Irish Muslim Circle - IMC

Directions Website

Irish Muslim Circle - IMC Working for the betterment and strengthening the Faith of Irish Muslims.

04/10/2026

Former Mayo player had mixed emotions watching old friends win Sam Maguire. Mostly, though, he ‘was just delighted’

Link in comments

السلام علیکم و رحمتہ اللہ آج جمعتہ المبارک ہے اور آج کے دن سورہ الکہف کی تلاوت مسنون ہے ، قرآن کی تلاوت کے ساتھ ہی ترجمع...
02/10/2026

السلام علیکم و رحمتہ اللہ

آج جمعتہ المبارک ہے اور آج کے دن سورہ الکہف کی تلاوت مسنون ہے ، قرآن کی تلاوت کے ساتھ ہی ترجمعہ بھی ضرور پڑھیں درود کا بھی کثرت سے اہتمام کریں

وطن عزیز پاکستان کی صورتحال سے آپ باخبر ہیں ، مصائب و مشکلات اور مہنگائی سے نجات کے ساتھ ہی موجودہ حالات میں بہتری ، فلسطینیوں سمیت تمام مظلومین کے ظلم سے نجات ، امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی و تمام بے قصور قیدیوں کی رہائی ، لاپتہ افراد کی بازیابی ، بیماروں کی شفایابی اور مرحومین کے ایصال ثواب سمیت استحکام پاکستان کیلئے آج ضرور دعائیں مانگیں
سیکرٹری آئرش مسلم سرکل
شکیل گلزار

قرآن فہمی کلاس، حلقہ نیون         آئرش مسلم سرکل حلقہ نیون کے تحت ہونے والی قرآن فہمی کی کلاس میں سورۃ البقرہ کی آیات 14...
30/09/2026

قرآن فہمی کلاس، حلقہ نیون

آئرش مسلم سرکل حلقہ نیون کے تحت ہونے والی قرآن فہمی کی کلاس میں سورۃ البقرہ کی آیات 148 سے 163 تک کا ترجمہ و تشریح، تفہیم القرآن از مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی روشنی میں کی گئی ان آیات میں مسلمانوں کو اپنی شناخت، مقصدِ زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ذمہ داری کا شعور دلایا گیا ہے؛ خاص طور پر قبلہ کی تبدیلی کے پس منظر میں یہ حقیقت واضح کی گئی کہ اصل اہمیت ظاہری سمتوں کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کے احکام کی پیروی اور اس کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کی ہےآیت 148 میں امت کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا کہ ہر ایک کے لیے ایک سمت اور طریقۂ عمل ہو سکتا ہے، مگر اصل مقابلہ اس بات میں ہے کہ انسان نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرےاس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اپنی نعمت یاد دلائی، قبلہ کی تکمیل اور امتِ مسلمہ کی ایک مستقل دینی شناخت عطا فرمائی، اور فرمایا کہ جیسے اللہ کو یاد کرنا چاہیے ویسے ہی اسے یاد کرو، شکر ادا کرو اور ناشکری سے بچوآیات 153 تا 157 میں صبر اور نماز کو مشکل حالات میں قوت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اللہ کی راہ میں آنے والی آزمائشیں، خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان اور دیگر مشکلات اہلِ ایمان کے لیے امتحان ہیں، اور ایسے صابر لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت اور ہدایت کی بشارت ہےآج کے حالات میں یہ تعلیم خاص طور پر اہم ہے کہ مسلمان مشکل، بے یقینی، جنگوں، معاشرتی انتشار، مہنگائی، خوف اور مختلف آزمائشوں کے ماحول میں مایوسی کے بجائے صبر، نماز، دعا، باہمی تعاون اور اللہ پر توکل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آیات 158 تا 163 میں شعائرِ اللہ، صفا و مروہ اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و رحمت کا ذکر کرتے ہوئے انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا کہ اللہ کی ہدایت ملنے کے بعد زندگی کا راستہ واضح ہو جاتا ہے لہٰذا ہمیں اپنی دینی شناخت، عبادات اور اخلاق کو محض رسم نہیں بلکہ شعوری اطاعت بنانا چاہیےان آیات کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ ایک مسلمان اپنی سمت بھی اللہ سے لیتا ہے، اپنی ترجیحات بھی اللہ کے حکم کے مطابق طے کرتا ہے اور آزمائشوں میں بھی اسی سے مدد مانگتا ہےآج کے دور میں جب دنیا بھر میں مسلمان مختلف فکری، معاشرتی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہے ہیں، ہمیں قرآن کی اس رہنمائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی کامیابی صرف ظاہری حالات بدلنے میں نہیں بلکہ ایمان، صبر، نماز، نیکی، باہمی خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے مضبوط وابستگی میں ہے

سیکرٹری آئرش مسلم سرکل

شکیل گلزار

آئرش مسلم سرکل کے تحت حلقہ لانگفورڈ میں سورۂ بقرہ کی آیات 122 تا 141 کا تفہیم القرآن کی روشنی میں مطالعہ کیا گیا۔ اس حصے...
27/09/2026

