Beauty Of Islam

Beauty Of Islam I bear witness that no-one is worthy of worship but Allah, the One alone, without partner, and I bea

‏تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔ 1- پہلا قانون فطرت:اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر...
11/19/2022

‏تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔

1- پہلا قانون فطرت:

اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے.
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔
یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں
اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔

2- دوسرا قانون فطرت:

جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔
خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
عالم "علم" بانٹتا ہے۔
پرامن انسان "امن و سکون" بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
مثبت اور تعمیری انسان موٹیویشن دیتا ہے
اسی طرح سیاہ دل و متعصب انسان "تعصب و نفرت" بانٹتا ہے

3- تیسرا قانون فطرت:

آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لئے کہ

کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں معاشرے میں" ظلم و بےراہروی" میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔

*رضائے الہی اور قضائے الہی میں فرق* بعض لوگ میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ کہنا...
11/08/2022

*رضائے الہی اور قضائے الہی میں فرق*
بعض لوگ میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ کہنا یہ چاہیے کہ فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے ۔
قضا کا معنی: تقدیر الہی . نوشتہ تقدیر .فیصلہ ا.تفاق یا حادثہ( فیروز اللغات فارسی)
جب کہ رضا کا معنی :مرضی خوشنودی اور خوشی. لہذا جب اللہ تعالی کسی کے بارے فیصلہ نافذ کرتا ہے .
اس کو قضا کہتے ہیں
اور جب کسی کسی کام کی وجہ سے راضی ہوتا ہے تب اس وقت اس بندے پر رضا الہی کا ظہور ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا۔
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے(الفتح 18)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (مائدہ3)
مزید فرمایا۔
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا۔(توبہ 59)
یہ رہا قرآن مجید میں رضا کا استعمال جہاں تک قضا کا تعلق ہے تو متعدد آیات میں رب کریم میں لفظ قضا کو استعمال فرمایا ہے ان کو دیکھ کر پتہ چلتاہے کہ لفظ قضا کا معنی و مفہوم کیا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا۔
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ۔
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو (بنی اسرائیل 23)
او رفرمایا
وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے۔(مومن 20)
مزید فرمایا۔
فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ۔
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا(سبا 14)
ان تمام آیات بینات سے سے رضا اور قضا کامعنی کھل کر سامنے آ گیا۔ رضا سے اللہ تعالی کی مرضی ۔رضا مندی اور خوشنودی مراد ہے جب کہ قضا سے تقدیر فیصلہ اور موت مراد ہے ۔
قرآن مجید کی متعدد آیات میں موت کو لفظ قضا سے یاد فرمایا گیا لیکن کچھ لوگ موت کو رضائے الہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بانگ دہل کہتے ہیں کہ فلاں رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ موت سے رضائےالہی سے نہیں قضائے الہٰی سے واقع ہوتی ہے ۔ رضا اور قضامیں بڑا فرق ہے..

10/15/2022
10/15/2022
10/15/2022
10/14/2022
10/14/2022
اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ:ایک دن بے بے نے بیسن کی روٹی پکا کے دی۔ میں نے دو روٹیاں کھائیں اور ساتھ لسّی پی۔ پھر بے بے کو خ...
07/04/2022

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ:
ایک دن بے بے نے بیسن کی روٹی پکا کے دی۔ میں نے دو روٹیاں کھائیں اور ساتھ لسّی پی۔ پھر بے بے کو خوش کرنے کیلئے زوردار آواز میں اللّٰہ کا شُکر ادا کیا۔
بے بے نے میری طرف دیکھا
اور پُوچھا: اے کی کیتا ای؟
میں نے کہا:
بے بے! شُکر ادا کیتا اے اللّٰہ دا۔
کہنے لگی:
اے کیسا شُکر اے؟
دو روٹیاں تُجھے دیں... تُو کھا گیا...نہ تُو باہر جھانکا، نہ ہی پاس پڑوس کی خبر لی کہ کہیں کوئی بُھوکا تو نہیں... ایسے کیسا شُکر؟
پُترا! روٹی کھا کے لفظوں والا شُکر تو سب کرتے ہیں... اپنی روٹی کسی کے ساتھ بانٹ کر شُکر نصیب والے کرتے ہیں۔
اللّٰہ کو لفظوں سے خوش کرنا چھوڑ دے۔
پُتر! عمل پکڑ عمل! اللّٰہ جس چیز سے نواز دے... اُس کو خوشی سے استعمال کر اور کسی کے ساتھ بانٹ لیا کر کہ یہ عملی شُکر ہے
نعمتِ خداوندی کا عملی شُکر تو اُس نعمت کو بانٹ کے کھانے میں ہی ہے اور وہ بھی عزیز رشتہ داروں اور اڑوس پڑوس کے لوگوں کے ساتھ۔
اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے آمین....

