Al Mustafa Welfare Society Mankray Haripur

  • Home
  • Al Mustafa Welfare Society Mankray Haripur

Al Mustafa Welfare Society Mankray Haripur Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Mustafa Welfare Society Mankray Haripur, Community Organization, .

THE aims nd objective of the welfare society for provision of different facilities to the orphans,disable nd needy persons,presently inhabitants of village mankrai nd later on union council basis.

06/07/2025

ٹھہرے گا اب نہ ظُلم مُقابل حُسینؑ کے
اب ہم ہَنسیں گے روئیں گے قاتل حُسینؑ کے

ہر دَور کے یزید سے ،،، نفرت رہی ہمیں
ہم سے کہاں ہیں دہر میں ”قائل حُسینؑ کے“

مُجھکو یقیں ہے اہلِ ستم کی شکست پر
گاتا رہے گا گیت ، مِرا دِل حُسینؑ کے

روشن رہے گا مثل مہ و مہر اُن کا نام
جو لوگ قافلے میں تھے ، شامِل حُسینؑ کے

(شاعرِ انقلاب)
حبیب جالبؔ ¹⁹⁹³-¹⁹²⁸

03/07/2025

“سرخ رنگ ملوکیت یا سامراج یا تانا شاہی کی ہر شکل کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے جبکہ سیاہ رنگ سوگ اور ٹھہراؤ کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔عباسی دور کے اختتامی زمانے تک جب اصولوں کی سربلندی کے لیے تن من دھن کی پرواہ نہ کرنے والا آئمہ کرام کا سلسلہ تھما تو آلِ بویہ اور پھر صفوی دور میں نظریہ مزاحمت کو رسومات و ادب آداب کے سانچے میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں ایک اور طرح کی دربار نشین مذہبی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئی (اسٹیبلشمنٹ کا مطلب ہی سٹیٹس کو کی برقراری اور نظریاتی جمود کا دفاع ہے۔)۔ اس کی وجہ یہ ڈر رہا کہ کہیں عوام الناس میں کربلائی تحریک ملوکیت یا تاناشاہی کے خلاف کوئی نئی روح نہ پھونک دے لہٰذا ملوکیت کے خلاف تلوار اُٹھانے کے دینی پیغام کو بدل کر سوگ و آہ و بُکا کے سانچے میں ڈھال دیا جائے۔

یوں باطل کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد اور کسی صورت سمجھوتا نہ کرنے کی کربلائی تحریک کو رسومات کے جسم میں قید کر کے محض سوگ کا رنگ اوڑھا دیا گیا اور سرخ پرچم پیچھے ہوتا چلا گیا۔ ایک طبقہ فکر نے وہ تلوار جو طاغوت و جبروت کے سینے پر چلانا تھی وہ سیاہ رنگ اوڑھ کر اپنی ہی پیٹھ پر برسا لی اور دوسرے طبقہ فکر نے سفید رنگ اوڑھ کر حسینیت یا حسینی مشن کو ختم شریف، قُل خوانی اور قبرستان کے دورے تک محدود کر دیا۔

مذہبی اسٹیبلشمنٹ سے مراد وہ تمام راہب، پنڈت، بھکشو، پادری و علماء ہیں جنہوں نے اہلِ حق کو راہ سے ہٹانے کے لیے حاکمِ وقت کو شریعت کے نام پر جواز یا فتوے مہیا کیے اور انسانوں کی مزاحمتی روح یا تحریک کو تھپک تھپک کے سلا دیا اور بدلے میں مراعات، شاہی خطابات، اقتدار میں حصہ داری، گدی نشینیاں اور فروغ دین کے نام پر نسل در نسل جاگیریں پائیں اور اس سب کا جواز دین سے جوڑ کر اسے جائز ثابت کرنے اور دکھانے کی کوشش کی۔

آپ دیکھیں کہ جتنے بھی بڑے مذاہب اور نظریات وجود میں آئے ان کا بنیادی ہدف باطل کے مقابلے میں حق و انصاف کا بول بالا تھا۔مثلاً یہودیت حضرت ابراہیم علیہ سلام سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے نمرود کی خدائی کو چیلنج کیا اور پھر حضرت موسیٰ فرعونیت کے آگے سینہ سپر ہو گئے ۔ شریعتِ موسوی وجود میں آ گئی۔اور پھر رفتہ رفتہ شریعت موسوی کے بدن سے روح نکلتی چلی گئی اور رسومات کی شکل میں جسم باقی رہ گیا اور پھر جسم کو بھی یہودی راہبانیت چاٹ گئی۔