آئرش مسلم سرکل کے تحت حلقہ لانگفورڈ میں سورۂ بقرہ کی آیات 122 تا 141 کا تفہیم القرآن کی روشنی میں مطالعہ کیا گیا۔ اس حصے میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے واضح فرماتے ہیں کہ محض کسی عظیم قوم، بزرگ یا آباؤ اجداد سے نسبت انسان کے لیے نجات کی ضمانت نہیں؛ اصل کامیابی اپنے ایمان، عمل اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کو سامنے رکھ کر بتایا گیا کہ اللہ کی طرف سے قیادت اور امامت آزمائشوں میں ثابت قدمی، اطاعت اور کردار کے بعد عطا ہوتی ہے، اور “لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ” کے ذریعے واضح کر دیا گیا کہ اللہ کا عہد ظلم اور ناانصافی کرنے والوں کے لیے نہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی دعائیں ہمیں اخلاص، قبولیت کی فکر اور آنے والی نسلوں کی دینی تربیت کا سبق دیتی ہیں۔ پھر قرآن واضح کرتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور تمام انبیاء کی اصل دعوت ایک ہی تھی: اللہ کی بندگی اور اس کے سامنے مکمل اطاعت؛ اس لیے دین کو محض نسلی، گروہی یا خاندانی شناخت تک محدود کرنا درست نہیں۔ آج کے حالات میں یہ آیات ہمیں خاص طور پر متوجہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے ماضی، خاندان، بزرگوں یا مذہبی نسبتوں پر فخر کرنے کے بجائے اپنے کردار اور اعمال کا جائزہ لیں، اپنی اولاد کی صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ ایمان و اخلاق کے ساتھ تربیت کریں، اور اپنی پوری زندگی کو “صِبْغَةَ اللَّهِ” یعنی اللہ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔ آخر میں قرآن کا یہ اصول ہمارے لیے آئینہ ہے کہ “وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم کماؤ گے”—لہٰذا آج ہماری ذمہ داری دوسروں کے ماضی پر بحث کرنا نہیں بلکہ اپنے ایمان، اپنے عمل، اپنے گھروں، اپنی نسل اور اپنے معاشرے کے بارے میں جواب دہ ہونے کی تیاری کرنا ہے

سیکرٹری آئرش مسلم سرکل

شکیل گلزار

قرآن فہمی — حلقہ ڈبلن آئرش مسلم سرکل حلقہ ڈبلن کے تحت ہونے والی قرآن فہمی کی کلاس میں سورۃ الانفال کی آیات 65 تا 75 کا ت...
23/09/2026

قرآن فہمی — حلقہ ڈبلن
آئرش مسلم سرکل حلقہ ڈبلن کے تحت ہونے والی قرآن فہمی کی کلاس میں سورۃ الانفال کی آیات 65 تا 75 کا ترجمہ و تشریح مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تفہیم القرآن کی روشنی میں کی گئی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی اخلاقی و اجتماعی تربیت کرتے ہوئے قتال کے وقت ثابت قدمی، نظم و ضبط، اللہ پر توکل اور باہمی تعاون کی تعلیم دی، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ تعداد اور ظاہری قوت اصل معیار نہیں، کامیابی اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہےبدر کے قیدیوں کے معاملے میں نبی کریم ﷺ کو تنبیہ بھی کی گئی کہ دنیاوی فائدے کے بجائے دین کے وسیع تر مفاد اور دشمن کی قوت کو کمزور کرنے کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھا جائےیعنی محض فدیہ لے کر چھوڑ دینا کافی نہ تھا بلکہ اس معاملے میں وہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے تھا جس سے دشمن دوبارہ مسلمانوں کے خلاف منظم نہ ہو سکےآخر میں مہاجرین و انصار کے باہمی تعلق کو ایمان کی عملی علامت قرار دیا گیاجنہوں نے ایک دوسرے سے محبت کی، گھر بار اور وسائل میں تعاون کیا اور اجتماعی ذمہ داری نبھائی آج ہمارے لیے بھی ان آیات کا سبق یہی ہے کہ ایمان صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی معاملات، باہمی اخوت، ایثار، ضرورت مندوں کی مدد، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے اور امت کے اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا نام بھی ہےموجودہ حالات میں ہمیں اختلافات سے اوپر اٹھ کر محبت، تعاون اور خدمتِ خلق کے ذریعے ایک مضبوط اور بااخلاق معاشرہ تشکیل دینا چاہیےاللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
سیکرٹری آئرش مسلم سرکل
شکیل گلزار

اہم پیغام برائے اہلِ خانہ و احبابآئرلینڈ کی مقامی حکومت کی جانب سے حال ہی میں “Be Ready for Emergency” کے عنوان سے ایک م...
22/09/2026

