13/05/2026
تبصرہ کتاب"ڈیجیٹل شیطان"
تسنیم جعفری۔
"سائبر کی دنیا کا نبض شناس"
سائنس فکشن کی طرح سائبر کرائمزکے بارے میں معلوماتی مضامین اور کہانیاں لکھی جانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ، خاص طور پر پاکستان میں جہاں لوگ ہر نئی ٹیکنولوجی کا بغیر سوچے سمجھے بے ذریغ استعمال کرتے ہیں اور ان ٹیکنالوجیز کے فوائد اور نقصانات بتانے والا کوئی نہیں ہے ،نہ ہی کوئی سیکھنے اور سمجھنے کو تیار ہوتا ہے ، وہاں کہانی ہی ایک ایسا طاقت ور ذریعہ ہے جس کو ہر عمر کا فرد شوق سے پڑھ لیتا ہے اور کہانی میں موجود سبق سیکھ بھی لیتا ہے۔ لہذا فی زمانہ بھی کہانی کی اہمیت مسلمہ ہے اور ہمارے ادیب اسی کو ذریعہ بنا کر کہانی کہانی میں بہت سی کام کی باتیں بھی سکھا جاتے ہیں۔ اس ناول کے مصنف کو آئی ٹی کے شعبے پر مکمل عبور حاصل ہے جس کی مدد سے وہ یہ ناول خوبصورتی اور بہترین معلومات کے ساتھ لکھ پائے اور خود کو سائبر کی دنیا کا نبض شناس ثابت کیا۔
"ڈیجیٹل شیطان" ایک ایسا عنوان ہے جسے آج کا ہر فرد سمجھ سکتا ہے۔ محمد علی ادیب صاحب نے سائنس فکشن/سائبر کرائم پر مبنی یہ کہانی نہایت عمدگی سے لکھی ہے، ایک بہترین ناول ہے جس کو میں نے ایک ہی نشست میں پڑھ لیا کیونکہ اس میں تجسس ہی اتنا تھا کہ درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ اس کہانی کے کردار نہ صرف جینیئس ہیں بلکہ بہت ہی محب وطن ہیں جو اپنی صلاحیتوں کی انتہا کو مثبت طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور وطن کی خاطر جان کی بازی بھی لگا دیتے ہیں۔ دورسری طرف ڈیجیٹل شیطان'فینٹینی' ہے جو اپنی انتہائی کارآمد صلاحیتوں کو ملک دشمنی میں صرف کرتا ہے اور اپنے ایک ذاتی دکھ کا بدلہ لینے کے لئے آئی ٹی ٹیکنالوجی استعمال کر کے ملک کو تباہ و برباد کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ اس سائبر جنگ میں اے آئی بے مثال کردار ادا کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے اور اپنا آپ خطرے میں ڈال کر اس جنگ کا رخ موڑ دیتا ہے کیونکہ وہ سائبر کی دنیا میں ہی پیدا ہوتا ہے اور اس کی رگ رگ سے واقف ہوتا یے۔
اس ناول میں اے آئی کو ایک خوبصورت کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو میں سمجھتی ہوں کہ محمد علی صاحب کا کارنامہ ہے، یعنی جب ایک انسان اپنی ضد اور انا کی خاطر شیطان بن گیا اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آیا تو مصنوعی ذہانت جسے ہم تخلیق اور تحقیق کے لئے مہلک قرار دیتے ہیں اسے ادیب نے ایک ہیرو کی صورت میں پیش کیا ہے، لیکن ایک عارضی ہیرو جو کہانی کے آخر میں خود کو یہ کہہ کر ختم کرلیتا ہے کہ آج تو میں انسانیت کے کام آگیا ہوسکتا کہ بعد میں میری سوچ بدل جائے اور میں انسان کو نقصان پہنچانے والا بن جاوں۔
بے شمار کہانیاں اور ڈرامے لکھنے والے مصنف کا یہ پہلا ہی ناول ہے لیکن مصنف کو کہانی اور کرداروں پر مکمل عبور حاصل ہے، خوبصورت اور دل کو چھو لینے والے حیرت انگیز کردار 'نیل' کی سبق آموز کہانی جسے آپ مکمل پڑھے بغیر نہیں چھوڑ سکتے۔ مصنف اس اچھوتے موضوع پر لکھنے کے لئے داد کے مستحق ہیں۔ ان کے لئے بہت سی دعائیں کہ ایسے ہی عمدہ موضوعات پر اچھے اچھے ناولز لکھتے رہیں۔