Gujjar Club

Gujjar Club Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gujjar Club, Community Service, Dubai.

08/09/2026

Congratulations to Umar Zaman Gujjar on his promotion to Inspector in Punjab Police. He belongs to Narowal.

We are proud of your hard work and honesty. May you keep growing and doing well in your new role.

May Allah give you more success and honor. Ameen

Gujjar International Youth Forum (GIYF) 🚩

🚩Official 🚩

07/09/2026

A Proud Son of the Gujjar Nation — Ch. Ali Waseem Gujjar

Ch. Ali Waseem Gujjar has recently been appointed as DIG Islamabad (Operations).

Gujjar International Youth Forum extends its heartfelt congratulations and best wishes to Ch. Ali Waseem Gujjar on his new responsibility.

Ch. Ali Waseem Gujjar belongs to Jalalpur Jattan, District Gujrat, and is the son of Ch. Waseem-uz-Zaman Gujjar Sahib.

Ch. Ali Waseem Gujjar is a BS-19 officer of the Police Service of Pakistan (PSP). He previously served as Director NCCIA Punjab, where his tenure saw notable action against cybercrime, online blackmailing, and digital fraud. He has also served as DPO in various districts of Punjab, proving his professional capabilities time and again.

We are proud and happy to see him take on this important responsibility. His hard work, ability, and professional services are truly appreciated.

May Allah Almighty bless him with more success, respect, progress, and honour, and grant him the strength to serve the people with dedication. Ameen

Gujjar International Youth Forum (GIYF) 🚩

گجر قوم کا ایک قابلِ فخر سپوت — چوہدری علی وسیم گجر

چوہدری علی وسیم گجر صاحب کو حال ہی میں ڈی آئی جی اسلام آباد (آپریشنز) کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم اس نئی ذمہ داری پر چوہدری علی وسیم گجر صاحب کو دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہے۔

چوہدری علی وسیم گجر صاحب کا تعلق جلال پور جٹاں، ضلع گجرات سے ہے اور آپ چوہدری وسیم الزماں گجر صاحب کے فرزند ہیں۔

چوہدری علی وسیم گجر صاحب پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے BS-19 افسر ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جہاں ان کے دورِ خدمت میں سائبر کرائم، آن لائن بلیک میلنگ اور ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف قابلِ ذکر کارروائیاں سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ وہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بطور ڈی پی او بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

ہمیں فخر ہے کہ وہ اس اہم ذمہ داری کو سنبھال رہے ہیں۔ ان کی محنت، صلاحیت اور پیشہ ورانہ خدمات لائقِ تحسین ہیں۔

اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابی، عزت، ترقی اور وقار سے نوازے اور عوام کی بے لوث خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم (GIYF) 🚩

🚩Official🚩

06/09/2026

Heartfelt Congratulations to Chaudhry Asif Naveed Gujjar on his appointment as SHO, Thana Raiya Khas, Narowal.

Your dedication, professionalism, and commitment to duty are truly admirable. Wishing you continued success, honor, and excellence as you take on this new responsibility.

May Allah Almighty bless you with further achievements and success in your new role. Ameen

Gujjar International Youth Forum (GIYF) 🚩

🚩Official 🚩

06/09/2026

🔥 بہاولپور کی سیاست میں تاریخی موڑ! 🔥
⭐ ایک نیا ستارہ سیاسی افق پر طلوع ہو چکا ہے! ⭐
ضلع بہاولپور کے تمام باشعور اور محبِ وطن عوام کے نام اہم پیغام:
چوہدری عالمگیر گجر نے حلقہ NA-168 بہاولپور سے باقاعدہ طور پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے الحصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے، اور گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم پورے یقین اور فخر کے ساتھ ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتا ہے۔ ان کے اس قدم نے سیاسی میدان میں نئی جان ڈال دی ہے اور روایتی امیدواروں کی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
چوہدری عالمگیر گجر کا عزم:
عملی خدمت: زبانی وعدوں کے برعکس عملی اور حقیقی ترقی۔
دیانت و محنت: عوام سے مخلصانہ وابستگی اور بے لوث خدمت۔
بنیادی سہولیات: بہاولپور کے ہر گھر تک انصاف، ترقی اور بنیادی حقوق کی فراہمی۔
عوام سے دلی اپیل:
بہاولپور کی زمین نے ہمیشہ محبت اور باہمی احترام کو پروان چڑھایا ہے۔ آج فیصلہ خوف کا نہیں، غیرت اور شعور کا ہے۔ جھوٹے وعدوں اور مفاد پرست سیاست کے مقابلے میں صرف اہلیت اور دیانت کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔
اللہ تعالیٰ چوہدری عالمگیر گجر کی اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ آمین!
🎯 چوہدری عالمگیر گجر — ایم این اے NA-168 (آزاد امیدوار)
📌 سب کا بہاولپور، سب کا عالمگیر گجر!
🚩
🚩

