Only Democracy

Only Democracy We are only supporters of Democracy !!!�

پاکستان کا جگرا دیکھو! آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ن...
16/04/2026

پاکستان کا جگرا دیکھو!

آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ اس خبر میں وہ سب کچھ ہے جو سفارتکاری کی نصابی کتابوں میں نہیں ملتا۔

ایک فوجی سربراہ، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا، ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا ہے جس پر بیک وقت دو ایٹمی طاقتیں حملہ آور ہیں۔ جس کا رہبر اعلیٰ مارا جا چکا ہے۔ جس کے فوجی سربراہ مارے جا چکے ہیں۔ جس کا نیا رہبر زخمی ہے اور زیر زمین ہے۔ جس کی فضائی حدود میں امریکی اور اسرائیلی طیارے گشت کرتے ہیں۔ جو بندہ اس کا استقبال کرنے آیا ہے، اسرائیل نے اس کے سر کی قیمت لگائی ہوئی ہے۔ اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل کیموفلاج وردی میں اترا ہے۔

تاریخ میں ایسا کب ہوا ہے؟
1942 میں ونسٹن چرچل جنگ کے عین دوران ماسکو گیا تھا۔ جرمن فضائیہ مشرقی محاذ پر بم گرا رہی تھی۔ سوویت یونین لڑ رہی تھی۔ چرچل نے خطرہ مول لیا کیونکہ پیغام ذاتی طور پر پہنچانا تھا: "ہم تمھارے ساتھ ہیں۔"
وہ طیارے میں مصر سے ماسکو گیا۔ راستے میں جرمن لڑاکا طیاروں کا خطرہ تھا۔ مگر گیا۔ کیونکہ سٹالن کو بتانا تھا: "دوسرا محاذ کھولیں گے۔" اعتماد سازی کے لیے جسمانی موجودگی ضروری تھی۔ فون سے نہیں ہونی تھی۔ خط سے نہیں ہونی تھی۔ صرف آمنے سامنے بیٹھ کر ہونی تھی۔

2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان پیدل چل کر شمالی کوریا کی سرحد عبور کر گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بھاری مسلح سرحد۔ دونوں ممالک تکنیکی طور پر جنگ میں ہیں۔ مون نے کم جونگ ان کا ہاتھ پکڑا اور سرحدی لکیر عبور کی۔ وہ تصویر تاریخ بن گئی۔ ٹرمپ سنگاپور سمٹ اسی تصویر کے بعد ممکن ہوا۔

آج عاصم منیر نے وہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایران پر حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ فرضی نہیں۔ تکنیکی نہیں۔ حقیقی بم گر رہے ہیں۔ حقیقی لوگ مر رہے ہیں۔ ایرانی فضائی حدود امریکی اور اسرائیلی نشانے پر ہے۔ اور اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل داخل ہوا ہے۔ دورہ براڈکاسٹ ہوا ہے، تصویریں اتری ہیں اور یہ سب واضح پیغام ہیں.

سفارتکاری میں اعتماد سازی کئی سطحوں پر ہوتی ہے۔ سب سے نچلی سطح: پیغام بھیجنا۔ فون کرنا۔ خط لکھنا۔ درمیانی سطح: سفیر بھیجنا۔ وزیر خارجہ بھیجنا۔ بلند ترین سطح: خود جانا۔ اور سب سے بلند ترین سطح: خطرے میں خود جانا۔ جب آپ دشمن کی فائرنگ رینج میں داخل ہو کر دوست سے ملیں تو آپ اعتماد نہیں بنا رہے، آپ اعتماد بن جاتے ہیں۔

منیر جنگی وردی میں تہران اترے ہیں۔ یہ وردی اتفاقی نہیں ہے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایرانیوں کا استقبال بھی جنگی وردی میں کیا تھا اور 12 اپریل کو وینس سے ملاقات سول سوٹ میں کی تھی۔ وردی کا انتخاب شعوری ہے.

