Punjab Needs A New Capital

Punjab Needs A New Capital Punjab Needs A New Capital.پنجاب نوں اک نویں دارلحکومت دئ ضرورت ہے۔

Punjab New Capital.New Taxila!
04/30/2026

Punjab New Capital.New Taxila!

04/30/2026

پنجاب کو اب نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے
Punjab Needs A New Capital Now
پنجاب کا نیا داراالحکومت کیسا ہونا چاہیئے.اور کیوں ہونا چاہئے ؟
پنجاب کا نیا دارالحکومت: نیو ٹیکسلا ہو گا. انشااللہ
ہماری پکار ،ہمارا مطالبہ ،ہمارا حق
پنجاب کا دارالحکومت فوری طورپر لاہور سے ساہیوال /پاک پتن پنجاب کے مرکز /وسط میں منتقل کیا جائے ۔
پنجاب کا نیا دارلحکومت نیو ٹیکسلا ہوگا:جو کہ پنجاب کے عام لوگوں کا تخت ہوگا۔
یہ ہمارا لمحہ،ہمارا پل،ہمارا وقت ہے۔جس پر آج اس وقت ہماری پوری گرفت ہے
پنجاب اپنی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ تیز رفتار آبادی میں اضافہ، انتظامی دباؤ، علاقائی عدم توازن، اور شہری ہجوم نے حکمرانی کو کمزور اور عدم مساوات کو گہرا کر دیا ہے۔ اب جزوی اصلاحات کافی نہیں رہیں۔ پنجاب کو ساختی تجدید کی ضرورت ہے۔ پنجاب کا نیا دارالحکومت لاہور سے ساہیوال /پاک پتن کے نزدیک منتقل کیا جائے،اس کے لئے اس علاقے میں ایک نیا شہر تعمیر کیا جائے ۔پنجاب کے وسط میں ۔پنجاب کے نئے دارالحکومت کے لئے پنجاب کے وسط /مرکز میں ایک نیا شہر نیو ٹیکسلا بساکر وہاں منتقل کیا جائے ۔

یہ تجدید ایک نئے دارالحکومت سے شروع ہوتی ہے۔
نیا دارالحکومت کیوں
دہائیوں سے سیاسی اور انتظامی طاقت صوبے کے ایک کونے میں مرکوز رہی ہے۔ اس حد سے زیادہ مرکزیت نے:
• اداروں پر دباؤ ڈالا ہے،
• ترقیاتی ترجیحات کو مسخ کیا ہے،
• پنجاب کے بڑے علاقوں کو نظرانداز کیا ہے،
• اور لاہور پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال دیا ہے۔

نیا دارالحکومت کوئی عیش نہیں—یہ مؤثر حکمرانی، علاقائی توازن، اور طویل مدتی استحکام کے لیے ایک ضرورت ہے۔
نیو ٹیکسلا کیوں
نیو ٹیکسلا کا نام ایک شعوری تہذیبی انتخاب ہے۔
قدیم ٹیکسلا دنیا کے اولین مراکز میں سے ایک تھا جہاں اعلیٰ تعلیم، حکمرانی اور عالمی تبادلہ ہوتا تھا۔ یہاں سے ایسے علما، سیاستدان اور حکمران پیدا ہوئے جنہوں نے پنجاب کو تشکیل دیا اور برصغیر پر اثر ڈالا۔ ٹیکسلا علم، تکثیریت اور قیادت کی علامت تھا۔

نیو ٹیکسلا: پنجاب کی نشاۃِ ثانیہ اور پائیدار ورثے کی علامت
ہمارے نئے دارالحکومت کا نام، نیو ٹیکسلا، ایک سوچا سمجھا اقدام ہے، جو پنجاب کی بحالی کا گہرا اعلان اور ہمارے بھرپور ورثے کی جیتی جاگتی شہادت ہے۔ یہ نام ایک قدیم علامت کی روح کو زندہ کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے—پنجاب کی آبائی شناخت کی ایک طاقتور علامت، جو کبھی علم اور اثر و رسوخ کا مرکز تھی۔

کیونکہ قدیم ٹیکسلا ہی وہ جگہ تھی جہاں دنیا کی پہلی جامعہ پروان چڑھی، جہاں دنیا بھر سے علما اور اذہان جمع ہوتے تھے۔ اسی مقدس سرزمین سے عظیم حکمران، گہرے فلسفی اور دور اندیش سیاستدان ابھرے—ایسے افراد جنہوں نے نہ صرف اس خطے کو شکل دی بلکہ پنجاب کو متحد کیا اور برصغیر کے وسیع علاقوں پر حکمرانی کی۔ ان کی میراث ہماری تہذیب کے تانے بانے میں رچی بسی ہے۔

ٹیکسلا پنجابی تہذیب کے تسلسل کی نمائندگی کرتا ہے—ایک عظیم دھاگہ جو سپت سندھ کی قدیم سرزمینوں سے شروع ہو کر ہڑپہ کی اولین بستیوں، اور پھر ٹیکسلا، لاہور اور ملتان کے درخشاں مراکز تک پھیلا ہوا ہے، جسے دریائے سندھ نے سیراب کیا۔ یہ ہماری گہری تاریخی جڑوں سے زندہ تعلق ہے۔

اپنے نئے دارالحکومت کو "نیو ٹیکسلا" کا نام دے کر، ہم اپنے شاندار ماضی کو اپنے متحرک حال اور مستقبل سے جوڑ رہے ہیں۔ ہم اس تعلق کی اجتماعی سمجھ اور فخر کو فروغ دینا چاہتے ہیں، اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ نیو ٹیکسلا صرف ایک نام نہیں، بلکہ قدیم پنجاب اور پنجابی تہذیب کی لازوال روح کی علامت ہے، جو ہمیں آگے کی راہ دکھاتی ہے۔