حضرت عیسی علیہ سلام کی جدوجہد یہودی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف شروع ہوتی ہے ۔آپ سمیت آپ کے حواریوں اور پھر ان کے بعد آنے والے تابعین نے عدم تشدد کی بنیاد پر عیسوی نظریے یا بقائے امن کے پیغام کی سربلندی کے لیے کیا کیا مظالم نہ سہے اور کون سی قربانیاں نہیں دیں۔ خود عیسیٰ کو مصلوب ہونا پڑا۔مگر پھر آنے والے سالوں میں ریاست اور مسیحی نظریے میں اتحاد ہو گیا اور جدوجہد کا پیغام ایک نئے سٹیٹس کو اور رسوماتی جال میں پھنس گیا۔ اور پھر آنے والی صدیوں میں پاپائیت نے بھی وہی شکل و حربے اختیار کئے جو کسی بادشاہت کے ہوتے ہیں۔

اسلام بنیادی طور پر انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال اور ملوکیت کی ہرشکل کے خاتمے کے لیے آیا۔ مگر رسول اللہ نے خطبہ حجتہ الوداع میں اتحادِ بین المسلمین، ردِ عصبیت، عربی و عجمی پر تقویٰ کی فوقیت کے بارے میں جو جو نصیحتیں کیں وہ سب آپ کے پردہ فرمانے کے بعد چند عشروں میں ہی ایک کے بعد ایک ہدایت و نصیحت طاق پر رکھ دیے گئے اور پھر وہی ہوا جو کہ ہوتا ہے یعنی ہر شکل کی ملوکیت و مذہبی اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ یا پھر دین کو ڈھال بناتے ہوئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور عوام الناس کو جہالت سے نجات دلانے کے بجائے اسے اپنے فائدے کے لیے ہتھیار بنانے کی کوشش۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرخ کا سیاہ میں بدلنا جتنا آسان ہے ۔سیاہ پر دوبارہ سرخ رنگ چڑھانا اتنا ہی مشکل ہے۔ خود ہمارے گرم خون کے ساتھ بھی تو یہی ہوتا ہے۔ کچھ دیر سرخ رہتا ہے مگر گرنے کے بعد سیاہی مائل ٹھنڈا ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر جم کر لوتھڑا بنا رہ جاتا ہے۔”۔ یہ نظریہ ڈاکٹر علی شریعتی کا تھیسس “سرخ شعیت” ہے جس کو وسعت اللہ خان نے قلمبند کیا تھا۔

جب آپ فلسفہ حسینیت یا مشنِ حسین کو سوگ و عزاداری کی رسومات، قل شریف، ختم قرآن، محفل مسالمہ، سوز و سلام کی چادر میں چھپا دیتے ہیں تو پھر کوئی حسینی پرچم تھامے میدانِ حق میں نہیں اُبھرتا۔ مسلمانوں کی کم و بیش ہزار سال کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ کربلا میں امام حسین کے روضے پر آج بھی سرخ پھریرا لہراتا ہے ۔یعنی باطل کے مقابل حق کا بنیادی رنگ۔میرا ماننا ہے کہ سیاہ و سفید کی بجائے مزاحمتی روح و قربانی کا اصل رنگ سرخ ہے جو ہم سے کھو گیا ہے۔پروین شاکر کا ایک دعائیہ شعر ہے اس پر آمین کہتے ختم شد۔

پہروں کی تشنگی میں بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں روح مجھے کربلائی دے”
نوٹ: یہ تحریر کاپی کی گئی ہے۔

کلام حفیظ جالندھری جو قومی ترانے بھی خالق ہیں۔ امام عالی مقام امام حسینؓ کو نذرانہ عقیدت۔
29/06/2025

کلام حفیظ جالندھری جو قومی ترانے بھی خالق ہیں۔ امام عالی مقام امام حسینؓ کو نذرانہ عقیدت۔

