عشق حقیقی

عشق حقیقی Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from عشق حقیقی, London.

خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ امام جعفر صادق کو میرے روبرو پیش کرو تاکہ میں ان کو قتل کر دوں۔وزیر نے عر...
14/08/2026

خلیفہ منصور نے ایک شب اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ امام جعفر صادق کو میرے روبرو پیش کرو تاکہ میں ان کو قتل کر دوں۔

وزیر نے عرض کیا:

"دنیا کو خیر باد کہہ کر جو شخص عزلت نشین ہو گیا ہو، اس کو قتل کرنا قرینِ مصلحت نہیں۔"

لیکن خلیفہ نے غضب ناک ہو کر کہا:

"میرے حکم کی تعمیل تم پر ضروری ہے۔"

چنانچہ مجبوراً جب وزیر امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو لینے چلا گیا تو منصور نے غلاموں کو ہدایت کر دی کہ جس وقت میں اپنے سر سے تاج اتاروں تو تم فی الفور امام جعفر صادق کو قتل کر دینا۔

لیکن جب آپ تشریف لائے تو آپ کے عظمت و جلال نے خلیفہ کو اس درجہ متاثر کیا کہ وہ بے قرار ہو کر آپ کے استقبال کے لیے کھڑا ہو گیا۔

اس نے نہ صرف آپ کو صدر مقام پر بٹھایا بلکہ خود بھی مؤدبانہ آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی حاجات اور ضروریات کے متعلق دریافت کرنے لگا۔

آپ نے فرمایا:

"میری سب سے اہم حاجت و ضرورت یہ ہے کہ آئندہ پھر کبھی مجھے دربار میں طلب نہ کیا جائے تاکہ میری عبادت و ریاضت میں خلل واقع نہ ہو۔"

چنانچہ منصور نے وعدہ کر کے عزت اور احترام کے ساتھ آپ کو رخصت کیا۔

لیکن آپ کے دبدبے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ لرزہ براندام ہو کر مکمل تین شب و روز بے ہوش رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ تین نمازوں کے قضا ہونے کی حد تک غشی طاری رہی۔

بہرحال خلیفہ کی یہ حالت دیکھ کر وزیر اور غلام حیران ہوگئے۔

جب خلیفہ سے اس کا حال دریافت کیا گیا تو اس نے بتایا:

"جس وقت امام جعفر صادق میرے پاس تشریف لائے تو ان کے ساتھ اتنا بڑا اژدہا تھا جو اپنے جبڑوں کے درمیان پورے چبوترے کو گھیرے میں لے سکتا تھا اور وہ اپنی زبان میں مجھ سے کہہ رہا تھا: اگر تو نے ذرا سی گستاخی کی تو تجھ کو چبوترے سمیت نگل جاؤں گا۔ چنانچہ اس کی دہشت مجھ پر طاری ہو گئی اور میں نے آپ سے معافی طلب کرلی۔"

یہ واقعہ اہلِ دل کے اس مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے قرب، عبادت اور اخلاص سے نواز دیتا ہے تو اس کی ہیبت دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اصل طاقت ظاہری اقتدار، تاج و تخت اور لشکروں میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے دل میں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، عبادت، تقویٰ اور اہلِ اللہ کی قدر و محبت نصیب فرمائے۔ آمین۔

#روحانیت #اخلاص #تقویٰ #عبادت #عبرت

ایک روز مجنوں نے لیلیٰ کے گھر کی طرف سے ایک کتا آتے دیکھا۔لوگوں نے دیکھا کہ مجنوں آگے بڑھا، کتے کو پکڑا اور اس کے پنجے چ...
13/08/2026

ایک روز مجنوں نے لیلیٰ کے گھر کی طرف سے ایک کتا آتے دیکھا۔

لوگوں نے دیکھا کہ مجنوں آگے بڑھا، کتے کو پکڑا اور اس کے پنجے چومنے لگا۔

لوگوں کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔

کسی نے کہا:

"اے مجنوں! یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ تو ایک کتا ہے۔"

مجنوں نے کتے کو اپنے قریب کیا اور کہا:

"تمہیں کیا معلوم، یہ کس گلی سے آیا ہے۔"