نئے دارالحکومت کو نیو ٹیکسلا نام دے کر، ہم پنجاب کی علمی میراث کو دوبارہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی شناخت کو ایک ایسی تہذیب کے طور پر تسلیم کرتے ہیں جو علم اور حکمرانی میں جڑی ہوئی ہے۔

تہذیبی تسلسل
پنجابی تہذیب بلا تعطل پنج ست دریاوں کی طرح بہتی ہے:
سپتا سندھوسے ۔۔۔۔ہڑپہ تک ۔۔۔۔ٹیکسلا، ملتان اور لاہور تک
—سندھو /انڈس دریا المعروف دریائے پنجاب کی بدولت قائم۔
نیو ٹیکسلا محض ماضی پرستی نہیں۔ یہ تہذیبی اعتماد ہے—ہماری قدیم دانائی اور مستقبل کی امنگوں کے درمیان ایک پل۔

اہم عوامی مرکز خصوصیات اور آبادیاتی توجہ:
سیاسی طور پر متحرک آبادی (بشمول پالیسی سازوں، جدت کاروں، اور پیشہ ور افراد) کو فروغ دینا چاہیے تاکہ انتظامی کارکردگی اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اسے خدمات تک مساوی رسائی، اعلیٰ معیار کی عوامی جگہوں، اور فعال شمولیت کو ترجیح دینی چاہیے، تاکہ اعلیٰ معیارِ زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

متنوع اور شمولیتی آبادی: پائیداری کے لیے، شہر کو سب کی خدمت کرنی چاہیے، بشمول مقامی (Indigenous) اقوام کے، مصالحت پر مبنی شمولیت کے ذریعے، ایک محفوظ اور مساوی رہائشی ماحول فراہم کرتے ہوئے۔
اعلیٰ مہارت یافتہ اور جدت پسند افرادی قوت: تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد جیسے محققین، تکنیکی ماہرین، اور تخلیقی افراد کو راغب کرنے پر توجہ تاکہ جدید معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
سیاسی اور شہری طور پر متحرک شہری: اسے سیاسی سائنسدانوں، صحافیوں، اور عوامی پالیسی سازوں کا مرکز ہونا چاہیے تاکہ ایک متحرک، شفاف، اور جوابدہ جمہوریت کو یقینی بنایا جا سکے۔
متحرک علم پر مبنی معیشت کے کارکن: ایک "جدید" دارالحکومت ٹیکنالوجی، مالیات، اور مخصوص خدمات میں کام کرنے والے افراد پر انحصار کرتا ہے، اور ایسی افرادی قوت کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جس کی اوسط آمدنی اور تعلیم کی سطح بلند ہو۔
کمیونٹی پر مرکوز اور قابلِ رسائی: ایسا ڈیزائن جو صرف گاڑیوں کے بجائے پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے موزوں ہو، قابلِ رسائی سہولیات، سبز، شمولیتی، محفوظ، اور اچھی طرح ڈیزائن کی گئی عوامی جگہوں کے ساتھ، جو سماجی میل جول کے لیے ہوں۔
لہٰذا، ایک جدید دارالحکومت صرف عمارتوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ایسا شہر تخلیق کرنے کے بارے میں ہے جو اپنے رہائشیوں کے لیے محفوظ، پائیدار، اور بااختیار محسوس ہو.

نقطۂ نظر
پنجاب کا نیا دارلحکومت نیو ٹیکسلا ہوگا:جو کہ پنجاب کے عام لوگوں کا تخت ہوگا۔

ایک جدید دارالحکومت صرف عمارتوں کے بارے میں نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا شہر بنانے کے بارے میں ہوتا ہے جو اپنے رہائشیوں کے لیے محفوظ، پائیدار، اور بااختیار محسوس ہو۔ دارالحکومت کے شہر کیسے منتخب کیے جاتے ہیں؟
مقام اکثر کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سے ممالک اور صوبے یا ریاستیں جغرافیائی طور پر مرکزی دارالحکومت کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ اپنی حکومت کی برابری کو اجاگر کر سکیں؛ اس طرح دارالحکومت کسی ایک خطے کے حق میں جانبدار نظر آنے یا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، میڈرڈ تقریباً بالکل اسپین کے وسط میں واقع ہے (اور ایک قدم آگے بڑھیں تو جزیرہ نما آئبیریا کے وسط میں بھی)۔ جب نائجیریا نے ایک بالکل نیا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا، تو اس نے ابوجا کو، جسے باضابطہ طور پر 1991 میں دارالحکومت نامزد کیا گیا، مرکز میں رکھا—ایک ایسی جگہ جو ایک ایسے ملک میں اتحاد کی علامت ہے جسے اکثر جغرافیائی طور پر منقسم سمجھا جاتا ہے۔

