تہلکۂ قلم

تہلکۂ قلم “ایم اے سفیان کے قلم سے — سچ، تجزیہ اور وہ باتیں جو ہلچل مچائیں”

‎پانچ ممالک کا اتحاد  اور ایک نیا عالمی نظام قائم ‎‎​دنیا کی بساط پر ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ...
13/04/2026

‎پانچ ممالک کا اتحاد اور ایک نیا عالمی نظام قائم

‎​دنیا کی بساط پر ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ خود کو عالمی طاقت کا محور سمجھتا ہے اور اپنی مرضی کو قانون بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تاریخ کا اصول ہے کہ غرور جتنا بلند ہو، اس کا زوال اتنا ہی قریب ہوتا ہے۔ آج اگر ہم طاقت کو صرف جذبات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار کی نظر سے دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ چین، روس، پاکستان، سعودی عرب اور ایران—اگر یہ پانچ ممالک محض ایک نقشے پر اکٹھے کھڑے ہو جائیں تو ان کی مجموعی فوجی تعداد تقریباً 50 لاکھ بنتی ہے۔ ان کا دفاعی بجٹ 500 سے 600 ارب ڈالر تک جا پہنچتا ہے اور ایٹمی طاقت کی صورت میں ہزاروں وار ہیڈز ان کے پاس موجود ہیں۔ یہ بلاک دنیا کی ایک بڑی آبادی اور وسائل کے ایک بہت بڑے حصے پر قابض ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ اکیلا ہے جس کا بجٹ بڑا ضرور ہے مگر اس کی قوت پوری دنیا میں بکھری ہوئی ہے۔

‎​سوال یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے، سوال یہ ہے کہ کون متحد ہے؟ اگر یہ ممالک صرف بیانات سے آگے بڑھ کر ایک حقیقی اتحاد قائم کریں تو اس کا عملی نقشہ ایک ایسے مشترکہ دفاعی بلاک کی صورت میں ہو سکتا ہے جو نیٹو کی طرز پر ہو مگر اپنے علاقائی مفادات کے مطابق کام کرے۔ اس اتحاد میں مشترکہ فوجی مشقیں اور دفاعی حکمت عملی شامل ہونی چاہیے۔ معاشی طور پر چین کی صنعت، سعودی عرب کا تیل اور روس کے وسائل مل کر عالمی معیشت کا رخ موڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ڈالر پر انحصار کم کر کے ایک مشترکہ کرنسی یا نیا تجارتی بلاک بنا کر عالمی مالیاتی نظام میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، مشترکہ ریسرچ اور سائبر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفالت حاصل کرنا بھی ممکن ہے۔

‎​اگر ایسا اتحاد حقیقت کا روپ دھار لے تو یہ محض ایک معاہدہ نہیں ہوگا، بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو بدلنے والا ایک ایسا زلزلہ ہوگا جس کے بعد امریکہ کو ہر فیصلے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔ اس صورت میں یکطرفہ پابندیاں بے اثر ہو جائیں گی اور دنیا میں ایک نیا پاور بلاک ابھرے گا جہاں طاقت کا غرور، اتحاد کی دیوار سے ٹکرا کر بکھر جائے گا۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ ممالک فی الوقت آپس میں مکمل ہم آہنگ نہیں۔ باہمی اختلافات، مفادات اور سیاسی فاصلے اس خواب کو حقیقت بننے سے روکتے ہیں۔ مگر اگر یہ رکاوٹیں دور ہو جائیں تو تاریخ ایک نیا باب لکھ سکتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے سرد جنگ کے دور میں طاقت کا توازن قائم ہوا تھا۔ یاد رہے کہ دنیا میں عزت صرف طاقت سے نہیں ملتی، بلکہ اس طاقت کے پیچھے کھڑے اتحاد سے ملتی ہے۔

‎​تہلکۂ قلم از ایم اے سفیان

‎طاقت، سیاست اور انصاف—کیا ہمیں ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا خاموش تماشائی؟‎‎دنیا کی سیاست میں طاقت کا کھیل نیا نہیں، م...
12/04/2026

