانی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن قربانی کے موقع پر بیچنے کے لئے گاے بیل پالنے والے ہندو بنگالیوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے کہ حکومت کا فیصلہ ہمیں روڈ پر لا سکتا ہے اور ہمیں کنگال بنا سکتا ہے کیونکہ اسی آمدنی سے ہم لوگ سال بھر کے بڑے گھریلو کام کرتے ہیں، اب کیا ہوگا؟ ایسے مسائل کو سیاسی سماجی مسائل کی نظر سے ہی دیکھنا چاہیے نہ دین کی نظر سے کیوں کہ ہمارے دین نے ہمیں اھون البلیتین یعنی دو بڑی آزمائش میں سے چھوٹی اور ہلکی آزمائش کو قبول کرنے کی تعلیم دی ہے اور ہر جگہ احتیاط کا راستہ دکھایا ہے.
دوسری جانب، قربانی کا لفظ ، وطن عزیز بھارت کے لئے قربان ہونے اور حفاظت کے لئے شہادت دینے پر بھی بولتے ہیں جیسے جنگِ آزادیِ ہند میں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں نے مل کر بے مثال قربانیاں دیں. تحریکِ آزادی کی تاریخ میں قائدین اور عوام کی جانی و مالی قربانیاں نمایاں ہیں.
*قربانی کیا ہے*
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں تقرب الی اللہ کی نیت سے ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لئے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللّٰہ علیہ و سلَّمَ کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ. کہ آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
*قربانی کے مسائل*
قربانی کئی قسم کی ہے:
1: غنی اور فقیر دونوں پر واجب.
2: فقیر پر واجب ہو ، غنی پر واجب نہ ہو.
3: غنی پر واجب ہو ، فقیر پر واجب نہ ہو۔
وضاحت 1: دونوں پر واجب ہو، اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی اور یہ کہا کہ ﷲ کے لئے مجھ پر بکری یا بکرے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس بکرے کو قربانی کرنا ہے۔
2: فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو ، اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لئے جانور خریدا ، اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اس پر واجب نہ ہوتی۔
3: غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو ، اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام کی سنت کو جاری و باقی رکھنے میں جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے. (فتاویٰ عالمگیریت - الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الأضحیۃ، الباب الاوّل فی تفسیرھا۔۔۔إلخ، ج۵، ص۲۹۱،۲۹۲ - بہارِ شریعت، ج۳، ص۳۲۷ تا ۳۳۱)
*عیدالاضحی- اہمیت و فضیلت*
دین اسلام کی دو اہم عیدوں میں ایک عید الاضحی ہے جو ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عالمِ اسلام میں منائی جاتی ہے۔ اس عید کا آغاز 624ء میں ہوا۔ نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے پہلے اہلِ مدینہ دو عیدیں مناتے تھے جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول رہتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے۔ آقا ﷺ نے دریافت کیا کہ ان دونوں کی حقیقت کیا ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ عہدِ جاہلیت سے ہم اسی طرح دو تہوار مناتے چلے آرہے ہیں۔ آقا ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے اس سے بہتر دو دن تمہیں عطا کیے ہیں، ایک عید الفطرکا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن. (سنن ابوداؤد: 1134)
عیدالاضحی ایک انتہائی با مقصد اور یادگار دِن ہے، اس دِن دُعائوں کی قبولیت کی بشارت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے دی گئی ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ روزِ عید ہم سب مل کر توبہ استغفار کریں۔ زبانی نہیں، عملی توبہ ۔ پروردگار کے حضور گڑگڑا گڑگڑا کر دُعا کریں، اپنی کوتاہیوں، گناہوں کی معافی طلب کریں اور اپنے رب کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