29/06/2025

تاریخِ فتح مکہ میں ایک واقعہ درج ہے کہ حضرت رسولِ اکرم ﷺ نے عمومی معافی کا اعلان فرمایا، لیکن چند مخصوص افراد کے قتل کا حکم بھی دیا، جن میں عکرمہ بن ابوجہل شامل تھا۔ تاہم، عکرمہ کی بیوی نے رسول اللہ ﷺ سے شوہر کے لیے امان حاصل کی اور اُسے واپس لے کر آئیں۔ جب رسولِ خدا ﷺ کو خبر ہوئی کہ عکرمہ واپس آ رہا ہے تو آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا:

"عکرمہ تمہارے پاس آ رہا ہے۔ جب اسے دیکھو تو اس کے باپ کو برا بھلا نہ کہنا، کیونکہ مردوں کو گالیاں دینا زندہ لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔"

پھر جب عکرمہ مسلمان ہو گیا تو اس نے شکایت کی کہ لوگ اسے "عکرمہ بن ابوجہل" کہہ کر پکارتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے صحابہ کو اس سے باز رہنے کا حکم دیا اور فرمایا:

"مردوں کو برا بھلا کہہ کر زندوں کو اذیت نہ دو۔"

(ماخذ: الاستیعاب، ابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 108)

یہ وہ نبی ﷺ ہیں جو اس بات سے بھی رنجیدہ ہو جاتے ہیں کہ کوئی کسی کے باپ کو بُرا کہے، یہاں تک کہ اگر وہ ابوجہل ہی کیوں نہ ہو، جسے قرآن "فرعونِ امت" کہہ چکا ہے۔

اگر رسولِ اکرم ﷺ اس قدر حساس تھے کہ وہ دشمنِ اسلام ابوجہل کے ذکر پر بھی اپنے نومسلم صحابی کے دل کا خیال رکھتے تھے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے قریبی اصحاب یا ازواج مطہرات کی اہانت سے رنجیدہ نہ ہوں؟ آج جب ہم بعض تاریخی روایات کی بنیاد پر بزرگ صحابہ، امہات المؤمنین یا دیگر شخصیات کی توہین کرتے ہیں، تو ہم دراصل وہی کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے رسولِ خدا ﷺ نے سختی سے منع فرمایا تھا۔

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم تاریخ کے فتنہ انگیز عناصر کے ہاتھوں نادانستہ طور پر استعمال تو نہیں ہو رہے؟ ہم بعض روایتوں کو، جن کی صحت مشتبہ ہو، اس اعتماد سے دہراتے ہیں گویا وہ وحی ہوں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنے ہی دین کی جڑیں کاٹتے ہیں، اپنے ہی عقیدے کو مشکوک بناتے ہیں، اور دشمنوں کے ہاتھوں مضبوطی سے کھیلتے ہیں۔

ان حالات میں جب کہ روایات میں جعل سازی، تحریف، مبالغہ آرائی اور فرقہ واریت کی بو صاف محسوس کی جا سکتی ہے، اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی روایتوں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔ ان کی تصدیق اور ترویج سے پہلے خوب تحقیق کریں۔ خصوصاً منبر پر بیٹھنے والے خطبا، ذاکرین اور مداحین کو چاہیے کہ وہ فتنہ انگیز، اختلاف پر مبنی اور اشتعال انگیز روایتوں سے احتراز کریں۔ ورنہ یہ جذباتی تقریریں اور نوحے قوم کو شعور نہیں، انتشار دے رہے ہوتے ہیں۔

آیت اللہ شیخ ابراہیم منہاج دشتی

27/06/2025

حضرت عمرؓ کے دور میں جب اہل مکہ نے مفتوح علاقے میں زمین خریدنے کی کوشش کی توحضرت عمرؓ کو اطلاعات ملیں کہ نۓ جاگیرداری نظام کا بنیاد رکھی رہی ہے تو انھوں نے جاگیریں اور جائیدادیں بنانے پر پابندی لگا دی اور اس نظام کا خاتمہ کیا۔ حضرت عمرؓ پہلے سوشلسٹ راہنما تھے جنھوں نے جاگیرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا۔