یومِ دفاع پاکستان — 6 ستمبر"اپنی مٹی کی محبت کو وفاء کہتے ہیں..."آج 6 ستمبر کا دن ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے، جب پوری...
06/09/2026

یومِ دفاع پاکستان — 6 ستمبر
"اپنی مٹی کی محبت کو وفاء کہتے ہیں..."
آج 6 ستمبر کا دن ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے، جب پوری دنیا نے دیکھا کہ جب وطنِ عزیز پر آنچ آئی، تو پاک فوج کے غیور سپوتوں اور اس سرزمین کے بیٹوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک و قوم کو پکارا گیا، گجر قوم کے بہادروں نے ہمیشہ فرنٹ لائن پر ہو کر دفاعِ وطن میں اپنا شاندار اور تاریخی کردار ادا کیا۔ ہمارے اجداد کا خون ہو یا آج کے جوانوں کا عزم، وطنِ عزیز کے ساتھ ہماری وفاداری اٹل اور لازوال ہے۔ آج بھی افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ ہمارے نوجوان ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
گجر کلب کی جانب سے، ہم یومِ دفاع کے اس مبارک موقع پر اپنے تمام شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کر دیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو تاقیامت سلامت رکھے، اس کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اس کی ترقی و خوشحالی کے لیے اتحاد اور محنت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
پا ئندہ باد افواجِ پاکستان
منجانب گجر کلب

25/08/2026

A Proud Son of the Gujjar Nation — Ch. Atif Ameer Gujjar

Ch. Atif Ameer Gujjar has recently been appointed as SP Operations Cantt, Lahore.

Gujjar International Youth Forum extends its heartfelt congratulations and best wishes to Ch. Atif Ameer Gujjar on his new responsibility.

Ch. Atif Ameer Gujjar belongs to 10 Chak, Chiniot, and is the son of Ch. Ameer Ali Gujjar Sahib.

We are proud and happy to see him take on this important responsibility. His hard work, ability, and professional services are truly appreciated.

May Allah Almighty bless him with more success, respect, progress, and honour, and grant him the strength to serve the people with dedication. Ameen

Gujjar International Youth Forum (GIYF) 🚩

گجر قوم کا قابلِ فخر فرزند — چوہدری عاطف امیر گجر صاحب

چوہدری عاطف امیر گجر صاحب کو حال ہی میں ایس پی آپریشنز کینٹ، لاہور تعینات ہونے پر گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

عاطف امیر گجر صاحب کا تعلق چنیوٹ کے 10 چک سے ہے۔ آپ چوہدری امیر علی گجر صاحب کے صاحبزادے ہیں۔

آپ کی اس اہم ذمہ داری پر ہمیں خوشی اور فخر ہے۔ آپ کی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ خدمات قابلِ قدر ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اس نئی ذمہ داری میں مزید کامیابیاں، عزت، ترقی اور نیک نامی عطا فرمائے اور عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔
آمین ثم آمین۔

منجانب: گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم (GIYF) 🚩

🚩Official🚩

جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبارک ہوبارہ ربیع الاول کی یہ بابرکت مناسبت پوری امتِ مسلمہ کے لیے رحمت او...
25/08/2026

جشنِ عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبارک ہو
بارہ ربیع الاول کی یہ بابرکت مناسبت پوری امتِ مسلمہ کے لیے رحمت اور خوشی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ آئیے اس مقدس موقع پر نبی کریم ﷺ کی تعلیمات، محبت اور اخلاقِ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کا عزم کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
منجانب: گجر کلب 🦁