*احادیث مبارکہ میں قربانی*
رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی فرمائی، کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور ﷺ نے لگاتار کیا اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ آقا کریم صل اللہ علیہ و سلم نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ آقا ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو قربانی نہ کرے ، وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا وجوب ثابت ہے۔ جو لوگ حدیث پاک کے مخالف ہیں اور اس کو حجت نہیں مانتے، وہ قربانی کا انکار کرتے ہیں، ان سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پیسے دے دیئے جائیں یا یتیم خانہ میں رقم دے دی جائے، یہ بالکل غلط ہے کیونکہ عمل کی ایک تو صورت ہوتی ہے، دوسری حقیقت ہے، قربانی کی صورت یہی ضروری ہے، اس کی بڑی مصلحتیں ہیں، اس کی حقیقت اخلاص ہے۔ آیت قرآنی سے بھی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ قربانی کی بڑی فضیلتیں ہیں. مسند احمد کی روایت میں ایک حدیث پاک ہے، حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آقا ﷺ نے فرمایا: قربانی تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ آقا ﷺ نے فرمایا: اس کے ایک ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ جانور کی اون سے متعلق فرمایا: اس کے ایک ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قربانی کے دن اس سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے، اس لئے تم قربانی خوش دلی سے کرو۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہ سے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی قربانی ذبح ہوتے وقت موجود رہو کیونکہ پہلا قطرہ خون گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہو جاتی ہے۔
*پیغام عمل*
قربانی ہمارے بنیادی عقیدے کا عقیدت مندانہ مظہر ہے جسے ہم واجب اور سنت ابراہیمی کی نیت سے کرتے ہیں اور بے شک جس پر ہمیں اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے. یعنی یہ شرعی اسلامی تقاضا ہے، مسلمانوں کی روایت اور رسم و رواج نہیں کہ سیاسی ضرورت اور سماجی مصلحت کے نام پر بند کرنے کی بات کہی جائے یا کوئی مشورہ تسلیم کر لیا جائے، ایسا کرنے والے بہت بڑی بھول کرتے ہیں جس کا خمیازہ بھگتنا آسان نہیں ہوگا.
قربانی واجب ہے اور اس کے آداب و اصول بھی ہیں اور بہت سے اصول حکومت اور شہری انتظامیہ نے لگا رکھے ہیں، اس لئے شرعی اسلامی آداب اور مقامی شہری انتظامیہ کے اصول و ہدایات کا بھی خیال رکھا کریں یعنی گھروں میں آنگن میں، فیکٹری کارخانے میں، باغیچے اور گلیوں میں گنجائش ہوتے ہوئے بھی کھلی جگہوں پر باہر قربانی کرنے کی غلطی نہ کریں.. قربانی کرنے اور گوشت تیار کرنے کا ویڈیو ہرگز بنانے کی کوشش نہ کریں، قربانی کا خون صاف کر کے زمین میں دفن کر دیں یا گٹر میں پانی سے بہا دیں، یوں بہتے ہوئے نہ چھوڑ دیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ فضلات یعنی اوجھڑی چمڑہ وغیرہ کو گھر کے باہر نہ رکھیں بلکہ کوڑا دان میں ہی رکھیں اور کسی کو ادھر ادھر گلیوں میں رکھتے ہوئے دیکھیں تو منع کریں. ہمارے آپ کے گھروں سے نکلنے والے فضلات اور کوڑے کباڑ کی گندگی اور بدبو سڑنے گلنے کے بعد واپس ہمارے آپ کے گھروں میں لوٹتے ہیں اور ہماری زندگی اور ہمارے بچوں کی صحت کے لئے خطرناک ہو جاتے ہیں.
*صاف رہیے ، گھروں اور گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھیے اور بیماریوں سے محفوظ رہیے!*


MSO Kolkata Mso Nizamabad MSO Siwan Bihar MSO Kaushambi MSO Bihar MSO Girl's Wing MSO UP Media Incharge MSO UP

Address

9 Church Road (UCO Bank), Bhogal Jangpura
Delhi
110014

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MSO posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to MSO:

Share