‎طاقت، سیاست اور انصاف—کیا ہمیں ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا خاموش تماشائی؟

‎دنیا کی سیاست میں طاقت کا کھیل نیا نہیں، مگر اس کھیل میں انصاف اکثر سب سے پہلے قربان ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ناکام ہونا اسی حقیقت کی ایک اور جھلک ہے۔ بظاہر یہ ایک سفارتی ناکامی ہے، مگر درحقیقت یہ عالمی طاقت کے عدم توازن کی علامت بھی ہے۔

‎امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بیان کہ مذاکرات کی ناکامی امریکہ کے لیے زیادہ بری خبر نہیں بلکہ ایران کے لیے بری خبر ہے، ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جس میں طاقت کو حق سمجھ لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی طاقت ہی حق کا معیار ہے؟

‎تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کمزور یا نسبتاً محدود وسائل رکھنے والے ملک نے اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کی، اسے دباؤ، پابندیوں اور بعض اوقات براہِ راست حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ چاہے وہ اقتصادی پابندیاں ہوں یا سفارتی تنہائی، ہر قدم پر اسے دبانے کی کوشش کی گئی۔

‎یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: اگر حالات اس کے برعکس ہوتے؟ اگر کوئی ملک امریکہ پر اسی انداز میں دباؤ ڈالتا یا حملہ کرتا، تو کیا امریکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہوتا؟ غالب امکان یہی ہے کہ جواب نفی میں ہوگا۔ یہی دوہرا معیار عالمی سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

‎پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ ​"پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض دو پڑوسیوں کے تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہماری معاشی بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ، جو برسوں سے عالمی دباؤ اور پابندیوں کی نذر ہو رہا ہے، ہماری توانائی کی ضروریات کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح، سی پیک کی کامیابی اور خطے میں حقیقی معاشی انقلاب کے لیے ایران کا استحکام اور اس کی اس منصوبے میں ممکنہ شمولیت کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
‎​اگر ہم صرف عالمی طاقتوں کے خوف سے اپنے ان مفادات سے دستبردار ہوتے رہے، تو ہم کبھی بھی ایک خود مختار معاشی قوت نہیں بن سکیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا اور اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو عالمی سیاست میں 'بارگیننگ چپ' (سودے بازی)کے طور پر استعمال کرنا بھی اصل حکمتِ عملی ہے۔ ایک طرف علاقائی استحکام کا تقاضا ہے، تو دوسری طرف اصولی مؤقف کا۔ پاکستان ہمیشہ خود کو ایک ذمہ دار ریاست اور امن کا داعی کہتا آیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں خاموش تماشائی بننا چاہیے یا اصولی موقف اپنانا چاہیے؟

‎ایران کے ساتھ کھڑا ہونا صرف ایک ملک کی حمایت نہیں، بلکہ ایک اصول کی حمایت ہے—وہ اصول کہ طاقت کے بل پر فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم، یہ حمایت جذباتی نہیں بلکہ حکمت پر مبنی ہونی چاہیے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

‎اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے، مگر ساتھ ہی حکمت، صبر اور تدبر کو بھی مقدم رکھنا چاہیے۔ محض جذباتی نعروں سے نہ قومیں بنتی ہیں اور نہ ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔

‎لہٰذا، پاکستان اور اس کی عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے شعور کا راستہ اپنائیں۔ ایران کے ساتھ ہمدردی اپنی جگہ، مگر اپنی قومی سلامتی، معاشی استحکام اور علاقائی امن کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

‎آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے: کیا ہم صرف جذبات کی بنیاد پر فیصلے کریں گے، یا ایک باشعور قوم کی طرح حکمت اور اصولوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے؟

‎تہلکۂ قلم ۔۔۔۔۔ از ایم اے سفیان

عنوان: امن کی میز پر پاکستاندنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں—اور آج کا دن انہی لمحوں...
10/04/2026

عنوان: امن کی میز پر پاکستان

دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں—اور آج کا دن انہی لمحوں میں سے ایک ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہو، جب ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی دیواریں بلند ہو چکی ہوں، ایسے میں پاکستان کو ثالثی کا موقع ملنا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔

پاکستان، جو ہمیشہ سے امن، استحکام اور مذاکرات کا داعی رہا ہے، آج ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کی آواز نہ صرف سنی جا رہی ہے بلکہ اس پر اعتماد بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جسے اکثر عالمی سیاست میں نظرانداز کیا جاتا رہا، مگر آج اسی پاکستان کو دو بڑی طاقتوں کے درمیان پل بننے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔

یہ موقع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں ہوتی، بلکہ حکمت، برداشت اور بصیرت میں بھی ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے، تو نہ صرف خطے میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بلند ہو سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ محض دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر عالمی معیشت تک، ہر چیز اس کشیدگی سے متاثر ہوتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی ثالثی ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے—ایک ایسا چراغ جو اندھیروں میں روشنی بانٹ سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے خلوص نیت سے اس عمل کو آگے بڑھائے۔ یہ وقت کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کا نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے کا ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ پاکستان کے امن پسند تشخص کی ایک مضبوط دلیل بھی بنے گی۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ ایسے مواقع بار بار نہیں دیتی۔ اگر پاکستان نے اس موقع کو صحیح انداز میں سنبھال لیا، تو آنے والی نسلیں اسے ایک عظیم سفارتی کامیابی کے طور پر یاد رکھیں گی—ایک ایسا لمحہ جب پاکستان نے دنیا کو جنگ کے دہانے سے واپس لا کر امن کی راہ دکھائی۔

“تہلکۂ قلم” از ایم اے سفیان

پاکستان: امن کا داعی، مگر جنگ سے نہ ڈرنے والادنیا ایک بار پھر کشیدگی، خوف اور غیر یقینی حالات کی لپیٹ میں ہے۔ عالمی طاقت...
09/04/2026

پاکستان: امن کا داعی، مگر جنگ سے نہ ڈرنے والا

دنیا ایک بار پھر کشیدگی، خوف اور غیر یقینی حالات کی لپیٹ میں ہے۔ عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، اور جنگ کے بادل انسانیت کے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور منفرد حیثیت اختیار کر چکا ہے—ایک ایسا کردار جو امن کا پیامبر بھی ہے اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار بھی۔

پاکستان کی بنیاد ہی کلمۂ طیبہ پر رکھی گئی تھی، جس کا پیغام امن، عدل اور انسانیت کی فلاح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر امن کو ترجیح دی، چاہے وہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہو یا علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار۔ پاکستان نے کبھی جنگ کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنایا، بلکہ ہر ممکن حد تک بات چیت، سفارتکاری اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔

لیکن اس امن پسندی کو کمزوری سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی خودمختاری، سرحدوں یا وقار کو چیلنج کیا گیا، اس قوم نے متحد ہو کر دشمن کو واضح پیغام دیا کہ یہ ملک دفاع کرنا جانتا ہے۔ ہماری مسلح افواج، ہمارا جذبۂ ایمانی، اور ہماری قومی یکجہتی وہ طاقت ہے جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج کے حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اندرونی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مضبوط اور متحد قوم کے طور پر سامنے آئیں۔ کیونکہ دشمن ہمیشہ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ہم اندر سے مضبوط ہوں، تو کوئی بیرونی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

قرآنِ مجید بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ امن کو ترجیح دو، مگر اگر تم پر جنگ مسلط کی جائے تو پھر ڈٹ جاؤ اور کمزوری نہ دکھاؤ۔ یہی توازن پاکستان کی پالیسی میں نظر آتا ہے—نہ بلاوجہ تصادم، نہ بزدلی۔

پاکستان آج بھی دنیا کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، ہم ترقی چاہتے ہیں، ہم اپنے عوام کے لیے خوشحالی چاہتے ہیں۔ مگر اگر کسی نے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا، تو یہ قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔

یہی پاکستان کا اصل چہرہ ہے—امن کا سفیر، مگر غیرت کا محافظ۔
ایک ایسا ملک جو صبر بھی جانتا ہے اور جواب دینا بھی۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بیانیے کو نہ صرف سمجھیں بلکہ دنیا تک پہنچائیں۔ کیونکہ ایک مضبوط قوم صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ اپنے نظریے، اتحاد اور عزم سے پہچانی جاتی ہے۔

