Call Directions Contact the organization

ROOHI Zindagi aur Haqeeqat 🌹

25/10/2026

"وقت انسان کو بدلتا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصلی چہرہ سامنے لے آتا ہے" یہ زندگی کی ایک کڑوی اور گہری سچائی ہے۔ جب حالات اچھے ہوتے ہیں تو ہر شخص مخلص، ہمدرد اور اپنا نظر آتا ہے۔ لیکن جیسے ہی انسان پر برا وقت آتا ہے یا حالات کا رخ بدلتا ہے، تو لوگوں کے چہروں سے منافقت کے نقاب خود بخود اتر جاتے ہیں۔

• وقت ایک آئینہ ہے: وقت کسی کا محتاج نہیں ہوتا، یہ ایک ایسے آئینے کی طرح ہے جو انسان کی اصل فطرت کو صاف دکھا دیتا ہے

• مطلب پرستی کا بے نقاب ہونا: اچھے وقت میں مٹھاس گھولنے والے اور ساتھ دینے والے اکثر لوگ صرف اپنے مطلب کے لیے جڑے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی آپ کی زندگی میں ہلکی سی دھوپ یا مشکل آتی ہے، یہ لوگ سب سے پہلے اپنا راستہ بدل لیتے ہیں.
شکریہ ادا کرنا چاہیے。 برا وقت ہمیں یہ سبق دے کر جاتا ہے کہ کن لوگوں پر اندھا بھروسہ کرنا ہے اور کن سے فاصلہ رکھنا ہے。 جو مخلص ہوتے ہیں، وہ حالات جیسے بھی ہوں، ساتھ کھڑے رہتے ہیں؛ اور جو چلے جاتے ہیں، وہ دراصل آپ کی زندگی سے ایک دھوکے کا خاتمہ ہوتے ہیں

25/10/2026

شاپنگ مال میں جو بڑی ٹرالی آپ دھکیلتے ہیں وہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نفسیاتی چال ہے جسے کنزیومر مینوفیکچرنگ کہتے ہیں۔ اس کی شروعات 1936 میں امریکہ کے اوکلاہوما شہر سے ہوئی۔ وہاں ایک دکاندار تھا سلوین گولڈمین، اس نے غور کیا کہ گاہک کے ہاتھ کی ٹوکری جیسے ہی بھر جاتی ہے وہ مزید خریداری چھوڑ کر گھر چلا جاتا ہے۔ تو اس نے اپنے دفتر میں رکھی دو فولڈنگ کرسیوں کو دیکھ کر سوچا، اگر اسی پر پہیے اور ایک ٹوکری لگا دی جائے تو گاہک زیادہ سامان بھر سکے گا۔ 4 جون 1937 کو دنیا کی پہلی شاپنگ کارٹ مارکیٹ میں آئی۔

لیکن شروع میں لوگوں نے اس کا مذاق اڑا دیا۔ مرد کہتے تھے یہ عورتوں والا ٹھیلا ہے ہم نہیں دھکیلیں گے، عورتیں کہتی تھیں یہ بچوں کی گاڑی جیسی لگتی ہے۔ گولڈمین کا سارا آئیڈیا فیل ہوتا نظر آیا۔ پھر اس نے ایک چال چلی، اس نے خوبصورت ماڈل لڑکے اور لڑکیوں کو پیسے دے کر ہائر کیا اور انہیں اسٹور میں یہ ٹرالی چلاتے ہوئے گھمایا۔ لوگوں نے جب دیکھا کہ اسمارٹ لوگ یہ استعمال کر رہے ہیں تو شرم ختم ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ فیشن بن گیا۔ 1946 میں ایک اور انجینئر اورلا واٹسن نے اس میں ایک دوسرے میں پھنسنے والا گیٹ لگایا جو آج تک وہی ڈیزائن چل رہا ہے۔ آج تحقیق کہتی ہے کہ ٹرالی کا سائز دوگنا کر دو تو انسان 40 فیصد زیادہ خریداری کر لیتا ہے۔

آپ نے مال میں کبھی تیز میوزک سنا ہے؟ نہیں، ہمیشہ سلو اور پرسکون دھن بجتی ہے۔ اس کی وجہ بھی سائنس ہے۔ سلو میوزک پر آپ کے قدم آہستہ ہو جاتے ہیں، دل کی دھڑکن پرسکون ہو جاتی ہے اور آپ اسٹور میں 34 فیصد زیادہ دیر رکتے ہیں۔ جتنی دیر زیادہ رکیں گے اتنا زیادہ دیکھیں گے اور اتنا زیادہ خریدیں گے۔ اسی لیے بڑے مالز میں نہ گھڑی ہوتی ہے نہ کھڑکی، تاکہ آپ کو وقت کا احساس ہی نہ ہو اور آپ بھول جائیں کہ آپ کتنی دیر سے اندر ہیں۔