ایران کی قیادت زیر زمین ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے سامنے نہیں آ سکتے. اس ماحول میں ایرانی قیادت کے لیے کسی سے ملنا خود میں خطرہ ہے۔ ہر ملاقات ممکنہ لیک ہے۔ ہر لیک ممکنہ ہدف بنانے کا ذریعہ ہے۔مگر منیر آیا ہے۔ اور اس کے آنے کا مطلب ہے: "جب تک میں آپ کی سرزمین پر ہوں، آپ محفوظ ہیں۔ کوئی اسرائیلی یا امریکی حملہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ اگر حملہ ہوا تو پاکستان کا فیلڈ مارشل بھی نشانے پر ہو گا۔ اور دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کے فوجی سربراہ کو نشانہ بنانا وہ سرخ لکیر ہے جو کوئی عبور نہیں کرے گا۔"

یہ انسانی ڈھال نہیں ہے۔ یہ اسٹریٹیجک ڈھال ہے۔ منیر کی تہران میں موجودگی ایران کو وہ سیکورٹی بلینکٹ فراہم کرتی ہے جو کوئی قرارداد، کوئی بیان، کوئی فون کال فراہم نہیں کر سکتی۔ ایرانی قیادت اپنی خفیہ کمین گاہوں سے باہر نکل کر منیر سے مل سکتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جب تک پاکستانی فیلڈ مارشل ایرانی سرزمین پر ہے، کوئی میزائل نہیں آئے گا۔ اگر ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ 'ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے' تو پاکستانیوں نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ہے.

بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق کسی ملک کا فوجی سربراہ کسی ایسے ملک کا دورہ نہیں کرتا جو فعال جنگ میں ہو۔ وجوہات واضح ہیں: سیکورٹی خطرہ، غیرجانبداری پر سوال، اور حملہ آور فریق کو اشتعال۔ مگر منیر نے یہ سب پروٹوکول توڑ دیے ہیں۔ کیونکہ پروٹوکول عام حالات کے لیے ہوتے ہیں اور یہ عام حالات نہیں ہیں۔

منیر تہران میں وہ کام کر رہا ہے جو فون سے نہیں ہو سکتا: ایرانی قیادت سے آمنے سامنے بیٹھ کر، ان کی آنکھوں میں دیکھ کر، ان کے خدشات سن کر، ان کی سرخ لکیریں سمجھ کر، اور پھر واپس جا کر ٹرمپ کو بتانا کہ ایران کہاں تک آ سکتا ہے اور کہاں نہیں آئے گا۔ یہ وہ کام ہے جو ثالث خود کرتا ہے۔ قاصد نہیں بھیجتا۔ خود جاتا ہے۔

سفارتکاری میں ایک اصول ہے جو نصابی کتابوں میں نہیں لکھا مگر ہر تجربہ کار سفارت کار جانتا ہے: "جب آپ ثالث ہوں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو آپس میں دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کے گھر جائیں تو آپ ثالث نہیں رہتے، آپ ضامن بن جاتے ہیں۔"

پاکستان، جو کچھ کرکے دکھا رہا ہے، اس سب کے لیے بڑا جگرا چاہیے۔ منیر آج ضامن بن گیا ہے۔ پاکستان ضامن بن گیا ہے۔ اسلام آباد پراسیس ضامن بن گیا ہے اور انشاء اللہ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اچھی خبر ہے۔ اب اللہ کرے، یہ اسلام آباد اکارڈ باقاعدہ ایک معاہدے کی شکل اختیار کرے اور اس کے ثمرات پاکستانی عوام تک پہنچ سکیں۔
پاک پروردگار پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مخت...
12/04/2026

12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: "امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم۔"

وینس نے کہا: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔" پھر کہا: "ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔"

سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے۔"

پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: "ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔"

اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:

پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ "شاندار میزبان" کہا۔ "ناکامی ان کی وجہ سے نہیں" کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے گا۔

دوسرا: ایران پر الزام رکھا۔ "انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں" کہا۔ مگر دروازہ بند نہیں کیا۔ "امید ہے دیکھیں گے" کہا۔ "ابھی تک" کے الفاظ استعمال کیے۔ "ابھی تک" کا مطلب ہے "ابھی نہیں مگر شاید بعد میں۔"

تیسرا: ایٹمی نکتے کو مرکزی بنایا۔ آبنائے ہرمز نہیں، لبنان نہیں، منجمد اثاثے نہیں۔ ایٹمی ہتھیار۔ یہ ٹرمپ کا بھی تازہ ترین موقف ہے جو اس نے جمعے کو واضح کیا تھا: "ایٹمی ہتھیار نہیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے۔" وینس نے ٹرمپ کے بیانیے سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ وفادار رہا۔

مگر ایرانی طرف سے کہانی مختلف ہے۔

ایران کی حکومت نے ایکس پر لکھا: "14 گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے ہیں۔ کچھ اختلافات باقی ہیں مگر مذاکرات جاری رہیں گے۔" ایرانی ریاستی ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کو جاری رہیں گے۔ سی این بی سی نے تصدیق کی۔ یعنی ایران نہیں مانتا کہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کہتا ہے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک وقفہ ہے۔

