Press For Peace Foundation

Press For Peace Foundation A social enterprise with a purpose to empower the creative minds | Publisher |

COVID-19 Response: We will be updating this page with any changes to our services. Some services may need to change the way they run at short notice, we will do our best to keep you informed.

تبصرہ کتاب"ڈیجیٹل شیطان"  تسنیم جعفری۔      "سائبر کی دنیا کا نبض شناس"سائنس فکشن کی طرح سائبر کرائمزکے بارے میں معلومات...
13/05/2026

تبصرہ کتاب"ڈیجیٹل شیطان"
تسنیم جعفری۔

"سائبر کی دنیا کا نبض شناس"
سائنس فکشن کی طرح سائبر کرائمزکے بارے میں معلوماتی مضامین اور کہانیاں لکھی جانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ، خاص طور پر پاکستان میں جہاں لوگ ہر نئی ٹیکنولوجی کا بغیر سوچے سمجھے بے ذریغ استعمال کرتے ہیں اور ان ٹیکنالوجیز کے فوائد اور نقصانات بتانے والا کوئی نہیں ہے ،نہ ہی کوئی سیکھنے اور سمجھنے کو تیار ہوتا ہے ، وہاں کہانی ہی ایک ایسا طاقت ور ذریعہ ہے جس کو ہر عمر کا فرد شوق سے پڑھ لیتا ہے اور کہانی میں موجود سبق سیکھ بھی لیتا ہے۔ لہذا فی زمانہ بھی کہانی کی اہمیت مسلمہ ہے اور ہمارے ادیب اسی کو ذریعہ بنا کر کہانی کہانی میں بہت سی کام کی باتیں بھی سکھا جاتے ہیں۔ اس ناول کے مصنف کو آئی ٹی کے شعبے پر مکمل عبور حاصل ہے جس کی مدد سے وہ یہ ناول خوبصورتی اور بہترین معلومات کے ساتھ لکھ پائے اور خود کو سائبر کی دنیا کا نبض شناس ثابت کیا۔

"ڈیجیٹل شیطان" ایک ایسا عنوان ہے جسے آج کا ہر فرد سمجھ سکتا ہے۔ محمد علی ادیب صاحب نے سائنس فکشن/سائبر کرائم پر مبنی یہ کہانی نہایت عمدگی سے لکھی ہے، ایک بہترین ناول ہے جس کو میں نے ایک ہی نشست میں پڑھ لیا کیونکہ اس میں تجسس ہی اتنا تھا کہ درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ اس کہانی کے کردار نہ صرف جینیئس ہیں بلکہ بہت ہی محب وطن ہیں جو اپنی صلاحیتوں کی انتہا کو مثبت طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور وطن کی خاطر جان کی بازی بھی لگا دیتے ہیں۔ دورسری طرف ڈیجیٹل شیطان'فینٹینی' ہے جو اپنی انتہائی کارآمد صلاحیتوں کو ملک دشمنی میں صرف کرتا ہے اور اپنے ایک ذاتی دکھ کا بدلہ لینے کے لئے آئی ٹی ٹیکنالوجی استعمال کر کے ملک کو تباہ و برباد کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ اس سائبر جنگ میں اے آئی بے مثال کردار ادا کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے اور اپنا آپ خطرے میں ڈال کر اس جنگ کا رخ موڑ دیتا ہے کیونکہ وہ سائبر کی دنیا میں ہی پیدا ہوتا ہے اور اس کی رگ رگ سے واقف ہوتا یے۔

اس ناول میں اے آئی کو ایک خوبصورت کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو میں سمجھتی ہوں کہ محمد علی صاحب کا کارنامہ ہے، یعنی جب ایک انسان اپنی ضد اور انا کی خاطر شیطان بن گیا اور دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے آیا تو مصنوعی ذہانت جسے ہم تخلیق اور تحقیق کے لئے مہلک قرار دیتے ہیں اسے ادیب نے ایک ہیرو کی صورت میں پیش کیا ہے، لیکن ایک عارضی ہیرو جو کہانی کے آخر میں خود کو یہ کہہ کر ختم کرلیتا ہے کہ آج تو میں انسانیت کے کام آگیا ہوسکتا کہ بعد میں میری سوچ بدل جائے اور میں انسان کو نقصان پہنچانے والا بن جاوں۔
بے شمار کہانیاں اور ڈرامے لکھنے والے مصنف کا یہ پہلا ہی ناول ہے لیکن مصنف کو کہانی اور کرداروں پر مکمل عبور حاصل ہے، خوبصورت اور دل کو چھو لینے والے حیرت انگیز کردار 'نیل' کی سبق آموز کہانی جسے آپ مکمل پڑھے بغیر نہیں چھوڑ سکتے۔ مصنف اس اچھوتے موضوع پر لکھنے کے لئے داد کے مستحق ہیں۔ ان کے لئے بہت سی دعائیں کہ ایسے ہی عمدہ موضوعات پر اچھے اچھے ناولز لکھتے رہیں۔

13/05/2026

۔

13/05/2026

کتاب : آلو کی ماں
کہانی کار : آپا قانتہ رابعہ
تعارف : مہوش اشرف
ناشر : پریس فار پیس پبلی کیشنز

۔

13/05/2026

۔

کتاب : ڈیجیٹل شیطان / ناول مصنف : محمد علی ادیب ناشر : پریس فار پیس پبلی کیشنزمحمد علی ادیب ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں ج...
12/05/2026

کتاب : ڈیجیٹل شیطان / ناول
مصنف : محمد علی ادیب
ناشر : پریس فار پیس پبلی کیشنز

محمد علی ادیب ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں جنہوں نے کہانی اور ڈرامہ نگاری میں اپنی پہچان بنائی ہے۔ ڈیجیٹل شیطان ان کی ناول نگاری کا ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔

ان کا یہ ناول ہمارے موجودہ دور کے ایک نہایت اہم موضوع کو سامنے لاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں انسان اور ٹیکنالوجی کا تعلق تیزی سے بدل رہا ہے، اور یہی تبدیلی اس ناول کی بنیاد بنتی ہے۔

مصنف نے اس کہانی کے ذریعے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی صرف سہولت ہے یا اس کے اندر کوئی ایسا مثبت یا منفی پہلو بھی ہے جو انسان پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی سوال اس ناول کو ایک عام کہانی سے آگے لے جاتا ہے۔