مال میں ایک اور سنہری اصول ہے Eye Level is Buy Level یعنی جو چیز آنکھ کے سامنے ہے وہی بکتی ہے۔ سب سے مہنگی کمپنیاں کروڑوں روپے دے کر اپنی پراڈکٹ عین آپ کی آنکھوں کے لیول پر رکھواتی ہیں۔ سستی چیز سب سے نیچے رکھی جاتی ہے جہاں جھک کر نکالنا پڑے۔ اور بچوں کی ٹافیاں، چاکلیٹ اور کارٹون والے سیریل ہمیشہ بچوں کی آنکھ کے لیول پر رکھے جاتے ہیں تاکہ بچہ خود اٹھا لے اور ضد کر کے آپ سے خریدوا لے۔

آخری وار کیش کاؤنٹر پر ہوتا ہے۔ جب آپ آدھا گھنٹہ فیصلے کر کے تھک جاتے ہیں تو آپ کے دماغ میں فیصلہ کرنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے، اس کو Decision Fatigue کہتے ہیں۔ اسی تھکے ہوئے لمحے میں قطار میں آپ کو رنگین ٹافیاں، چیونگم اور چھوٹی کولڈ ڈرنک نظر آتی ہیں اور آپ سوچے بغیر اٹھا لیتے ہیں۔ اسی طرح دودھ، ڈبل روٹی جیسی روز کی ضروری چیز ہمیشہ اسٹور کے سب سے پیچھے رکھی جاتی ہے تاکہ آپ کو پورا اسٹور پار کرنا پڑے۔ تو اب سوال یہ ہے، کیا ہم خرید رہے ہیں یا ہمیں خریدا جا رہا ہے؟

بیشک 🥀 💫 🥀
25/10/2026

بیشک 🥀 💫 🥀

اے خدا ! پھر سے اک بار بنا اب میں اپنا خیال رکھوں گا!عمر بھر رشتے نبھاتے نبھاتے، دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھتے رکھتے، ا...
25/10/2026

اے خدا ! پھر سے اک بار بنا اب میں اپنا خیال رکھوں گا!

عمر بھر رشتے نبھاتے نبھاتے،
دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھتے رکھتے،
اور ہر بات پر یہ سوچتے رہے
کہ کہیں کسی کا دل نہ دکھ جائے ۔۔۔
مگر اس سفر میں ایک شخص کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا۔
اور وہ ہم خود تھے۔🥲😔

آمین یارب العالمین ❤️ 🤲🏻🥀💫🥀
25/10/2026

آمین یارب العالمین ❤️ 🤲🏻🥀💫🥀

لوگوں کے رویوں کا زہرچکھ کر وہیں پر تھوک دیں۔
25/10/2026

لوگوں کے رویوں کا زہرچکھ کر وہیں پر تھوک دیں۔

آج روٹی کے پیچھے بھاگتے ہیں تو یاد آتا ہے ،بچپن میں ماں روٹی کھلانے کے لیے پیچھے بھاگا گرتی تھی۔
25/10/2026

آج روٹی کے پیچھے بھاگتے ہیں تو یاد آتا ہے ،

بچپن میں ماں روٹی کھلانے کے لیے پیچھے بھاگا گرتی تھی۔

23/10/2026
کبھی کبھی انسان کے اندر اتنی گھٹن جمع ہو جاتی ہے کہ دل کی تکلیف الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہتے...
23/10/2026

کبھی کبھی انسان کے اندر اتنی گھٹن جمع ہو جاتی ہے کہ دل کی تکلیف الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، مگر دل کا بوجھ کم نہیں ہوتا۔ انسان چاہتا ہے کہ کسی کے سامنے بیٹھ کر اپنے سارے دکھ بیان کر دے، مگر پھر خیال آتا ہے کہ کون سمجھے گا اس خاموشی کے پیچھے چھپے درد کو؟
کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نہ کسی سے کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی آسانی سے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ انسان باہر سے مسکراتا رہتا ہے، لوگوں سے باتیں بھی کرتا ہے، مگر اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے۔
سب سے زیادہ درد تب ہوتا ہے جب دل چیخ چیخ کر رونا چاہتا ہے، مگر آنکھوں کے آنسو بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر انسان خاموشی کو اپنا ہم راز بنا لیتا ہے، کیونکہ بعض اوقات دل کا درد آنسوؤں سے نہیں، بلکہ وقت، محبت اور کسی اپنے کے احساس سے کم ہوتا ہے۔
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں آنسو بھی نہیں دھو سکتے۔ 💔🥀 #

Address

Deira, Al Murar
Dubai

Telephone

+923336914561

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ROOHI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ROOHI:

Shortcuts

Share