فرق سمجھیں: وینس کہتا ہے "ہم واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔" ایران کہتا ہے "مذاکرات جاری رہیں گے۔" یہ دو مختلف بیانیے ہیں اور دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں۔ وینس واپس جا رہا ہے مگر تکنیکی ٹیمیں رہ سکتی ہیں۔ سیاسی سطح کا دور ختم ہوا مگر ماہرین کی سطح کا دور جاری رہ سکتا ہے۔

یہاں ایک بات اور سمجھنی ضروری ہے۔ وینس نے "quite flexible" اور "quite accommodating" کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ سفارتکاری میں اپنی پوزیشن ظاہر کرنے کے لیے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر فریق کہتا ہے "ہماری پوزیشن واضح ہے۔" وینس نے کہا "ہم لچکدار تھے۔" اس کا مطلب ہے کہ وینس اندرونی طور پر جانتا ہے کہ امریکی پوزیشن میں کمزوری تھی اور وہ عوام کو پیغام دے رہا ہے: ہم نے پوری کوشش کی، ناکامی ہماری وجہ سے نہیں۔

ایم ایس ناؤ نے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا تھا کہ وینس کے لیے یہ مذاکرات "زہر میں بجھا ہوا پیالہ" ہیں۔ اگر کامیابی ہو تو سہرا ٹرمپ کا ہو گا۔ اگر ناکامی ہو تو الزام وینس پر آئے گا۔ اور اگر جنگ بندی ٹوٹے تو "ٹرمپ اپنے نائب صدر کو بس کے نیچے پھینک دے گا۔" کرسچین سائنس مانیٹر نے سابق امریکی خصوصی ایلچی مچل ریس کا حوالہ دیا: "آپ مہاتما گاندھی بن کر بھی امریکہ کی نمائندگی میں آئیں تو ایرانیوں پر اس وقت اثر نہیں ہو گا۔" سٹمسن سنٹر کی بربارا سلاوین نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مطالبات اتنے دور ہیں کہ پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔

اب سب سے اہم سوال: جنگ بندی کا کیا ہو گا؟

جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ وینس بغیر معاہدے کے واپس جا رہا ہے مگر ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ ایکسیوز نے لکھا: "مذاکرات کا تعطل دو ہفتے کی جنگ بندی کو غیر یقینی صورتحال میں رکھتا ہے اور جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور بڑھنے کا امکان ہے۔"

وینس نے ایک اور جملہ کہا جو نوٹ کرنے کا ہے: "ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں، جن نکات پر ہم انھیں جگہ دینے کو تیار ہیں اور جن پر نہیں ہیں، وہ بھی واضح کر دیے ہیں۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ واضح ہونے کی کوشش کی اور انھوں نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

"انھوں نے فیصلہ کیا" اور "ہم نے فیصلہ کیا" میں فرق ہے۔ وینس نے الزام ایران پر رکھا۔ مگر ذرا ولی نصر کی بات یاد کریں: ایران سمجھتا ہے کہ وٹکاف اور کشنر کو مسائل پر گرفت نہیں تھی۔ کیا آج رات بھی وہی ہوا؟ 71 ماہرین نے تکنیکی نکات اٹھائے اور تین آدمیوں کے پاس ان کا جواب نہیں تھا؟ ابھی یہ واضح نہیں ہے۔ ایرانی طرف سے تفصیلی بیان آنا باقی ہے۔

فی الحال حقائق یہ ہیں:

اکیس گھنٹے مذاکرات ہوئے۔ تین رسمی دور ہوئے۔ پہلا بالواسطہ، دوسرا براہ راست، تیسرا تکنیکی۔ ساتھ کھانا کھایا گیا۔ 47 سال بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ ایٹمی عہد، آبنائے ہرمز اور لبنان تین بڑے اختلافات رہے۔ وینس واپس جا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ پاکستان کو دونوں طرف سے عزت ملی۔

مگر سب سے بڑی بات وہ ہے جو وینس نے سب سے پہلے کہی: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔"

یہ جملہ سفارتی زبان میں سرٹیفیکیٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غالباً اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ ثالث بھی پاکستان ہو گا۔

معاہدہ نہیں ہوا مگر دروازہ بھی بند نہیں ہوا۔ وینس نے "ابھی تک" کہا ہے "ختم" نہیں کہا۔ ایران نے "وقفہ" کہا ہے "ناکامی" نہیں کہا۔ اور اس "ابھی تک" اور "وقفے" کے درمیان جو جگہ ہے وہیں پاکستان کھڑا ہے۔

اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ اکیس گھنٹوں میں 47 سال کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ اکیس گھنٹوں میں سرخ لکیریں واضح ہوئی ہیں۔ اکیس گھنٹوں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ اور جب آنکھوں میں دیکھنے کا مرحلہ آ جائے تو بم گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔

22 اپریل قریب ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ ان دس دنوں میں دو میں سے ایک بات ہو گی: یا تو ماہرین کی سطح پر بات آگے بڑھے گی اور وینس دوبارہ آئے گا۔ یا جنگ بندی ختم ہو گی اور بم دوبارہ گریں گے۔

پاکستان نے اپنا کام کر دکھایا. اب دنیا کے باقی چاچے مامے درمیان میں آئیں. . اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر 21 ویں صدی کے خون ریز تنازعہ میں امن کے لیے مہلت پیدا کرنے کی کوشش کی. دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حریفوں کو سامنے لا بٹھایا. شاباش پاکستان!

کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست!

کیا تم نے دیکھا نہیں تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔۔۔  بیشک دیکھ لیا تیرے وعدوں تیری نصرت کو دیکھ لیا اور تیر...
20/05/2025

کیا تم نے دیکھا نہیں تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔۔۔

بیشک دیکھ لیا
تیرے وعدوں تیری نصرت کو دیکھ لیا
اور تیری مدد سے قلیل کو کثیر پہ غالب آتے دیکھ لیا۔
اللہ اللہ! ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اپنی آنکھوں سے ج ہ ا د کے ثمرات دیکھ لئے یعنی چند گھنٹوں میں اپنے سے کئی گنا بڑی معیشت کو زمین بوس ہوتے دیکھا ایک ہی جھٹکے میں دشمن کے ستاسی بلین ڈالر کا کباڑا کر دیا۔ براہموس، ایس 400 اور رافیل کو فیل ہوتے دیکھ لیا۔ غرور کا سر نیچا ہوتے دیکھا اور انڈیا کوجنگ بندی کیلئے گڑگڑاتے ہوئے دیکھا۔ گجرات کے قصائی مودی کو اسمبلی میں ذلیل و خوار ہوتے ہوئے دیکھا۔ کْ ف ر کے ایوانوں پہ لرزہ طاری ہوتے دیکھا اور بلکتی سسکتی اْمہ کی انکھوں سے امید کی کرنیں پھوٹتے دیکھ لِیں۔
دیوالیہ پن کے خطرے سے دو چار ملک کو یک بیک عزت و شہرت کے تخت پر مسند نشین ہوتے دیکھا۔ اور پارہ پارہ قوم کو یکلخت بنیان المرصوص ہوتے دیکھا۔
اور دیکھا کہ پراکسیز کی وجہ سے جو عزت خاک میں ملی ہوئی تھی سر والوں کے براہ راست میدان جنگ میں کودنے سے آن کی آن میں اوج ثریا تک جا پہنچی۔ برکت اور اللہ کی مدد کو اپنی گنہ گار انکھوں سے دیکھا یعنی عین جنگ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ دس ہزار چار سو پوائنٹس کا اضافہ ہوا یہ برکت نہیں تو اور کیا ہے؟
بڑھک باز بدکار مشرف اور باعمل مگر خاموش م ج ا ہ د عاصم منیر میں فرق دیکھا اور "قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن" کی عملی تشریح دیکھی اور ٹینکوں میں تیل نہ ہونے کا عذر پیش کرنے والے کو اپنے گھر میں شرم سے زمین میں گڑتے ہوئے دیکھ لیا اور " کیا میں انڈیا پہ حملہ کردوں" اور حملہ کر دینے والوں میں فرق دیکھا۔
شر پسندوں اور بد نیت ہمسایوں کو دْم ٹانگوں میں دباتے ہوئے دیکھا۔ منافقین اور لبڑوتھوں کو اپنے منہ پہ کالک مَلتے دیکھ لیا۔
یااللہ تیرا شکر ہے جو تونے ہمیں یہ دن دکھایا۔
پاکستان زندہ باد 💕
پاک فوج زندہ باد❣️
حکومت پاکستان زندہ باد 💞

18/05/2025

LONDON:
Indians and Pakistanis celebrate peace and ceasefire in London.

