03/04/2026
*سیّد الشہداء، عَمِّ رسولِ خدا، امیرِ اہلِ طیبہ، اسد اللّٰہِ و رسولہِ، فاعل الخیرات، کاشف الکربات سیدنا سرکار امیرِ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا عرسِ مقدس مبارک ہو.!!*
حمزہ سردارِ شہیداں قاتل الکفار کا
عرس ہے یہ میرِ طیبہ کا سخی سرکار کا
ناصبیت خارجیت عرسِ حیدر سے مرے
اور عرسِ حمزہ ہے نیزہ کلیجے پار کا
چہرۂ احمد سے دشمن دور بھاگے دیکھ کر
خوف تھا عَمِّ نبی کا قہر تھا قہّار کا
لشکرِ اسلام کے اوّل سِپَہ سالار ہے
اور پہلا تاج بھی سر پر علمبردار کا
شیرِ غُرّانِ خدا و مصطفیٰﷺ حمزہ ہوئے
غزوہ میں جوہر دکھاتے ہاشمی کردار کا
پہلوانِ حق نمایاں ہے شجاعت آپ کی
تاب نہ لایا کوئی بھی بدر میں تلوار کا
قاتلِ عتبہ ہو تم، دو دَسْتِی حملوں کے شہا
کاٹ کر پھینکا تھا اونچا غُلْغُلَہ کفار کا
حشر برپاتی اُحد میں آپ کی جانبازیاں
دشمنانِ دین پر لرزہ تمہارے وار کا
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو مصطفیٰ فرماتے ہیں
ہے شہادت آپ کی صدمہ بڑا غمخوار کا
دیکھ کر حالت، صفیہ فاطمہ رونے لگیں
تھے نبی گِریہ کناں نازل بیاں جبّارﷻ کا
ق
ہے بیاں سرکار کا خوش ہو صفیہ، فاطمہ
عرش پر لکَّھا اسد اللہ، اسد سرکار کا
دین پھیلا بدر سے اور کربلا میں ہے بچا
گھر کا گھر ہی کام آیا احمدِ مختارﷺ کا
ذکرِ حق کرکے اُحد اور کربلا کا واقعہ
غم ہوا تازہ امامِ پاک کے گھر بار کا
انبیاء کے بعد افضل مرتبہ شہداء کا ہیں
اور شہیدوں میں لقب افضل شہیدِ یار کا
حضرتِ جابر یہ کہتے ہے نبی فرماتے ہیں
ہے شفاعت کرنے والوں پر شرف سردار کا۔
آیتِ قرآن سے ظاہر ہے رتبہ آپ کا
کیا کوئی منصب بتائے آپ کے مینار کا
ہے جو "نَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ" کا جلوہ، آپ ہیں
مطمئیں کر دو مجھے اعمال سے ہُوں نار کا
تم "فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهْ" شہا میں "يَنْتَظِرْ"
منتیں بر آئے اب چارہ نہیں ناچار کا
سید الشہداء حبیبِ مصطفیٰ امداد کن
دافعِ جملہ بلا اب وقت ہے یلغار کا
فاعل الخیرات ہو تم کاشف الکربات ہو
دور ہو رنج و الم مل جائے رستہ پار کا
اٹھیے اب سرکار ہے گستاخ بھی دہلیز پر
جلوہ گر کر دیجیے کوئی ولی کرّار کا
غوثِ اعظم کی کرامت دیکھ لو اے سنّیوں
کر سکے نہ کچھ عدو اُنکے سگِ دربار کا۔
حضرتِ ادریس اور شاہِ سنابل سے ملا
جو ملا سب صدقہ ہے یہ فاطمی دربار کا
جتنے بھی گستاخ ہیں مرجائے لیکن مؤمنوں
چرچا ہے چرچا رہے گا حشمتی سرکار کا
عُمْر گر مایوس گزرے پر ثمرؔ مر کے چلو.!!
قبر میں جاتے ہی ہونگا جلوہ اپنے یارﷺ کا۔
✍️از محتاجِ مُرشدِ پاک سیّد عرفان ثمرؔ حشمتی برہانپوری
۔
۔
۔
۔
۔
رضوان اللہ علیہم اجمعین