پاکستان زندہ باد۔

تہلکۂ قلم از ایم اے سفیان

‎پاکستان، طاقتور، مگر پرامن ملک‎‎پاکستان کی بنیاد ایک روشن تصور پر رکھی گئی تھی کلمہ کی بنیاد پر ایک خودمختار ریاست، جہا...
08/04/2026

‎پاکستان، طاقتور، مگر پرامن ملک

‎پاکستان کی بنیاد ایک روشن تصور پر رکھی گئی تھی کلمہ کی بنیاد پر ایک خودمختار ریاست، جہاں ایمان، توحید اور عدل کا بول بالا ہو یہ ملک صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی پیغام ہے، جو دنیا کو یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا صحیح استعمال حکمت، عدل اور امن کے لیے ہونا چاہیے۔
‎دنیا آج دیکھ رہی ہے کہ پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اپنی طاقت کے باوجود ہمیشہ امن پسندی کے راستے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو سمجھتا ہے کہ طاقت کا مطلب جارحیت یا ظلم نہیں، بلکہ اپنی عوام کی حفاظت اور عالمی امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہے
‎پاکستان کی یہ پہچان نہ صرف ہمارے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک سبق ہے۔

‎ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے

‎“اور اگر وہ (دشمن) تمہارے ساتھ امن کا راستہ اختیار کریں تو تم بھی اس کا راستہ اختیار کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔”
‎(سورہ انفال، آیت 61)

‎یہ آیت بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے باوجود امن کا راستہ اختیار کرنا حکمت اور تقویٰ کی علامت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہی رویہ اپنایا ہے جارحیت سے بچا، تنازعات کو مذاکرات اور حکمت کے ذریعے حل کیا، اور دنیا میں ایک مثال قائم کی کہ طاقت اور امن ایک ساتھ چل سکتے ہیں
‎پاکستان کی تاریخ میں قربانی اور ایمان کی داستانیں شامل ہیں۔ لاکھوں جانیں قربان ہوئیں تاکہ یہ ملک وجود میں آئے اور ایک مضبوط بنیاد پر کھڑا ہو۔ مگر آج کی عالمی سیاست میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ صرف مضبوطی سے سرحدوں کی حفاظت نہیں کی جاتی، بلکہ امن کے لیے کردار ادا کرنا بھی طاقت کی علامت ہے

‎جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
‎ “اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ انصاف کرو اور احسان کرو اور رشتہ داری نبھاؤ۔”
‎(سورہ نساء، آیت 36)


‎یہ آیت نہ صرف معاشرتی انصاف کی طرف اشارہ کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر امن قائم رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔ پاکستان نے اسی ہدایت کے مطابق اپنا کردار ادا کیا ہے دنیا کے سامنے نہ صرف اپنی دفاعی طاقت دکھائی بلکہ اپنے ایمان اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر امن کا پیغام بھی دیا۔

‎پاکستان کی کامیابی اور امن پسند کردار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ملک جو ایمان، حکمت اور طاقت کا امتزاج رکھتا ہے، وہ نہ صرف اپنی عوام کی حفاظت کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام اور امن کے لیے مثال قائم کر سکتا ہے۔

‎آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں میں تحمل، حکمت، اور امن پسندی شامل ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس نے اپنی ایٹمی صلاحیت کے باوجود ہمیشہ جارحیت سے گریز کیا، اور امن قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

‎پاکستان، جو ایمان کی بنیاد پر قائم ہوا، آج دنیا کے سامنے ایک طاقتور مگر پرامن قوم کے طور پر کھڑا ہے۔ طاقت اور امن ایک ساتھ چل سکتے ہیں، اور پاکستان اس حقیقت کی زندہ مثال ہے۔

تہلکۂ قلم از ایم اے سفیان

Address

Punjab Lahore
Amritsar
54000

Telephone

+923267503543

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تہلکۂ قلم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تہلکۂ قلم:

Share