🦁
🦁

ہوٹل سند باد کی حقیقت اور رؤف کلاسرہ کی اصلیت ملتان کے ایک نامور ہوٹل "سند باد" کی حقیقت سے پردہ اٹھانے پر ایس ایچ او حن...
19/08/2026

ہوٹل سند باد کی حقیقت اور رؤف کلاسرہ کی اصلیت

ملتان کے ایک نامور ہوٹل "سند باد" کی حقیقت سے پردہ اٹھانے پر ایس ایچ او حنیف گجر صاحب کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ وہ ہوٹل ہے جسے دہائیوں سے "Untouchable" تصور کیا جاتا تھا، مگر آج یہ ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ رؤف کلاسرہ جیسے صحافی، جو کبھی پاؤں پاؤں چل کر خبروں کے تبرک جمع کرتے تھے، آج حنیف گجر جیسے پولیس افسر کے خلاف محاذ پر ہیں۔ انسانی حقوق کے ترازو پر بھی ان کی کارکردگی صفر ہے۔ عرصۂ دراز سے یہ شخص پی ٹی آئی کارکنوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش ہے، مگر جب ایک غیر قانونی کارروائی کیخلاف کارروائی ہو تو ان کا قلم چل پڑتا ہے۔

کیا یہ وہی رؤف کلاسرہ ہیں جو زمانۂ طالب علمی میں ایف اے، بی اے سے آگے نہ بڑھ سکے، مگر مرحوم جنرل پرویز مشرف کے الیکٹرونک میڈیا کے دروازے کھولنے نے ان جیسے سڑک چاپ صحافیوں کو مالا مال کر دیا۔ گھر، گاڑی، بنگلے اور بچوں کی تعلیم بیرون ممالک—سب کچھ انہیں میسر آیا، جبکہ ان کی آواز، انداز اور علم کسی بھی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

یہ وہی لوگ ہیں جو ہر چلتی حکومت کے خلاف بیان بازی تو خوب کرتے ہیں، مگر عمران خان کی دو سالہ قید و بند، شدید گرمی میں جیل کی صعوبتیں، اور ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی عظیم خاتون کے ساتھ ہونے والے مظالم پر انہیں کچھ کہنا نہیں آتا۔

وہ خاتون جن کے ہاتھوں لاکھوں بچے دنیا میں آئے، جنہوں نے رات کی تاریکی میں ڈیوٹی کی اور اپنے سولہ سالہ بچے کو ساتھ لے کر ایمرجنسی میں جان بچائی، آج کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں 55 ڈگری گرمی میں آکسیجن اور پانی کی کمی سے مرنے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ منظر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

میں نے چالیس برس کے سیاسی کیریئر میں اتنی بے رحمی کبھی نہیں دیکھی۔ ویل چیئر پر بیٹھی معذور لڑکیوں کو بالوں سے گھسیٹا جانا، عورتوں کی عزتیں پامال کرنا، بزرگوں اور بچوں کو جیل میں ڈالنا—یہ جنگی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ ظالم اس لیے جری ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے،توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہے ۔

اب ذرا ہوٹل سند باد کی طرف آتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ہوٹل پچھلی دو دہائیوں سے جدید ترین قحبہ خانہ ہے؟ شام ہوتے ہی دلال لڑکیوں کو یہاں لا کر کھڑے کر دیتے ہیں، شراب کا بندوبست ہے، اور صبح تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ کوئی معمولی ہوٹل نہیں، یہ پورے معاشرے کے ماتھے پر کلنک ہے۔

جب حنیف گجر صاحب نے اس اڈے پر چھاپہ مارا اور شراب پیتے مرد و زن کو گرفتار کیا، تو کیا یہ جرم تھا؟ کیا یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے معاشرے کو بدکاری سے بچانے کی کوشش کی؟ لیکن ایک تھرڈ کلاس صحافی کی چند لائنوں نے ایک بہادر پولیس افسر کو معطل کروا دیا۔

