19/07/2025
خطبہ جمعہ جامع مسجد علی ابن ابی طالبؑ جعفر آباد تھورسے بلامک روندو گلگت بلتستان سے اقتباسات۔
خطیب : حاج علامہ شیخ علی نقی حیدری،قاضی محکمہ شرعیہ گلگت۔
خطبہ اول:
معاشرتی اصلاح اذ نظر قرآن و حدیث:۔
اس خطبہ میں قبلہ محترم نے قرآن کی رو سے اصلاح معاشرہ بیان کرتے ہوئے آیات قرآنی و سنت نبویؑ کی روشنی میں معاشرے میں ہمیشہ سچ گوئی، عدل و انصاف اور سچوں کے ساتھ دینے کی ضرورت و اہمیت کو بیان کیا،جبکہ اخلاقی اور معاشرتی برائیوں جن سے قرآن مجید اور سنت نبویؑ میں روکا گیا ہے سے اجتناب کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے ان برائیوں کی انسانی زندگی اور معاشرے میں تباہ کاریوں سے آگاہ فرمایا۔
خطبہ دوم:
علاقائی مسائل پر بات کرتےہوئے چند چیدہ نکات کی ضرورت و اہمیت پر زور دے کر حکومت اور عوامی نمائندے سے ان کے فوری حل کا مطالبہ فرمایا جن کا عوام نے بھر پور تائید کیا۔
1:سڑک:
تھورسہ بلامک کی سڑک جو کہ اس وقت خستہ حال ہوچکی ہے جس پر سفر کرنا انتہائی مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے کم وقت کا سفر انتہائی طولانی اور مضر صحت ثابت ہو رہی ہے،لہذا حکومت وقت سے پرزور مطالبہ ہے کہ اس روڈ کی مرمت سمیت توسیع کا کام کریں ،خاص کر تھورسے سمرفو سے آگے کا سڑک خوشحال پاکستان فنڈز سے پرانی مقامی گلی کوچوں پر تعمیر ہوئی ہیں جس کی وجہ سے سڑک کے کنارے نکاسی اور آبی نہریں نہیں ہیں جو موجب بنتی ہے کہ لوگ کھیتوں کو پانی اسی سڑک سے گزار کر لے جائیں جس سے سڑک پر ہر جگہ ریت اور پتھر نکلے ہوئے ہیں جو مشینری سمیت انسانوں کو اذیت کا موجب ہے لہذا اس کا یا تو متبادل سڑک دیں یا اسی سڑک کو کشادہ کریں، اور اس پر اب تک صفائی کرنے والے نہ ہونے کی وجہ سے بھی یہ سڑک کبھی صاف یا مرمت نہ ہوئی لہذا فی الفور اس شہراہ پرپر بھی لیبر بھرتی کیا جائے ۔
2:صحت:
تھورسے بلامک جیسا وسیع و عریض علاقہ جس میں کم و بیش دس سے بارہ ہزار نفوس آباد ہیں میں مقامی سطح پر صرف ایک فرسٹ کلاس ڈسپنسری کی سہولت موجود ہے جس میں زیادہ تر ڈیوٹی نرس ادا کرتے ہیں جبکہ یہاں پر کم سے کم ایک میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر اور کئی فرسٹ ایڈ کی ڈسپنسریز معقول مسافت پر مکمل فعال ہونے چاہئے تاکہ اس وسیع اور ہارٹ ائیریا (Hot Area)کے لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولت گھر کے قریب میسر آئیں۔
اسی طرح یہ علاقہ کیونکہ دیہی آبادی پر مشتمل ہے اس لئے یہاں مال مویشی بھی بہت زیادہ ہے جبکہ علاقہ میںویٹٹرنری (Veterinary Hospital )موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے بہت سے وبائی امراض سے جانور ضایع ہوجاتے ہیں خاص کر انہیں دنوں میں بھی ایف ایم ڈی وائرس (FMD Virus) سے جانوں میں کھر اور منہ کی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے اہل علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت لڑ رہے ہیں۔لہذا اس علاقہ میں کم سے کم ایک جانوروں کا ہسپتال ہونا چاہئے۔
3:تعلیم:
دس سے بارہ ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل اس علاقہ میں اب تک کوئی ہائی سکول نہیں ہے ،تھورسے پرائیمری سکول پچھلے پنتالیس 45 برس سے ٹوٹل دو کمروں کے ساتھ چل رہا ہے جبکہ اس کو ابتک مڈل سکول کا درجہ ملنا چاہئے ، بلامک مڈل سکول بھی کئی سالوں سے اسی حالت میں چل رہا ہے اس میں چار سو 400 طلباء کے لئے صرف تین اساتذہ موجود ہیں جس سے سکول کی ابتری کا آپ خود بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں ،لہذا ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقہ یں کئی پرائمری سطح کی اسکولز اور ہائی سکول کی سہولت فراہم کیا جائیں تاکہ اس غریب اور دور افتادہ علاقہ کے طلبہ و طالبات اپنے گھروں میں بیٹھ کر میٹرک سطح تک کی تعلیم بآسانی مکمل کر سکیں۔۔
4:پانی:
پورا علاقہ میں صاف ستھرا پانی کی قلت ہے جس کی وجہ سےلوگ گدھلا اور مضر صحت پانی کے استعمال پر مجبور ہیں ، اس کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے ہونے والے اکثر اموات آنتوں اور میدہ کی کینسر سے ہوئی ہیں ،اس کے علاوہ اپینڈکس(Appendix) اور گردوں کے امراض میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،لہذا پانی کی ضرور کو فوری حل کیا جائیں خاص کر تھورسے سطح پر جنگل سے ڈھیڑ کروڑ روپے لگا کر ادھورا رکھا گیا پائیپ کو مکمل کیا جائیں۔
آخر میں یہ بات انتہائی مایوس کن ہے کہ پورا روندو سطح پر بنیادی انسانی سہولیات نہ ہونے کے باوجود بھارئ رقم کو اصطبل بنانے پر خرچ کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس رقم کو بنیادی سہولیات جیسے صحت، تعلیم یا ٹرانسپورٹ وغیرہ پر خرچ کیا جاتا ، لہذا ہم حکومتی نمائدے سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں اس غریب علاقہ کے فنڈز کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کریں ،جس کی لوگوں کو سخت ضرورت ہے ، اور اصطبل بنانے پر اتنی رقم کے خرچ کی ہم شدید مخالفت اور مذمت کرتے ہیں۔ کل بروز قیامت اللہ کے سامنے ہم سب جوابدہ ہوں گے لہذا ہم نے اپنا فرض ادا کیا ہے اب نمائدہ اپنا فرض نہائیں۔
تائید کندگان:
عمائدین ،علماء عوام و نوجوانان تھورسے بلامک روندو گلگت بلتستان۔
محرر: ساجد علی ملک پی ایچ ڈی اسکالر۔