Only Democracy

Only Democracy We are only supporters of Democracy !!!�

پاکستان کا جگرا دیکھو! آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ن...
16/04/2026

پاکستان کا جگرا دیکھو!

آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ اس خبر میں وہ سب کچھ ہے جو سفارتکاری کی نصابی کتابوں میں نہیں ملتا۔

ایک فوجی سربراہ، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا، ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا ہے جس پر بیک وقت دو ایٹمی طاقتیں حملہ آور ہیں۔ جس کا رہبر اعلیٰ مارا جا چکا ہے۔ جس کے فوجی سربراہ مارے جا چکے ہیں۔ جس کا نیا رہبر زخمی ہے اور زیر زمین ہے۔ جس کی فضائی حدود میں امریکی اور اسرائیلی طیارے گشت کرتے ہیں۔ جو بندہ اس کا استقبال کرنے آیا ہے، اسرائیل نے اس کے سر کی قیمت لگائی ہوئی ہے۔ اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل کیموفلاج وردی میں اترا ہے۔

تاریخ میں ایسا کب ہوا ہے؟
1942 میں ونسٹن چرچل جنگ کے عین دوران ماسکو گیا تھا۔ جرمن فضائیہ مشرقی محاذ پر بم گرا رہی تھی۔ سوویت یونین لڑ رہی تھی۔ چرچل نے خطرہ مول لیا کیونکہ پیغام ذاتی طور پر پہنچانا تھا: "ہم تمھارے ساتھ ہیں۔"
وہ طیارے میں مصر سے ماسکو گیا۔ راستے میں جرمن لڑاکا طیاروں کا خطرہ تھا۔ مگر گیا۔ کیونکہ سٹالن کو بتانا تھا: "دوسرا محاذ کھولیں گے۔" اعتماد سازی کے لیے جسمانی موجودگی ضروری تھی۔ فون سے نہیں ہونی تھی۔ خط سے نہیں ہونی تھی۔ صرف آمنے سامنے بیٹھ کر ہونی تھی۔

2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان پیدل چل کر شمالی کوریا کی سرحد عبور کر گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بھاری مسلح سرحد۔ دونوں ممالک تکنیکی طور پر جنگ میں ہیں۔ مون نے کم جونگ ان کا ہاتھ پکڑا اور سرحدی لکیر عبور کی۔ وہ تصویر تاریخ بن گئی۔ ٹرمپ سنگاپور سمٹ اسی تصویر کے بعد ممکن ہوا۔

آج عاصم منیر نے وہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایران پر حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ فرضی نہیں۔ تکنیکی نہیں۔ حقیقی بم گر رہے ہیں۔ حقیقی لوگ مر رہے ہیں۔ ایرانی فضائی حدود امریکی اور اسرائیلی نشانے پر ہے۔ اور اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل داخل ہوا ہے۔ دورہ براڈکاسٹ ہوا ہے، تصویریں اتری ہیں اور یہ سب واضح پیغام ہیں.

سفارتکاری میں اعتماد سازی کئی سطحوں پر ہوتی ہے۔ سب سے نچلی سطح: پیغام بھیجنا۔ فون کرنا۔ خط لکھنا۔ درمیانی سطح: سفیر بھیجنا۔ وزیر خارجہ بھیجنا۔ بلند ترین سطح: خود جانا۔ اور سب سے بلند ترین سطح: خطرے میں خود جانا۔ جب آپ دشمن کی فائرنگ رینج میں داخل ہو کر دوست سے ملیں تو آپ اعتماد نہیں بنا رہے، آپ اعتماد بن جاتے ہیں۔

منیر جنگی وردی میں تہران اترے ہیں۔ یہ وردی اتفاقی نہیں ہے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایرانیوں کا استقبال بھی جنگی وردی میں کیا تھا اور 12 اپریل کو وینس سے ملاقات سول سوٹ میں کی تھی۔ وردی کا انتخاب شعوری ہے.

ایران کی قیادت زیر زمین ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے سامنے نہیں آ سکتے. اس ماحول میں ایرانی قیادت کے لیے کسی سے ملنا خود میں خطرہ ہے۔ ہر ملاقات ممکنہ لیک ہے۔ ہر لیک ممکنہ ہدف بنانے کا ذریعہ ہے۔مگر منیر آیا ہے۔ اور اس کے آنے کا مطلب ہے: "جب تک میں آپ کی سرزمین پر ہوں، آپ محفوظ ہیں۔ کوئی اسرائیلی یا امریکی حملہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ اگر حملہ ہوا تو پاکستان کا فیلڈ مارشل بھی نشانے پر ہو گا۔ اور دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کے فوجی سربراہ کو نشانہ بنانا وہ سرخ لکیر ہے جو کوئی عبور نہیں کرے گا۔"

یہ انسانی ڈھال نہیں ہے۔ یہ اسٹریٹیجک ڈھال ہے۔ منیر کی تہران میں موجودگی ایران کو وہ سیکورٹی بلینکٹ فراہم کرتی ہے جو کوئی قرارداد، کوئی بیان، کوئی فون کال فراہم نہیں کر سکتی۔ ایرانی قیادت اپنی خفیہ کمین گاہوں سے باہر نکل کر منیر سے مل سکتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جب تک پاکستانی فیلڈ مارشل ایرانی سرزمین پر ہے، کوئی میزائل نہیں آئے گا۔ اگر ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ 'ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے' تو پاکستانیوں نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ہے.

بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق کسی ملک کا فوجی سربراہ کسی ایسے ملک کا دورہ نہیں کرتا جو فعال جنگ میں ہو۔ وجوہات واضح ہیں: سیکورٹی خطرہ، غیرجانبداری پر سوال، اور حملہ آور فریق کو اشتعال۔ مگر منیر نے یہ سب پروٹوکول توڑ دیے ہیں۔ کیونکہ پروٹوکول عام حالات کے لیے ہوتے ہیں اور یہ عام حالات نہیں ہیں۔

منیر تہران میں وہ کام کر رہا ہے جو فون سے نہیں ہو سکتا: ایرانی قیادت سے آمنے سامنے بیٹھ کر، ان کی آنکھوں میں دیکھ کر، ان کے خدشات سن کر، ان کی سرخ لکیریں سمجھ کر، اور پھر واپس جا کر ٹرمپ کو بتانا کہ ایران کہاں تک آ سکتا ہے اور کہاں نہیں آئے گا۔ یہ وہ کام ہے جو ثالث خود کرتا ہے۔ قاصد نہیں بھیجتا۔ خود جاتا ہے۔

سفارتکاری میں ایک اصول ہے جو نصابی کتابوں میں نہیں لکھا مگر ہر تجربہ کار سفارت کار جانتا ہے: "جب آپ ثالث ہوں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو آپس میں دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کے گھر جائیں تو آپ ثالث نہیں رہتے، آپ ضامن بن جاتے ہیں۔"

پاکستان، جو کچھ کرکے دکھا رہا ہے، اس سب کے لیے بڑا جگرا چاہیے۔ منیر آج ضامن بن گیا ہے۔ پاکستان ضامن بن گیا ہے۔ اسلام آباد پراسیس ضامن بن گیا ہے اور انشاء اللہ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اچھی خبر ہے۔ اب اللہ کرے، یہ اسلام آباد اکارڈ باقاعدہ ایک معاہدے کی شکل اختیار کرے اور اس کے ثمرات پاکستانی عوام تک پہنچ سکیں۔
پاک پروردگار پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مخت...
12/04/2026

12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: "امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم۔"

وینس نے کہا: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔" پھر کہا: "ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔"

سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے۔"

پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: "ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔"

اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:

پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ "شاندار میزبان" کہا۔ "ناکامی ان کی وجہ سے نہیں" کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے گا۔

دوسرا: ایران پر الزام رکھا۔ "انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں" کہا۔ مگر دروازہ بند نہیں کیا۔ "امید ہے دیکھیں گے" کہا۔ "ابھی تک" کے الفاظ استعمال کیے۔ "ابھی تک" کا مطلب ہے "ابھی نہیں مگر شاید بعد میں۔"

تیسرا: ایٹمی نکتے کو مرکزی بنایا۔ آبنائے ہرمز نہیں، لبنان نہیں، منجمد اثاثے نہیں۔ ایٹمی ہتھیار۔ یہ ٹرمپ کا بھی تازہ ترین موقف ہے جو اس نے جمعے کو واضح کیا تھا: "ایٹمی ہتھیار نہیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے۔" وینس نے ٹرمپ کے بیانیے سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ وفادار رہا۔

مگر ایرانی طرف سے کہانی مختلف ہے۔

ایران کی حکومت نے ایکس پر لکھا: "14 گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے ہیں۔ کچھ اختلافات باقی ہیں مگر مذاکرات جاری رہیں گے۔" ایرانی ریاستی ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کو جاری رہیں گے۔ سی این بی سی نے تصدیق کی۔ یعنی ایران نہیں مانتا کہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کہتا ہے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک وقفہ ہے۔

فرق سمجھیں: وینس کہتا ہے "ہم واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔" ایران کہتا ہے "مذاکرات جاری رہیں گے۔" یہ دو مختلف بیانیے ہیں اور دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں۔ وینس واپس جا رہا ہے مگر تکنیکی ٹیمیں رہ سکتی ہیں۔ سیاسی سطح کا دور ختم ہوا مگر ماہرین کی سطح کا دور جاری رہ سکتا ہے۔