02/28/2022

مسلمانوں کا عقیدہ ہے
کہ اللہ کی ذات کو دیکھا جا سکتا ہے
لیکن ادراک نہیں کیا جا سکتا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ (۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ‘‘
(القیامہ:۲۳،۲۲)
"کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔"

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ(103)
"آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہی ہر باریک چیز کو جاننے والا، بڑا خبردار ہے۔"


اِدراک کے معنیٰ ہیں کہ دیکھی جانے والی چیز کی تمام طرفوں اور حدوں پر واقف ہونا کہ یہ چیز فلاں جگہ سے شروع ہو کر فلاں جگہ ختم ہوگئی جیسے انسان کو ہم کہیں کہ سر سے شروع ہوکر پاؤں پر ختم ہوگیا، اِسی کو اِحاطہ (گھیراؤ) کہتے ہیں۔ اِدراک کی یہی تفسیر حضرت سعید بن مُسیَّبْ اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے منقول ہے اور جمہور مفسرین اِدراک کی تفسیر اِحاطہ سے فرماتے ہیں اور اِحاطہ اسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کی حدیں اور جہتیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے حد اور جہت محال ہے تو اس کا ادراک واحاطہ بھی ناممکن ۔ یہی اہلِ سنت کامذہب ہے۔ خارجی اور معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقے اِدراک اور رُویت میں فرق نہیں کرتے، اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہوگئے کہ انہوں نے دیدارِ الٰہی کو محالِ عقلی قرار دے دیا، حالانکہ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا نہیں جاسکتا تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جانا بھی نہیں جاسکتا اور جیسے کائنات میں موجود تمام چیزوں کے برخلاف کیفیت وجہت کے بغیر اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جانا جاسکتا ہے ایسے ہی دیکھا بھی جاسکتا ہے کیونکہ اگر دوسری موجودات بغیر کیفیَّت و جہت کے دیکھی نہیں جاسکتیں تو جانی بھی نہیں جاسکتیں۔ اس کلام کی بنیاد یہ ہے کہ دیکھنے کے معنی یہ ہیں کہ بصر (دیکھنے کی قوت) کسی شے کو جیسی وہ ہو ویسا جانے تو جو شے جہت والی ہوگی، اس کا دیکھا جانا جہت میں ہوگا اور جس کے لئے جہت نہ ہوگی اس کا دیکھا جانا بغیر جہت کے ہوگا۔

اپنی زندگی کو بے ضرر بنانا عبادت کی ابتدا ہے اور اسے دوسروں کے لیے فائدہ مند بنانا انتہا ہے۔واصف علی وصف ؒMaking our Lif...
10/31/2021

اپنی زندگی کو بے ضرر بنانا عبادت کی ابتدا ہے اور اسے دوسروں کے لیے فائدہ مند بنانا انتہا ہے۔
واصف علی وصف ؒ
Making our Life Harmless is the Beginning of Worship and Making Useful for others is the ultimate goal.
Wasif Ali Wasif r.a

۞ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ(۴۴)اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو ...
10/31/2021

۞ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ(۴۴)
اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا تو وہی لوگ کافر ہیں ۔
(قرآن 5:44)

۞ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)
اور جواس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔
(قرآن 5:45)

۞ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)
اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تووہی لوگ نافرمان ہیں ۔
(قرآن 5:47)

Address

Schenectady, NY

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beauty Of Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share