Jamiat ulama tahseel Bindki

Directions

Jamiat ulama tahseel Bindki Official page of jamiat ulama tahseel Bindki district Fatehpur

09/10/2026
09/10/2026
09/10/2026

Organized by Justice & Empowerment of Minorities ( an Initiative of Jamiat Ulama-i-Hind) & South Asian Minorities Lawyers Association

23/09/2026

अध्यक्ष मौलाना महमूद मदनी ने जमीयत उलेमा-ए-हिंद की बैठक के दौरान कहा कि देश में एक खास तबके को लगातार निशाना बनाया जा रहा है. पहले मॉब लिंचिंग हो रही थी, फिर घरों पर बुलडोज़र चलाए गए और अब मस्जिदों, दरगाहों, मदरसों और इबादत की जगहों को निशाना बनाया जा रहा है. यह अराजकता की ओर ले जाने वाली चीज है.

23/09/2026
08/09/2026

...

سہارنپور کلکٹریٹ مسجد کا انہدام عجلت پسندانہ اور انصاف کے تقاضوں کے منافی، جمعیۃعلماء ہر ممکن قانونی جدوجہد کیلئے تیار: ...
07/09/2026

سہارنپور کلکٹریٹ مسجد کا انہدام عجلت پسندانہ اور انصاف کے تقاضوں کے منافی، جمعیۃعلماء ہر ممکن قانونی جدوجہد کیلئے تیار: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی
सहारनपुर कलेक्ट्रेट मस्जिद का विध्वंस (ढहाना) जल्दबाजी और न्याय के तकाजों के सिद्धांतों के विरूद्ध, जमीयत उलेमा हर संभव कानूनी संघर्ष के लिए तैयार: मौलाना अमीनुल हक़ अब्दुल्लाह क़ासमी
جمعیۃ علماء اترپردیش کے وفد کا سہارنپور دورہ، مسجد کمیٹی، متولی، مقامی علماء، اور مسجد و اراضی کے مسلم فریق سے تفصیلی ملاقات