"یہ اس دروازے کے پاس رہتا ہے جس کے قریب میری لیلیٰ رہتی ہے۔ اس نے وہ راستہ دیکھا ہے جس پر میری محبوبہ چلتی ہے۔ یہ اس گلی کی خاک سے گزرا ہے جس میں لیلیٰ کے قدم پڑتے ہیں۔"

یہ کہہ کر مجنوں پھر اس کے پنجے چومنے لگا۔

لوگ خاموش ہوگئے۔

انہیں ایک جانور دکھائی دے رہا تھا، مجنوں کو اس میں اپنی محبت کی نسبت دکھائی دے رہی تھی۔

عشق کی یہی عجیب دنیا ہے۔

عام آدمی محبوب کو دیکھتا ہے، عاشق محبوب سے جڑی ہوئی چیزوں میں بھی محبوب کی خوشبو تلاش کرتا ہے۔

عاشق کے لیے محبوب کی گلی بھی مقدس معلوم ہوتی ہے، اس کے دروازے کی خاک بھی قیمتی اور اس سے وابستہ ایک معمولی سی چیز بھی دل کے بہت قریب ہوجاتی ہے۔

مجنوں کے لیے وہ کتا محض کتا نہیں تھا۔

وہ لیلیٰ کی گلی کی ایک نشانی تھا۔

اور نشانی بھی کبھی کبھی محبوب سے کم عزیز نہیں ہوتی۔

📖 ماخذ: مولانا جلال الدین رومیؒ، مثنوی معنوی میں مجنوں اور لیلیٰ کے کتے سے متعلق حکایت۔ اس حکایت کی تفصیلات مختلف صوفیانہ روایات میں قدرے مختلف انداز سے ملتی ہیں۔

#مجنوں #لیلیٰ #عشق #محبت #درد #تصوف

کفل کی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی مغفرتبنی اسرائیل میں کفل نام کا ایک آدمی تھا، اس نے کبھی کوئی گناہ نہیں چھوڑا تھا۔اس کے پ...
12/08/2026

کفل کی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت

بنی اسرائیل میں کفل نام کا ایک آدمی تھا، اس نے کبھی کوئی گناہ نہیں چھوڑا تھا۔

اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اس کے ساتھ زنا کرنے کے لیے اس کو ساٹھ دینار دیے۔ جب وہ اس عورت کے ساتھ زنا کرنے کے لیے اس طرح بیٹھ گیا جیسے مرد بیٹھ کر عورت کے ساتھ ہمبستری کرتا ہے، اس وقت عورت کے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا اور وہ رونے لگی۔

اس آدمی نے پوچھا:

"تم رو کیوں رہی ہو؟ میں تیرے ساتھ یہ کام زبردستی تو نہیں کر رہا ہوں۔"

اس نے کہا:

"یہ بات نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے زندگی میں یہ گناہ کبھی نہیں کیا، اب ایک مجبوری کی وجہ سے میں یہ کام کروا رہی ہوں۔"

اس نے کہا:

"تم نے اس سے پہلے کبھی یہ گناہ نہیں کیا اور اب مجبوری کی وجہ سے کروانے آئی ہو؟"

یہ کہہ کر اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور کہا:

"جا، تو چلی جا، اور یہ دینار بھی لے جا۔"

پھر اس نے کہا:

"اللہ کی قسم! آج کے بعد کفل کبھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرے گا۔"

اسی رات اس کا انتقال ہو گیا۔

صبح کے وقت اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا:

"کفل کو بخش دیا گیا ہے۔"

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انسان کی پوری زندگی گناہوں میں گزر گئی ہو، لیکن اگر ایک لمحے میں سچی توبہ نصیب ہو جائے تو وہی لمحہ اس کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ بن سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ، گناہوں سے بچنے اور اپنی رضا والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

#توبہ #مغفرت #عبرت #نصیحت ٰ

*ساحلِ سمندر پہ دو بادشاہ**حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ ...
12/08/2026

*ساحلِ سمندر پہ دو بادشاہ**

حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: پہلی امتوں میں ایک بادشاہ تھا، خوب شان و شوکت سے اس کے دن رات گزر رہے تھے۔ ایک دن اس کی قسمت کا ستارہ چمکا اور وہ اپنی آخرت کے بارے میں غور و فکر کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ میں جن دنیاوی آسائشوں میں گم ہو کر اپنے رب تعالیٰ کو بھول چکا ہوں، عنقریب یہ ساری نعمتیں مجھ سے منقطع ہو جائیں گی، میری حکومت و بادشاہت نے تو مجھے اپنے پاک پروردگار کی عبادت سے غافل کر رکھا ہے۔