پنجاب کو آج ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے
تخت لاہور تقسیم پنجاب کے بعد اپنی نااہل،کرپشن اور کوتاہ نظری کے باعث اور سٹیٹس کے محافظ استعماریت اور عوام دشمن ذہنیت ،فرسودہ سوچ کے سبب اور پنجابی زبان کو پنجاب کی تعلیمی سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے اور پنجاب کی قومی اور جفرافیائی وحدت، سالمیت کے تحفظ اور اسے قائم دائم رکھنے میں ناکام ہوچکا ہےاور ساتھ ہی پنجاب کے بعد پنجاب کے لوگوں کو بحیثیت مجموعی ہر شعبہ زندگی میں انصاف فراہم کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔جس کی وجہ سے پنجاب کی بقا اور وجود کو ہی خطرات لا حق ہو چکے ہیں ۔ جنہیں مزیدکسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔کیوں کہ تخت لاہور اور پنجاب کے دارالحکومت پر قیام پاکستان سے آج تک مسلط ہونیوالی تمام سیاسی پارٹیوں نے پنجاب کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی شعوری اور دانستہ سازشیں کی ہیں،پنجابی کو پنجاب کی واحد تعلہمی ،سرکاری دفتری زبان بنانے سے روز اول سے انکاری ہوکر پنجاب اور پنجابی کے ساتھ امتیازی سلولک کیا ہے ۔جسے اب سوائے پنجاب کا دارالحکومت لاہور سے پنجاب کے وسط میں منتقل کئے بغیر اور پنجاب اور پنجابی دشمن لہوری ذہنیت سے جو کہ پنجاب کو سرائیکی پوٹھوہاری اور پنجابی میں تقسیم در تقسیم کرکے ختم کرنے پر تلی ہے اور پنجاب کی وحدت کے خلاف انتہائی نفرت انگیز اور گھناونے نسلی لسانی جرائم کی سرکاری سرپرستی اور جرائم میں ملوث ہے سے پنجاب کا چھٹکارہ ممکن ہی نہیں.

تخت لاہور ، لہوری حکمرانوں اور لہوری دانشوروں کی پنجاب اور پنجابی کے ساتھ نفرت انگیز امتیازی سلوک کی کہانی
جو پنجابی زبان کو ختم کرنے اور پنجابی بولنے والی اکثریت کے گھر پنجاب کو غیر پنجابی بنانے کی غرض سے پنجاب کی زبان ،پنجابیوں کی نسل بدلنے پنجابی کو پنجاب کی تعلیمی سرکاری زبان بنانے سے قیام پاکستان سے آج تک مسلسل انکاری ہے اور اور پنجاب کو غیرپنجابی بنانے کی غرض سے،پنجابی کو سرکاری طور پر ختم کرنے کی غرض سے پنجابی کے لہجوں کا الگ زبانوں کے طوعر پر سرکاری نگرانی میں پروموٹ کر رہی ہے اور پنجابی کا دبا رہی ہے۔اور پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پنجاب حکومت نے پنجابی زبان کے ڈیپارٹمنت بند کررکھے ہیں ۔جبکہ ان کی جگہ سرائیکی لینگوئج ڈیپارٹمنٹ شروع کررکھے ہیں اور ان کی بھاری سرکاری فنڈنگ ہو رہی ہے ۔پنجاب یونیورسٹی لاہور سمیت پنجاب بھر کی یونیورسٹیوں میں پنجابی کلچرڈے کی بجائے سرائیکی کلچر ڈے منائے جاتے ہیں ۔ اورنسلی لسانی نسل کشی کے ذریعے پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پنجابی طلبا کی نسل بدل کر انہیں سرائیکی (سندھی )بنایا جا رہا ہے ۔فراڈ اور انجنئیرڈ مردم شماریوں کے ذریعے سینٹرل پنجاب میں پنجابی بولنے والے سوا کروڑ پنجابیوں کی مادری زبان اردو لکھ کر انہیں اردو سپیکنگ یعنی غیر پنجابی بنا دیا گیا اور اسی طرح جنوبی پنجاب میں سوا دوکروڑ بلوچوں اور پنجابیوں کی نسل بدل کر انہیں سرائیکی بنا دیا گیا کو جو کہ ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔پنجاب، ،پنجابی زبان ،پنجابی کلچر،پنجابی تہذیب ،پنجابی اکثریت ،پنجابی ہڑپن تہذیب اورسندھودریا المعروف دریائے پنجاب سمیت کچھ بھی تخت لہور،لہوری حاکموں ،دانشوروں اور سیاسی پارٹیوں ن لیگ، پی پی اور پی ٹی آئی کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہے ۔مذکورہ بالا تمام عناصر نے گذشتہ قیام پاکستان سے آج تک پنجاب پر یکے بعد دیگرے حکومت کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ یہ سب بلا تفریق پنجاب ، پنجاب کی وحدت، ،پنجابی زبان ،پنجابی کلچر،پنجابی تہذیب ،پنجابی اکثریت ،پنجابی ہڑپن تہذیب اور پنجابی شناخت سے شدید نفرت کرتے ہیں۔پنجاب کو ہو صورت میں تقسیم در تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔پنجابی زبان کا ہر صورت میں ختم کرنا چاہتے ہیں باالفاظ دیگر اپنے سامراجی آقاوں کے اشاروں پر پنجاب اور پنجابی کو ہر صورت میں سرائیکی ،پوٹھوہاری ،اردو اور پنجابی میں تقسیم در تقسیم کرکے ختم کرنے پر تلے ہیں ۔اس لئے پنجاب کا تخت لاہور سے اب ہر صورت میں پنجاب کے وسط میں منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے ورنہ پنجاب اور پنجابی کا وجود یہ پاکستان سے کیا دنیا سے کیا صفحہ ہستی سے مٹا کر ہی چھوڑیں گے ۔