یہ لوگ تھوڑے سہی۔۔۔
لیکن دونوں طرف کے جنگی جنون میں مبتلا لوگوں میں، یہی چند ہیں، جو دھرتی کا حسن ہیں۔
مودی نے ایڈوینچر کرنے کی کوشش کی، اسے تگڑا جواب مل گیا۔۔۔
اب امن پسند لوگوں کو آگے آنا چاہیئے۔۔۔
اور اپنی اپنی حکومتوں کو میز پر بیٹھنے کیلئے مجبور کرنا چاہیئے۔

ادھر ایک ریاست ہے جس کے پاس چار کھرب ڈالر سے زائد کے اثاثے ہیں دنیا کے طاقتور ترین خودمختار فنڈز میں شامل ہے اور جس کے پ...
15/05/2025

ادھر ایک ریاست ہے جس کے پاس چار کھرب ڈالر سے زائد کے اثاثے ہیں دنیا کے طاقتور ترین خودمختار فنڈز میں شامل ہے اور جس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے آرامکو جو ہر سال اربوں ڈالر منافع کماتی ہے سعودی عرب کی سالانہ آمدنی 336 ارب ڈالر کے قریب ہے اور صرف دفاعی بجٹ 140 ارب ڈالر سالانہ ہے یعنی پاکستان کے کل بجٹ سے کہیں زیادہ محمد بن سلمان اس وقت نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے سب سے زیادہ مؤثر رہنما کے طور پر ابھرے ہیں ان کی قیادت میں سعودی عرب نے “ویژن 2030” کے تحت اپنے ملک کو ایک نئی معیشت ایک نئی ٹیکنالوجی اور ایک نئی طاقت میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے وہ اب صرف تیل پر انحصار نہیں کر رہا بلکہ مصنوعی ذہانت، سیاحت، تعمیرات، دفاع اور تفریح کے میدانوں میں بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اب آتے ہیں ہمارے ہاں جہاں سوشل میڈیا پر کچھ “عقل مندوں” کو ہر وقت لگتا ہے کہ بس امریکہ سعودی عرب کو بیوقوف بنا رہا ہے کوئی کہتا ہے ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو پاگل بنا کر اسلحہ بیچ دیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ہو یا بائیڈن سعودی اسلحہ صرف برائے نام نہیں خریدتا بلکہ اس سے ایک پوری ملٹری انڈسٹری تیار کر رہا ہے سعودی عرب نہ صرف جدید ترین ہتھیار حاصل کر رہا ہے بلکہ ان کی مقامی تیاری کے لیے اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ بھی کر چکا ہے اور ہمارے ہاں؟ ایزی پیسہ سے پانچ ہزار روپے ادھار لے کر بھی واپس نہ کرنے والے “ماہرینِ معیشت” اور “خارجہ پالیسی کے استاد” اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ سعودی پالیسیوں پر تنقید کریں وہ محمد بن سلمان کو ناتجربہ کار کہتے ہیں جنہیں آج تک یہ بھی نہیں پتہ کہ کسی ریاست کو چلانے کے لیے معیشت، اسٹریٹجک سوچ، اور عالمی تناظر کو کیسے جوڑنا پڑتا ہے حقیقت یہ ہے کہ آج محمد بن سلمان دنیا کے بڑے رہنماؤں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرتے ہیں امریکہ، چین، روس، یورپ ہر جگہ ان کی پالیسیوں کو نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے جبکہ ہمارے کچھ تبصرہ نگار اب بھی یوٹیوب پر بیٹھ کر بغیر حقائق کے تبصرے کر رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے جذباتی بیانیہ سچ سے زیادہ اہم ہے۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟ہماری کمزوریاں کئی محاذوں پر واضح ہیں۔ سب سے پہلی کمزوری ہماری سفارتی سطح پر ہے۔ ہم دنیا کے سا...
15/05/2025

پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟

ہماری کمزوریاں کئی محاذوں پر واضح ہیں۔ سب سے پہلی کمزوری ہماری سفارتی سطح پر ہے۔ ہم دنیا کے سامنے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہمیں ایسے سفارت کاروں کی ضرورت ہے جن کی انگریزی بہترین ہو، جن کی گفتگو میں اعتماد ہو، اور جنہیں عالمی سیاست اور پاکستان کے پس منظر کا گہرا ادراک ہو۔ ہمیں بلاول اور حنا ربانی کھر کی ضرورت پڑی ہے جو مناسب نہیں ہے۔ اس کیلئے پہلے سے مکمل تیاری ہونی چاہئے تھی۔

اسی طرح صحافت کے محاذ پر بھی ہم کمزور ہیں۔ ہمیں چند نہایت باصلاحیت صحافی درکار ہیں جو عالمی میڈیا پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔ نجم سیٹھی نے پاکستان کی اچھی نمائیندگی کی ہے، جس نے کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے کئی اہم نکات نہایت موثر انداز میں رکھے، اور یہ ثابت کیا کہ اگر تیاری اور مطالعہ ہو تو ہم اپنا کیس بہتر طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