جب فارس سے آۓ ابو لولو فروز نے حضرت عمر ؓ پر نماز کے وقت قاتلانہ حملہ کیا اور آپ کے زندہ بچنے کی امید نہ رہی تو صحابہ اکرامؓ نے مشورہ دیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ جو ان کے بیٹے تھے کو نیا خلیفہ منتخب کر دیں آپ نے جواب دیا بنو عدی میں عمر ابن الخطاب ہی کافی ہے ۔ بعد میں میرے خاندان کے کسی فرد کس خلیفہ منتخب نہ کرنا۔ ان کے اس عمل نے خاندانی و موروثی اقتدار و سیاست کا خاتمہ کیا۔ اور مسلمانوں کو نیا لائحہ عمل دیا جس سے وہ اپنا حاکم منتخب کر سکیں۔
یکم محرم الحرام کا جب چاند طلوع ہوا۔ دنیا کے بہترین حکمران اہنے رب کے حضور پیش ہو گے۔ آپنے آقا اور معلم اعظم ﷺ کے روزہ مبارک میں ان ساتھ دفن ہوگے۔

حضرت عمرؓ کے بناۓ گے قوانین آج بھی عمرلاء کے نام سے منسوب ہیں رائج ہیں اور آج بھی انسانیت کو فائدہ دے رہیں۔ یورپی مورخ مائیکل ھارٹ نے اپنے مشہور کتاب The hundred میں جہاں پہلا نام محمد ﷺ کا لکھا وہیں حضرت عمرؓ کو بھی دنیا کی سو ایسی شخصیات میں شامل کیا جنھوں نے تاریخ انسانی پر گہرے اثرات ڈالے اور جن کا عمل آج بھی انسانیت کی فلاح کو راستہ دکھا رہا ہے۔

27/06/2025

امیر المومنین حضرت عمر ؓ اپنے دور خلافت میں خطابات میں اکثر بیان کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے خلیفہ اس لیے بنایا تاکہ میں لوگوں کی دعاؤں اور بدعاؤں کو اللہ کے عرش تک پہنچنے سے روکوں۔ وہ دعائیں رزق,بھوک, امن, انصاف , ظالم سے نجات اور لٹیروں کے خوف سے نجات کی ہیں۔

حضرت عمرؓ کہ یہ خطابات حاکم وقت کے لیے ایک اصول اور ضابطہ حیات طے کرتے ہیں۔ ایک حاکم کے ماتحت اس کی رعایا بھوک وافلاس سے نہ مرے۔ کسی ظالم کے ظلم کا شکار نہ ہو۔ انصاف کی بروقت فراہمی ہو۔ کسی چور ڈاکو کے ہاتھوں لٹنے کا خوف نہ ہو۔ ہر انسان کی عزت آبرو, محفوظ ہو۔ اور خوف کے ساۓ میں ذندگی نہ گزارے۔

حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں اس وقت کی دو سپر پاور فارس کی آتش پرست ریاست اور روم کی عیسائی ریاست کا بیشتر حصہ مسلمانوں نے فتح کیا۔ ایران کی آتش ہرست ریاست کا تو خاتمہ کر دیا۔ دنیا کا عام دستور تھا اور اب بھی ہے کہ فاتح ریاست اپنے مفتوح علاقے کے لوگوں کا غلام بنالیتے تھے۔ خلفا راشدین کے زمانے میں غلامی کی ان زنجیروں کو توڑا گیا۔ آج کل جو لوگ انسانی آزادی کے چمپین ہونے کےدعویدار بنتے ہیں اس کی بنیاد اسلام نے رکھی۔ یورپ اقوام تو اٹھارویں صدی تک غلاموں کی تجارت کرتی رہیں۔

14/06/2025

آپریشن رائزنگ لائن - پردے کے پیچھے کیا ہوا؟

گزشتہ ایک ہفتے سے ڈپلومیٹک دنیا میں ایران پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے باتیں ہورہی تھیں اور تقریباً دنیا کے تمام بڑے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہو چکی ہیں، سو جب واقعی ایران پر اسرائیلی حملہ ہوا تو اس میں کوئی چونکا دینے والی بات نہیں تھی. تاہم 13 جون کی صبح کو ہونے والا حملہ اپنے اہداف کے حصول کے حوالے سے غیر معمولی تھا. اب اسرائیلی ماہرین سے پتہ چل رہا ہے کہ اس حملے کی تیاری دس برس سے جاری تھی.

