Pakistan Journalists Club Regd. Greece

Call Directions Website Contact the organization

Pakistan Journalists Club Regd. Greece Pakistan Journalists Club ® Greece is an independent non-profit association.

البدر نیوز یورپ
18/10/2026

البدر نیوز یورپ

04/10/2026
26/09/2026
یونان میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل میں دن بدن اضافہسماجی تنظیموں کی کارکردگی، کمیونٹی سینٹر کی ضرورت اور نئی نسل کے مست...
26/09/2026

یونان میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل میں دن بدن اضافہ

سماجی تنظیموں کی کارکردگی، کمیونٹی سینٹر کی ضرورت اور نئی نسل کے مستقبل پر اہم سوالات
(ایک سروے)
یونان میں پاکستانی کمیونٹی گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی اور خدمات کا اظہار کر رہی ہے۔ پاکستانی کاروباری افراد، مزدور، طلبہ، صحافی، سماجی کارکن اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد یونانی معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کو درپیش بعض بنیادی مسائل بھی توجہ طلب ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ سماجی تنظیمیں اور کمیونٹی رہنما پاکستانی برادری کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ سطح پر سنجیدہ اور منظم کوششیں کر رہے ہیں؟ اگر مختلف تنظیمیں اپنی اپنی سطح پر کام کر رہی ہیں تو ان کوششوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے مؤثر نظام کیوں قائم نہیں ہو سکا؟

کمیونٹی سینٹر کی ضرورت

پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک مستقل کمیونٹی سینٹر کا قیام ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ایسا مرکز جہاں پاکستانی خاندانوں، نوجوانوں، خواتین اور بچوں کے لیے تعلیمی، ثقافتی، سماجی اور رہنمائی کی سرگرمیاں منظم انداز میں منعقد کی جا سکیں۔

کمیونٹی سینٹر نہ صرف پاکستانی ثقافت اور روایات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخی پس منظر سے جوڑنے کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔

نئی نسل اور اردو زبان کا مسئلہ

یونان میں پروان چڑھنے والی پاکستانی نسل کے سامنے ایک اہم چیلنج اپنی قومی زبان اور ثقافتی شناخت سے تعلق برقرار رکھنا بھی ہے۔ بہت سے بچے یونانی اور دیگر زبانوں کے ماحول میں بڑے ہو رہے ہیں، جس کے باعث اردو سے ان کی واقفیت محدود ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

اسی طرح والدین کی خواہش کے مطابق بچوں کے لیے دینی تعلیم، اردو زبان اور پاکستانی ثقافت سے متعلق باقاعدہ اور معیاری تعلیمی پروگراموں کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے۔

اگر اس سلسلے میں آج منظم اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں نئی نسل اور پاکستانی معاشرے کے درمیان لسانی اور ثقافتی فاصلے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کیا کمیونٹی ایک قیادت کے تحت متحد ہو سکتی ہے؟

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا یونان میں موجود مختلف طبقات، تنظیموں اور گروہوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے کوئی ایسا متفقہ کمیونٹی نظام یا نمائندہ فورم تشکیل دیا جا سکتا ہے جو مختلف رائے رکھنے والے افراد اور تنظیموں کو ساتھ لے کر چلے؟

ضروری نہیں کہ پوری کمیونٹی کی نمائندگی صرف ایک فرد کرے۔ ممکن ہے کہ ایک مشترکہ کونسل یا نمائندہ پلیٹ فارم زیادہ مؤثر ثابت ہو، جس میں مختلف تنظیموں، صحافیوں، کاروباری افراد، مذہبی و سماجی شخصیات، نوجوانوں اور خواتین کی مناسب نمائندگی ہو۔

تنظیموں کے باہمی اختلافات — مسئلہ یا اختلافِ رائے؟

کمیونٹی میں مختلف تنظیموں کا موجود ہونا بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مختلف تنظیمیں اپنے اپنے شعبوں میں خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ تاہم اگر باہمی اختلافات ذاتی یا تنظیمی تنازعات میں تبدیل ہو جائیں اور اس کے نتیجے میں مشترکہ کمیونٹی مسائل پسِ پشت چلے جائیں تو اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔

اختلافِ رائے جمہوری اور اجتماعی زندگی کا حصہ ہے، لیکن اختلافات کو مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد کے ذریعے حل کرنا کمیونٹی کی اجتماعی طاقت میں اضافہ کر سکتا ہے۔

صحافی برادری کی ذمہ داری

کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنے میں پاکستانی صحافی برادری کا کردار بھی اہم ہے۔ صحافیوں کی ذمہ داری صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود نہیں بلکہ مختلف طبقات کی آراء کو سامنے لانا، متعلقہ اداروں کا مؤقف شائع کرنا اور مثبت حل کے لیے مکالمے کا ماحول پیدا کرنا بھی صحافتی ذمہ داری کا حصہ ہو سکتا ہے۔

اسی تناظر میں یونان میں پاکستانی صحافی برادری سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ:

کیا ہماری صحافت کمیونٹی کے مسائل کو صرف خبروں تک محدود رکھ رہی ہے، یا ان مسائل کے ممکنہ حل کے لیے بھی مؤثر مکالمہ پیدا کر رہی ہے؟

اصل ضرورت: اختلاف نہیں، مشترکہ لائحۂ عمل

پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل ایک فرد یا ایک تنظیم کے ذریعے حل ہونا مشکل ہیں۔ اس کے لیے مختلف تنظیموں، سماجی رہنماؤں، صحافیوں، کاروباری افراد، مذہبی و تعلیمی شخصیات اور نوجوانوں کو ایک مشترکہ لائحۂ عمل پر کام کرنا ہوگا۔

قانونی رہنمائی، دستاویزات، روزگار، تعلیم، نئی نسل، زبان و ثقافت، خواتین اور نوجوانوں کے مسائل، یونانی اداروں سے رابطہ اور پاکستانی سفارتی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون جیسے معاملات پر موضوعاتی کمیٹیاں اور مشترکہ منصوبے تشکیل دیے جا سکتے ہیں

پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے نائب صدر پرویز احمد مغل کے مطابق
یونان میں پاکستانی برادری کے مسائل کا مستقل حل کسی ایک شخصیت یا تنظیم کے پاس نہیں بلکہ اجتماعی، منظم اور متحد کوششوں میں ہے۔ ہماری کمیونٹی کو امیگریشن، قانونی معاملات، روزگار، مزدوروں کے حقوق، صحت، تعلیم، حادثات ، یہاں یونان میں وفات پانے والے کی میتوں کو پاکستان بیجھنا اور دیگر فلاحی مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے مضبوط اور مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔

جہاں تک موجودہ سماجی شخصیات کی کارکردگی کا تعلق ہے، میری رائے میں بہت سے افراد اپنی استطاعت کے مطابق کمیونٹی کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ کسی بھی شخصیت کی کارکردگی کا اصل معیار تقریبات یا بیانات نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس نے عملی طور پر کتنے لوگوں کے مسائل حل کروائے اور کمیونٹی کو کتنا فائدہ پہنچایا۔

تمام پاکستانی تنظیموں کا اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم یا فیڈریشن کے قیام پر غور کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہو سکتی ہے۔ ایسی فیڈریشن غیر سیاسی، غیر فرقہ وارانہ، شفاف اور جمہوری بنیادوں پر قائم ہو، جس میں تمام تنظیموں کو مساوی نمائندگی حاصل ہو اور فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں۔