فارن آفس کو بھی ایک نئے انداز میں تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ صرف پالیسی بنانا ہی کافی نہیں، اس پالیسی کو دنیا کے سامنے کیسے پیش کرنا ہے یہ بھی ایک الگ مہارت ہے۔ ہمیں ہر کام کے لیے ماہر لوگ چاہئیں۔ جیسا کہ کرکٹ میں ہم نے غلطی کی کہ جو بندہ ٹی ٹوئنٹی میں اچھا ہے اسے ٹیسٹ میں بھی کھلا دیا، ویسا تجربہ ہم سفارت کاری میں نہ کریں۔ ہر میدان کے لیے الگ مہارت درکار ہے۔ ہمیں وہی لوگ سامنے لانے ہوں گے جو اپنی فیلڈ میں ایکسپرٹ ہوں اور جو دنیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف مؤثر اور باوقار انداز میں رکھ سکیں۔ وزارت خارجہ دن رات کام کرے، کچھ چیزیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کی جائیں۔ ہنگامی بنیادوں پر تھنک ٹینکس بنائے جائیں۔

ایک بڑی کمزوری ہمارا حکومتی نظام ہے۔ دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے مگر وہ پردے کے پیچھے رہتی ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہر طاقتور شخص چاہتا ہے کہ سامنے آئے، نام بنائے، کریڈٹ لے اور اپنی شناخت ہمیشہ کے لیے محفوظ کرے۔ یہ رویہ درست نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کردار پس منظر میں رکھنا چاہیے۔ سامنے جمہوری حکومت ہو، اور دنیا کو یہی تاثر جائے کہ ہم ایک قابلِ بھروسہ، مہذب اور مستحکم جمہوری ریاست ہیں۔ ہمیں ایک ایسا فارمولا بنانا ہو گا جو طے کرے کہ اسٹیبلشمنٹ کہاں تک جائے گی اور کہاں رکے گی، اور پھر سختی سے اس پر عمل بھی کروانا ہو گا۔

آخر میں جو سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے وہ ہماری معیشت ہے۔ ہمیں ایک مضبوط اقتصادی انجن چاہیے، جو جدید ہو، جو تیز ہو، جو سب کے لیے کام کرے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم سب کچھ خود ایجاد کریں، ہم دنیا سے اچھے ماڈل، اچھی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ پرزے درآمد کر کے خود انہیں اپنی ضرورت کے مطابق جوڑ لیں، لیکن اقتصادی انجن کام کرنے والا ہونا چاہیے۔ کاروبار کرنا ہر شہری کا حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے آسان سے آسان بنائے۔ ہمیں چاہیے کہ کم از کم دس سال کے لیے ایک ٹیکس فری نظام بنائیں تاکہ لوگ آزادانہ کاروبار کر سکیں۔ ریاست کو کاروبار میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ہمارا مقصد ہونا چاہیے کہ ہر رکاوٹ ختم کی جائے، ہر دیوار گرائی جائے، اور عوام کو آگے بڑھنے کا پورا موقع دیا جائے۔

یہ سب باتیں ہمیں اب سنجیدگی سے سوچنی ہوں گی۔ فارغ بیٹھنے کیلئے ہمارے پاس ایک سیکنڈ بھی نہیں ہے۔ وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے، اور ہمارا مقابلہ بہت سخت ہے۔ ہمیں ہر ایک میدان میں پروفیشنلز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سسٹمز بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی DOGE کی ضرورت ہے جو خرچہ کم کرنے پر توجہ نہ دے بلکہ کارکردگی بہتر کرنے پر جنگی بنیادوں پر کام کرے۔

کریڈٹ لینے کا خیال ترک کیجئے صرف کام کیجئے۔

سعودی عرب نے اپنا اسلامی بخار اتار کر ہمیں دے دیا اور خود لبرل سیکولر بننے کی طرف تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ خانہ کعبہ اور ...
14/05/2025

سعودی عرب نے اپنا اسلامی بخار اتار کر ہمیں دے دیا اور خود لبرل سیکولر بننے کی طرف تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں روبوٹ سے آذان، تلاوت قرآن، دعائیں اور فتویٰ وغیرہ شروع کر دیا گیا ہے۔

بیت اللہ کے سب سے مشہور امام شیخ عبد الرحمن السدیس نے اپنے ہاتھوں سے روبوٹ کا افتتاح کیا۔

اس روبوٹ میں کیو آر کوڈ ہے، ٹچ سکرین سے صارفین کمانڈز دے سکتے ہیں. آپ کو سوال پوچھنا ہے روبوٹ آپ کو جواب میں فتویٰ دے گا۔