پنجاب کا نیا دارلحکومت کیسا ہوگا ?
• ایک منصوبہ بند، سرسبز ،جدید ترین ، بے مثال اور ہمہ گیر دارالحکومت،
• جدید انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل حکمرانی کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا،
• ماحولیاتی، سکیورٹی اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے مضبوط،
• غیر منص
وبہ بند پھیلاؤ اور اشرافیہ کے قبضے سے آزاد،
• پنجاب کے تمام لوگوں کی بلا تفریق،بلا امتیازخدمت کے لیے، نہ کہ چند مراعات یافتہ،کرپٹ ،نااہل ،بددیانت،سازشی افراد کے لیے۔
• اصلاحات ہر شعبہ زندگی میں ۔پنجاب کے ہر وسنیک،ہر باشندے کے لئے بلاتفریق،بلا امتیاز تعلیم،صحت، روزگاراور زندگی کی ضمانت دینے والا پنجاب کے عام لوگوں کے لئے تعمیر کیا جانیوالا بسایا جانیوالا پنجاب کے لوگوں کا دارالحکومت اور تخت ،نیو ٹیکسلا
یہ اداروں، احتساب اور عوامی خدمت کا دارالحکومت ہوگا۔
مقصد
نیو ٹیکسلا:
• اختیارات کو غیر مرکزی بنائے گا،
• صوبائی حکمرانی کو مضبوط کرے گا،
• منصفانہ علاقائی ترقی کو فروغ دے گا،
• موجودہ بڑے شہروں پر دباؤ کم کرے گا،
• اور پنجاب کو اکیسویں صدی کے لیے تیار کرے گا۔

ہماری وابستگی
پنجاب نیا دارالحکومت تحریک کسی شہر یا علاقے کے خلاف نہیں۔
بلکہ یہ تحریک پنجاب کے چوہدہ کروڑ لوگوں کے مفاد اور فلاح و بہبود کے لئے ہے۔ یہ پنجاب کے لیے ہے۔انصاف، وقار اور برابری کے مواقع کے لیےہے۔ بنیادی انسانی ،آئینی،قانونی ،جمہوری اور پیدائشی حق کی بحالی کے لئے ہے ۔تیز رفتار،امن ،انصاف اورجان ،مال،عزت وآبرو کی چادر چاردیواری کی حفاظت اور آئین و قانون کی بالادستی کے لئے ہے ۔پنجاب کے لئے نیا دارالحکومت انصاف ،حکومت اور سرکاری اہلکاروں تک پنجاب کے عام لوگوں کی پہنچ اور تیز رفتار انصا ف ان کے دروازوں تک پہنچانے،حکومت،برسراقتدار سیاسی پارٹیوں اور حکومت چلانیوالے سرکاری اہلکاروں اور عوامی نمائندو ں کی جواب طلبی ،مواخذے اور ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کی جواب طلبی اور احتساب کی تحریک ہے ۔

پنجاب اپنی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ تیز رفتار آبادی میں اضافہ، انتظامی دباؤ، علاقائی عدم توازن، اور شہری ہجوم نے حکمرانی کو کمزور اور عدم مساوات کو گہرا کر دیا ہے۔ اب جزوی اصلاحات کافی نہیں رہیں۔ پنجاب کو ساختی تجدید کی ضرورت ہے۔ پنجاب کا نیا دارالحکومت لاہور سے ساہیوال /پاک پتن کے نزدیک منتقل کیا جائے،اس کے لئے اس علاقے میں ایک نیا شہر تعمیر کیا جائے ۔پنجاب کے وسط میں ۔پنجاب کے نئے دارالحکومت کے لئے پنجاب کے وسط /مرکز میں ایک نیا شہر نیو ٹیکسلا بساکر وہاں منتقل کیا جائے
ہم پنجابی ہیں اور یہ ہمارا لمحہ،ہمارا پل،ہمارا وقت ہے۔جس پر آج اس وقت ہماری پوری گرفت ہے ۔

کوئی ہمارا رستہ نہیں روک سکتا کہ ہم پنجابی ہیں۔اوربلاشرکت غیرے پنجاب /سپتا سندھو کے ہم وارث اور مالک ہیں ۔
پنج ست دریاوں کا وطن /دیس پنجاب /قدیم سپتا سندھو ہمارا ہی قدیم وطن ہمار ا ہی دیس ہے ۔ ،پنجاب ہماری مقدس دھرتی ماں ہے پنجاب ہمارا مقدس ترین آبائی وطن ہے ۔ہم اپنے پنجاب کو تباہ وبرباد ہوتا،ڈوبتا،تقسیم درتقسیم ہوتا صفحہ ہستی سے مٹتا ہرگز ہر گز نہیں دیکھ سکتے ۔،پنجاب روشنی ہے اسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے صدیوں کے اندھیروں میں گم ہوتا کبھی نہیں دیکھ سکتے ۔ہم اپنے پنجاب سالمیت،وحدت،قائم دائم ثابت سالم رکھنے کیلئے جان لے بھی سکتے ہیں اور جان دے بھی سکتے ہیں ۔پنجاب کی لسانی ،ثقافتی ،انتظامی ،جغرافیائی ،تہذیبی اور قومی وحدت کا دفاع اور اسے قائم دائم رکھنا ہمارا پیدائشی فرض اور حق ہے ۔پنجاب ہے تو سب کچھ ہے پنجاب نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ۔
دودھ منگ سو تاں کھیر دیساں پر جے پنجاب منگ سو تاں چیر دیساں

ایک مضبوط، متوازن پنجاب پاکستان کو مضبوط بناتا ہے۔
ہماری پکار ،ہمارا مطالبہ ،ہمارا حق
پنجاب کو ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے—اپنے عوام اور اپنے مستقبل کے لیے۔
پنجاب کو اب لازمی ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے
پنجاب کا نیا دارالحکومت: نیو ٹیکسلا
پنجاب متحد۔ پاکستان مضبوط۔
میرا خواب: پنجاب کا نیا داراالحکومت کیسا ہونا چاہیئے.اور کیوں ہونا چاہئے ؟
تحریر :چوہدری نظیر کہوٹ
بانی ،پنجاب نیا دارالحکومت تحریک
Founder Punjab
Punjab New Capital Movement
Punjab Needs A New Capital
Founder
Punjabi Language Movement

Chief Organiser
Punjab Bachao Tehreek پنجاب بچاو تحریک

=============================
Punjab New Capital: New Taxila
Founder’s Message
Punjab has given the world knowledge, courage, and civilization, yet today it struggles under
outdated systems and unequal development. I believe Punjab deserves governance that reflects its
greatness and serves all its people fairly.
The call for a new capital is not a rejection of our past, but a commitment to our future. New Taxila
represents balance, justice, learning, and renewal. It is a vision rooted in our civilizational strength
and guided by the needs of future generations.