ٹاپ کے ایرانی نیوکلئیر سائنسدان مارے گئے،
‏ایرانی فوج کا چیف اور ڈپٹی چیف مارا گیا،
‏ائیر فورس کا چیف مارا گیا،
‏یورینیم کے پلانٹس تباہ کر دئیے گئے،
‏سیکیورٹی سسٹم تباہ کر دیا گیا،
‏بیلسٹک میزائل کا اڈہ تباہ کر دیا،

میں نے اسرائیلی ڈیفنس ماہرین کی رپورٹس کے مطابق اس حملے کا عرق نکالا ہے. جس طرح حالیہ پاکستان بھارت جھڑپ نے اکیسویں صدی میں جنگوں کے حوالے سے ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے، ایران، اسرائیل جنگ بھی ایک نیا خوبی باب لکھنے جارہی ہے. اسرائیلی ماہرین کی اطلاعات کے مطابق اس آپریشن کا ڈھانچہ اسرائیلی فوج (IDF) اور اس کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کے درمیان دس سالوں پر محیط مشترکہ منصوبہ بندی کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ اس کا مقصد صرف اہداف کو نشانہ بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی فضا قائم کرنا تھا جہاں ناکامی کا امکان کم سے کم ہو جائے۔ اس کی حکمت عملی بنیادی طور پر تین خفیہ زمینی ستونوں پر قائم تھی۔

پہلا ستون: تہران کے مرکز میں خفیہ اڈہ
اس منصوبے کا سب سے اہم اور جرأت مندانہ حصہ ایران کے اندر، دارالحکومت تہران کے قریب، موساد کے ذریعے ایک خفیہ ڈرون اڈے کا قیام تھا۔ اس اڈے کا مقصد حملہ شروع ہونے پر اسرائیل کی طرف داغے جانے والے ایرانی میزائل لانچروں کو مقامی طور پر ہی فوری نشانہ بنا کر ناکارہ کرنا تھا۔ یہ پیشگی دفاع کی ایک غیر روایتی اور انتہائی مؤثر حکمت عملی تھی۔

دوسرا ستون: فضائی دفاع کو غیر مسلح کرنا
دوسرا کلیدی عنصر سرحد پار سے جدید ہتھیاروں کے سسٹمز کی اسمگلنگ تھا۔ ان نظاموں کو گاڑیوں کے ذریعے ایران کے اندر پہنچایا گیا، جن کا واحد مقصد ایرانی فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس) کو جیم کرکے مفلوج کرنا تھا۔ اس حکمت عملی نے حملہ آور اسرائیلی طیاروں کے لیے ایک محفوظ فضائی راہداری (Safe Air Corridor) فراہم کی، جس سے انہیں اہداف تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہوئی۔

تیسرا ستون: زمینی کمانڈوز کا سرجیکل استعمال
تیسرا ستون، موساد کے زمینی کمانڈوز کا براہ راست استعمال تھا۔ یہ آپریٹوز خفیہ طور پر ایران کے حساس علاقوں میں داخل ہوئے اور اہم طیارہ شکن تنصیبات (Anti-Aircraft sites) کے قریب پہنچ کر انہیں ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے میزائلوں سے غیر فعال کیا۔ اس عمل نے ایرانی دفاعی صلاحیت کی کمر توڑنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کمانڈوز نے ایران کے اندر سے ڈرون چھوڑے جنہوں نے آرٹیفشل انٹیلیجنس استعمال کرتے ہوئے پن پوائنٹ ایکوریسی کے مطابق اہداف پر حملہ کیا. ایرانی سائنسدانوں اور جرنیلوں پر حملہ اسی تکنیک کے تحت کیا گیا. ابھی حال ہی میں یوکرین نے روس کے اندر ہزاروں میل گہرائی میں ایسے ہی ڈرون استعمال کیے اور روسی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچایا.

یہ تینوں زمینی کارروائیاں ایک مربوط اور ہم آہنگ حکمت عملی کے تحت کام کر رہی تھیں، جن کا مقصد اسرائیلی فضائیہ کے 200 سے زائد طیاروں پر مشتمل مرکزی حملے کے لیے راستہ صاف کرنا اور کامیابی کو یقینی بنانا تھا۔ اہداف کے حصول کے حساب سے یہ آپریشن کامیاب ٹھہرا مگر اس کے آفٹر شاکس دور دور تک جائیں گے اور پورے خلیج میں طاقت کے مراکز کو شدید متاثر کریں گے.