जमीयत उलेमा उत्तर प्रदेश के प्रतिनिधिमंडल का सहारनपुर दौरा: मस्जिद कमेटी, मुतवल्ली, स्थानीय उलेमा और मस्जिद व जमीन के मुस्लिम पक्ष से विस्तृत मुलाकात
سہارنپور، 7 ستمبر 2026ء:سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع تاریخی مسجد کے انہدام کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لینے اورمسجد کمیٹی کےاراکین و خدام اور قاضیٔ شہر جناب ندیم اخترصاحب سے ملاقات، دستیاب دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود مدنی کی ایماء اور ریاستی صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی ہدایت پر جمعیۃ علماء اترپردیش کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ریاستی جنرل سکریٹری مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کی قیادت میں آج سہارنپور پہنچا۔ وفد نے مسجد کمیٹی، متولی، مقامی علماء، دانشوروں اور مسجد و اراضی کے مسلم فریق سے تفصیلی ملاقات کی اور معاملے کے قانونی و دستوری پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لائحۂ عمل پر گفتگو کی۔
مسجد کمیٹی کےاراکین و خدام اور قاضیٔ شہر جناب ندیم اخترصاحب سے ملاقات اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے معاملے میں انتظامیہ کی جانب سے جس سرعت کے ساتھ انہدام کی کارروائی کی گئی، اس نے متعدد بنیادی قانونی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے 16 جولائی 2026ء کو اترپردیش پبلک پریمسز ایکٹ کے تحت مسجد کو سرکاری اراضی پر غیر مجاز قبضہ قرار دیتے ہوئے بے دخلی کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف مسجد کمیٹی نے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت سے رجوع کیا۔ ڈسٹرکٹ عدالت نے بھی مسجد فریق کی اپیل خارج کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھا؛ تاہم مسجد فریق کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی اعلیٰ عدالت سے رجوع کے قانونی راستے موجود تھے اور فوری انہدام نے ان قانونی امکانات کو عملاً محدود کردیا۔
مولانا عبداللہ قاسمی نے کہا کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب اراضی کی ملکیت، مسجد کی قدامت، اس کے تاریخی و بلدیاتی ریکارڈ اور وقف کی حیثیت سے متعلق متعدد دستاویزات خود مسلم فریق کی جانب سے عدالت کے سامنے پیش کی گئی تھیں تو ان تمام پہلوؤں کا مکمل اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیے بغیر اتنی عجلت میں انہدام کی کارروائی کیوں کی گئی؟
انہوں نے کہا کہ مسلم فریق کا موقف ہے کہ متعلقہ اراضی کے قدیم ریونیو ریکارڈ میں واحد خان اور یعقوب خان کے نام درج ہیں، جبکہ مسجد کے وقف میں رجسٹریشن سے متعلق بھی دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔ ان دعووں اور دستاویزات کی مکمل قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے، نہ کہ محض انتظامی کارروائی کے ذریعے معاملہ ختم کردیا جائے۔
مولانا عبداللہ قاسمی نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے حوالے سے 1991 کے ’’Places of Worship (Special Provisions) Act‘‘ کے تحت بھی سنجیدہ قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مذکورہ قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ 15 اگست 1947 کو کسی عبادت گاہ کا جو مذہبی کردار تھا، اسے برقرار رکھا جائے اور اس کے مذہبی کردار میں تبدیلی کو روکا جائے۔ مسجد فریق کا واضح موقف ہے کہ مذکورہ عبادت گاہ 1947 سے قبل بھی مسجد کی حیثیت سے موجود تھی اور اس کی مذہبی حیثیت کے متعلق قدیم ریکارڈ اور شواہد موجود ہیں۔ ایسی صورت میں ایک قائم شدہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی 1991 کے قانون کی روح اور اس کے تحفظاتی مقصد کے منافی نظر آتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اگر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ مذکورہ قانون اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا تو اس بنیادی قانونی سوال کا فیصلہ بھی اعلیٰ عدالت میں ہونا چاہیے۔ جمعیۃ علماء اس پہلو کو بھی اپنی آئندہ قانونی کارروائی میں پوری قوت کے ساتھ اٹھائے گی اور عدالت سے استدعا کرے گی کہ 1991 کے قانون کے تقاضوں اور اس کے بنیادی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اس کارروائی کا ازسرِنو قانونی جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کو عدالتی احکامات کی تعمیل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ بھی ایک اہم قانونی سوال ہے کہ عدالت کے فیصلے میں فوری انہدام کا واضح حکم موجود تھا یا صرف بے دخلی کے سابقہ حکم کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس پہلو کی بھی اعلیٰ عدالت میں قانونی جانچ ضروری ہے۔
مولانا عبداللہ قاسمی نے کہا کہ مذہبی عبادت گاہ کا انہدام ایک نہایت حساس معاملہ ہے، جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات اور احساسات وابستہ ہوتے ہیں۔ ایسے معاملے میں جس عجلت کے ساتھ کارروائی کی گئی، اس سے عوام کے اندر شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے اور یہ صورتِ حال مستقبل میں صوبے اور ملک کے امن و امان اور باہمی ہم آہنگی کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حساس معاملات میں غیر معمولی احتیاط، بصیرت اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور ملک کو کسی بھی ممکنہ بدامنی، انتشار اور کشیدگی سے محفوظ رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کا قیام ہی ملک میں امن و انصاف کے قیام، ہر شہری کو اس کے آئینی و قانونی حقوق دلانے اور بالخصوص مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہوں، مساجد، مدارس اور دیگر دینی اداروں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کے مقصد سے ہے۔ جمعیۃ علماء اپنے اسی بنیادی مقصد اور اپنی ذمہ داری کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے میں پوری قوت کے ساتھ قانونی جدوجہد کرے گی۔ جن ذمہ دار افراد یا اداروں کی جانب سے اگر کوئی غیر قانونی کارروائی ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق مقدمہ لڑا جائے گا، اور مسجد کے قانونی و شرعی تحفظ، اس کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
مولانا عبداللہ قاسمی نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی تصادم یا کشیدگی کو ہوا دینا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر شہری اور ہر مذہبی ادارے کو قانون کے مطابق مکمل انصاف اور قانونی تحفظ حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگرمسجدکمیٹی کی جانب سے مسجد کے اندر موجود سامان، مذہبی اشیاء یا دیگر اموال کے نقصان یا غائب ہونے کے جو الزامات سامنے آئے ہیں، ان کی بھی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
مولانا عبداللہ قاسمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اس معاملے میں خاموش نہیں بیٹھے گی اور مسجد کمیٹی کو قانونی معاونت فراہم کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک معاملہ لے جایا جائے گا۔
وفد میں جمعیۃ علماء مغربی اترپردیش کے صدر مولانا محمد عاقل قاسمی، صوبائی نائب صدر مفتی محمد بنیامین قاسمی، صوبائی سکریٹری قاری عبدالمعید چودھری، جمعیۃ سدبھاؤنا منچ کے صوبائی کنوینر مولانا موسیٰ قاسمی، جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے صدر مولانا محمد گلفام مظاہری، ضلعی جنرل سکریٹری مولانا سرتاج مظاہری، مولانا فرید احمد مظاہری، مولانا احسان الحق قاسمی سمیت دیگر سرکردہ علماء و ذمہ داران موجود تھے۔