چنانچہ وہ رات کی تاریکی میں اپنے محل سے نکلا اور ساری رات تیزی سے سفر کرتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو وہ اپنے ملک کی سرحد عبور کر چکا تھا۔ اس نے ساحلِ سمندر کا رخ کیا اور وہیں رہنے لگا۔ وہاں وہ اینٹیں بنا بنا کر بیچتا، جو رقم حاصل ہوتی اس میں سے کچھ اپنے خرچ کے لیے رکھ لیتا اور باقی سب صدقہ کر دیتا۔

اسی حالت میں اسے کافی عرصہ گزر گیا۔ بالآخر اس کی خبر اس ملک کے بادشاہ کو ہوئی تو اس بادشاہ نے پیغام بھیجا: "مجھ سے آ کر ملو۔" لیکن اس نے انکار کر دیا اور بادشاہ کے پاس نہ گیا۔ بادشاہ نے پھر اپنا قاصد بھیجا اور اسے اپنے پاس بلوایا، اس نے پھر انکار کر دیا اور کہا: "بادشاہ کو مجھ سے کیا غرض اور مجھے بادشاہ سے کیا کام کہ میں اس کے پاس جاؤں۔"

جب بادشاہ کو بتایا گیا تو وہ خود گھوڑے پر سوار ہو کر ساحلِ سمندر پر آیا۔ جب اس نیک شخص نے دیکھا کہ بادشاہ میری طرف آ رہا ہے تو اس نے ایک طرف دوڑ لگا دی۔ بادشاہ نے جب اسے بھاگتے دیکھا تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا، لیکن وہ بادشاہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ جب بادشاہ اسے نہ ڈھونڈ سکا تو بلند آواز سے کہا: "اے اللہ تعالیٰ کے بندے! میں تجھے کچھ بھی نہیں کہوں گا، تو مجھ سے خوف زدہ نہ ہو (میں تجھ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں)۔"

جب اس نیک شخص نے یہ سنا تو وہ بادشاہ کے سامنے آ گیا۔ بادشاہ نے اس سے کہا: "اللہ تعالیٰ تجھے برکتیں عطا فرمائے، تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟" اس نے اپنا نام بتایا اور کہا: "میں فلاں ملک کا بادشاہ تھا۔ جب میں نے غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ جس دنیا کی دولت میں میں مست ہوں، یہ تو عنقریب فنا ہو جائے گی، اور اس دولت و حکومت نے تو مجھے غفلت کی نیند سلا رکھا ہے۔"

بس اب اپنے اس جہل سے تو نکل بھی
یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی
یہ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے

"چنانچہ میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کی، اور تمام دنیاوی آسائشوں کو چھوڑ کر دنیا سے الگ تھلگ اپنے رب تعالیٰ کی عبادت شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ میری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔"

جب بادشاہ نے یہ سنا تو کہنے لگا: "میرے بھائی! جو کچھ تو نے کیا، میں تو تجھ سے زیادہ اس کا حق دار ہوں۔" یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے اترا اور اسے وہیں چھوڑ کر اس نیک شخص کے ساتھ چل دیا۔

چنانچہ وہ دونوں بادشاہ ایک ساتھ رہنے لگے، اور اب وہ ہر وقت اپنے رب تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے، اور انہوں نے دعا کی: "اے ہمارے پروردگار! ہمیں ایک ساتھ موت دینا۔" چنانچہ ان دونوں کا ایک ہی دن انتقال ہوا اور ان کی قبریں بھی ایک ساتھ ہی بنائی گئیں۔

(عیون الحکایات)

یہ حکایت نقل کرنے کے بعد حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں (وہاں موجود) ہوتا تو ان کی قبروں کی جو نشانیاں ہمیں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہیں، میں ان کی وجہ سے انہیں ضرور پہچان لیتا اور تمہیں وہ قبریں ضرور دکھاتا۔

(المسند، للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن مسعود، الحدیث: ۴۳۱۲، ص:۱۶۶-۱۶۷)
🌸🌼♥️🌹🤲

12/08/2026

اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
زما هغه ملګري چې پښتانه دي، مهرباني وکړئ تبصره وکړئ، په ځانګړې توګه هغه کسان چې په سند کې ژوند کوي.