بطور قاری مجھے اس میں وہی فکری سمت محسوس ہوئی جس کی طرف میں نے اپنے ناول "الف سے اے آئی تک" میں اشارہ کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام انسان کے تابع بھی رہ سکتے ہیں اور اگر بے احتیاطی ہو تو انسان ان کے تابع بھی ہو سکتا ہے۔ اسی خیال کو ڈیجیٹل شیطان ایک دلچسپ اور قابل غور انداز میں پیش کرتا ہے۔

ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا موضوع اور اس کی جرات مندانہ پیشکش ہے۔ مصنف نے ایک ایسے مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے جو آج کے قاری کے لیے بھی اہم ہے اور آنے والے وقت میں مزید اہمیت اختیار کرے گا۔ کہانی میں ایسے لمحات موجود ہیں جو قاری کو رک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

بیانیہ مجموعی طور پر سنجیدہ اور بامقصد ہے۔ چند مقامات پر اگر اسے مزید سادہ انداز میں پیش کیا جائے تو اس کی رسائی اور بھی وسیع ہو سکتی ہے، تاہم یہ بات اس کی سنجیدگی اور فکری گہرائی کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک سنجیدہ ادب کے دائرے میں لے آتی ہے۔

محمد علی کی یہ پہلی باقاعدہ ناول نگاری ایک اچھی اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ انہوں نے ایک مشکل موضوع کو منتخب کیا اور اسے ادب کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی، جو قابل قدر ہے۔

ڈیجیٹل شیطان ایک ایسی تحریر ہے جو صرف کہانی نہیں سناتی بلکہ قاری کو اپنے اردگرد کی دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی اس ناول کی اصل کامیابی ہے۔

بلا شبہ محمد علی ادیب ناول نگاری میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں۔

میری نیک خواہشات محمد علی ادیب کے ساتھ ہیں۔
اللہ ان کے قلم کو مزید طاقت دے۔
آمین۰

ریحان خان
ناول نگار، بلاگر
بین الاقوامی اشاعت یافتہ مصنف۔

۔

قومی ادبی انعامات 2025:مصنفین  اپنی کتب ارسال کریں ڈیڈلاہئن پندرہ  جون 2026اکادمی ادبیات پاکستان یکم جنوری 2025 سے 31 دس...
12/05/2026

قومی ادبی انعامات 2025:

مصنفین اپنی کتب ارسال کریں
ڈیڈلاہئن
پندرہ جون 2026

اکادمی ادبیات پاکستان یکم جنوری 2025 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، براہوئی، ہندکو، انگریزی اور گلگت بلتستان کی زبانوں کے ادب کی بہترین نثری اور شعری اصناف یعنی ناول، افسانہ، انشائیہ، سفرنامہ، ڈرامہ، سوانح، طنز و مزاح، تنقید، تحقیق، غزل اور نظم وغیرہ کی طبع زاد اور مقررہ مدت کے دوران چھپنے والی بہترین ادبی کتابوں پر انعامات دے گی۔ علاوہ ازیں کسی بھی پاکستانی یا غیر ملکی زبان سے اردو یا انگریزی میں شائع ہونے والی ترجمے کی بہترین کتابیں بھی انعامات کے لیے زیر غور لائی جائیں گی۔

Authors Learning Hubکتاب بینی کے انسانی زندگی پر اثرات سُمیَّہ اسلامکتب بینی ایک نہایت مفید مشغلہ ہے۔ یہ علم میں اضافے ا...
12/05/2026