یہاں ایک بات اور سمجھنی ضروری ہے۔ وینس نے "quite flexible" اور "quite accommodating" کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ سفارتکاری میں اپنی پوزیشن ظاہر کرنے کے لیے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر فریق کہتا ہے "ہماری پوزیشن واضح ہے۔" وینس نے کہا "ہم لچکدار تھے۔" اس کا مطلب ہے کہ وینس اندرونی طور پر جانتا ہے کہ امریکی پوزیشن میں کمزوری تھی اور وہ عوام کو پیغام دے رہا ہے: ہم نے پوری کوشش کی، ناکامی ہماری وجہ سے نہیں۔

ایم ایس ناؤ نے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا تھا کہ وینس کے لیے یہ مذاکرات "زہر میں بجھا ہوا پیالہ" ہیں۔ اگر کامیابی ہو تو سہرا ٹرمپ کا ہو گا۔ اگر ناکامی ہو تو الزام وینس پر آئے گا۔ اور اگر جنگ بندی ٹوٹے تو "ٹرمپ اپنے نائب صدر کو بس کے نیچے پھینک دے گا۔" کرسچین سائنس مانیٹر نے سابق امریکی خصوصی ایلچی مچل ریس کا حوالہ دیا: "آپ مہاتما گاندھی بن کر بھی امریکہ کی نمائندگی میں آئیں تو ایرانیوں پر اس وقت اثر نہیں ہو گا۔" سٹمسن سنٹر کی بربارا سلاوین نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مطالبات اتنے دور ہیں کہ پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔

اب سب سے اہم سوال: جنگ بندی کا کیا ہو گا؟

جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ وینس بغیر معاہدے کے واپس جا رہا ہے مگر ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ ایکسیوز نے لکھا: "مذاکرات کا تعطل دو ہفتے کی جنگ بندی کو غیر یقینی صورتحال میں رکھتا ہے اور جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور بڑھنے کا امکان ہے۔"

وینس نے ایک اور جملہ کہا جو نوٹ کرنے کا ہے: "ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں، جن نکات پر ہم انھیں جگہ دینے کو تیار ہیں اور جن پر نہیں ہیں، وہ بھی واضح کر دیے ہیں۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ واضح ہونے کی کوشش کی اور انھوں نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

"انھوں نے فیصلہ کیا" اور "ہم نے فیصلہ کیا" میں فرق ہے۔ وینس نے الزام ایران پر رکھا۔ مگر ذرا ولی نصر کی بات یاد کریں: ایران سمجھتا ہے کہ وٹکاف اور کشنر کو مسائل پر گرفت نہیں تھی۔ کیا آج رات بھی وہی ہوا؟ 71 ماہرین نے تکنیکی نکات اٹھائے اور تین آدمیوں کے پاس ان کا جواب نہیں تھا؟ ابھی یہ واضح نہیں ہے۔ ایرانی طرف سے تفصیلی بیان آنا باقی ہے۔

فی الحال حقائق یہ ہیں:

اکیس گھنٹے مذاکرات ہوئے۔ تین رسمی دور ہوئے۔ پہلا بالواسطہ، دوسرا براہ راست، تیسرا تکنیکی۔ ساتھ کھانا کھایا گیا۔ 47 سال بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ ایٹمی عہد، آبنائے ہرمز اور لبنان تین بڑے اختلافات رہے۔ وینس واپس جا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ پاکستان کو دونوں طرف سے عزت ملی۔

مگر سب سے بڑی بات وہ ہے جو وینس نے سب سے پہلے کہی: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔"

یہ جملہ سفارتی زبان میں سرٹیفیکیٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غالباً اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ ثالث بھی پاکستان ہو گا۔

معاہدہ نہیں ہوا مگر دروازہ بھی بند نہیں ہوا۔ وینس نے "ابھی تک" کہا ہے "ختم" نہیں کہا۔ ایران نے "وقفہ" کہا ہے "ناکامی" نہیں کہا۔ اور اس "ابھی تک" اور "وقفے" کے درمیان جو جگہ ہے وہیں پاکستان کھڑا ہے۔

اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ اکیس گھنٹوں میں 47 سال کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ اکیس گھنٹوں میں سرخ لکیریں واضح ہوئی ہیں۔ اکیس گھنٹوں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ اور جب آنکھوں میں دیکھنے کا مرحلہ آ جائے تو بم گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔

22 اپریل قریب ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ ان دس دنوں میں دو میں سے ایک بات ہو گی: یا تو ماہرین کی سطح پر بات آگے بڑھے گی اور وینس دوبارہ آئے گا۔ یا جنگ بندی ختم ہو گی اور بم دوبارہ گریں گے۔

پاکستان نے اپنا کام کر دکھایا. اب دنیا کے باقی چاچے مامے درمیان میں آئیں. . اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر 21 ویں صدی کے خون ریز تنازعہ میں امن کے لیے مہلت پیدا کرنے کی کوشش کی. دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حریفوں کو سامنے لا بٹھایا. شاباش پاکستان!

کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست!

Address

London

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Only Democracy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share