(Life may be sacrificed, but one’s mother tongue and motherland must never be abandoned.)
This movement belongs to the people of Punjab. Together, we can build a capital that serves,
unites, and uplifts.
— Chaudhry Nazeer Kahut
Manifesto Summary
Punjab needs a new capital to decentralize power, restore regional balance, and prepare for the
challenges of the 21st century. New Taxila draws inspiration from the ancient center of learning and
governance, symbolizing continuity, knowledge, and inclusive progress.
New Taxila will be a planned, green, and modern capital—built for institutions, accountability, and
the people of Punjab.
Punjab United. Pakistan Strong

04/30/2026

پنجاب تے پاکستان دے بہترین قومی مفاد وچ پنجاب نوں نواں دارالحکومت چاہی دا (تحریک برائے منتقلی دارالحکومت پنجاب)لئی تحریک دے نال جڑو ساتھی بنو۔ساڈا پیچ فالو کرو.پیچ نوں لائیک کرو۔شئیر کرو.شکریہ ۔پنجاب زندہ باد!
Punjab Needs A New Capital
https://www.facebook.com/profile.php?id=100083229107241

Punjab Needs A New Capital.پنجاب نوں اک نویں دارلحکومت دئ ضرورت ہے۔

04/30/2026

پنجاب کو اب ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے ۔مگر کیوں ؟. Punjab Needs A New Capital Now.But Why? (Part-1 ,Dec 17 ,2025).

Punjab New Capital: New TaxilaOur MomentPunjab stands at a decisive moment in its history. Rapid population growth, admi...
04/27/2026

Punjab New Capital: New Taxila
Our Moment
Punjab stands at a decisive moment in its history. Rapid population growth, administrative overload, regional imbalance, and urban congestion have weakened governance and deepened inequality. Incremental reforms are no longer enough. Punjab needs structural renewal.
That renewal begins with a new capital.
Why a New Capital
For decades, political and administrative power has been concentrated in one corner of the province. This over-centralization has:
• strained institutions,
• distorted development priorities,
• marginalized large regions of Punjab,
• and burdened Lahore beyond sustainability.
A new capital is not a luxury—it is a necessity for efficient governance, regional balance, and long-term stability. Farrukh Sami I hear you. I respect your feelings.
But I will not stay silent anymore.

Lahore is no longer the heart of Punjab—
it has become the graveyard of the Punjabi language.

And the rest of Punjab?
A battlefield where our identity, culture, and language are under attack.

Punjab’s unity has been broken—
not by outsiders alone, but by those sitting in Takht Lahore:
the establishment, the so-called intelligentsia, and the ruling elite.

Today, new divisions are being pushed—
Seraiki. Pothohari. Punjabi.
Divide and weaken. Fragment and control.

The PML-N power structure in Lahore is not protecting Punjab—
it is dismantling it.

Let me say this clearly:
Punjab is NOT safe in the hands of Takht Lahore.

So I take a stand.

➡️ Move the capital.
➡️ Reclaim the center.
➡️ Restore Punjab’s strength.

From Lahore to the heartland—
Sahiwal–Pakpattan.

A new vision. A new beginning.
A new capital:

🔥 NEW TAXILA 🔥

Lahore is history.
Punjab is the future.

We will not let our language die.
We will not let our culture fade.
We will not let our identity be erased.

Enough is enough.
I am Punjabi.
This is my land.
This is my voice.

Why New Taxila
The name New Taxila is a conscious civilizational choice.
Ancient Taxila was one of the world’s earliest centers of higher learning, governance, and global exchange. It produced scholars, statesmen, and rulers who shaped Punjab and influenced the wider subcontinent. Taxila symbolized knowledge, pluralism, and leadership.
New Taxila: A Beacon of Punjab's Renaissance and Enduring Heritage
The naming of our new capital, New Taxila, is a deliberate act, a profound declaration of Punjab's resurgence and a vibrant testament to our rich heritage. It is a name chosen to evoke the spirit of an ancient icon, a powerful symbol of Punjab's ancestral identity that once stood as a beacon of knowledge and influence.
For it was in ancient Taxila that the world's first university flourished, drawing scholars and minds from across the globe. From this hallowed ground, great rulers, profound philosophers, and visionary statesmen emerged, individuals who not only shaped this region but also united Punjab and, indeed, ruled vast swathes of India. Their legacy is woven into the very fabric of our civilization.
Taxila represents the unbroken continuity of Punjabi civilization, a magnificent thread stretching from the ancient lands of Sapta Sindhu, through the pioneering settlements of Harappa, to the vibrant centers of Taxila, Lahore, and Multan, all nourished by the mighty Indus River. It is a living connection to our deep historical roots.
By christening our new capital "New Taxila," we are forging a powerful link between our glorious ancient past and our dynamic present and future. We aim to foster a collective understanding and pride in this connection, persuading all that New Taxila is not just a name, but a symbol of the ancient Punjab and the enduring spirit of Punjabi civilization, guiding us forward.
By naming the new capital New Taxila, we reclaim Punjab’s intellectual heritage and affirm our identity as a civilization rooted in learning and statecraft.
Civilizational Continuity
Punjabi civilization flows unbroken:
from Sapta Sindhu
to Harappa
to Taxila, Multan, and Lahore
—sustained by the Indus.
New Taxila is not nostalgia. It is civilizational confidence—a bridge between our ancient wisdom and our future aspirations.
The Vision
New Taxila will be:
• a planned, green, and inclusive capital,
• designed with modern infrastructure and digital governance,
• resilient to environmental, security, and future challenges,
• free from unplanned sprawl and elite capture,
• built to serve all Punjabis, not a privileged few.
It will be a capital of institutions, accountability, and public service.
The Purpose
New Taxila will:
• decentralize power,
• strengthen provincial governance,
• promote equitable regional development,
• reduce pressure on existing mega-cities,
• and prepare Punjab for the 21st century.
Our Commitment
This movement is not against any city, region, or people. It is for Punjab—for fairness, dignity, and opportunity.
A strong, balanced Punjab strengthens Pakistan.
Our Call
Punjab needs a new capital—for its people and for its future.
Punjab New Capital: New Taxila
Punjab United. Pakistan Strong.