Authors Learning Hub
کتاب بینی کے انسانی زندگی پر اثرات
سُمیَّہ اسلام
کتب بینی ایک نہایت مفید مشغلہ ہے۔ یہ علم میں اضافے اور پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے نہایت مؤثر نسخہ ہے۔ کہتے ہیں کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ انسان جب بھی تنہا ہوتا ہے تو کتاب ایک بہترین ساتھی کا کردار ادا کرتی ہے۔ کتابیں صرف انسان کی بہترین دوست اور ساتھی ہی نہیں بلکہ علم کا خزانہ بھی ہیں۔ انگریز شاعر شیلے کہتا ہے کہ مطالعہ ذہن کو جلا دینے اور اس کی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ ابراہیم لنکن کا کہنا ہے کہ کتابوں کا مطالعہ ذہن کو روشنی عطا کرتا ہے۔ والٹیئر کا قول ہے کہ وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں۔ کتابوں کی سیاحت میں انسان شاعروں، ادیبوں، مفکروں اور داناؤں سے ہم کلام ہوتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں احمقوں اور بےوقوفوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
صدیوں پہلے کے ایک عرب مصنف الجاحظ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا:
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
ان تمام اقوال سے کتب بینی کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اچھی کتاب بہترین دوست ہے:
ہر اچھی کتاب انسان کا دوست ہوتی ہے ، ساری زندگی میں انسان کی اخلاقیات کو سنوارتی رہتی ہے کتاب زندہ ہے پڑھنے والے بھی زندہ ہیں۔ یوں تو دنیا میں بہت سی کتابیں ہیں مگر جو سب کتابوں سے اچھی کتاب ہے دنیا و آخرت میں ہماری بہترین دوست ہے وہ کتاب قرآن پاک ہے اور قرآن پاک سب سے افضل کتاب ہے۔ اس کے فضائل تو اپنی مثال آپ ہیں یہ اللہ پاک کا مبارک کلام ہے، اس کا پڑھنا ، پڑھانا، سننا، سنانا، سب ثواب کا کام ہے۔ اس کے فضائل احادیث مبارکہ میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے جس کی نزول پر مسلمانوں پر خیر و برکت کے دروازے کھل گئے۔ اس کے علاوہ دنیا میں بہت سی اسلامی کتابیں ہیں جنہیں ہم پڑھ کر دینی علم بھی حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں۔ ہمیں سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پڑھنا چاہیئے خلفائے راشدین کو پڑھنا چاہیے بہت سی اسلامی کتابیں حاصل کرنی چاہیے اور علم حاصل کر کے دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے اور ان تعلیمات پر عمل بھی کرنا چاہیے۔
کتابوں کی اہمیت ہرزمانے میں مسلم ہے:
کتابوں کی اہمیت، ان کی حیثیت، عظمت اور افادیت ہرزمانے میں مسلم رہی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جنھوں نے کتابوں کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ جن کے عظیم کارناموں کو دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ایوب بن شجاع کہتے ہیں کہ میں نے اپنا غلام عبداللہ اعرابی کے پاس انھیں بلانے کے لیے بھیجا غلام نے واپس آکر کہا: میں نے انھیں اطلاع تو کردی ہے؛ لیکن وہ کہہ رہے تھے میرے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہیں ان سے فارغ ہوکر آتا ہوں؛ حالاں کہ وہ کتابوں کے مطالعہ میں مصروف تھے، کتابوں کے سوا وہاں کوئی نہ تھا۔ کچھ دیر بعد عبداللہ آئے تو ایوب نے ان سے پوچھا: تمہارے پاس تو کوئی نہ تھا پھر تم نے غلام سے یہ بات کیسے کہہ دی؟ عبداللہ نے جواب میں چند اشعار پڑھے، جس کا ترجمہ یہ ہے:
ہمارے چند ہم نشیں ایسے ہیں جن کی باتوں سے ہم نہیں اکتاتے۔ موجودگی اور عدم موجودگی دونوں صورتوں میں ہم ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں اور ہمیں گذرے ہوئے لوگوں کے علم، عقل، ادب اور صحت رائے کافائدہ دیتے ہیں۔ نہ ان سے کسی فتنہ کا اندیشہ ہے اور نہ بری صحبت کا۔ اور نہ ہم ان کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے ڈرتے ہیں۔ انھیں مردہ کہنے کی صورت میں آپ کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر آپ انھیں زندہ کہیں تب بھی آپ کو غلط اور بے عقل نہیں کہا جاسکتا۔ (کتابوں کی درس گاہ میں)
کتاب بینی کے انسانی زندگی پر اثرات:
کتاب بینی انسانی زندگی پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جس کا اندازہ ایک کتاب دوست ہی لگا سکتا ہے۔ جس نیاسے چکھا ہی نہیں وہ اس کی لذت کیسے جان سکتا ہے۔ کتب بینی کے بے انتہا فائدے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کتب بینی کی عادت ذہنی صحت کیلئے ایک اکسیر کا درجہ رکھتی ہے، اگر روزانہ بیس منٹ کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو ڈیمنشیا اور الزائمر جیسی بیماریو ں کا خطرہ 2.5 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ کتب بینی کے یوں تو بے شمار فائدے ہیں، تاہم چند ایک چیدہ چیدہ فائدے یہ ہیں۔
کتاب بینی علم میں اضافہ کا باعث بنتی ہے
کتابیں انسان کے علم میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ کتب بینی سے معلومات اور ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یادداشت میں وسعت اور معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے۔ جس قدر کتابوں کا مطالعہ کیا جائے گا اس قدر علم زیادہ اور پختہ ہوگا۔ امریکا کی یونیورسٹی آف بفالو کی تحقیق کے مطابق فکشن بُکس پڑھنے سے دوسروں کی نفسیات کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ اور آپ بہ آسانی اپنے مخاطب کے احساسات اور جذبات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
کتاب بینی سے انسان کی تحقیقی اور تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ کتاب بینی اس سے انسان کے اندر تحقیقی اور تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان دینی، قومی اور بین الاقوامی امور پر ایک واضح سوچ رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ ایک کثیر المطالعہ شخص کو کسی جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر نہیں کیا جاسکتا ہے، ایسا شخص بڑی تیزی سے کسی بھی معاملے کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
کتاب بینی سے انسان میں تحریر کی استعداد پیدا ہوتی ہے
مطالعہ سے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہوتی ہے اس طرح انسان میں لکھنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے اور پہلے سے لکھنے والے لکھاریوں کی تحریر میں مزید شگفتگی اور پختگی پیدا ہو جاتی ہے۔
کتاب بینی سے انسان کی قوت ارتکاز بہتر ہوتی ہے
مطالعہ سوچ و بچار اور قوت ارتکاز کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے انسان کی یاد داشت بہتر ہوتی ہے مزید برآں کتب بینی جذباتی ذہانت میں بھی اضافہ کا باعث ہے، جس کے نتیجے میں انسان اپنے جذبات کو ؎کنٹرول کرنا سیکھ لیتا ہے اور انسان میں بردباری کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔
کتاب بینی انسان کو پر اعتماد بناتی ہے
مطالعہ کے دوران انسان علماء اور حکماء سے ہم کلام ہوتا ہے جس سے اپنی ذات پر اعتماد پیدا ہوجاتا ہے اس سے عالی دماغ دانشوروں، مفکروں اور مایہ ناز شخصیات کی برابری کرنے کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔
کتاب بینی سے انسان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت ہوتی ہے
مطالعہ ذہنی اور اخلاقی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے ہم جو کچھ پڑھتے رہتے ہیں وہ ہمارے دل و دماغ اور جسم و جان میں رچ بس جاتا ہے اور پھر ہمارے عمل کی صورت میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اس لئے ذہن کو صحت مند رکھنے کیلئے اچھی کتابوں کا مطالعہ اسی طرح ضروری ہے جیسے جسمانی فٹنس کو برقرار رکھنے کیلئے ورزش ضروری ہے۔
کتاب بینی سے انسان کو تنگ نظری اور تعصب سے بچاتی ہے
وسیع مطالعہ انسان کو تنگ نظری اور تعصب کے بھنور سے نکال کر وسعت قلب عطا کرتا ہے جس سے انسان میں رواداری اور گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کا شعور بیدار ہوتا ہے بلکہ سوچ کا زاویہ بھی وسیع ہوتا جاتا ہے۔
کتاب بینی سے انسان اپنی خداداد صلاحیتوں کو پہچاننے کے قابل ہوجاتا ہے
انسان اپنی خداداد صلاحیتوں کو پہچاننے کے قابل ہوجاتا ہے، یہ ایک ایسا فائدہ ہے جو ہر قسم کے فائدے سے برتر ہے کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو افراد اپنی خداداد صلاحیتوں کو پالیتے ہیں اور ان کے مطابق ہی مشاغل کو اختیار کر لیتے ہیں، ایسے انسان ہی آسمان کے درخشندوہ ستاروں کا روپ دھارتے ہیں۔
کتاب بینی سے انسان اپنے مقصد حیات کو متعین کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے
کتب بینی کے نتیجے میں انسان اپنے مقصد حیات کو متعین کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جو ایک بامقصد زندگی گزارنے کیلئے از حد ضروری ہے۔ مطالعہ کے دوران کسی ایسے فرد کی زندگی کے بارے میں پڑھنا جو اپنی زندگی میں آنے والی رکاوٹوں کو عبور کرکے اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کر لیتا ہے، درحقیقت آپ کے اندر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عزم کو بڑھا دیتا ہے جس سے انسان کو ایک گونہ تحریک ملتی ہے اور اپنے مقصد میں کامیابی کے حصول کیلئے جستجو میں لگ جاتا ہے۔
درج بالا فوائد کے علاوہ بھی کتاب بینی کے بہت سے فوائد ہیں مثلاًمطالعہ سے غم اور بے چینی دور ہو جاتی ہے۔ مطالعہ کے دوران میں انسان جھوٹ بولنے اور فریب کرنے سے بچا رہتا ہے۔ مطالعہ کی عادت کی وجہ سے انسان کتاب میں اتنا منہمک رہتا ہے کہ سستی اور کاہلی سے مغلوب نہیں ہونے پاتا۔ مطالعہ سے ذہن کھلتا ہے اور خیالات میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔ مطالعہ کرنیوالا دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتا ہے اور بلند پایہ مصنفین کا ذہنی طور پر ہمسفر بن جاتا ہے۔ مطالعہ کرنے والا اوقات کے ضیاع سے محفوظ رہتا ہے۔ مطالعہ سے وسوسہ اور غم دور ہوتا ہے۔ ناحق لڑائی جھگڑے سے حفاظت رہتی ہے۔ فارغ اور بے کار لوگوں سے بچاؤ رہتا ہے۔ زبان کھلتی ہے اور کلام کاطریقہ آتا ہے۔ ذہن کھلتا ہے اور دل تندرست ہوتا ہے۔ علوم حاصل ہوتے ہیں۔ لوگوں کے تجربات اور علماء وحکماء کی حکمتوں کاعلم حاصل ہوتا ہے۔ دینی کتب کے مطالعہ سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی آپسی دوستی کا نتیجہ فساد اور بگاڑ ہوا کرتا ہے، مگر کتاب کی دوستی سے روح کو تازگی اور طبیعت کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ انسانی ذہن وفکر کی آبیاری ہوتی ہے، تہذیب و ثقافت کے عمدہ سانچے میں ڈھلنے کی ترغیب ملتی ہے۔ قوموں کے عروج وزوال کے اسباب معلوم ہوتے ہیں۔ تاریخ کی برگزیدہ شخصیتوں سے ملاقات ہوتی ہے اور ان کے تجربات سے استفادہ کا موقع ملتا ہے۔

