02/08/2020
Do we actually know?
Child domestic maids, child workers, children working in hazardous conditions and cruel circumstances are all forms of child slavery and child trafficking.
Children need care and affection at a tender age. But in cruel contexts, they are procured illegally and become a victim of forced labour, sexual abuse and exploitation.
If we think child trafficking doesn't happen in our country and around us then we are wrong. In Pakistan, approximately 3.3 million children are in forced labour that means 3,300,000 and more children's lives are in child slavery and exploitation.
Why do we have instances where children are kept at homes as maids away from their parents, where children are denied food, subjected to slavery and are brutally tortured and murdered?
Have you noticed?
Look around. See it. Say it. Stop it ✋ 🚫 ⛔.
It's our collective duty and responsibility.
کیا ہم واقعی جانتے ہیں؟
بچوں کی مزدوری ، گھروں میں اور غیرمؤثر حالات میں بچوں کی نوکرانی ، بچوں کی غلامی اور بچوں کی اسمگلنگ کی تمام شکلیں ہیں۔
بچوں کو کم عمری میں دیکھ بھال اور پیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ظالمانہ سیاق و سباق میں ، وہ غیر قانونی طور پر جبری مشقت ، جنسی استحصال اور تشدد کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے ملک اور ہمارے آس پاس بچوں کی اسمگلنگ نہیں ہوتی ہے تو ہم بالکل غلط ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے جبری مشقت میں ہیں جس کا مطلب ہے 3،300،000 بچوں کی زندگیاں غلامی اور استحصال میں ہیں ۔
ہمارے پاس ایسی مثالیں کیوں ہیں جہاں بچوں کو گھروں میں نوکر بنا کر اپنے والدین سے دور رکھا جاتا ہے ، جہاں بچوں کو کھانا نہیں دیا جاتا ، غلامی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وحشیانہ تشدد کیا جاتا ہے ، ماراجاتا ہے اور قتل کردیا جاتا ہے ؟ آپ نےغورکیا ہے؟
یہ غفلت ، بچوں کی غلامی اور بچوں کی اسمگلنگ کی بدترین اقسام ہیں۔
آس پاس دیکھیں ، اور بچوں پر ہونے والے تشدد کو روکیں ✋ 🚫 ⛔۔
یہ ہمارا فرض اور ذمہ داری ہے۔