10/06/2025

*****گریٹا تھنبرگ اور ملالہ یوسفزئی ****
گزشتہ کچھ دنوں سے فریڈم فلوٹیلا کاروان کا ایک بحری جہاز غزہ کے رہائشیوں کے لیے خوراک کے کر غزہ کے ساحل کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس پر یورپی ممالک کے جھنڈے لگے ہوۓ ہیں لیکن قابض اسرائیلی افواج ان کو داخل ہونے نہیں دیتی۔ کل صہیونی افواج نے اس جہاز اور اس پر سوار سماجی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان میں ایک 16 سال کی گریٹا تھنبرگ بھی۔شامل ہے۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والی گریٹا ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی موثر آواز ہے۔ مغربی میڈیا ان کے کافی انٹرویو کر چکا اور سوشل میڈیا پر بھی کافی فین ہیں۔ گریٹا امریکہ و یورپ میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی طرز زندگی پر کافی تنقید کرتی رہیں۔ اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں بھی نمایاں رہیں۔ بے باک روہے اور جرات کی وجہ سے مغربی زرائعے ابلاغ میں ان کو کافی پذیرائی ملی۔

جب غزہ میں اسرائیل نے نسل کشی کا آغاز کیا تو گریٹا اس ظلم کے خلاف بھی میدان میں آگیں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف ہر جگہ بھرپور آواز اٹھائی۔ اس عمل کے بعد مغربی میڈیا نے گریٹا کو یکسر نظر انداز کر دیا ۔ گریٹا چاہتی تو اس شہرت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے خاموشی اختیار کر لیتی اور اپنے سابقہ احتجاجی مقصد پر لگ جاتی۔ لیکن گریٹا حقیقی معنوں میں انسانیت کا درد رکھنے والی تھی۔ اس نے اور شدت کے ساتھ اسرائیلی مظالم کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر امداد سے بھرا بحری جہاز لے کر غزہ کی طرف روانہ ہوئی اور قید ہوئی۔

ملالہ یوسفزئی کو پاکستان اور دنیا میں انتہا پسندی کے خلاف اٹھنی والی موثر آواز قرار دیا گیا اور دیسی لبرلز اور ملٹری و سیاسی راہنماؤں نے اس کے قصیدے بیان کیے۔ یورپ میں اس کو کافی شہرت دی گی۔ لیکن مسلمان اور پاکستانی ہونے کے باوجود ملالہ نے صرف غزہ نسل کشی پر کوئی بیان تک نہ دیا۔

26/05/2025

قرب قیامت کی پیشنگوئیوں میں ایک پیشن گوئی عالمی جنگ کی بھی جس کا حوالہ بائبل میں بھی دیا گیا ہے اور احادیث مبارکہ بھی ہیں۔ اس جنگ کو مغربی اقوام Armageddon کہتے ہیں اس اسلامی سکالرز اس کو المرحمت الکبری لکھتے ہیں۔

دین اسلام کی روایات میں اس جنگ کی تباہی کی منظر کشی اس طرح کی گی ہے کہ ہر طرف آگ و خون ہو گا۔ زمین پر اتنی آگ ہو گی کہ ایک پرندہ جاۓ پناہ ڈھونڈنے کے لیے اڑے گا اور اڑتے اڑتے زمین پر گر کر مر جاۓ گا اس کو بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

احادیث مبارکہ میں لکھا ہے کہ سب سے زیادہ قتل عام اہل عرب کا ہو گا۔ ایک عربی کے سو بیٹے ہوں گے تو 99 مارے جائیں گے۔ غزہ کی نشل کشی اس جنگ کی ایک جھلک ہے۔ جو مستقبل کی منظر کشی کر رہی ہے۔ جس طرح کی مہلک ہتھیار انسان تیار کر رہے ہیں جب یہ استعمال ہوں گے تو دنیا میں کوئی جاندار ان سے بچ نہیں پاۓ گا۔ انسانوں کی بستیوں کی بستیاں جل کر راکھ بن جائیں گی۔

ایک خبر پڑھی کہ غزہ کے ایک ڈاکٹر کے 10 میں سے 9 بچے اسرائییلی حملے میں شہید ہو گے۔ یہ مستقبل کے قتل عام کی ایک جھلک ہے۔ اللہ اہل غزہ اور تمام انسانوں کو سفاک قاتلوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