📢 NEW CAPITAL — NEW TAXILA
📢 SAVE PUNJAB — UNITE PUNJAB
📢 PUNJAB ZINDABAD
📢 SAPTA SINDHU ZINDABAD Chaudhry Nazeer Kahut
Founder
Punjab New Capital Movement (PNCM)

Punjab New Capital: New TaxilaOur MomentPunjab stands at a decisive moment in its history. Rapid population growth, admi...
04/27/2026

Punjab New Capital: New Taxila
Our Moment
Punjab stands at a decisive moment in its history. Rapid population growth, administrative overload, regional imbalance, and urban congestion have weakened governance and deepened inequality. Incremental reforms are no longer enough. Punjab needs structural renewal.
That renewal begins with a new capital.
Why a New Capital
For decades, political and administrative power has been concentrated in one corner of the province. This over-centralization has:
• strained institutions,
• distorted development priorities,
• marginalized large regions of Punjab,
• and burdened Lahore beyond sustainability.
A new capital is not a luxury—it is a necessity for efficient governance, regional balance, and long-term stability.
Why New Taxila
The name New Taxila is a conscious civilizational choice.
Ancient Taxila was one of the world’s earliest centers of higher learning, governance, and global exchange. It produced scholars, statesmen, and rulers who shaped Punjab and influenced the wider subcontinent. Taxila symbolized knowledge, pluralism, and leadership.

New Taxila: A Beacon of Punjab's Renaissance and Enduring Heritage
The naming of our new capital, New Taxila, is a deliberate act, a profound declaration of Punjab's resurgence and a vibrant testament to our rich heritage. It is a name chosen to evoke the spirit of an ancient icon, a powerful symbol of Punjab's ancestral identity that once stood as a beacon of knowledge and influence.
For it was in ancient Taxila that the world's first university flourished, drawing scholars and minds from across the globe. From this hallowed ground, great rulers, profound philosophers, and visionary statesmen emerged, individuals who not only shaped this region but also united Punjab and, indeed, ruled vast swathes of India. Their legacy is woven into the very fabric of our civilization.
Taxila represents the unbroken continuity of Punjabi civilization, a magnificent thread stretching from the ancient lands of Sapta Sindhu, through the pioneering settlements of Harappa, to the vibrant centers of Taxila, Lahore, and Multan, all nourished by the mighty Indus River. It is a living connection to our deep historical roots.
By christening our new capital "New Taxila," we are forging a powerful link between our glorious ancient past and our dynamic present and future. We aim to foster a collective understanding and pride in this connection, persuading all that New Taxila is not just a name, but a symbol of the ancient Punjab and the enduring spirit of Punjabi civilization, guiding us forward.

By naming the new capital New Taxila, we reclaim Punjab’s intellectual heritage and affirm our identity as a civilization rooted in learning and statecraft.
Civilizational Continuity
Punjabi civilization flows unbroken:
from Sapta Sindhu
to Harappa
to Taxila, Multan, and Lahore
—sustained by the Indus.
New Taxila is not nostalgia. It is civilizational confidence—a bridge between our ancient wisdom and our future aspirations.
The Vision
New Taxila will be:
• a planned, green, and inclusive capital,
• designed with modern infrastructure and digital governance,
• resilient to environmental, security, and future challenges,
• free from unplanned sprawl and elite capture,
• built to serve all Punjabis, not a privileged few.
It will be a capital of institutions, accountability, and public service.
The Purpose
New Taxila will:
• decentralize power,
• strengthen provincial governance,
• promote equitable regional development,
• reduce pressure on existing mega-cities,
• and prepare Punjab for the 21st century.
Our Commitment
This movement is not against any city, region, or people. It is for Punjab—for fairness, dignity, and opportunity.
A strong, balanced Punjab strengthens Pakistan.
Our Call
Punjab needs a new capital—for its people and for its future.
Punjab New Capital: New Taxila
Punjab United. Pakistan Strong.