میری نظر میں ہمیں شخصیات کے بجائے ایک مضبوط نظام، باہمی اتحاد اور عملی خدمت کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر یونان میں پاکستانی تنظیمیں ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ مسائل پر ایک آواز بن جائیں تو کمیونٹی کی اجتماعی آواز زیادہ مؤثر انداز میں متعلقہ یونانی اور پاکستانی اداروں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ اتحاد ضرور ہونا چاہیے، لیکن ایسا اتحاد جو کسی ایک فرد یا تنظیم کے گرد نہیں بلکہ پوری پاکستانی کمیونٹی کے مفاد، شفافیت اور خدمت کے اصولوں پر قائم ہو۔ ناک ذاتی پسند ، ناپسند ہو۔
معروف صحافی تنویر جرال کی رائے
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔
یونان کیا پاکستان اور دنیا کے کسی بھی کونے میں کمیونٹی کا ایک ہی حل ہوتا ہے۔
آپسی اتحاد اتفاق محنت لگن جذبہ ایمانداری دیانتداری اپنے عام شہریوں کی بنیادی تربیت تعلیم صحت جیسے مسائل۔۔
سیاست میں مثبت اختلاف رائے اپنی اپنی پارٹی جماعت کا واضح منشور ہونا لازم ہے۔
جس سے کمیونٹی کا فائدہ ہو نہ کہ نقصان۔
صرف اپنی ذات کا فائدہ سوچنے کی بجائے اگر پوری کمیونٹی اور ملک کا فائدہ سوچا جائے اور قومی ایشوز پہ سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد برقرار رکھا جائے تو ہم سب کی عزت بھی ہو گی پہچان بھی بنے گی اچھا نام بھی ہو گا۔
باقی جہاں تک سوال ہے کہ کوئی بہتر کر رہا ہے یا نہیں۔
تو غیر جانبداری سے یہی کہنا پڑتا ہے بنا نام لیے سوائے چند بڑوں کے باقی سب اپنی اپنی حد تک سوچتے ہیں۔
اس لئے اتنا بگاڑ ہے۔
اب وقت کی ضرورت ہے کہ سب اکٹھے ہو کر صاف شفاف ماحول میں آگے بڑھیں اور جس پہ کمیونٹی اعتماد کرت یونان میں اس کو ایک بار بھرپور موقع دیا جائے۔
ممتاز صحافی مہر ریاض کا کیمونٹی معاملات پر اظہار خیال

محترم صدر صاحب، السلام علیکم۔
میرے خیال میں یونان میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا بنیادی حل کسی ایک فرد یا ایک تنظیم کے پاس نہیں، بلکہ باہمی تعاون، اتحاد اور ایک مؤثر مشترکہ نظام میں ہے۔ ہماری کمیونٹی کو قانونی، سفارتی، سماجی، روزگار، دستاویزات اور نئی آنے والی پاکستانی کمیونٹی کی رہنمائی جیسے مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے، جن کے لیے اجتماعی کوشش زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
جہاں تک موجودہ سماجی شخصیات کی خدمات کا تعلق ہے، میرے نزدیک بہت سے افراد اپنی اپنی سطح پر اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں اور ان کی خدمات کو سراہنا چاہیے، تاہم کسی ایک شخصیت یا تنظیم کی کارکردگی پر مکمل اطمینان یا عدم اطمینان کا فیصلہ کرنے کے بجائے باقاعدہ مشاورت، عملی نتائج اور کمیونٹی کے مسائل کے حل کو معیار بنانا چاہیے۔
میری ذاتی رائے میں یونان میں موجود مختلف پاکستانی تنظیموں کو اپنے اپنے پلیٹ فارم برقرار رکھتے ہوئے ایک مشترکہ فیڈریشن یا رابطہ فورم کے تحت اکٹھا ہونا چاہیے۔ اس سے تنظیموں کی شناخت بھی برقرار رہے گی اور بڑے اجتماعی مسائل پر ایک مشترکہ اور مضبوط آواز بھی سامنے آ سکے گی۔
البتہ اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ فیڈریشن سیاسی، ذاتی اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو، عہدے میرٹ اور باہمی اتفاق سے ہوں، فیصلے مشاورت سے کیے جائیں اور تمام تنظیموں کو برابر نمائندگی دی جائے۔
ہم سب کا مقصد ایک ہی ہونا چاہیے کہ یونان میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو ذاتی یا گروہی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کے تحت حل کیا جائے۔ میری نظر میں اتحاد کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ کمیونٹی کے بہتر مستقبل کے لیے ہونا چاہیے۔

24/09/2026

رپورٹ ظفر ساہی

رپورٹ؛ناصر جسوکی
24/09/2026

رپورٹ؛ناصر جسوکی

22/09/2026
پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے زیر اہتمام او پی ایف آگاہی مہم اور ممبرشپ کا آغاز——————————صحافی برادری کی خدمات کے اعتراف م...
21/09/2026

پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے زیر اہتمام او پی ایف آگاہی مہم اور ممبرشپ کا آغاز
——————————
صحافی برادری کی خدمات کے اعتراف میں او پی ایف کی جانب سے تعریفی اسناد تقسیم، چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا کا صحافیوں کی ایک سالہ ممبرشپ فیس ذاتی طور پر ادا کرنے کا اعلان
۔۔۔۔۔۔۔
ایتھنز(البدر نیوز رپورٹ )پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے زیر اہتمام پاکستان اوورسیز فاؤنڈیشن (OPF) کی اہمیت، اس کی ممبرشپ اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے ایک خصوصی آگاہی پروگرام اور ممبرشپ مہم کا آغاز کیا گیا۔
اس موقع پر پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا نے صحافی برادری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ پاکستان جرنلسٹ کلب یونان سے وابستہ صحافیوں کی ایک سال کی او پی ایف ممبرشپ فیس اپنی جیب سے ادا کریں گے۔ ان کے اس اعلان کو شرکائے تقریب نے صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
تقریب میں پاکستان اوورسیز فاؤنڈیشن کی جانب سے یونان میں مقیم پاکستانی صحافی برادری کی کمیونٹی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں جاری کی گئی تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے صدر بدر منیر سندھو نے شرکاء کو او پی ایف کے کردار، ممبرشپ کی اہمیت اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل، ان کی فلاح و بہبود اور پاکستان سے ان کے رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
او پی ایف آگاہی پروگرام کے ساتھ پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا اور صدر بدر منیر سندھو کی جانب سے سماجی، سیاسی و کاروباری شخصیات اور پاکستان سے یونان تعطیلات گزارنے کر واپس آنے والے جرنلسٹ کلب کے صحافی دوستوں پرویز احمد مغل،ناصر جسوکی،عبدالخالق چیمہ اور مہر ریاض کے اعزاز میں ایک پروقار عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا۔
تقریب میں سماجی و سیاسی شخصیت چوہدری غلام سرور بدھوال، چوہدری مدثر خادم آف سوہل، چوہدری شبیر آف دھامہ، محمد خان آف کرنانہ، راجہ سجاد آف موہری شریف سمیت پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور صحافی برادری نے بھرپور شرکت کی۔
اس موقع پر پاکستان اوورسیز فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستانی کمیونٹی کے لیے صحافیوں کی خدمات کے اعتراف میں جاری کی جانے والی تعریفی اسناد بھی شرکاء میں تقسیم کی گئیں۔ اسناد حاصل کرنے والے صحافیوں نے او پی ایف کی جانب سے اپنی خدمات کے اعتراف پر اظہارِ تشکر کیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سماجی و کاروباری شخصیات نے پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کی جانب سے دیارِ غیر میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنے، کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور پاکستان و یونان کے درمیان مثبت روابط کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک پاکستانی صحافی نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں بلکہ کمیونٹی کے مسائل اور مشکلات کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے چیئرمین ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا اور صدر بدر منیر سندھو نے تقریب میں شرکت کرنے والی تمام سماجی، سیاسی، کاروباری اور صحافتی شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جرنلسٹ کلب یونان صحافی برادری کے اتحاد، فلاح و بہبود اور پاکستانی کمیونٹی کی مثبت نمائندگی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جبکہ شرکاء نے پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کی جانب سے او پی ایف آگاہی مہم اور ممبرشپ کے آغاز کو صحافی برادری کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔

رپورٹ پرویز مغل
18/09/2026

رپورٹ پرویز مغل

سیما تاری (پرویز احمد مغل) انٹرنیشنل مرکز منہاج القرآن کے زیرِ اہتمام مسجد ریاض الجنہ کی دو لاکھ ستر ہزار یورو کی خطیر رقم سے خریداری کی خوشی میں سیما تاری اور گردونوا...

Address

Ag. Konstantinou No. 2
Athens
10431

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Journalists Club Regd. Greece posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Journalists Club Regd. Greece:

Shortcuts

Share