08/05/2025

آج انڈیا نے پاکستان پر حملوں میں اسرائیلی ڈرون ہروب کا استعمال کیا۔
ہروپ ڈرون کیا ہے؟
ہروپ دراصل ایک اسرائیلی ڈرون ہے جسے اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کے ایم بی ٹی میزائل ڈویژن نے بنایا ہے۔

آئی اے آئی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق ہروپ ہائی لیول اہداف جیسے کہ جنگی کشتیوں، کمانڈ پوسٹس، سپلائی ڈپو، ٹینکس اور ایئر ڈیفینس سسٹمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آئی اے آئی کے مطابق ہروپ ڈرون کسی بھی علاقے میں تقریباً نو گھنٹوں تک اپنے ہدف کا پیچھا کرنے اور اس کو نشانے بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

'ہروپ میں گائیڈڈ ویپن سسٹم نصب ہوتا ہے جس کا مشن اس کا آپریٹر کنٹرول کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس مشن کا اختتام بھی کیا جا سکتا ہے۔'

ویپنز سسٹم پر ریسرچ کرنے والے ادارے آٹومیٹڈ ڈیسیژن ریسرچ کے مطابق ہروپ ڈرون کی رفتار 225 ناٹس ہے اور یہ اپنے آپریٹر سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور تک پرواز کر سکتا ہے جبکہ اس میں 23 کلوگرام تک دھماکہ خیز مواد لے جانے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔

ہروپ ڈرون کو کسی بھی مشتبہ بیلسٹک میزائل سائٹ پر میزائل سائلوز کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا گذشتہ کئی برسوں سے اسرائیل سے دفاعی مصنوعات خرید رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ انڈیا ایک دہائی میں دو ارب 90 کروڑ ڈالر کا عسکری ساز و سامان بشمول ریڈارز، جاسوسی کا ساز و سامان، ڈرونز اور میزائل اسرائیل سے خرید چکا ہے۔

15/04/2025

سقراط و مسیح کے افسانے
تم بھی تو بہت سنا رہےتھے
منصور و حسین سے عقیدت
تم بھی بہت جتا رہے تھے
اب جو ہیں جا بجا صلیبیں
تم بانسریاں بجا رہے ہو
اور اب کو ہے کربلا کا نقشہ
تم مدح یزید گا رہے ہو
جی چاہتا ہے کہ تم سے ہوچھوں
کیا راز اس اجتناب میں ہے
تم چپ ہو تو کس طرح سے چپ ہو
جب خلق خدا عذاب میں ہے
شاعر احمد فراز

10/04/2025

ایک نئی دنیا کا بحران اور انسانی تقسیم
ہم جس لمحے میں جی رہے ہیں، اسے فلسطین میں جاری نسل کشی نے واضح کر دیا ہے۔ یہ ہمیں ایک عالمی انسانی تقسیم کا چہرہ دکھاتی ہے—جہاں کچھ انسانوں کی زندگیاں قیمتی سمجھی جاتی ہیں، اور کچھ کی زندگیوں کو بے قیمت سمجھا جاتا ہے۔ عراق میں ایک ملین انسان مار دیے جائیں، کسی کو یاد نہیں؛ لیکن اگر یورپ میں ایک شخص مر جائے تو پوری دنیا چیخ اٹھتی ہے۔

ہمیں نہیں معلوم کہ اس کا حساب کتاب کیا ہے: ایک سفید فام جان کے بدلے کتنی سیاہ یا بھوری جانیں؟ کیا اسرائیل کے ایک شخص کے مرنے کے بدلے 10,000 فلسطینیوں کو مارنا ضروری ہے؟ یہی وہ عالمی تقسیم ہے جس پر ہمیں آج بات کرنی ہے۔

نیتن یاہو جب امریکہ جاتا ہے، تو اسے سرخ قالین پر خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سرخ رنگ فلسطینیوں کے خون کی علامت ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ قالین اتنا لمبا ہونا چاہیے کہ نیتن یاہو چلتے چلتے زمین کے کنارے جا گرے—لیکن بات صرف نیتن یاہو کی نہیں، بلکہ اس پورے نظام کی ہے جسے لوگوں نے تخلیق کیا۔

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Mustafa Welfare Society Mankray Haripur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization?

Share