Pakistan-Australia Literary Forum PALF Incorporated

Call Directions Website

Pakistan-Australia Literary Forum PALF Incorporated Urdu for all

Aims & Objectives
- It shall have the following aims and objectives:
- to encourage or to arrange translations of literary works from Urdu language into English and vice-versa
- to publish or to assist associations and individuals in publishing literary works including bibliographies, dictionaries, basic vocabularies etc. in Urdu language
- to sponsor or to hold literary conferences, seminars and exhibitions in Australia
- to award prizes and distinctions and give recognition to individual writers for outstanding work
- to promote the teaching and study of Urdu language and literature in Australia
- to promote cultural exchanges with other countries and to establish relations with international organisations in the field of literature
- to do all other acts and things whether incidental to powers aforesaid or not as may be required in order to further its objects
- The Forum is a non-political and non-religious organization
- The Forum is open to members from all nations, but it is based in Adelaide and its constitution is written in accordance with the law of Commonwealth of Australia

04/10/2026
انتقالِ پُرملالنہایت افسوس اور گہرے رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ذیشان قاضی اور عثمان قاضی کی والدۂ ماجدہ، بدھ،...
16/09/2026

انتقالِ پُرملال

نہایت افسوس اور گہرے رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ذیشان قاضی اور عثمان قاضی کی والدۂ ماجدہ، بدھ، 16 ستمبر 2026ء کو شام 5:45 بجے میلبورن آسٹریلیامیں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، انہیں نبیِ کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین و پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق احبابِ گرامی کو جلد مطلع کیا جائے گا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی رحمتِ کاملہ کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

میلبورن کی شبِ سخن:دیارِ غیر میں اردو کا روشن چراغ۔ | تحریر: سیدہ گیلانی-آسٹریلیاہم سماج September 9, 2026Spread the lov...
09/09/2026

میلبورن کی شبِ سخن:دیارِ غیر میں اردو کا روشن چراغ۔ | تحریر: سیدہ گیلانی-آسٹریلیا

ہم سماج September 9, 2026
Spread the love
میلبورن کی شامیں عموماً اپنی مصروفیات، روشن سڑکوں اور بدلتے موسموں کے ساتھ ڈھلتی ہیں، مگر 6 ستمبر 2026ء کی شام میلبورن میں کچھ اور ہی رنگ لیے ہوئے تھی۔ اس شام اردو کے چراغ روشن تھے، شعر و سخن کی خوشبو بکھری ہوئی تھی اور اہلِ اردو اپنی زبان، ادب اور تہذیبی شناخت سے اپنے رشتے کی تجدید کر رہے تھے۔ اردو اکیڈمی میلبورن، آسٹریلیا کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ خوب صورت ادبی تقریب محض ایک مشاعرہ یا کتاب کی رونمائی نہیں تھی؛ یہ دراصل اس عہد کا اظہار تھی کہ زبانیں سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ جہاں انہیں چاہنے والے دل اور سنبھالنے والے ہاتھ موجود ہوں، وہاں زبان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔

اس یادگار شام کا سب سے اہم حوالہ آسٹریلیا کے معروف ادیب، شاعر، ماہرِ تعلیم اور اقبالیات کے محقق ڈاکٹر افضل رضوی کی تحقیقی تصنیف ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ کی جلدِ اول اور جلدِ دوم کی تقریبِ رونمائی تھی۔ تقریب کی صدارت کہنہ مشق اور استاد شاعر مصدق لاکھانی صاحب نے کی، جبکہ ڈاکٹر افضل رضوی مہمانِ خصوصی تھے۔ نظامت کے فرائض سید احسن نے نہایت سلیقے اور شائستگی سے انجام دیے۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ نے فضا کو عقیدت کی روشنی سے منور کردیا۔ پھر شمع روشن کی گئی۔ یہ محض ایک رسمی مرحلہ نہ تھا؛ اس موقع پر روشن ہونے والی شمع جیسے اس چراغ کی علامت بن گئی جسے دیارِ غیر میں اردو کے شیدائی نسل در نسل روشن رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