اہم پیغام برائے اہلِ خانہ و احباب

آئرلینڈ کی مقامی حکومت کی جانب سے حال ہی میں “Be Ready for Emergency” کے عنوان سے ایک مختصر کتابچہ جاری کیا گیا ہے، جس میں مختلف ہنگامی حالات، قدرتی آفات اور غیر متوقع حالات کے لیے پیشگی تیاری کے بارے میں مفید ہدایات دی گئی ہیں کتابچے میں خاص طور پر ضروری دستاویزات کو ایک محفوظ جگہ پر رکھنے، پینے کے پانی، خوراک، ضروری ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء کا مناسب ذخیرہ رکھنے اور ہنگامی صورتِ حال میں خاندان کے افراد کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی تاکید کی گئی ہےموجودہ عالمی حالات اور یورپ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ہمیں اس ہدایت کو خوف یا افواہ کے طور پر نہیں بلکہ احتیاطی اور پیش بندی کے اقدام کے طور پر لینا چاہیےکسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے بارے میں پیش گوئی کرنا مقصود نہیں، لیکن ایک ذمہ دار فرد اور خاندان کی حیثیت سے چند ضروری اشیاء اور دستاویزات کو پہلے سے منظم رکھنا دانش مندی ہےلہٰذا ہر گھرانہ اس کتابچے کا ضرور مطالعہ کرے، اپنی بنیادی ضروریات کا جائزہ لے اور مناسب حد تک پیشگی تیاری کر لےاحتیاط خوف نہیں، ذمہ داری ہے؛ اور پیش بندی مشکل وقت میں بہت سے مسائل کو کم کر سکتی ہے
سیکرٹری آئرش مسلم سرکل
شکیل گلزار

THE AMAZING DUAA OF ASHAB E KAHAFDo you know when the young men of the cave ran to protect their Iman, they made a remar...
18/09/2026

THE AMAZING DUAA OF ASHAB E KAHAF

Do you know when the young men of the cave ran to protect their Iman, they made a remarkable du‘ā:

رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

“Our Lord! Grant us mercy from Yourself and guide us rightly through our ordeal.”
(Al-Kahf 18:10)

Notice what they asked for:

رَحْمَةً — Mercy
Because you cannot survive fitnah merely through your intelligence, knowledge or willpower. You need Allah to protect you.

رَشَدًا — Right direction
Because in times of fitnah, the hardest thing is not just knowing that something is wrong — it is knowing what to do, where to go, and which path leads back to Allah.

Even Yusuf عليه السلام, surrounded by temptation, acknowledged:

إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي
“…except those upon whom my Lord has mercy.”
— Yusuf 12:53

Perhaps this is one of the duaas we desperately need in our age.

An age where fitnah is in our pockets, screens, desires and surroundings.

Ya Allah, give us Your Rahmah so we are not swept away —
and give us Rushd so we know where to walk.

Because sometimes surviving fitnah is not about being stronger.

It is about being protected and guided.

Memorise this duaa and teach it to your family.

MA talks.


آئرش مسلم سرکل حلقہ پورٹلیش کے تحت قرآن فہمی کی کلاس میں سورۃ البقرہ کی آیات 243 تا 247 کا ترجمہ و تشریح، مولانا سید ابو...
16/09/2026

آئرش مسلم سرکل حلقہ پورٹلیش کے تحت قرآن فہمی کی کلاس میں سورۃ البقرہ کی آیات 243 تا 247 کا ترجمہ و تشریح، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف تفہیم القرآن کی روشنی میں پیش کی گئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو موت کے خوف کے بجائے اللہ کی راہ میں جدوجہد، اطاعتِ الٰہی، نظم و جماعت اور قربانی کا شعور دیا، بنی اسرائیل کے واقعات کے ذریعے یہ حقیقت واضح کی کہ محض دعوے اور خواہش کافی نہیں بلکہ آزمائش کے وقت ثابت قدمی اور عملی کردار ضروری ہے، حضرت طالوتؑ کے واقعے میں قیادت کے لیے مال و دولت نہیں بلکہ علم، صلاحیت اور جسمانی و اخلاقی اہلیت کو اہم قرار دیا گیا، جبکہ قرضِ حسنہ کے ذریعے یہ سبق دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں خلوص کے ساتھ خرچ کیا جانے والا مال حقیقت میں اللہ کے ہاں محفوظ سرمایہ ہے اور وہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس عطا فرماتا ہےآج کے حالات میں ان آیات کا پیغام ہمارے لیے یہ ہے کہ مشکلات، خوف، معاشی دباؤ اور باہمی اختلافات کے باوجود ہمیں اللہ پر توکل، اجتماعی نظم، اہل اور دیانت دار قیادت، ایثار، خدمتِ خلق اور اپنے مال و صلاحیتوں کو خیر کے لیے استعمال کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے؛ کیونکہ قرآن ہمیں صرف ماضی کے واقعات نہیں سناتا بلکہ ہر دور کے انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کو عمل، قربانی اور ذمہ داری کے ذریعے ثابت کرے
سیکرٹری آئرش مسلم سرکل
شکیل گلزار

Address

Dublin

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irish Muslim Circle - IMC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share