آذان، مؤذن اور نماز کے اوقات کی ہفتہ وار جانکاری دے گا۔ اس جمعے کونسا امام نماز پڑھائے گا نام بتائے گا، شیخ السدیس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ یہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں دو مزید روبوٹس متعارف کروائے گئے ہیں جو سینیٹائیزر چھڑکیں گے اور فرش صاف کریں گے۔

اب آپ آجائیں پاکستان کی طرف، آج سے سو سال پہلے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے لاؤڈ اسپیکر میں آذان کو ممنوع قرار دیا تھا۔

پھر اگلے پچاس سال لاؤڈ اسپیکر کے حرام حلال کی بحث چلتی رہی۔ پھر کیمرا تصویر اور ویڈیو حرام قرار دی گئی۔

ٹی وی بیچ چوراہوں پر توڑے گئے، وی سی آر کو آگ لگا دی گئی۔ پھر موبائل فون کو حرام قرار دے دیا گیا، دارالعلوم حقانیہ نے موبائل فون جمع کر کے آگ لگا دی۔

آج آپ اپنے کسی مفتی صاحب کے پاس چلے جائیں اس سے پوچھیں کیا مؤذن کی جگہ ایک روبوٹ آذان دے سکتا ہے؟

ایسا کیسے ہو سکتا ہے، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ وہ فوراً اسے حرام قرار دے دے گا۔ پھر پاکستان میں اگلے پچاس سال یہ بحث شروع ہو جائے گی کہ روبوٹ کی آذان حلال ہے یا حرام، جائز ہے یا ناجائز۔

پاکستانی مولوی پہلے ہی بھوکے ننگے ہیں، روبوٹ نے آذان، تلاوت، فتویٰ جاری کرنا شروع کر دیا تو ہمارے پچیس لاکھ علمائے کرام مزید بےروزگار ہو جائیں گے۔

14/05/2025

شام میں ایک نئی صبح کا آغاز

دنیا نے ایک اور تاریخی موڑ دیکھا جب شام پر عائد کئی سالہ معاشی و سفارتی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان ہوا اور اس اعلان نے نہ صرف شامی عوام کے زخموں پر مرہم رکھا بلکہ پورے خطے کی سیاست اور معیشت کو بھی ایک نئی جہت دے دی ہے سعودی عرب جو برسوں سے امت مسلمہ کے لیے نہ صرف مالی بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک مضبوط سہارا بنا رہا ہے ایک بار پھر اپنا قائدانہ کردار نبھاتے ہوئے اس تاریخی اقدام کا محرک بنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعتراف کے مطابق یہ فیصلہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر کیا گیا اور یہی لمحہ اسے عام سفارتی کوشش سے اٹھا کر تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے شام ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جنگ بربادی داخلی خلفشار اور عالمی تنہائی کا شکار رہا ہے ان پابندیوں نے اس قوم کے لیے جینا بھی مشکل بنایا اور مرنا بھی بین الاقوامی تجارت بند تھی مالی نظام منجمد تھا سفارتکاری ختم ہو چکی تھی اب جب یہ رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں تو شامی عوام کو ایک بار پھر زندگی کا موقع ملا ہے

اس فیصلے کے بعد خطے کا ڈائنامکس یکسر تبدیل ہو جائے گا تجارت بحال ہوگی غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن بنے گی شامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دنیا بھر سے امدادی قافلے شامی سرزمین پر پہنچنا شروع ہوں گے بین الاقوامی تعلقات میں نئی جہتیں کھلیں گی اور عرب ممالک میں اتحاد و یگانگت کی ایک نئی لہر جنم لے گی یہ کامیابی صرف شام کی نہیں پوری امت کی ہے محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ انہوں نے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا عالمی طاقتوں سے بات کی اور شام کے مستقبل کو نئی روشنی فراہم کی اب وقت ہے کہ امت مسلمہ اس موقعے کو ضائع نہ ہونے دے شام کی تعمیر نو تعلیمی اداروں کی بحالی اور معیشت کے استحکام کے لیے ہر ملک اپنا کردار ادا کرے ایک زخمی قوم کو صرف ہمدردی نہیں عملی مدد کی ضرورت ہے یہ ایک موقع ہے کہ امت مظلوم کے حق میں کھڑی ہو نہ صرف باتوں سے بلکہ عمل سے اور ثابت کرے کہ جب کوئی مسلم ملک گرتا ہے تو پوری امت اسے اٹھانے کے لیے موجود ہوتی ہے