ماحصل:
کتب بینی انسان کی غم خوار ومددگار، انسانی ضمیر کو روشنی بخشنے والا قندیل، علم وآگہی کا بہترین زینہ، تنہائی کی جاں گسل طوالت کی بہترین رفیق، زندگی کی نا ہموار راہوں میں دلنواز ہم سفر اور اضطراب وبے چینی کی معالج بھی ہے۔ جب انسان گردشِ زمانہ، زندگی کے تلخ واقعات اور ذاتی مشکلات کے ہجوم میں الجھ کر مایوس لمحات کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے زندگی کی پرلطف نعمتوں سے بہرہ مند نہیں ہوپاتا تو اس وقت کتابی حروف کی سرگوشیاں سفید صفحات کے کالے پیلے نقوش اندھیروں میں روشنی لے کر ناامیدی میں امید کی کرن لے کر گم کردہ منزل کو راہیں سمجھاتی ہیں اور انسان تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں آ جاتا ہے۔ اور اس روشنی میں اپنی شخصیت کو سمجھنے لگتا ہے۔ اپنی اچھائی اور برائی سے باخبر ہونے لگتا ہے۔
بشکریہ
منہاج ڈاٹ انفو

12/05/2026

Press for Peace Publications
Press For Peace Foundation

Book Your Book to Be Launched
at Largest Book Fair
✨ معیار کے متلاشی ہر لکھاری کا پہلا انتخاب ✨
پریس فار پیس پبلی کیشنز

🌟 پریس فار پیس پبلی کیشنز ہی کیوں ؟؟

✨ نئے اور تجربہ کار لکھاریوں کے لیے یکساں مواقع
🌍 عالمی معیار سے ہم آہنگ ادارتی ٹیم
🖋️ ماہر کاپی ایڈیٹرز، پروف ریڈرز اورگرافک ڈیزائنرز
📖 اعلیٰ معیار کی طباعت اور مضبوط بائنڈنگ
🚚 دنیا بھر میں ترسیل
🎪 سب سے بڑے بک فیئر میں کتاب کی لانچنگ
📹 سوشل میڈیا مارکیٹنگ
🎓 نو آموز لکھاریوں کے لیے رہنمائی

✍️ ہم کن اصناف میں مسودے قبول کرتے ہیں؟

📚 ناول
📖 افسانے
🖋️ شاعری
📰 کالم و مضامین
🔍 تحقیق
👧 بچوں کی کہانیاں و نظمیں
@ تراجم
@ اینتھالوجیز
🌐 اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں کتب

📌 ضروری ہدایات:

✔️ مسودہ اغلاط سے پاک ہو
✔️ اخراجات کا تخمینہ کتاب کے حجم اور کاپیوں کی تعداد کے مطابق طے ہوگا
✔️ مسودہ (InPage یا Word فائل) میں ارسال کریں
📅 آخری تاریخ: 15 ستمبر 2026
📌 مسودے پر درج کریں:

کتاب کا نام
مصنف کا نام
واٹس ایپ نمبر
📧 مسودہ ارسال کریں
[email protected]

Only Quality Content is Accepted

Press for Peace Publications
Empowering Creative Minds





کتاب : تماشائے اہل کرم مصنف : پروفیسر محمد ایاز کیانی تاثرات : مظہر اقبال مظہر ناشر : پریس فار پیس پبلی کیشنز پروفیسر مح...
12/05/2026

کتاب : تماشائے اہل کرم
مصنف : پروفیسر محمد ایاز کیانی
تاثرات : مظہر اقبال مظہر
ناشر : پریس فار پیس پبلی کیشنز