ڈاکٹر افضل رضوی کی ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ بظاہر دو ضخیم مجلدات ہیں، مگر ان کے پس منظر میں ایک طویل علمی سفر، وسیع مطالعہ، مسلسل تحقیق اور اقبال کے فکری و شعری جہان سے گہری وابستگی کارفرما ہے۔ علامہ محمد اقبال کی اردو و فارسی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو ایک منظم تحقیقی زاویے سے دیکھنے کی یہ کاوش اقبالیات کے ذخیرے میں ایک قابلِ توجہ اضافہ ہے۔ ڈاکٹر رضوی نے اقبال کے کلام کو محض ذوقِ مطالعہ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اس کے مختلف پہلوؤں کو تحقیقی ترتیب، تجزیے اور استدلال کے ساتھ سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض ایک ادبی تصنیف نہیں بلکہ اقبالیات کے سنجیدہ طالب علم اور محقق کے لیے ایک قابلِ قدر علمی کاوش کی حیثیت رکھتی ہے۔

تقریب میں ڈاکٹر افضل رضوی نے اپنی دونوں کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے تحقیق کے بنیادی خدوخال اور اس کے فریم ورک پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سامعین کو بتایا کہ اقبال کے کلام کے مطالعے کے لیے مواد کے انتخاب، ترتیب، تجزیے اور نتائج تک رسائی کے مراحل کس تحقیقی منہج کے تحت طے کیے گئے۔ ان کے خطاب کا قابلِ ذکر پہلو یہ تھا کہ انہوں نے تحقیق کو محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی تحقیق سے منتخب نمونے بھی نذرِ سامعین کیے۔ ان مثالوں سے حاضرین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ کتاب کے صفحات میں تحقیقی منہج کس طرح عملی صورت اختیار کرتا ہے۔

ڈاکٹر رضوی کی گفتگو میں تحقیق کی سنجیدگی اور ادب کی لطافت ساتھ ساتھ دکھائی دی۔ ان کی علمی گفتگو سے اقبال کے فکری و شعری جہان سے ان کی گہری وابستگی، تحقیقی بصیرت اور وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا تھا۔ انہوں نے اقبال کو صرف ماضی کے شاعر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر کے طور پر پیش کیا جس کا پیغام آج کے انسان اور خصوصاً نئی نسل کے لیے بھی معنویت رکھتا ہے۔

اہلِ محفل نے ڈاکٹر رضوی کی اس علمی کاوش کو سراہا اور ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ کی دونوں جلدوں کی اشاعت پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔ ایسی تحقیقی کاوشیں محض ایک کتاب کی صورت میں نہیں رہتیں بلکہ آنے والے محققین کے لیے نئے سوالات اور نئی جہتوں کے دروازے کھولتی ہیں۔ اقبال کا فکری جہان جتنا وسیع ہے، اس کے مطالعے کے امکانات بھی اتنے ہی بے کنار ہیں، اور ڈاکٹر رضوی کی یہ کاوش اسی وسیع علمی سفر میں ایک قابلِ قدر قدم محسوس ہوتی ہے۔

تقریب کے بعد پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا اور پھر محفلِ مشاعرہ نے شام کو ایک نئے رنگ میں داخل کردیا۔ شعرائے کرام یکے بعد دیگرے تشریف لائے اور اپنے کلام سے محفل کو آراستہ کیا۔ کہیں فکر کی گہرائی تھی، کہیں محبت کی حرارت، کہیں زندگی کے تجربات کی کسک اور کہیں غزل کی وہ نزاکت جو لفظ کو احساس میں بدل دیتی ہے۔

سامعین بھی کسی طور پیچھے نہ تھے۔ ہر اچھے شعر پر داد کی آوازیں بلند ہوتیں اور یوں محسوس ہوتا جیسے شاعر اپنا شعر نہیں بلکہ اپنا دل سامعین کے سامنے رکھ رہا ہے اور سامعین جواب میں تالی یا داد نہیں بلکہ اپنے دل کی آواز لوٹا رہے ہوں۔ یہی تو مشاعرے کی اصل روح ہے: شاعر اور سامع کے درمیان ایک ایسا زندہ مکالمہ جس میں الفاظ وسیلہ بنتے ہیں اور احساس منزل۔

اس محفل کی ایک خوب صورت بات یہ بھی تھی کہ شعرائے کرام کی حوصلہ افزائی اسٹیج اور سامعین دونوں جانب سے ہوئی۔ یوں مشاعرہ محض ایک رسمی پروگرام کے بجائے ایسی ادبی نشست میں تبدیل ہوگیا جہاں ہر شخص اردو کی محبت میں شریک دکھائی دیا۔ آخر میں صدرِ محفل مصدق لاکھانی صاحب نے اپنے صدارتی کلمات سے محفل کو وقار بخشا اور اپنے کلام سے بھی سامعین کو محظوظ کیا۔ شعرائے کرام کی خدمت میں تحائف پیش کیے گئے، اجتماعی تصاویر بنیں اور یوں یہ یادگار تقریب تقریباً ساڑھے نو بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔

اس کامیاب شام کے پس منظر میں محترم افروز احمد اور ان کی ٹیم کی مسلسل محنت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دیارِ غیر میں اردو کے لیے محفل سجانا بظاہر آسان کام معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے وقت، توانائی، روابط اور سب سے بڑھ کر زبان و ادب سے بے لوث محبت درکار ہوتی ہے۔ افروز احمد عرصے سے آسٹریلیا میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کی کوششیں ایک ایسی ادبی فضا قائم کرنے کی کاوش ہیں جہاں اہلِ قلم کو اظہار کا موقع ملے، سامعین کو اچھی شاعری سننے کو ملے اور نئی نسل اپنی زبان اور تہذیبی ورثے سے اپنا رشتہ محسوس کرسکے۔ 6 ستمبر کی شام اسی مسلسل ادبی جدوجہد کا ایک خوب صورت ثمر تھی۔

دیارِ غیر میں اردو کی بقا کا سوال صرف زبان کا سوال نہیں۔ زبان کے ساتھ ایک پورا تہذیبی حافظہ وابستہ ہوتا ہے—کہانیاں، محاورے، شعری روایت، اقدار، یادیں اور نسلوں سے منتقل ہونے والے احساسات۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر افضل رضوی کی ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ کی میلبورن میں رونمائی ایک خاص معنویت رکھتی ہے۔ ایک طرف میلبورن کی سرزمین پر اقبال کے فکر و فن پر ایک تحقیقی کتاب منظرِ عام پر آتی ہے، دوسری طرف اسی شام اردو کے شعرا اپنے اشعار کے ذریعے زبان کے جمال و جلال کو زندہ رکھتے ہیں۔ یوں تحقیق اور تخلیق، کتاب اور مشاعرہ، ماضی اور حال ایک ہی ادبی منظرنامے میں جمع ہوجاتے ہیں۔

شاید یہی اس شام کی اصل خوب صورتی تھی۔ وہاں اردو صرف بولی یا سنی نہیں جا رہی تھی؛ وہ تحقیق میں لکھی جا رہی تھی، کتاب میں محفوظ کی جا رہی تھی، شعر میں گائی جا رہی تھی اور دل میں محسوس کی جا رہی تھی۔

ڈاکٹر افضل رضوی کی ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ اسی مسلسل تہذیبی سفر کا ایک اہم حوالہ ہے۔ یہ کاوش اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ اردو اور اقبالیات کے لیے کام کرنے کے لیے کسی خاص جغرافیے کا پابند ہونا ضروری نہیں۔ جہاں علم کی جستجو اور زبان سے محبت موجود ہو، وہاں تحقیق کے چراغ روشن کیے جاسکتے ہیں۔

اردو کو اپنے وطن سے ہزاروں میل دور بھی زندہ دیکھ کر دل میں یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ زبانیں جغرافیے سے نہیں، محبت سے زندہ رہتی ہیں۔ میلبورن کی اس شبِ سخن نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اردو جہاں محبت کرنے والے دل موجود ہوں، وہاں زندہ رہتی ہے۔

اردو اکیڈمی میلبورن، محترم افروز احمداور ان کی پوری ٹیم کو اس خوب صورت ادبی کاوش پر مبارک باد، اور ڈاکٹر افضل رضوی کو ’’در برگِ لالہ و گل‘‘ کی دونوں جلدوں کی اشاعت پر دلی خراجِ تحسین۔ دعا ہے کہ علم و ادب کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے، تحقیق کے نئے چراغ روشن ہوں، اقبال کے فکر پر مزید کام سامنے آئے، کتابیں شائع ہوتی رہیں، محفلیں سجتی رہیں، شعر گونجتے رہیں اور ہماری آنے والی نسلیں فخر سے کہتی رہیں کہ اردو ہماری زبان ہی نہیں، ہماری تہذیبی شناخت، ہماری ادبی میراث اور ہمارے دل کی آواز بھی ہے۔

Spread the loveمیلبورن کی شامیں عموماً اپنی مصروفیات، روشن سڑکوں اور بدلتے موسموں کے ساتھ ڈھلتی ہیں، مگر 6 ستمبر 2026ء کی شام میلبورن میں کچھ اور ہی رنگ لیے … Read More

Address

Adelaide, SA
5000

Telephone

+61456671590

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan-Australia Literary Forum PALF Incorporated posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share