14/05/2025

‏بھارتی لوک سبا سے خطاب میں راہول گاندھی نے بڑی ہی پتے کی بات کہہ گئے کہ ہمارا مقصد پاکستان اور چین کو جدا کرنا تھا لیکن مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے وہ تو مذید قریب ہوگئے اور حقیت یہ ہے کہ نہ صرف چین اور پاکستان مزید قریب ہو گئے بلکہ پاکستان قوم خود جو تقسیم ہوئی ہوئی تھی اس میں بھی ایک عرصے بعد قومی یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس سے آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ دشمن کی کامیابی ہمارے اندرونی انتشار، آپس کی تقسیم و چین کے ساتھ خلفشار میں مضمر ہے۔ اور یہی کام عمران خان بڑی خوش اسلوبی سے کئے جا رہا تھا اور اس کی تصدیق بھارتی میڈیا سے بھی اکثر ہوتی ہی رہتی تھی۔

آپ راہول گاندھی کے اسی نقطہ کو ذہین میں رکھتے ہوئے غور کریں کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان کے اندرونی انتشار اور چین سمیت دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات خراب کرنے میں کس نے کلیدی کردار ادا کیا تو آپ کو بغیر کسی ابہام کے عمران خان اس کام میں سرفہرست نظر آئیگا
پاکستان میں ہمیشہ ہی کسی نہ کسی حد تک سیاسی و مذہبی تقسیم موجود رہی ہے لیکن تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ عمران نیازی نے گھر گھر میں انتشار پیدا کر دیا تھا۔ رستے دار اور پرانے جگری دوست اس فتنے کی وجہ سے آپس میں ناراض ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔

چین واحد ملک تھا جس کے ساتھ ہمارے تعلقات ہر موسم میں خوشگوار رہے ہیں ۔ لیکن اس نے نہ صرف چین کے ساتھ تعلقات خراب کئے بلکہ سعودی عرب ، ترکی ، قطر اور ملائشیا سمیت ہر برادر ملک کو ناراض کر دیا تھا۔ اور اس سازش میں اسے پاشا ، ظہیر السلام ، باجوہ ، غفورے، اور فیض تک جرنیلوں کی ایک پوری کیپ کی سپورٹ حاصل رہی ہے۔

آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا 2014 میں چینی صدر کے دورے کے دوران جب اس نے اسلام آباد میں دھرنے دئیے تو اس وقت کا چینی سفیر بذات خود بنی گالا گیا اور صدر کے دورے تک دھرنے ملتوی کرنے کی درخواست کی لیکن اس نیازی نے نہ صرف یہ درخواست مسترد کی بلکہ اس کے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آیا ۔ اس وقت وہ خاموش رہا لیکن بعد میں بیجنگ جاکر اس نے پاکستانی وفود کے ساتھ وہ تجربہ شئیر کیا۔
چینی صدرُ کا دورہ ملتوی ہوا، سی پیک ایک سال تاخیر سے شروع ہوا، پھر اقتدار میں آکر اس نے سی پیک روک دیا، اس کی خفیہ معلومات آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر کیں اور بحیثیت وزیر اعظم ان چینی وفود کو ملنے سے انکار کیا جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے تھے تاکہ امریکہ ناراض نہ ہو۔
لیکن اقتدار سے بیدخلی کے بعد امریکی غلامی کرنے والے اسی خبیث شخص نے “امریکی غلامی نامنظور” “ ہم کوئی غلام ہیں “ اور “ ایاک نعبدو و ایا ک نستعین “ کے نعرے لگائے اور کلٹ فالورز نے اسے من وعن تسلیم کیا ۔
لیکن پھر آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اس نے پیسے دیکر لابنگ فرمز ہائیر کرکے امریکہ سے پاکستان میں مداخلت کی درخواست کرتا رہا ہے جس پر مداخلت کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہوئی نظر آئیں مگر اس کے کلٹ نے اس پر بھی واہ واہ کی ۔
حالیہ کشیدگی میں بھی علیمہ نیازی سمیت پی ٹی آئی کی پوری قیادت بھارت کا بیانیہ بیان کرتے رہے ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ پاکستان ناکام ہو تاکہ عوام سیاسی حکومت اور آرمی چیف سمیت فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کریں۔ اور اس ساری کہانی میں بھارتی اور انصافی میڈیا ایک پیج پر نظر ائے۔ بھارتی چینل نے تو پاکستان آرمی میں بغاوت کی خبر تک بھی چلا دی تھیں۔

پاکستان کی حالیہ کامیابی سے نہ صرف مودی کے کلٹ کو دھچکا لگا بلکہ نیازی زومبیز کے خواب بھی چکنا چور ہوگئے

اس لئے پاکستانیو آپ کو ڈبل مبارک ‎

Address

London

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Only Democracy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Only Democracy:

Share