13/03/2026
سلطان محمد فاتح ہوتا تو آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں یہ حکمت عملی استعمال کرتا یہ پوسٹ سلطان کی اس حکمت عملی کے تناظر میں کی گئی ہے جو اس نے فتح قسطنطنیہ کے وقت اختیار کی تھی اس لئے اس پوسٹ کو تاریخی تناظر میں پڑھیں نہ کہ جدید دور کے تناظر میں
(تاریخی واقعہ بیک گراونڈ)
سلطان محمد فاتح نے 1453 میں قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران ایک غیر معمولی فوجی حکمت عملی استعمال کی تاکہ وہ اپنے بحری جہاز Golden Horn تک پہنچا سکے۔ بازنطینیوں نے گولڈن ہورن کے داخلی راستے پر ایک بہت بڑی لوہے کی زنجیر لگا رکھی تھی تاکہ دشمن کے جہاز اندر داخل نہ ہو سکیں۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے عثمانی بحریہ براہِ راست بندرگاہ میں داخل نہیں ہو سکتی تھی۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سلطان محمد فاتح نے ایک حیران کن منصوبہ بنایا۔ انہوں نے اپنے جہازوں کو سمندر کے راستے لانے کے بجائے خشکی کے راستے گولڈن ہورن تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ عثمانی فوج نے Bosphorus کے قریب اپنے جہاز نکالے اور انہیں پہاڑی علاقے کے اوپر سے گزار کر گولڈن ہورن میں اتارنے کی تیاری شروع کی۔
اس مقصد کے لیے راستے میں لکڑی کے تختے بچھائے گئے اور ان پر تیل یا چکنائی لگائی گئی تاکہ جہاز آسانی سے پھسل سکیں۔ پھر سپاہیوں اور جانوروں کی مدد سے جہازوں کو آہستہ آہستہ کھینچ کر خشکی کے راستے اوپر سے گزارا گیا۔ یہ کارروائی زیادہ تر رات کے وقت خفیہ طور پر کی گئی تاکہ دشمن کو اس کی خبر نہ ہو۔
تقریباً ستر کے قریب عثمانی جہاز Galata کے پہاڑی علاقے کے اوپر سے گزار کر گولڈن ہورن میں اتار دیے گئے۔ صبح جب بازنطینیوں نے دیکھا تو انہیں حیرت ہوئی کہ عثمانی جہاز ان کے دفاعی حصار کے اندر پہنچ چکے ہیں۔
اس حکمت عملی نے شہر کے دفاع کو شدید نقصان پہنچایا اور آخرکار 29 مئی 1453 کو Fall of Constantinople واقع ہوئی۔ اس فتح کے بعد قسطنطنیہ عثمانی سلطنت کا حصہ بن گیا اور بعد میں اس کا نام استنبول رکھا گیا۔