06/03/2026
آج میں دل کی ایک بات آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
زندگی میں بہت سے لوگ مجھے مختلف وجوہات کی بنا پر جانتے ہیں، مگر جو لوگ مجھے *سیوئیر سوسائٹی لیہ* کی وجہ سے جانتے ہیں، وہ لمحہ میرے لیے سب سے زیادہ خوشی اور فخر کا ہوتا ہے۔
یونیورسٹی کے زمانے میں ایک بات میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی کہ ہمارے معاشرے میں کتنے ہی باصلاحیت بچے صرف اس لیے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ میں کچھ کروں۔ یہی سوچ *سیوئیر سوسائٹی* کی بنیاد بنی۔
یہ سفر آسان نہیں تھا۔ شروع میں میں اکیلا تھا، وسائل نہیں تھے، سہارا نہیں تھا۔ مگر میرے پاس ایک طاقت تھی — *طلبہ و طالبات کا اعتماد*۔
انہی طلبہ نے اپنی جیب خرچ سے چند روپے دے کر اس مشن کی بنیاد رکھی۔ انہی پیسوں سے ہم نے ایک یتیم بچی کی پہلی فیس ادا کی، اور وہی لمحہ سیوئیر سوسائٹی کی حقیقی شروعات تھا۔
الحمدللہ آج ہم *اکیس (21) تعلیمی کیسز* مکمل کر چکے ہیں اور اب *بائیسواں (22) کیس* شروع ہو چکا ہے۔ یہ سب کسی سیاسی طاقت یا بڑے سرمایہ سے نہیں ہوا۔ یہ سب صرف نیک نیت طلبہ کی چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے ممکن ہوا ہے۔
میرے پاس اکثر راشن کے کیسز بھی آتے ہیں، مگر میں ہمیشہ ایک بات کہتا ہوں:
*"انسان ایک دن بھوکا سو سکتا ہے، مگر اگر تعلیم سے محروم رہ گیا تو پوری زندگی محرومی میں گزر سکتی ہے۔"*
تعلیم وہ طاقت ہے جو انسان کو پہچان دیتی ہے۔ ایک پڑھا لکھا انسان نہ صرف اپنی زندگی بدلتا ہے بلکہ اپنی پوری نسل کا مستقبل روشن کر دیتا ہے۔ جب ایک بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف خود نہیں پڑھتا، بلکہ اپنے پورے خاندان کو روشنی دیتا ہے۔
ہم تو بس ایک *پودے کی ایک شاخ* کو سہارا دیتے ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ شاخ ایک دن پورے درخت کو پھل دار بنا دے گی۔
میں ہر اس انسان کا دل سے احترام کرتا ہوں جو ہمیں حوصلہ دیتا ہے، کیونکہ کبھی کبھی انسان کو صرف *حوصلہ* ہی آگے بڑھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ باقی سب وسیلے اللہ پاک پیدا کر دیتا ہے۔
میری آپ سب سے درخواست ہے:
اگر آپ چاہتے ہیں کہ *غریب کا بچہ بھی تعلیم حاصل کرے*، تو ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔
ڈاکٹر، اساتذہ، وکلاء، اور ہر وہ شخص جو تعلیم کی طاقت کو سمجھتا ہے، وہ ہمارے ساتھ *سیوئیر بن کر* اس مشن کا حصہ بنے۔
آئیں مل کر لیہ کے ہر بچے کو یہ حق دیں کہ وہ تعلیم حاصل کرے، اپنے خواب پورے کرے اور اپنے خاندان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے۔
کیونکہ جب ایک بچہ پڑھتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں بدلتا…
*ایک پورا معاشرہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔*
خاکسار
عبدالممیت احمد
بانی، سیوئیر سوسائٹی لیہ