06/07/2025
ٹھہرے گا اب نہ ظُلم مُقابل حُسینؑ کے
اب ہم ہَنسیں گے روئیں گے قاتل حُسینؑ کے
ہر دَور کے یزید سے ،،، نفرت رہی ہمیں
ہم سے کہاں ہیں دہر میں ”قائل حُسینؑ کے“
مُجھکو یقیں ہے اہلِ ستم کی شکست پر
گاتا رہے گا گیت ، مِرا دِل حُسینؑ کے
روشن رہے گا مثل مہ و مہر اُن کا نام
جو لوگ قافلے میں تھے ، شامِل حُسینؑ کے
(شاعرِ انقلاب)
حبیب جالبؔ ¹⁹⁹³-¹⁹²⁸