Chaudhry Nazeer Kahut
Founder
Punjab New Capital Movement

Punjabi Langauge Movement-Sargodha Division: پنجابی لینگویج مومنٹ

Punjabi Language Movement-Dera Ghazi Khan Division پنجابی زبان تحریک

Punjab Bachao Tehreek پنجاب بچاو تحریک

Punjab Student Council Gomal Uni D.i.khan

پنجاب کو ایک نئے دارالحکومت کی  ضرورت ہے .                               Punjab Needs A New Capital Cityپنجاب کا دارالحک...
04/20/2026

پنجاب کو ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے .
Punjab Needs A New Capital City
پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے مرکز میں منتقل کیا جائے.
پنجاب کو اپنی بقاکیلئےاب اپنےجفرافیائی مرکز میں ایک نئے صوبائی دارالحکومت کی فوری ضرورت ہے۔
Punjab Needs A New Capital Movement "
پنجاب کو چاہیئے نیا دارالحکومت تحریک"
پنجاب کو اپنی بقاکیلئےاب اپنےجفرافیائی مرکز میں ایک نئے صوبائی دارالحکومت کی فوری ضرورت ہے۔
Punjab Needs A New Capital Movement "پنجاب کو چاہیئے نیا دارالحکومت تحریک"
تحریک کب کہاں کیوں اور کیسے شروع کی?تحریک کا بانی کون ہے؟
اور شہزاد ناصر صاحب کے اس موضوع پر سرائیکی دانشور آفاق منصور سے مکالمہ پر پیدا ہونیوالے شکوک شبہات پر میرے تحفظات اور ریکارڈ کی درستگی کیلئے میری چند گذارشات بمع ثبوتوں کے پیش خدمت ہیں ۔ کہ
"پنجاب کو چاہیئے نیا دارالحکومت تحریک".
تیسرا حصہ :۔ ریکارڈ کی درستگی کیلئے تیسرے حصے میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہوں کہ تاریخ لکھنے والوں کے لئے آپ کی وساطت سے ہمیشہ کیلئے ریکارڈ درست کردیا جائے کہ پنجاب کا دارالحکومتت لاہور سے پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی تحریک کس پنجابی نے کب کہاں کیوں اور کیسے شروع کی اور اب تک اس پر کتنا کام ہوچکا ہے ۔

میں نے پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے مرکز میں شفٹ کرنے کی تحریک 17 دسمبر 2025 کو شروع کی جس پر میرا پہلا وی لاگ بھی 17 دسمبر 2025 کو ہی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوا۔ تاہم اس تحریک میں اچانک منصور آفاق کو گھسانے کےاقدام سے کچھ شکوک و شبہات پید ہوئے کہ جیسے کچھ لوگوں نے نادانستگی یا بے خبری میں شہزاد ناصر کو استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی اور آپ کے ذریعے مجھے ڈس کریڈٹ کرنے اور پنجاب کو نیا دارلحکومت چاہئے کی تحریک مجھے سے چھیننے کی کوشش کی ۔کیوں کہ اللہ نے انہیں سوچنے سمجھنے اور مستقبل میں جھانکنے کی صلاحٰیتوں سے کھسی یعنی بانجھ یعنی محرو م پیدا کیا ہے ۔

اعتراض یہ بھی ہے کہ منصور آفاق صاحب کے پاس اگر عمران خان کوسامنے پنجاب کا دارلحکومت پنجاب کے مرکز میں شفٹ کرنے کی تجویز دینے کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں ۔انہوں نے آپ سے آج ہی اس موضوع پر بات کیوں کی کیا وہ پانچ دس سالوں سے سوئے ہوئے تھے ۔اتنی اہم بات ہو گئی تو عمران خان سے اس ملاقات پر اس تجویز پر کوئی نہ کوئی کالم تو لکھا ہی ہوگا۔ کیوں کہ ذمہ دار دانشور اور لکھاری ہیں ۔ورنہ میں یہی سمجھوں گا کہ "پنجابی کلچرڈے" کی طر ح کہوٹ کو پنجاب کی وحدت برقرار رکھنے کی غرض سے پنجاب کا دارلحکومت پنجاب کے وسط میں منتقل کرنے کی تجویز ،منصوبہ, سے محروم کرنے کی سازش کی حسب معمول لہوری ٹولہ کررہا ہے ۔

پنجاب کو نئے دارالحکومت کے موضوع پر میں نے فیس بک،ٹک ٹاک اور ایکس پر اب تک تین چار وی لاگ اپ لوڈ کئے ہیں کہ میں نے پنجاب کا دارلحکومت لاہور سے پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی تحریک شروع کردی ہے ۔تمام پنجابی ایکٹیوسٹس کی سپورٹ اور تعاون کی ضرورت ہے ۔ان وی لاگز کو ٹک ٹاک ،فیس بک اور ایکس پر اسی ہزار سے ذیادہ لوگوں نے دیکھا مگر ہو سکتا ہے۔ آفاق منصور کے حوالے سے پنجاب کا دارلحکومت پنجاب کے مرکز میں شفٹ کرنے کی تجویز کے آپ کے آرٹیکل سے مجھے بظاہر یہی لگا کہ جیسے اس آرٹیکل کے ذریعے کہوٹ سے یہ اعزاز اور کریڈٹ چھیننے یا اسے ڈس کریڈٹ کرنے کی دانستہ یا نادانستہ سازش یا پیش بندی کی کی گئی ہے کہ اس تجویز کو لندن میں ہونیوالی کانفرنس میں کسی اور کے نام سے پیش کرکے کہوٹ کو ڈس کریڈٹ کیا جا سکے ۔تحریک کے بانی ہونے کا اعزاز اور پوری تحریک ہی اس سے چھین لی جائے ۔

پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی تجویزاور تحریک کا خالق اور بانی چوہدری نظیر کہوٹ ہے ۔اور پنجاب کے نئے دارلحکومت کا نیا نام "نیو ٹیکسلا" کا خالق بھی کہوٹ ہی ہے۔دوسرا یہ بھی عین ممکن ہے کہ میرا خدشہ مکمل طور پر بے بنیاد ہو اور آپ نے ،مدثر اقبال بٹ صاحب نے اور بیرسٹر عمیر منظور اور جن لوگوں کو آپ نے ٹیگ کیا ہے پنجاب کا دارلحکومت لاہور سے پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی میری تجویز ان تمام قابل احترام پنجابی سیوکوں کی نظروں سے نہ گذری ہو۔ اسی لئے ان سب کی معلومات اور ریکارڈ کی درستگی کیلئے پنجاب کو نئے دارالحکومت کی ضرورت ہے کی تحریک جس کا میں بانی ہوں اس کی مختصر تفصیل یہاں پیش خدمت ہے۔

اب تیسرے حصے میں وہ تمام ثبوت یہاں آپ کے اور آپ کے پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے پیش کررہا ہوں کہ تاریخ لکھنے والوں کے لئے آپ کی وساطت سے ریکارڈ درست کردیا جائے۔اور ہمیشہ کیلئے کہ پنجاب کا دارالحکومتت لاہور سے پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی تحریک کس پنجابی نے کب کہاں کیوں اور کیسے شروع کی اور اب تک اس پر کتنا کام ہوچکا ہے ۔
(1)
Punjabs New Capital Dot comکا ڈومین نیم میرے نام پر رجسٹر ہے ۔اور
پنجاب کے نئے دارالحکومت کی ویب سائٹ اپ لوڈ ہو چکی ہے مگر اس پر کام جاری ہے ۔جس کا لنک درج ذیل ہے ۔کلک کرکے ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں ۔
https://punjabsnewcapital.com/
میں نے سوشل میڈیا پر پنجاب کے نئے دارالحکومت کے لئے لوگوں کی ذہن سازی کی غرض سے اب تک تین چار وی لاگ بھی کرچکا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2)
پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی تجویز پر میرا 17 دسمبر 2025 کا پہلا وی لاگ:لنک درج ذیل ہے ۔
https://www.facebook.com/reel/2326943214412422
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3)
پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے مرکز میں شفٹ کرنے پر میرا دوسرا آرٹکیل
Dec26,2025 ,The Movement To Shift Punjabs Capital From Lahore To The ❤️ Of West Punjab Launched.
https://www.facebook.com/reel/1242401181281068
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4)
فیس بک پرPunjab Needs A New Capital کے نام سے کئی سال پرانا فیس بک پیچ موجود ہے جس کے سترہ سو فالورز ہیں ۔اس کا link درج ذیل ہے ۔
https://www.facebook.com/profile.php?id=100083229107241
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5)
میرے فیس بک پروفائل اور کے فیس بک پیچ پر میرا یہ آرٹیکل موجود ہے
Punjab Needs A New Capital
A united Punjab of 130 million people cannot be governed efficiently from a border-adjacent colonial city; a centrally located, purpose-built capital is not a luxury — it is administrative survival.”
Proposed Capital Zone
Sahiwal–Pakpattan–Okara belt
https://www.facebook.com/photo/?fbid=871595852291377&set=a.138057648978538
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6)
میرے فیس بک پروفائل پر پنجاب کے نئے دارالحکومت کے نئے نام نیو ٹیکسلا کا کور فوٹو کئی بار اپ لوڈ ہو چکا ہے۔لنک درج ذیل ہے
https://www.facebook.com/nazeer.kahut
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7)
Chaudhry Nazeer Kahut
March 27 at 1:54 PM
پنجاب دا دارالحکومت لہور توں پنجاب دے مرکز وچ شفٹ کرن دی تجویز میں کیوں دتی
https://www.facebook.com/photo/?fbid=10227320641675705&set=a.2611040569193
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے جغرافیائی مرکز میں منتقل کرنے پر میرا 17 دسمبر 2025 کو فیس بک پر اب لوڈ کیا جانیوالا میرا وی لاگ۔ لنک درج ذیل ہے۔
https://www.facebook.com/reel/2326943214412422
پنجاب کو آج ایک نئے دارالحکومت کی کیوں فوری ضرورت ہے۔
پنجاب کا نیا داالحکومت پنجاب میں کس مقام پر تعمیر ہونا چاہئے ؟پنجاب کے نئےدارالحکومت کا نام کیا ہوناچاہئے؟

آپ کی وساطت سے گذارش صرف یہ ہے کہ پنجابی کے لہوری مامے مجھے ہمیشہ ڈس کریڈٹ کرنے کی سازشیں متحد ہو کر کرتے ہیں . آپ کو ان کا اور اندر کا سب حال معلوم ہے ۔اس مضمون کو بطور احتیاط ریکارڈ کی درستگی کیلئے یہاں پوسٹ کررہا ہوں کہ پنجابی کلچرڈے کی طرح مجھ سے پنجاب کا دارالحکومت پنجاب کے مرکز میں منتقل کرنے کی تحریک مجھ سے چھیننے کی کوئی سازش نہ کرسکے ۔میرے ساتھ یہ گذشتہ چوہدہ سالوں سے جو کچھ کررہے ہیں ۔مجھے یاد ہے ذرہ ذرہ ۔کچھ بھی بھولنے والا نہیں ہوں ۔ناہی معاف کرنیوالا ہوں ۔
شکریہ
چوہدری نظیر کہوٹ
FaceBook Page
Founder
Punjab Needs A New Capital
بانی
پنجاب کو چاہیئے نیادارالحکومت تحریک
Website
https://punjabsnewcapital.com/

Chaudhry Nazeer Kahut

website
https://punjabsnewcapital.com/

Nazeer Kahut

Nazeer Kahut Vlogs

Address

Toronto, ON

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjab Needs A New Capital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share