پروفیسر محمد ایاز کیانی کی تصنیف “تماشائے اہلِ کرم ” میرے سامنے ہے۔طباعت ، املاء اور پروف کی غلطیوں سے مبرَّا یہ دیدہ زیب کتاب پریس فار پیس پبلی کیشنز نے شائع کی ہے۔ رنگین ٹائٹل پر تاریخی عمارات کے عقب میں ہرے بھر ے کھیت اور برف پوش چوٹیاں قاری کے تخیل کو اندرونی صفحات کھولنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ کتاب کا پہلا صفحہ ایسے منظرکی تصویر کشی کر رہا ہے جس میں ایک سیدھی دو رُویہ سڑک کا داہنی حصہ خالی ہے جب کہ بائیں جانب “محمد ایاز کیانی” کے الفاظ تحریر ہیں ۔ گرد سے اٹے اوردائیں بائیں لڑھکتے ہوئے پتھروں اور خود رو جھاڑیوں کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی یہ سڑک دُور کہیں پانیوں، پہاڑوں اور بادلوں میں یُوں گم ہو رہی ہے جیسے کوئی مسافر ان دیکھے راستوں پر چلتا اور اگلی منزلوں کے نشان ڈھونڈتا ہوا سفر میں گم ہو جائے۔

ٹھنڈے میٹھے چشموں، راگ الاپتے جھرنوں اور گنگناتی آبشاروں کی سرزمین راولاکوٹ کے آسمان ِ ادب پر چمکتے دمکتے ادبی ستاروں کے جھرمٹ میں ایک نئے ستارے کا اضافہ ہوا ہے۔ خدا کرے کہ یہ ستارہ بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ تادیر روشنی بکھیرتا رہے۔ہر ستارہ روشنی کا استعارہ ہوتا ہے۔ پروفیسر ایاز کیانی کےقلم کی روشنی جس سرعت ِ رفتار کے ساتھ دبستان علم سے ہوتی ہوئی نگارستان عالم تک پھیلنا شروع ہوئی ہے، اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ادب میں نئی شعاعیں بھی بکھیرے گی۔ ان نئی جہتوں کی توجیہہ سفرنامے کے کینویس سے ان کی چھیڑ چھاڑ سے ملتی ہے۔ پورے پاکستان کے کئی شہروں کی سیر ایک ہی سفرنامے میں سمیٹ لینا ، یہ انہی جیسے تیشہ گروں کا حوصلہ ہے ۔

جب ایاز کیانی جیسا کوئی سفرنگار اپنے ارد گرد کی ظاہر پرست دنیا کے بکھیڑوں کو لات مار کر اپنی ذات کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیےان دیکھی دنیاؤں اور لہجے بدلتی بستیوں کی راہ لیتا ہے تو وہ محض سر ِ جادہ عمل ہی نہیں ہوتا بلکہ عرفان ذات کے سفر پر بھی نکلتا ہے۔ وہ نوکِ قلم کی جنبش سے علم و آگہی کے پہاڑوں کو کھود کر حکمت و دانش کے ایسے موتی چُن لاتا ہے جو کبھی دریائے جہلم کے سینے میں پوشیدہ رازوں یا اس کی کوکھ سے پھوٹتی روشنیوں کی صورت گری بن جاتے ہیں یا کبھی جامعہ پنجاب کی راہداریوں میں مچلتی کھِلکھلاتی امنگوں کے تاثراتی ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

میری نظر میں سفرنامہ ظاہری سے زیادہ باطنی مناظر سے کشید ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ظاہری مناظر تجزیے، تفکر اور تدبر کی جانب نکلنے والی راہوں کے محرکات ہوتے ہیں۔ ایک سفرنگار کا قلم اس کے تجربے اور تجزیے کی آشنائی سے روشنائی حاصل کرتا ہے ۔نت نئی منزلوں کی جانب بڑھنےکا حوصلہ جہد مسلسل اور سعی و خطا کی ایک بھٹی میں جل رہا ہوتا ہے۔ اور وہ بھٹی بھی ایسی کہ جس میں کہیں صعوبتوں کے پسینے کی تراوٹ اسے بے ذوق ِ عمل ہونےپر مائل کرتی ہے تو کہیں شوق آوارگی جہاں جوئی پہ اکساتا ہے ۔

ہرسفر نگارکے سفر کا آغاز بصد شوق ہوتا ہے، شوق وہ نسخہ اکسیر ہے کہ جس کی ہلکی سی ملاوٹ بھی جامہ ہستی میں شامل ہو جائے تو کسی محبوب راہ پر نکلنے کے لیے روایتی اہتمام یا کثیر زاد راہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ مجھے پوری امید ہے کہ جس سرشاری و چاہت سے ایاز کیانی نے اس سفر کا آغاز کیا ہے ، راستے کی دُھول سے ان کی منزل نظروں سے اوجھل کبھی نہ ہوگی ۔مجھے اس سفر نگار کے زاد راہ نے پہلی نظر میں کھینچا ہے۔ پہلی کتاب کا پہلا انتساب ماں کی اس ہستی کے نام جو جہان رنگ و بو سے شناسائی کا پہلا سبق سکھانے والی اور سُندر کامناؤں کی جوت جگانے والی ہے۔

دنیا جادو نگری ہے،ساری بھاشا ئیں اس جادو نگری کا سحر تبھی قائم رکھ سکتی ہیں جب اس سحر کاری میں لفظوں کی چترکاری کو ماں جیسا اتالیق مل جائے۔ دنیا میں اگر ماں نہ ہوتی تو انسان لفظوں کے معنی سے آشنا ہی نہ ہوتا۔”تماشائے اہل ِ کرم ” کے انتساب کے خِرمن میں سبھی سامان بھروسے کا ہے۔ کتاب سے محبت کرنے والے احباب ، خالص نیتوں اور سچے کھرے جذبوں کو جومسافر زاد راہ بنا لے ، اس کی منزل کھوٹی ہو ہی نہیں سکتی۔جس دھرتی کی کوکھ سے ٹھنڈے میٹھے چشمے ابلتے ہوں وہاں سچے اور سُچے جذبوں کو ہی پنپنا چاہیے۔