12/08/2026

اسلام علیکم دوستوں کمینٹ کرو زیادہ سے زیادہ اس پوسٹ پیج خطرے میں ھے اسٹرائیک کی وجہ سے

ایک دن کچھ لوگوں نے مجنوں کو دیکھا کہ وہ لیلیٰ کے گھر کے قریب بیٹھا ہوا ہے۔لوگ اسے دیکھ کر حیران ہوئے۔ایک شخص نے کہا:"مج...
11/08/2026

ایک دن کچھ لوگوں نے مجنوں کو دیکھا کہ وہ لیلیٰ کے گھر کے قریب بیٹھا ہوا ہے۔

لوگ اسے دیکھ کر حیران ہوئے۔

ایک شخص نے کہا:

"مجنوں! تم لیلیٰ کے عشق میں پاگل ہو گئے ہو۔ آخر اس میں ایسی کیا خاص بات ہے؟"

مجنوں خاموش رہا۔

اس شخص نے پھر کہا:

"ہم نے بھی لیلیٰ کو دیکھا ہے، وہ تمہیں جتنی خوبصورت نظر آتی ہے، ہمیں تو ایسی نہیں لگتی۔"

مجنوں مسکرایا اور بولا:

"تم نے لیلیٰ کو میری آنکھوں سے کہاں دیکھا ہے؟"

لوگ خاموش ہوگئے۔

مجنوں نے کہا:

"محبت کی آنکھ الگ ہوتی ہے۔ جسے دنیا صرف ایک انسان سمجھتی ہے، عاشق اسے اپنی پوری دنیا سمجھ لیتا ہے۔"

پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا اور بولا:

"تم میرے عشق کو سمجھنا چاہتے ہو تو پہلے میرے دل میں اتر کر دیکھو۔ باہر کھڑے ہو کر عشق کی گہرائی نہیں دیکھی جا سکتی۔"

عاشق کا درد عام انسان کو سمجھ نہیں آتا۔

دنیا جس درد سے بھاگتی ہے، عاشق کبھی کبھی اسی درد میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی دولت تلاش کرتا ہے۔

اور اہلِ دل کہتے ہیں:

اگر مخلوق کے عشق میں انسان اتنا بےقرار ہو سکتا ہے، تو اپنے خالق کی محبت کیسی ہونی چاہیے؟

یا اللہ!
ہمارے دل میں اپنی محبت کی وہ طلب پیدا فرما جو دنیا کی ہر محبت سے بڑھ کر ہو۔

آمین۔

#عشق #درد #تصوف #محبت

حضرت سمنون رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ محبت کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں فرمایا:"مَا خَلَقَ اللہُ شَیْئًا وَّ الْمَحَ...
11/08/2026

حضرت سمنون رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ محبت کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں فرمایا:

"مَا خَلَقَ اللہُ شَیْئًا وَّ الْمَحَبَّۃُ أَلْطَفُ مِنْہُ فَکَیْفَ أُعَبِّرُ عَمَّا لَا عِبَارَۃَ لَہٗ؟"

”اللہ تعالیٰ نے جتنی اشیاء تخلیق فرمائی ہیں، محبت اُن سب سے لطیف ترین چیز ہے۔ تو میں کس طرح وہ چیز عبارت اور الفاظ میں بیان کروں جس کے لیے الفاظ اور عبارت نہیں؟“

عشق کے کوچے کے درد مند کہتے ہیں کہ:

"اَلْمَحَبَّۃُ عِلَّۃٌ فِیْھَا کُلُّ شِفَاءٍ"

”محبت ایسی بیماری ہے، جس میں سراسر شفا ہی شفا ہے“

اے میرے عزیز! یہ عجیب درد ہے کہ تمام دارو اور دوائی اُس میں موجود ہے اور اس درد کی کوئی دوا نہیں سوائے دردِ محبت کے۔

پس اُس درد کا درد مند فریاد نہیں کرتا، اور اپنے درد کو ہزار دوا و درمان سے فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، اور اپنے دوست کے علاوہ کسی دوسرے کے دیکھنے سے آنکھیں ایسی بند کر لیتا ہے کہ دل کے اندھے لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ اندھا ہے۔

