Azad Kashmir News آزاد کشمیر نیوز

Azad Kashmir News   آزاد کشمیر نیوز Entertainer/Info centre Kashmir is not just a place on the map — it’s a feeling wrapped in snow, mist, and the fragrance of paradise.
(2)

31/05/2026

آزاد کشمیر کے حوالہ سے فیصلہ کن اجلاس آج طلب،وزیر اعظم پاکستان کی صدارت میں تمام اسٹیک ہولڈر شریک ہونگے،بڑے فیصلے متوقع

31/05/2026

*مہاجرین کی نشستوں اور مراعات کا خاتمہ کیوں کر ضروری؟*

جب ہم بجٹ کی بات کرتے ہیں تو آزاد کشمیر کا کل بجٹ تقریباً 310 ارب روپے ہے، جس کا 70% سے زیادہ حصہ ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف سرکاری تنخواہوں اور مراعات (261 ارب) میں چلا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے محنت کش عوام کا ہے، نہ کہ چند مخصوص خاندانوں اور بیوروکریسی کا۔ اگر درج ذیل چار بڑے وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے تو ریاست کے اندر اور پاکستان بھر میں مقیم کشمیریوں کے لیے مفت سہولیات ایک ریاضیاتی حقیقت بن جاتی ہیں۔
1. سیاسی و انتظامی مراعات کا خاتمہ (تعلیم کے لیے)
آزاد کشمیر کا اپنا تعلیمی بجٹ (بشمول ہائر ایجوکیشن اور اسکولز) تقریباً 52 ارب روپے سالانہ ہے، مگر اس کا 90% حصہ صرف تنخواہوں میں چلا جاتا ہے، جبکہ اسکولوں کی عمارات خستہ حال ہیں موجودہ بجٹ کا بھی درست استعمال نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے بیشتر اسکول تعلیمی اسٹاف تک سے محروم ہیں۔ اور یونیورسٹیوں کی تو فیسیں غریب کی پہنچ سے ہی باہر ہو چکی ہیں۔ یعنی موجود تعلیمی بجٹ کا ایک بڑا حصہ لیپس(lapse) ہو کر واپس حکمران طبقے کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے۔دوسری طرف، آزاد کشمیر کی کابینہ، مشیران اور اعلیٰ بیوروکریسی سالانہ 12 ارب روپے صرف نئی گاڑیوں، پیٹرول، پروٹوکول اور دفاتر کی تزئین و آرائش پر ضائع کر دیتے ہیں۔
مقامی حل: اس 12 ارب روپے کے شاہانہ بجٹ کو فی الفور ختم کر کے یہ تمام رقم آزاد کشمیر کی سرکاری یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو دی جائے۔ اس سے نہ صرف یونیورسٹیوں کی ٹیوشن فیس مکمل ختم (صفر) ہو جائے گی بلکہ طلبہ کی رہائش (ہاسٹلز) کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ تمام اسکولوں اور کالجوں کے انفراسٹرکچر کو جدید اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی تمام مختص رقم جو پہلے سے موجود ہے کہ لیے درست میکانزم بنانا نہایت اہم ہے۔
پاکستان میں تعلیم: اسی بچت شدہ رقم سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں موجود "کشمیر ہاؤسز" کو پروٹوکول زون کے بجائے اسٹوڈنٹ ہاسٹلز میں تبدیل کیا جائے اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کے لیے خصوصی اسکالرشپس مقرر کر کے ان کی تعلیم بھی مکمل مفت کی جائے۔
2. بجلی کی رائلٹی اور واٹر یوز چارجز (صحت کے لیے)
آزاد کشمیر کا کل ہیلتھ بجٹ صرف 27 ارب روپے کے لگ بھگ ہے، جبکہ یہاں کے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر، لائف سیونگ ادویات اور ایم آر آئی مشینیں تک موجود نہیں۔ موجودہ بجٹ کو بھی درست طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا اور بیشتر رقم واپس حکمران طبقے کی تجوریوں میں جا رہا ہے۔
وفاق سے ملنے والا ہائیڈل پرافٹ ہمارا قومی حق ہے، کوئی خیرات نہیں۔
مقامی حل: بجلی کا منافع (Net Hydel Profit) خیبر پختونخوا کے مروجہ فارمولے کے برابر حاصل کیا جائے جس سے آزاد کشمیر کو تقریباً 20 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملے گا۔ اس رقم کو قانوناً مکمل طور پر "ہیلتھ فنڈ" قرار دیا جائے۔ اس فنڈ سے آزاد کشمیر کا طبی بجٹ دوگنا ہو جائے گا، جس سے ہر ضلع میں جدید ترین ہسپتال، تشخیصی لیبارٹریز اور مفت ادویات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ موجودہ بجٹ کے درست استعمال کے لیے عوامی کمیٹیوں اور ہیلتھ ورکرز کی کمیٹیوں پر مشتمل ایک میکانزم بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں علاج: اگر آزاد کشمیر میں سفری یا طبی سہولیات کی کمی کے باعث کسی مریض کو پاکستان کے بڑے ہسپتالوں (مثلاً پمز، نشترا یا سی ایم ایچ) ریفر کیا جائے، تو اس کے علاج کے تمام اخراجات اسی "رائلٹی فنڈ" سے ریاست ادا کرے۔ مریض اور اس کے لواحقین کو پاکستان کے شہروں میں در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔
3. مہاجرین کی نشستوں اور فنڈز کی منتقلی (روزگار کے مواقع )
مہاجرین کی 12 نشستیں اور ان سے وابستہ وزراء، کوآپٹڈ ممبران اور ان کا دفتری عملہ اب محض ایک سیاسی بوجھ بن چکے ہیں، جس کا فائدہ جموں و کشمیر کے عام مہاجر کو بھی نہیں پہنچ رہا۔
حل: ان 12 نشستوں کے تمام انتظامی اخراجات، تنخواہیں، ٹی اے ڈی اے اور صوابدیدی فنڈز فی الفور ختم کیے جائیں۔ یہ تقریباً 2 ارب روپے کا سالانہ بجٹ بنتا ہے۔ اس خطیر رقم کو مختلف روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے مختلف فیکٹریاں لگانا اور آسان اقساط پر قرضوں کی مد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
4. پیٹرول اور دیگر اشیاء پر وصول شدہ ٹیکس (بنیادی سہولیات کے لیے)
عوام پیٹرول کے ہر لیٹر پر 120 روپے تک جو مختلف ٹیکس (لیوی اور سیلز ٹیکس) ادا کر رہے ہیں، وہ دراصل ریاست پر عوام کا قرض ہے جس کا بدلہ انہیں بنیادی سہولیات کی صورت میں ملنا چاہیے۔
حل: پیٹرول، آٹے، بجلی اور دیگر اشیاء پر لیے جانے والے تمام ٹیکسوں کا رخ اشرافیہ کی مراعات اور شاہانہ لائف اسٹائل سے موڑ کر سرکاری تعلیمی و طبی ڈھانچے کی مضبوطی پر لگایا جائے۔ جب ریاست عوام کی جیب سے بھاری ٹیکس وصول کر رہی ہے، تو تعلیم اور صحت کی مفت فراہمی ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، کوئی احسان نہیں۔
عوامی آڈٹ اور وارڈ کمیٹیوں کا اختیار (شفافیت کا نظام)
اس پورے معاشی ماڈل کو شفاف بنانے اور بدعنوانی سے پاک رکھنے کے لیے درج ذیل دو شرائط لازمی ہیں:
معلومات کی عوامی فراہمی (Public Disclosure): ریاست پیٹرول، بجلی، درآمدات اور دیگر تمام مدات میں جتنا بھی ٹیکس عوام سے جمع کرتی ہے، اس کی تمام تفصیلات ماہانہ بنیادوں پر پبلک (عوامی) کی جائیں۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی جیب سے کتنا پیسہ نکل رہا ہے اور وہ کس سرکاری کھاتے میں جمع ہو رہا ہے۔
وارڈ کمیٹیوں کے ذریعے اخراجات (Decentralization): تمام ترقیاتی اور فلاحی فنڈز کا استعمال مظفرآباد کے بند ایوانوں کے بجائے عوامی وارڈ کمیٹیوں کی مشاورت اور اعتماد سے کیا جائے۔ تقریباً 2000 کی آبادی پر مشتمل ہر وارڈ کی اپنی منتخب عوامی کمیٹی یہ طے کرے گی کہ اس کے علاقے میں تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے رقم کہاں اور کیسے خرچ ہونی چاہیے۔ ریاست کا کوئی بھی سرکاری افسر یا بیوروکریٹ اس عوامی کمیٹی کے آڈٹ اور منظوری کے بغیر ایک روپیہ بھی خرچ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
یعنی تعلیم اور صحت کے لیے پہلے سے مختص رقم اور اضافی تجویز کردہ رقم کو موجودہ اداروں کی مقامی کمیٹیوں کے ذریعے خرچ کی جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ نئے انفراسٹرکچر کے لیے بھی موجودہ کمیٹیوں کے ذریعے تمام فیصلہ جات کیے جائیں۔ تمام اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے اور وارڈ کمیٹیوں تک منتقل کرنے سے ہی اصل تبدیلی ممکن ہے