انتساب کے بعد اگلے صفحے پر اکبر الہ آبادی کا ایک سیاحت افروز شعر کتاب کے عنوانات کی فہرست سے قبل ایک نقارچی کی مانند اعلان کرتا پھر رہا ہے کہ “سفر کرو سفر کرو “۔ فہرست ہی نہیں بلکہ پوری کتاب کا حسن ترتیب بڑی خوبصورتی سے مصنف کے حسن آوارگی کو آشکار کر رہا ہے ۔ گمان یہ ہے کہ اس کی نوک پلک کسی ماہر فنکار کے ہنرمند ہاتھ نے حسن پری چہرہ جان کر درست کی ہوگی۔ پہلے سے متعارف مصنف کے تعارف پر سر سر ی نظر دوڑانے کے بعد میری نظر جس تحریر پر ٹھہر گئی اسے لکھنے والے نے پنڈی بھٹیاں سے لکھ کر بھیجا ہے ۔ایک سفر نگار کی زندگی میں تجربے اور تجزیے کی بھٹی کا ذکر تو میں پہلے کر چکا ہوں ۔ “موتیوں کی وادی سے شہر ِ نگاراں تک ” کے عنوان کے تحت لکھی گئی یہ تحریر پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پنڈی بھٹیاں میں جلوہ افروز پروفیسر اسد سلیم شیخ کا قلم و ہنر ایسی کئی بھٹیوں میں سے گزر کر کندن بنا ہے جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے ۔ ان کی یہ تحریر ذوق سلیم کا پتہ ہی نہیں راستہ بھی بتاتی ہے۔

حرف اول و دوئم پر لکھنے کے لیے میرے قلم کی بساط تنگ پڑ جاتی ہے ۔ اس لیے کہ یہ دونوں تحریریں جن دو بڑے ادیبوں کے قلم سے نکلی ہیں سید سلیم گردیزی اور محمد جاوید خان، دونوں کا تعلق آزاد جموں وکشمیر کے قلم قبیلے کے اس گروہ سے ہے جنہوں نےنثری ادب کی آبیاری میں اپنے خون جگر کو شامل کیا ہے۔ گردیزی صاحب اگر “گرم پانیوں کی تلاش” اور “غیر ملکی سیاحوں کی سیاحت کشمیر” جیسی تخلیقات سامنے نہ بھی لاتے تو صدارتی ایوارڈ یافتہ کتاب “میں نے کشمیر جلتے دیکھا” انہیں ادبیات کشمیر میں امرکر چکی ہے ۔”عظیم ہمالیہ کے حضور ” اور “ہندوکش کے دامن میں” لکھ کر محمد جاوید خان نے سفرنامے کی بڑے لکھاریوں میں جو جگہہ بنائی ہے اس کا اعتراف ان کے پہلے سفرنامے” عظیم ہمالیہ کے حضور” کو انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے “سال 2019 کا بہترین سفرنامہ” کے ایوارڈ کی صورت میں ہو ا ہے ۔

جس ایاز کیانی کو میں پیش لفظ میں ڈھونڈنا چاہتا تھا وہ مجھے نہیں ملا ، مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ، وہ آگے چل کر مل جائے گا۔ “پہلی بات ” میں اس کا پرتو نظر آتا ہے۔ ان کے قلم سے لکھا گیا ” پیش لفظ ” سفرنامے کے سفر کا ایک مختصر تنقیدی جائزہ بھی ہے اور اعتراف ِ نعمت بھی کہ انہیں علمی و ادبی شخصیات کی سنگت میسر رہی جو اس سفرنامے کو لکھنے کی تحریک بھی ثابت ہوئی ۔” آغاز سفر” راولاکوٹ اور راولپنڈی، اسلام آباد کے درمیان باقاعدگی سے سفر کرنے والوں کے عمومی سفری احوال کی مانند ہے مگر الفاظ کا چناؤ اور جملوں کی ساخت اسے پروفیسرانہ تجربہ بنا دیتا ہے۔

لاہور یاترا میں ہمیں سیر کم اور تاریخی واقعات کی امتحانی تیاری زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ تاہم لاہوریوں کے مزاج کا تذکرہ تحریر کو دلچسپ بنا رہا ہے۔ اور آگے تو کمال ہو گیا ۔ داتا کے دربار پر کھڑا مصنف اپنی ذات کے کشکول میں غور و تدبر کے قطرے نچوڑتا نظر آتا ہے۔مینار پاکستان پر اس کاتخیل کئی دہائیاں پیچھے چلا جاتا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم ، چڑیا گھر، میوزیم، باغ جناح، ریس کورس پارک کی طاہرانہ سیر کے بعد ” لاہور پیچھے رہ گیا” ۔

پھولوں کے شہر پتوکی پر اچھوتی نظر ڈالنے کے بعد سفر نگاروہاڑی میں قدم رنجہ ہوئے توزمانہ طالب علمی کے مہربان دوستوں نے مہمان نوازی سے نوازا۔ میلسی اور وہاڑی میں بھی جب مصنف سابق ہم جماعتوں میں معیت میں نظر آتے ہیں تو ان کا طریقہ واردات سمجھ میں آجاتا ہے۔بستی بستی پھرا مسافراور ہر بستی میں ملا شناسا۔ شناسائی کی راہ و رسم نبھانے میں یہ فائدہ بہرحال موجود ہے کہ قیام و طعام کی بے فکری ہو جاتی ہے مگر شہر کے عمومی مزاج کا سنگ آستاں نگاہوں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔

ملتان کی تاریخ کے اجمالی تذکرے ، جامعہ زکریا کی راہداریوں میں بیتے ہوئے دنوں کی یاد نگاری اور ” گھنٹہ گھر اور قاسم باغ کے ملحقہ بازاروں کے ایک چکر” کے بعد مصنف کی ملتان یاترا کی پہلی قسط اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔اگلی قسط کا ذکر آگے آنے والا ہے۔ دوسرے دن گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج شجاع آباد کے کھیلوں کے میدان اور دو خوبصورت بسوں کو دیکھنے کے بعد دوستوں کے ساتھ چائے نوشی کے بعد شجاع آباد پیچھے رہ جاتا ہے اور ہم مصنف کے ہمراہ واپس ملتان پہنچ جاتے ہیں۔