افسوس کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی فحاشی کو فروغ دینے والا ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ اگر لڑکا لڑکی اکیلے ہوں تو پولیس مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ کس اسلامی جمہوریہ کا قانون ہے؟ کاش اس فیصلے کو جاری کرنے والے کے گھر کی کوئی بچی کسی روز ہوٹل سند باد کی مہمان ہوتی، تو شاید انہیں اس فیصلے کی حقیقت سمجھ آتی۔

رؤف کلاسرہ اور سی پی او نے حنیف گجر صاحب کو سزا دے کر درحقیقت ہوٹل سند باد کو مزید طاقت بخشی ہے۔ یہ وہی کلاسرہ ہیں جو ہر تیسری پوسٹ میں کریڈٹ لیتے ہیں کہ انہوں نے سی پی او کو ہلا دیا، ایس ایچ او کو ہلا دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی اور ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کا علم انہیں بعد میں ہوگا۔

میں حنیف گجر صاحب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے ایک ایسی کارروائی کی جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہاں، ان کا انداز شاید کسی کو ناگوار لگے، لیکن ان کا مقصد پاک تھا—معصوم لڑکیوں کو بھیڑیوں کے پنجے سے چھڑانا۔

گجر صاحب، اگر آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو جان لیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ رزق، عزت اور زندگی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ نے جو کیا، وہ بہادری کا کام تھا۔ ہمت رکھیں، کیونکہ قانون کے سامنے ہر شخص برابر ہے، خواہ وہ گردیزی ہو، قریشی ہو یا گیلانی۔

اللہ تعالیٰ حنیف گجر اور ان جیسے تمام سچے پولیس افسران کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین

محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

گجر گجر ہے — گجر کا نام بولتا ہے، گجر کا کام بولتا ہے!

گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم آج ایس ایچ او حنیف گجر کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ صرف ایک پولیس افسر کی حمایت نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، بہادری اور بلاامتیاز احتساب کے اصول کی حمایت ہے۔

جب ایک افسر کسی ایسے مقام پر قانون کے مطابق کارروائی کرتا ہے جہاں عام طور پر بااثر لوگوں کے خلاف ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہوتا، تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “کارروائی کس پر ہوئی؟”
سوال یہ ہونا چاہیے کہ “اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو کارروائی کیوں نہ ہوتی؟”

اگر ایک عام آدمی قانون توڑنے پر کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے تو بااثر شخص بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔

ہم حنیف گجر کے خلاف کسی بھی الزام کو بغیر تحقیق درست قرار نہیں دیتے، لیکن ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی شفاف، غیر جانب دار اور میرٹ پر ہو۔ کسی افسر کو صرف اس لیے قربان نہ کیا جائے کہ اس نے کسی بااثر طبقے کے خلاف قانون حرکت میں لانے کی کوشش کی۔

حنیف گجر سے منسوب یہ جملے آج سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہیں:

“گجر، گجر ہے!”
“گجر کا نام بولتا ہے، گجر کا کام بولتا ہے!”

یہ الفاظ صرف نعرہ نہیں، بلکہ جرأت، خودداری اور اپنے فرض پر کھڑے رہنے کی علامت بن چکے ہیں۔

ہم کسی فرد کے خلاف نفرت نہیں چاہتے، کسی پر بغیر ثبوت الزام نہیں لگاتے؛
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کا ایک ہی ترازو ہو۔

اگر حنیف گجر نے قانون کے مطابق کام کیا ہے تو انہیں انصاف ملنا چاہیے۔
اور اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا فیصلہ ثبوت اور شفاف تحقیقات سے ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ، شہرت یا اثر و رسوخ سے۔

گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم (GIYF) 🚩

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
گجر قوم زندہ باد 🚩

🚩Official 🚩

14/08/2026

چوہدری رحمت علی گجر — پاکستان کے نام کے خالق

ایک قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت اور ایک قومی قرض جو ابھی تک ادا نہیں ہوا

منجانب: گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم

۱۴ اگست، یومِ آزادی کے اس مقدس موقع پر گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم کی جانب سے تمام پاکستانیوں، خصوصاً گجر قوم کو دل کی گہرائیوں سے جشنِ آزادی مبارک۔

