09/10/2026
⭐️ پرنسپل 'ر' پروفیسر راجہ علی افسر خان
🔰 ایک عہد ایک تاریخ
تحریر //// محمد مقصود صابر
استاد الاساتذہ جناب پروفیسر علی افسر خان صاحب کا تعلق گاوں مخدوم کوٹ حلقہ وسطی، ضلع باغ سے ہے،،
موصوف کے والد گرامی جناب صاحب دین خان "سردار" کے خطاب کے حامل علاقے کے مشہور و معروف، صاحب جاگیر و جائیداد نمایاں ترین زمیندار تھے، علاوہ ازیں شعبہ طب میں کمال درجہ مہارت رکھتے تھے، نامور یونانی حکیم، صاحب علم و عمل، عامل، کامل اور کہنہ مشق معالج اور ایک بہترین جہاندیدہ شخصیت تھے۔۔۔۔
صاحب دین صاحب مرحوم نہایت ذہین و فطین معاملہ فہم اور کمال درجہ کے منصف مزاج انسان جن کی باغ شہر کی کچہری/عدالت کے اندر جج کیساتھ بطور accessar ایک نشست مخصوص تھی۔۔ اور فیصلہ میں انکی رائے کو پذیرائی دی جاتی اور ماہرانہ رائے کو مقدم رکھا جاتا۔۔۔۔۔
پروفیسر راجہ علی افسر صاحب تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔۔۔۔
بڑے بھائی محمد انور خان سپرنٹنڈنٹ ڈی سی آفس راولاکوٹ، منجھلے BD ممبر عبدالمجید خان منتخب کونسلر تھے
پروفیسر علی افسر خان صاحب نے ڈوگرہ رحیم میں پرائمری اور مڈل سٹینڈرڈ امتحانات میں ریاست بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا، ریاست میں اپنی اہلیت کا لوہا منوایا اور سرکار سے سکالرشپ بھی حاصل کی۔۔۔۔
موصوف نے عملی زندگی کا آغاز محکمہ تعلیم سے کیا اور 1960 کی دھائی میں بی اے، بی ٹی۔ BA, BT اور ازاں بعد ھسٹری، اسلامیات اور پولیٹیکل سائنس کے مضامین میں ٹرپل ایم اے اور ایم ایڈ بھی کیا۔۔۔۔۔ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ کالج میں بطور لیکچرار تعینات ہوئے۔۔۔ تعلیمی سماجی اور طلباء و طالبات کے حلقوں میں بابائے سیاسیات کا خطاب پایا،، بڑی بڑی علمی شخصیات موصوف کے تجزیہ، علم، فہم و فراست کے سامنے زانوئے تلمذ رہتے، اور ہر اجلاس و محفل میں مدلل و علمی گفتگو کے دوران اہل زبانوں کو چپ سی لگ جاتی، تنقید میں انداز جداگانہ، نہایت لطیف، گہرے، مہذب الفاظ کا استعمال اور سمجھانے کا انداز دلنشین، اور ایسا دلآویز کہ لفظ لفظ روح میں اترتا جائے۔۔۔
پروفیسر صاحب مرحوم انگریزی فارسی, پنجابی، ھندی اور اردو زبانوں پر مکمل عبور کے علاوہ اسلامیات، تاریخ اسلام اور تاریخ عالم پر مکمل دسترس کیساتھ ساتھ صاحب طرز ادیب تاریخ دان، اعلی مقرر، اور نابغہ روزگار متفرد یکتاء ۔ معلم، بہترین تعلیمی منتظم اور نامور پروفیسر تھے،، اور نہایت فرض شناسی اور دیانت داری سے اپنے فرائض منصبی ادا کیے، دور دراز جائے تعیناتی پر پیدل چل کر بھی بروقت پہنچ جانا شیوہ اور اک وصف خاص تھا
گورنمنٹ کالج ملوٹ، ڈگری کالج حویلی کہوٹہ ، ڈگری کالج ھجیرہ، ڈگری کالج پلندری، ڈگری کالج دھیرکوٹ، پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج باغ و دیگر اداروں میں بطور پرنسپل خدمات سرانجام دیں۔۔۔
(پروفیسر صاحب مرحوم راقم الحروف محمد مقصود صابر کے استاد محترم اور سسر Fother-in-law بھی تھے)
مرحوم نے ایک لمبے عرصے تک تعلیمی خدمات کے علاوہ سماجی، ملی اور معاشرتی حلقوں میں بطور ماہر تعلیم، ریفارمر، مصلح، اور ایک رہنما کی حیثیت سے طویل خدمات سرانجام دیں،،،
مرحوم کے دو بیٹے پروفیسر راجہ محمد آصف کیمسٹری PG کالج باغ، اور راجہ محمد رضوان بھی محکمہ تعلیم سے ہی منسلک ہیں
پروفیسر راجہ علی افسر خان صاحب نے تقریباً نوے سالہ زندگی میں اچھی قابل رشک صحت پائی پیدل چلنا مشغلہ رہا
مرحوم پروفیسر علی افسر خان صاحب نے اپنی حیات میں شبانہ روز محنت شاقہ سے چہار سو علم کی قندیلیں روشن کیں
کچھ عرصہ علیل رہے اور امسال 05 جنوری 2026 کو ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ایم ایچ ملٹری ھاسپیٹل راولپنڈی میں اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی،
زندگی انسان کی، مانند ، مرغ خوشنوا
شاخ پہ بیٹھا، کوئی پل، چہچہایا، اڑ گیا
مرحوم پروفیسر صاحب باعمل، راسخ العقیدہ شعوری مسلمان، اور رب کی زمین پر رب کے نظام و اقامت دین کے پر عزم داعی و علمبردار تھے،
ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں ھاء میں ہے۔۔۔۔
خدا رحمت کنند ایں پاک طینت راء