گول باغ اور گھنٹہ گھر کے سرسری تذکر ے کے ساتھ ہی جامعہ قاسم العلوم پر تفصیلی بیان اور مابعد مصنف نے ایک مکمل مضمون مزار شاہ رکن عالم رحمہ پر تحریر کیا ہے، جس سے ان کی صوفیا کی حیات و تعلیمات میں دلچسپی عیاں ہوتی ہے۔ اس سفرنامے میں یہاں وہاں چلتے پھرتے سر راہ پڑتے مقامات کی سیر بھی ملتی ہے جیسے ملتان کے قیام میں قلعۂ ملتان کی سیر ۔ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمہ اور شمس تبریزی شمس الدین سبزواری رحمہ کا تذکرہ جس محبت و عقیدت کا تقاضا کرتا ہے، مصنف نے اس سے مکمل انصاف کیا ہے۔

مصنف کا اگلا پڑاؤ اگرچہ کوئٹہ ہے مگر بلوچستان کے داخلی راستے پر موجود “رکنی” تک پہنچے سے قبل وہ خیال کے گھوڑے پر سوار ہو کر ڈیرہ غازی خان اور فورٹ منرو کی تاریخ کو کھنگالنے پر کمر کس لیتے ہیں۔اس علاقے کی تاریخ کا تذکرہ ہم تاریخ و جغرافیہ کے طالب علموں پر چھوڑتے ہیں اور آگے چلتے ہیں۔ یہ سفرنامہ اگر مصنف کے راستے کی اگلی چیک پوسٹ یعنی لورالائی سے شروع ہوتا تو تب بھی کامیاب رہتا۔

ایک سفر نگار جب حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے تو اسے وہ سب کچھ نیم وا آنکھوں سے بھی دکھائی دیتا ہے جو ایک عام مسافر کے بس کی بات نہیں ہے۔ سنگ مرمر کے کارخانوں، سڑکوں پر فراٹے بھرتی چمکتی کاروں، اور میلوں پر پھیلے بادام اور سیب کے باغات کے باوجود لورالائی میں غربت اور کسمپرسی اشرافیہ کی جس بے حسی کا ماتم کرتی پھرتی ہے اسے ہمارا سفرنگار ایک نظر میں ہی پہچان لیتا ہے۔ قلعہ سیف اللہ کی زرعی زمینوں، منڈیوں، اور برف پوش چوٹیوں پر انگریز سرکار کی نظر التفات ، قبائلی سرداروں کے کارناموں، جنگلی حیات، معدنیات و دیگر قدرتی وسائل سب کا تذکرہ یا جائزہ ہمیں اس باب میں مل جاتا ہے۔

کوئٹہ پہنچ کر مصنف پر کیا گزری یہ جاننے کے لیے آپ کو سفرنامہ پڑھنا ہوگا۔ یہاں بھی میزبانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے شناسا چہروں نے اجنبیت کو قریب نہیں آنے دیا۔ جموں و کشمیر کے باسی کو کوئٹہ اور کشمیر کے مظاہر قدرت کے موازنے کا بے شمار سامان یوں بھی مل جاتا ہے ۔اس کے باوجود حیرتوں میں غوطہ زنی جاری رہتی ہے کہ کوئٹہ ایک یگانہ و یکتا شہر ہے۔

مصنف کی ہنہ جھیل ، اڑک آبشار ، اور کوئٹہ شہر کی سیر سے جڑی خوشگوار یادوں اور ان مقامات کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے جملوں کے حِظ کو ہم قاری کے لیے چھوڑتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ کراچی شہر کے “حبس زدہ گرم تندور” میں گرتے ہی مصنف ایک نستعلیق گو سفرنگار سے منجھے ہوئے تجزیہ نگار بن جاتے ہیں۔ مزار قائد پر پہنچ کر ایاز کیانی کامشاہدہ جس قوت سے سراٹھاتا ہے ، ان کا قلم اس سے کئی گنا زیادہ ہنر مندی سے ان کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔حاشیہ حاشیے کا گواہ ہوتا ہے۔ مزار قائد پر حاشیہ باندھ کر لکھی ہوئی ان کی تحریر خصوصی توجہ مانگتی ہے۔

ایمپریس مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ، پرانا اور نیا کراچی ، قدیم عمارتوں کا احوال اور ان کے تاریخی حوالے، مسجد قبا ، ملیر ، جامعہ کراچی، منوڑہ، اورپورٹ گرینڈ کا تذکرہ بہت دلچسپ پیرائے میں کیا گیا ہے ۔ تاریخی حوالوں کو سفرنامے کا حصہ بنانے کے لیے مصنف نے یقیناً عرق ریزی سے کام لیا ہے جس کے لیے وہ داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ ایک سفرنامہ نگار کے لیے واپسی کے سفر کا ذکر مشکل اور صبر آزما ہوتا ہے۔

ایاز کیانی کا یہ سفر بھی واقعاتی تسلسل کے ساتھ بڑی متانت ِفکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ سفر کے اختتام سے پہلے مصنّف ذات کے سمندر میں غوطہ لگانا نہیں بھولا ۔” آزاد پتن پر دریا بدستور خاموش اور پرسکون تھا ، نجانے یہ سکون عارضی تھا یا کسی طوفان کا پیش خیمہ ۔دریا کو روکنے سے پہلے اس کی رضامندی لی گئی یا اس کے بغیر ہی اس پر بند باندھ دیا گیا۔” صد شکر کہ ہمارا یہ سفر نگار نامراد نہیں لوٹا ہے ۔ لہجے بدلتی بستیوں کے سفر سے جب وہ واپس لوٹا تو اس کی ذات کا سمندر پرسکون تھا ۔

Matlida,Written by: Roald Dahl عالمی _ادب _اطفال میٹلڈا (انگریزی)مصنف : رووالڈ ڈال ( یو کے )ترجمہ  ، ترئین: ماورا زیب   ...
11/05/2026

Matlida,
Written by: Roald Dahl
عالمی _ادب _اطفال

میٹلڈا (انگریزی)
مصنف : رووالڈ ڈال ( یو کے )
ترجمہ ، ترئین: ماورا زیب ( پی کے)
سرورق: سید ابرار گردیزی
نظر ثانی : حفص نانی
تعارف : فلک ناز نور
پبلشر: پریس فار پیس پبلی کیشنز

[email protected]