آج جب ہم آزادی کی خوشیاں مناتے ہیں، سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کو بھی ضرور یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ایک آزاد وطن کے خواب کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ انہی عظیم لوگوں میں ایک نام چوہدری رحمت علی گجر کا بھی ہے۔

چوہدری رحمت علی ۱۶ نومبر ۱۸۹۷ء کو گاؤں موہراں، تحصیل گڑھ شنکر، ضلع ہوشیارپور میں ایک گجر خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق گورسی گجر خاندان سے تھا۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ انگلستان گئے اور کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے۔ ۱۹۳۳ء میں انہوں نے ایک تاریخی پمفلٹ لکھا جس کا نام تھا:

“Now or Never; Are We to Live or Perish Forever?”

اسی تحریر میں انہوں نے پہلی مرتبہ “پاکستان” کا نام پیش کیا۔

اس وقت شاید کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک نوجوان کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ نام ایک دن دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی پہچان بن جائے گا۔

چوہدری رحمت علی نے اپنی زندگی مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے تصور کو اجاگر کرنے میں صرف کر دی۔ انہوں نے انگلستان میں رہ کر مسلسل لکھا، آواز اٹھائی اور دنیا کے سامنے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا۔

پھر وہ تاریخی دن بھی آیا۔

۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں آ گیا۔

جس ملک کا نام ایک گجر نوجوان نے تقریباً چودہ سال پہلے پیش کیا تھا، آج وہی نام ہمارے پیارے وطن کی شناخت بن چکا تھا۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے۔۔۔

چوہدری رحمت علی جس پاکستان کے نام کے خالق تھے، وہ خود پاکستان کی مٹی میں دفن نہ ہو سکے۔

۳ فروری ۱۹۵۱ء کو کیمبرج، انگلستان میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں وہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

آج ان کی وفات کو ۷۵ سال گزر چکے ہیں، لیکن وہ آج بھی دیارِ غیر میں آسودۂ خاک ہیں۔

ذرا سوچیں، جس شخص نے ہمارے ملک کا نام دنیا کے سامنے پیش کیا، جس نے اپنی زندگی مسلمانوں کے ایک آزاد وطن کے تصور کے لیے وقف کر دی، آج بھی اس کی قبر پاکستان سے باہر ہے۔

یہ ہم سب کے لیے سوچنے کی بات ہے۔

ماضی میں ان کے جسدِ خاکی کو پاکستان واپس لانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ اسلام آباد کے شکر پڑیاں میں ان کی تدفین اور مزار کے لیے جگہ فراہم کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا، لیکن آج تک یہ کام مکمل نہیں ہو سکا۔

گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم کا مطالبہ

گجر انٹرنیشنل یوتھ فورم حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ، پاکستان ہائی کمیشن لندن اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ چوہدری رحمت علی کے جسدِ خاکی کو جلد از جلد پاکستان واپس لایا جائے اور انہیں قومی اعزاز و احترام کے ساتھ پاکستان کی سرزمین پر سپردِ خاک کیا جائے۔

اسلام آباد کے شکر پڑیاں میں ان کے لیے ایک باوقار مقام پر مزار بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اس عظیم قومی محسن کو یاد رکھ سکیں اور ان کی خدمات سے آگاہ ہوں۔

یہ صرف ایک میت کو پاکستان لانے کا معاملہ نہیں ہے۔

یہ اپنے محسن کا قرض ادا کرنے کا معاملہ ہے۔
یہ اپنی تاریخ کو یاد رکھنے کا معاملہ ہے۔
یہ اپنے قومی ہیرو کو عزت دینے کا معاملہ ہے۔

ہم تمام پاکستانیوں، خصوصاً گجر قوم کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مطالبے کو اپنی آواز بنائیں اور حکومتِ پاکستان تک یہ پیغام پہنچائیں۔

جس شخص نے پاکستان کا نام دنیا کو دیا، آج وقت ہے کہ پاکستان اسے اپنی مٹی میں واپس لائے۔

اللہ تعالیٰ چوہدری رحمت علی کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اپنے اس عظیم قومی محسن کا قرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

چوہدری رحمت علی کو وطن واپس لاؤ!










🚩Official 🚩

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gujjar Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share