सहारनपुर, 7 सितंबर 2026:
सहारनपुर कलेक्ट्रेट परिसर में स्थित ऐतिहासिक मस्जिद को ढहाए जाने के बाद पैदा हुए हालात का जायजा लेने, मस्जिद कमेटी के सदस्यों व खादिमों और शहर काजी जनाब नदीम अख्तर साहब से मुलाकात करने तथा मौजूद दस्तावेजों की जांच करने के लिए, जमीयत उलेमा-ए-हिंद के राष्ट्रीय अध्यक्ष मौलाना सैयद महमूद मदनी के निर्देश और प्रदेश अध्यक्ष मुफ्ती सैयद मुहम्मद अफ्फान मंसूरपुरी की हिदायत पर जमीयत उलेमा उत्तर प्रदेश का एक उच्च स्तरीय प्रतिनिधिमंडल प्रदेश महासचिव मौलाना अमीनुल हक़ अब्दुल्लाह कासमी के नेतृत्व में आज सहारनपुर पहुंचा। प्रतिनिधिमंडल ने मस्जिद कमेटी, मुतवल्ली, स्थानीय उलेमाओं, बुद्धिजीवियों और मस्जिद व जमीन के मुस्लिम पक्ष से विस्तृत मुलाकात की और मामले के कानूनी व संवैधानिक पहलुओं का जायजा लेते हुए आगे की रणनीति पर बातचीत की।
मस्जिद कमेटी के सदस्यों व खादिमों और शहर काजी जनाब नदीम अख्तर साहब से मुलाकात करने और मौजूद दस्तावेजों का जायजा लेने के बाद स्थानीय पत्रकारों से बातचीत करते हुए मौलाना अमीनुल हक़ अब्दुल्ला क़ासमी ने कहा कि कलेक्ट्रेट परिसर में स्थित मस्जिद के मामले में प्रशासन की ओर से जिस जल्दबाजी के साथ ढहाने की कार्रवाई की गई है, उसने कई बुनियादी कानूनी सवाल खड़े कर दिए हैं।
उन्होंने कहा कि इस मामले में सिटी मजिस्ट्रेट की अदालत ने 16 जुलाई 2026 को ‘‘उत्तर प्रदेश पब्लिक प्रिमाइसेस एक्ट’’ के तहत मस्जिद को सरकारी जमीन पर अवैध कब्जा करार देते हुए बेदखली का आदेश दिया था, जिसके खिलाफ मस्जिद कमेटी ने जिला जज की अदालत का रुख किया। जिला अदालत ने भी मस्जिद पक्ष की अपील खारिज करते हुए सिटी मजिस्ट्रेट के आदेश को बरकरार रखाय हालांकि मस्जिद पक्ष का कहना है कि इसके बाद भी उच्च न्यायालय (हाईकोर्ट) जाने के कानूनी रास्ते मौजूद थे और तुरंत ढहा देने की कार्रवाई ने इन कानूनी संभावनाओं को व्यावहारिक रूप से खत्म कर दिया।
मौलाना अब्दुल्लाह क़ासमी ने कहा कि सबसे अहम सवाल यह है कि जब जमीन के मालिकाना हक, मस्जिद के पुराने होने, इसके ऐतिहासिक व नगर निगम रिकॉर्ड और वक्फ की हैसियत से जुड़े कई दस्तावेज खुद मुस्लिम पक्ष की ओर से अदालत के सामने पेश किए गए थे, तो इन सभी पहलुओं की पूरी और निष्पक्ष जांच किए बिना इतनी जल्दबाजी में ढहाने की कार्रवाई क्यों की गई ?
उन्होंने कहा कि मुस्लिम पक्ष का स्टैंड है कि संबंधित जमीन के पुराने राजस्व (रेवेन्यू) रिकॉर्ड में वाहिद खान और याकूब खान के नाम दर्ज हैं, जबकि मस्जिद के वक्फ में रजिस्ट्रेशन से जुड़े दस्तावेज भी पेश किए गए हैं। इन दावों और दस्तावेजों की पूरी कानूनी हैसियत का फैसला अदालतों में होना चाहिए, न कि केवल प्रशासनिक कार्रवाई के जरिए मामले को खत्म कर दिया जाए।
मौलाना अब्दुल्लाह कासमी ने आगे कहा कि इस कार्रवाई के संबंध में 1991 के ‘प्लेसेस ऑफ वर्शिप (स्पेशल प्रोविजंस) एक्ट’ के तहत भी गंभीर कानूनी सवाल पैदा होते हैं। इस कानून का बुनियादी मकसद यह है कि 15 अगस्त 1947 को किसी भी पूजा स्थल का जो धार्मिक स्वरूप था, उसे बरकरार रखा जाए और उसके धार्मिक स्वरूप में बदलाव को रोका जाए। मस्जिद पक्ष का स्पष्ट रुख है कि यह इबादतगाह 1947 से पहले भी मस्जिद की हैसियत से मौजूद थी और इसकी धार्मिक हैसियत के बारे में पुराने रिकॉर्ड और सबूत मौजूद हैं। ऐसे में एक स्थापित मस्जिद को ढहाने की कार्रवाई 1991 के कानून की मूल भावना और इसके सुरक्षात्मक उद्देश्य के खिलाफ नजर आती है। प्रशासन की ओर से अगर यह रुख अपनाया जाता है कि यह कानून इस मामले पर लागू नहीं होता, तो इस बुनियादी कानूनी सवाल का फैसला भी उच्च न्यायालय में होना चाहिए। जमीयत उलेमा इस पहलू को भी अपनी आगामी कानूनी कार्रवाई में पूरी ताकत के साथ उठाएगी और अदालत से अपील करेगी कि 1991 के कानून की मांगों और इसके बुनियादी मकसद को ध्यान में रखते हुए इस कार्रवाई की फिर से कानूनी जांच की जाए।