قیمت : 400 روپے

جیز کیش نمبر :
0322-4645781

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*پس منظر و مقبولیت*

میٹلڈا انگریزی زبان کا ایک شاندار ناول ہے۔ یہ میٹلڈا نامی ایک ذہین اور بہادر بچی کی داستان ہے جسے ایک ہیروئین بچی کی بہادری اور ذہانت کے موضوعات کی وجہ سے غیر معمولی شہرت اور مقبولیت ملی۔ 1988 میں انگلینڈ میں پہلی بار اشاعت کے بعد دنیا بھر میں اس ناول کی سترہ ملین سے زائد کاپیاں اب تک فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کے درجنوں زبانوں میں تراجم ہوئے، کئی اعلیٰ ایوارڈ جیتے، اس پر فلمیں اور سٹیج ڈرامے بنے۔ کئی سال گزرنے کے باوجود برطانوی سینما گھروں میں یہ ایک پسندیدہ فلم ہے۔

بی بی سی کے ایک مقبول پروگرام کے سروے کے مطابق میٹلڈا کو”قوم کی پسندیدہ بچوں کی کتاب“ کے طور پر ووٹ دیا گیا۔ "میٹلڈا " آج بھی بچوں، نوجوانوں اور بڑوں میں مقبولیت کا ریکارڈ قائم رکھے ہوئے ہے۔

کتب بینی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کو ذہنی سکون سے آشنا کرتی ہے، ناولوں، کہانیوں کے کردار قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں، کہانی کے اختتام تک قاری کی بے قراری قائم رہتی ہے، میٹلڈا کی اسی خوبی کی وجہ سے اس سحر انگیز ناولٹ کو بے شمار انسانوں کی زندگی تبدیل کرنے والی ایک ہیروئین لڑکی اور رول ماڈل بچی کے طور یاد رکھا گیا ہے۔

اس کتاب کے بارے میں ایک مبصر نے تبصرہ کیا کہ :
روالڈ ڈال نے میٹلڈا کی شکل میں ایک ایسی ہیروئن تخلیق کی جس نے اپنے قارئین کی زندگیوں کو بدل دیا اور انھیں دنیا کو بہتر سے بہتر کرنے کا درس دیا۔

*ناول کا پلاٹ*
میٹلڈا ایک جاودوئی دماغ والی پانچ سالہ بچی ہے جسے والدین نے اپنے گھر میں بری طرح نظر انداز کیا اور سخت برے حالات میں رکھا۔

*مسٹر اور مسز ورم لاپرواہ اور خود غرض ہیں*
بچی کے والدین مسٹر اور مسز ورم بہت لاپروا اور خود غرض قسم کے انسان ہیں جنھیں بیٹی کی تعلیم و تربیت سے زیادہ دو نمبر گاڑیوں کے کاروبار میں توجہ دینا دلچسپ لگتا ہے۔

کئی سال تک بیٹی کو سکول نہ بھیجا لیکن میٹلڈا کو کتابیں پڑھنے کا بے پناہ شوق تھا۔ وہ چھپ کر علاقے کی لائبریری سے کتب پڑھتی رہی اور اپنے علم اور معلومات میں دیگر بچوں سے بھی بہت آگے بڑھ گئی۔

بڑے عرصے کے بعد جس سکول میں میٹلڈا کو داخلہ دیا گیا اس کی ہیڈمسٹریس بہت خوف ناک منتظمہ تھی۔ سکول میں داخلے کے بعد میٹلڈا اور دیگر کرداروں کے مابین بہت ہی دلچسپ واقعات ہوئے۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور آنکھوں کے ذریعے دوسروں کو ہیپناٹائز کرنےکے قصے سمیت مزید دلچسپ باتوں کے ذریعے پورے ناول میں سنسنی خیزی، ڈرامہ اور تجسس کا عنصر قائم رکھا گیا ہے۔ میٹلڈا ناول میں مس ہنی ( ایک ہمدرد اور رحم دل استانی) کا کردار بھی ہے۔

*مصنف کا تعارف*
کتاب کے مصنف رووالڈ ڈال کا شمار انگلینڈ اوردوسرے انگریز ی زبان بولنے والے ممالک میں بچوں اور نوجوانوں کے مقبول رائٹرز میں ہوتا ہے۔ ان کی خوبی بہترین قسم کی منظر نگاری ہے۔ گھر کے جابرانہ ماحو ل سے لے کر ہیڈمسٹریس کی سخت مزاج شخصیت کا نقشہ مہارت سے کھینچتے ہیں۔ کتاب میں بہت سے مزاحیہ واقعات موجود ہیں۔

*عرض ناشر*

پریس فار پیس کے ایڈیٹوریل بورڈ نے اس کتاب کے ترجمے کی ذمہ داری ماورا زیب کے قدرے نازک کندھوں پر ڈالی جو بہت ہی ذمہ داری سے ادا ہوئی۔ ماشااللہ!

ماورا زیب نے یہ ساری ڈش خود بنائی ہے۔ ترجمہ، پیج سیٹنگ، ڈیزائننگ، پروف ریڈنگ جبکہ نظر ثانی میں آپا حفص نانی نے ساتھ دیا۔

کتاب کو باقاعدہ ریلیز کرنے کا مرحلہ آیا تو ماورا زیب کے ننھے صاحبزادے نے اپنے ویڈیو پیغام کے ساتھ ماما کا ہاتھ بٹایا۔
سب کا شکریہ و دعائیں ۔
پریس فار پیس کے پلیٹ فارم سے ہم بچوں اور نوجوانوں کے لیے درجنوں کتب شائع کرچکے ہیں مگر یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے۔

ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے بچے اور عام قاری روایتی موضوعات سے باہر نکل کر ادب اطفال کے عالمی افق سے اپنے ذہن اور دماغ کو منور کریں۔

انگریزی ادب کی ایک انتہائی مقبول، موثر اور ناقابل فراموش تصنیف کا اردو ترجمہ ہمارے اسی اشاعتی ویژن کا عکس ہے۔

پریس فار پیس کی ادارتی، اشاعتی اور تشیہری ٹیم نے مل کر یہ کتا ب آپ کے ذوق مطالعہ کی تکمیل کے لیے پیش کی ہے۔

ہم اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے، اب آپ ہمیں بتائیں گے۔

آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔

Address

London

Opening Hours

Monday 10am - 5pm
Tuesday 10am - 5pm
Wednesday 10am - 5pm
Thursday 10am - 5pm
Friday 10am - 5pm

Telephone

+442036657498

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Press For Peace Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share