31/05/2026
30/05/2026

بجٹ میں بجلی،گیس، آٹا ، چینی، چائے، گھی، دودھ اور دالوں کی قیمتیں کم کی جائیں!
یہ 25 کروڑ عوام کا اجتماعی مسئلہ ہے !

*وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا فیصلہ*ذرائع کے مطابق حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیم...
30/05/2026

*وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا فیصلہ*

ذرائع کے مطابق حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 22، 22 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی ہے

28/05/2026

خورشید آباد (حویلی) کے مقام پر لوڈر رکشہ حادثے کا شکار 6 افراد زخمی دو شخص موقع پر جانبحق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کہوٹہ منتقل کر دیا گیا.

مقدس سرزمین سے المناک مگر رشک آمیز خبر: احرام ہی کفن بن گیا، لبیک کہتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملےآزاد کشمیر کے ضلع سدھنو...
28/05/2026

مقدس سرزمین سے المناک مگر رشک آمیز خبر: احرام ہی کفن بن گیا، لبیک کہتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے

آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی (پلندری) سے تعلق رکھنے والے حاجی امتیاز صاحب سعودی عرب میں ایک خوبصورت اور بابرکت انجام کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔

رسولُ اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
"جو شخص حج کے لیے نکلے اور راستے میں اُس کا انتقال ہو جائے، اُس کے لیے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔" (القرآن/الحدیث)

27/05/2026

27/05/2026

C**k Crow

Address

Hamdan Street
Abu Dhabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azad Kashmir News آزاد کشمیر نیوز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share