اور خدا سے محبت کرنا خدا کی فرمانبرداری اور اطاعت کرنا ہے ورنہ اس بندۂ خاکی کی اُس ذات پاک سے محبت کی کیا تُک ہے؟

آخر بندہ کیا کرے گا جب وہ اپنے خداوند سے محبت نہ کرے۔

اُسے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ خدا بندے سے محبت کرنے لگے۔

ٰ ٰ ٰ #تصوف #اخلاص

حضرت سیدنا حسن بن عبداللہ قرشی رحمہ اللہ ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں:ایک مرتبہ حضرت سیدنا داؤد علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ...
10/08/2026

حضرت سیدنا حسن بن عبداللہ قرشی رحمہ اللہ ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت سیدنا داؤد علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام عابدوں کی تلاش میں نکلے، پہاڑ کی چوٹی پر ایک راہب کے پاس پہنچ کر بآواز بلند اسے مخاطب کیا لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ جب کئی مرتبہ آپ علیہ السلام نے بآواز بلند پکارا تو آواز آئی:

"کون ہے جو مجھے پکار رہا ہے؟"
فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ کا نبی داؤد ہوں۔"
آواز آئی: "اچھا آپ علیہ السلام ہی وہ ہیں جن کے بلند و بالا قلعے اور نشان زدہ گھوڑے ہیں۔"
آپ علیہ السلام نے فرمایا: "تم کون ہو؟"
کہا: "میں دنیا کو ترک کرنے والا ہوں۔"
فرمایا: "یہاں پر تمہارا انیس و رفیق کون ہے؟"
کہا: "حضور! آپ علیہ السلام خود ملاحظہ فرما لیں۔"
آپ علیہ السلام اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک کفن دیے ہوئے مردے کے پاس موجود ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: "کیا یہ تمہارا مونس ہے؟"
کہا: "ہاں! یہی میرا مونس و مددگار ہے۔"
فرمایا: "یہ کون ہے؟"
کہا: "اس کے سرہانے ایک تانبے کی تختی ہے جس پر اس کے بارے میں تفصیل لکھی ہوئی ہے۔"
آپ علیہ السلام نے تختی اٹھا کر دیکھی تو اس پر یہ عبارت درج تھی:

"میں فلاں بن فلاں بادشاہ ہوں، میں نے ہزار سال عمر پائی، ہزار شہر آباد کیے، ایک ہزار لشکروں کو شکست دی، ہزار عورتوں سے شادی کی، میرے پاس ہزار کنواری لونڈیاں تھیں۔ میں اپنی سلطنت اور زندگی کی عیش و عشرت میں مشغول تھا کہ ملک الموت علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے نعمتوں سے نکال کر یہاں پہنچا دیا۔ اب خاک میرا بستر اور کیڑے مکوڑے میرے پڑوسی ہیں۔"
یہ تختی پڑھ کر آپ علیہ السلام بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔
(عیونُ الحکایات)

ٰہی ٰہی #حکمت #دانائی

*حرفِ عشق و فنا `طيفُ الحبيبِ يُطفئُ لهيبَ الشوقِ ساعةً، ثم يزيدُه اشتعالًا.`محبوب کا خیال لمحہ بھر شوق کی آگ کو ٹھنڈا ک...
09/08/2026

*حرفِ عشق و فنا

`طيفُ الحبيبِ يُطفئُ لهيبَ الشوقِ ساعةً، ثم يزيدُه اشتعالًا.`
محبوب کا خیال لمحہ بھر شوق کی آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے، پھر اسے اور بھڑکا دیتا ہے
(جب میں یہ عبارت لکھ رہا تھا تو مجھے شہزادہ اعلی حضرت مفتی اعظم ہند علیہ رحمہ کے 2 اشعار یاد آئے کہ)

*شربت دید نے اِک آگ لگائ دل میں*
*تپش دل کو بڑھایا ہے بجھانے نہ دیا❤️‍🔥
`اور مزید فرماتے ہیں کہ`

اب کہاں جائے گا نقشہ تیراﷺمیرے دل سے
تہہ میں رکھا ہے اسے دل نے گمانے نہ دیا😭

Address

London
N28ET

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عشق حقیقی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share