14/08/2026
خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ امام جعفر صادق کو میرے روبرو پیش کرو تاکہ میں ان کو قتل کر دوں۔
وزیر نے عرض کیا:
"دنیا کو خیر باد کہہ کر جو شخص عزلت نشین ہو گیا ہو، اس کو قتل کرنا قرینِ مصلحت نہیں۔"
لیکن خلیفہ نے غضب ناک ہو کر کہا:
"میرے حکم کی تعمیل تم پر ضروری ہے۔"
چنانچہ مجبوراً جب وزیر امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو لینے چلا گیا تو منصور نے غلاموں کو ہدایت کر دی کہ جس وقت میں اپنے سر سے تاج اتاروں تو تم فی الفور امام جعفر صادق کو قتل کر دینا۔
لیکن جب آپ تشریف لائے تو آپ کے عظمت و جلال نے خلیفہ کو اس درجہ متاثر کیا کہ وہ بے قرار ہو کر آپ کے استقبال کے لیے کھڑا ہو گیا۔
اس نے نہ صرف آپ کو صدر مقام پر بٹھایا بلکہ خود بھی مؤدبانہ آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی حاجات اور ضروریات کے متعلق دریافت کرنے لگا۔
آپ نے فرمایا:
"میری سب سے اہم حاجت و ضرورت یہ ہے کہ آئندہ پھر کبھی مجھے دربار میں طلب نہ کیا جائے تاکہ میری عبادت و ریاضت میں خلل واقع نہ ہو۔"
چنانچہ منصور نے وعدہ کر کے عزت اور احترام کے ساتھ آپ کو رخصت کیا۔
لیکن آپ کے دبدبے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ لرزہ براندام ہو کر مکمل تین شب و روز بے ہوش رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ تین نمازوں کے قضا ہونے کی حد تک غشی طاری رہی۔
بہرحال خلیفہ کی یہ حالت دیکھ کر وزیر اور غلام حیران ہوگئے۔
جب خلیفہ سے اس کا حال دریافت کیا گیا تو اس نے بتایا:
"جس وقت امام جعفر صادق میرے پاس تشریف لائے تو ان کے ساتھ اتنا بڑا اژدہا تھا جو اپنے جبڑوں کے درمیان پورے چبوترے کو گھیرے میں لے سکتا تھا اور وہ اپنی زبان میں مجھ سے کہہ رہا تھا: اگر تو نے ذرا سی گستاخی کی تو تجھ کو چبوترے سمیت نگل جاؤں گا۔ چنانچہ اس کی دہشت مجھ پر طاری ہو گئی اور میں نے آپ سے معافی طلب کرلی۔"
یہ واقعہ اہلِ دل کے اس مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے قرب، عبادت اور اخلاص سے نواز دیتا ہے تو اس کی ہیبت دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اصل طاقت ظاہری اقتدار، تاج و تخت اور لشکروں میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے دل میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، عبادت، تقویٰ اور اہلِ اللہ کی قدر و محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔
#روحانیت #اخلاص #تقویٰ #عبادت #عبرت