उन्होंने कहा कि हालांकि प्रशासन की ओर से इस कार्रवाई को अदालती आदेशों का पालन बताया जा रहा है, लेकिन यह भी एक अहम कानूनी सवाल है कि अदालत के फैसले में तुरंत ढहाने का स्पष्ट आदेश मौजूद था या सिर्फ बेदखली के पिछले आदेश को बरकरार रखा गया था। इस पहलू की भी उच्च न्यायालय में कानूनी जांच जरूरी है।
मौलाना अब्दुल्लाह कासमी ने कहा कि किसी धार्मिक स्थल को ढहाना एक बहुत ही संवेदनशील मामला है, जिससे लोगों की धार्मिक भावनाएं और अहसास जुड़े होते हैं। ऐसे मामले में जिस जल्दबाजी के साथ कार्रवाई की गई, उससे जनता के अंदर भारी बेचैनी पैदा हुई है और यह स्थिति भविष्य में प्रदेश और देश की शांति व्यवस्था और आपसी सौहार्द के लिए भी चिंता का कारण बन सकती है। कानून लागू करने वाली एजेंसियों, जिला प्रशासन और सरकार की यह बुनियादी जिम्मेदारी है कि वे ऐसे संवेदनशील मामलों में असाधारण सावधानी, समझदारी और संयम का प्रदर्शन करें और देश को किसी भी संभावित अशांति, अराजकता और तनाव से सुरक्षित रखें।
उन्होंने कहा कि जमीयत उलेमा की स्थापना ही देश में शांति व न्याय की स्थापना, हर नागरिक को उसके संवैधानिक व कानूनी अधिकार दिलाने और विशेष रूप से मुसलमानों के धार्मिक स्थलों, मस्जिदों, मदरसों और अन्य दीनी संस्थानों की सुरक्षा के लिए संघर्ष करने के उद्देश्य से हुई है। जमीयत उलेमा अपने इसी बुनियादी मकसद और अपनी जिम्मेदारी को ध्यान में रखते हुए इस मामले में पूरी ताकत के साथ कानूनी संघर्ष करेगी। जिन जिम्मेदार लोगों या संस्थाओं की ओर से अगर कोई गैर-कानूनी कार्रवाई साबित होती है, तो उनके खिलाफ भी कानून के मुताबिक मुकदमा लड़ा जाएगा, और मस्जिद की कानूनी व शरिया सुरक्षा, उसकी बहाली और दोबारा निर्माण के लिए भी हर संभव कोशिश की जाएगी।
मौलाना अब्दुल्लाह क़ासमी ने कहा कि हमारा मक़सद किसी टकराव या तनाव को बढ़ावा देना नहीं है, बल्कि यह सुनिश्चित करना है कि हर नागरिक और हर धार्मिक संस्था को कानून के मुताबिक पूरा न्याय और कानूनी सुरक्षा प्राप्त हो।
उन्होंने कहा कि अगर मस्जिद कमेटी की ओर से मस्जिद के अंदर मौजूद सामान, धार्मिक वस्तुओं या अन्य संपत्तियों के नुकसान या गायब होने के जो आरोप सामने आए हैं, उनकी भी बाकायदा जांच होनी चाहिए और अगर किसी भी तरह की अनियमितता साबित होती है तो जिम्मेदार लोगों के खिलाफ कानूनी कार्रवाई की जानी चाहिए।
मौलाना अब्दुल्लाह क़ासमी ने कहा कि जमीयत उलेमा-ए-हिंद इस मामले में खामोश नहीं बैठेगी और मस्जिद कमेटी को कानूनी मदद मुहैया कराते हुए जरूरत के मुताबिक मामले को हाईकोर्ट और सुप्रीम कोर्ट तक ले जाया जाएगा।
प्रतिनिधिमंडल में जमीयत उलेमा पश्चिमी उत्तर प्रदेश के अध्यक्ष मौलाना मुहम्मद आक़िल कासमी, प्रदेश उपाध्यक्ष मुफ्ती मुहम्मद बिनयामीन क़ासमी, प्रदेश सचिव कारी अब्दुल मुईद चैधरी, जमीयत सद्भावना मंच के प्रदेश संयोजक मौलाना मूसा कासमी, जमीयत उलेमा जिला सहारनपुर के अध्यक्ष मौलाना मुहम्मद गुलफाम मजाहिरी, जिला महासचिव मौलाना सरताज मजाहिरी, मौलाना फरीद अहमद मजाहिरी, मौलाना एहसानुल हक कासमी सहित अन्य प्रमुख उलेमा और जिम्मेदार लोग मौजूद थे।

Address

Near Central Bank Of India Paigambarpur Mod Bindki District Fatehpur
Bindki
212635

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat ulama tahseel Bindki posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share