27/01/2026
https://www.facebook.com/share/p/1BhCjjqAnx/
آج ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ ہمارے ملک میں ڈاکٹروں سے 32 سے 36 گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹیاں لینا ایک معمول بن چکا ہے، جو نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ جدید دنیا میں ورک لائف بیلنس کے بنیادی اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہم ویژن 2027 اور نظامِ صحت میں اصلاحات کی بات کر رہے ہیں، وہاں یہ سوال اُٹھانا ناگزیر ہے کہ کیا ہم اپنے سب سے اہم اور ہنر مند انسانی سرمائے (Doctors – Highly Skilled Workforce) کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
اتنی طویل ڈیوٹیز، بغیر مناسب آرام، اضافی مراعات یا تنخواہ کے، ڈاکٹروں کو جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دیتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر نہ صرف ڈاکٹر کی اپنی صحت پر پڑتا ہے بلکہ مریضوں کی نگہداشت (Patient Care) کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے، جو کسی بھی ہیلتھ سسٹم کے لیے ایک خطرناک امر ہے۔
بدقسمتی سے، ہمارے نظام میں ایک طرف شفٹس کا غیر ضروری بوجھ ہے اور دوسری طرف ڈاکٹروں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اسی تضاد کے باعث ملک کا قابل اور محنتی نوجوان، جو اس قوم کی کریم ہے، مایوسی کا شکار ہو کر بیرونِ ملک بہتر مواقع کی تلاش میں نکل رہا ہے۔ یہ برین ڈرین صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے قومی نظامِ صحت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔
اس تمام صورتحال میں ہمارے سینئر ڈاکٹروں، پالیسی میکرز اور اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ زمینی حقائق کو سمجھیں، ڈاکٹروں کے لیے مناسب ڈیوٹی آورز، شفاف شفٹ سسٹم، ترقی کے مواقع اور مراعات کو یقینی بنائیں، تاکہ نہ صرف نوجوان ڈاکٹر ملک میں رہ کر کام کرنے کو ترجیح دیں بلکہ مریضوں کو بھی معیاری علاج میسر آ سکے۔
اگر ہم واقعی ایک مضبوط، مؤثر اور پائیدار ہیلتھ سسٹم چاہتے ہیں تو ہمیں ڈاکٹر کو محض ایک مشین نہیں بلکہ ایک انسان سمجھنا ہو گا۔
From: Dr Fasih Mehmod Satti
VP External Affairs PIMSA