03/31/2026
اسلام میں موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے درمیانی وقت کو عالمِ برزخ کہا جاتا ہے۔ آپ نے جو پوچھا ہے کہ انسان وفات کے بعد خواب کی حالت میں ہوتا ہے اور قبر میں جا کر اٹھ جاتا ہے، اس حوالے سے قرآن اور صحیح احادیث میں نہایت واضح اور مکمل تفصیل موجود ہے۔
یہاں قرآن اور سنت کی روشنی میں اس سفر کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے:
1. وفات کا وقت (روح کا قبض ہونا)
جب انسان کی موت کا وقت آتا ہے، تو موت کے فرشتے (ملک الموت) اس کی روح قبض کرتے ہیں۔
* نیک انسان: مومن کی روح کو فرشتے نہایت آرام سے نکالتے ہیں اور اسے جنت کی خوشبوؤں میں لپیٹ کر آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں۔
* گناہ گار / کافر: ان کی روح کو فرشتے سختی اور تکلیف کے ساتھ نکالتے ہیں۔
2. کیا مردہ خواب دیکھ رہا ہوتا ہے؟
موت کے فوراً بعد انسان کسی "دنیاوی خواب" میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک نئی حقیقت (برزخی زندگی) میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے ہوش و حواس اس دنیا سے زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کو دیکھتا ہے اور اسے اپنی آنے والی منزل (جنت یا جہنم) کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ اسے عام نیند کا خواب کہنا درست نہیں، یہ ایک مکمل اور حقیقی احساس ہوتا ہے جو اس دنیا کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
3. قبر میں رکھنا اور روح کی واپسی
جب مردے کو قبر میں دفنا دیا جاتا ہے اور لوگ واپس جانے لگتے ہیں، تو سنت کے مطابق مردہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔
> صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث (حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے):
> "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس لوٹتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے (منکر اور نکیر) آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں۔"
>
یہ "اٹھنا" یا "بیٹھنا" اس مادی دنیا جیسا نہیں ہوتا، بلکہ یہ برزخی زندگی کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اس کے جسم میں ایک خاص طریقے سے واپس لوٹا دیتے ہیں تاکہ وہ فرشتوں کے سوالات کا جواب دے سکے۔
4. قبر کے سوالات
جب فرشتے (منکر اور نکیر) مردے کو اٹھا کر بٹھاتے ہیں، تو اس سے تین (3) بنیادی سوال کرتے ہیں:
* مَنْ رَبُّكَ؟ (تیرا رب کون ہے؟)
* وَمَا دِينُكَ؟ (تیرا دین کیا ہے؟)
* وَمَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ (ان نبی ﷺ کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟)
نیک انسان (مومن) کے جوابات:
وہ واضح طور پر کہے گا:
* "میرا رب اللہ ہے۔"
* "میرا دین اسلام ہے۔"
* "یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔"
کافر یا منافق کے جوابات:
وہ گھبرا کر کہے گا: "ہائے ہائے! مجھے نہیں معلوم، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔"
5. قبر کا انجام (سکون کی نیند یا عذاب)
سوالات کے جوابات کے بعد، انسان پر قبر کی اگلی حالت شروع ہوتی ہے جو قیامت تک رہے گی۔ یہاں "خواب" جیسا تصور آتا ہے:
* مومن کے لیے (سکون کی نیند): جب مومن صحیح جواب دے دیتا ہے، تو آسمان سے آواز آتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا۔ اس کی قبر کو وسیع (کشادہ) کر دیا جاتا ہے اور جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سے جنت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے۔ فرشتے اسے کہتے ہیں:
> "نئی دلہن کی طرح سو جا جسے وہی جگاتا ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے۔" (جامع ترمذی)
> اس حالت میں مومن قیامت تک ایک بہترین اور پرسکون نیند (برزخی خواب کی طرح) میں رہتا ہے۔
>
* گناہ گار کے لیے (عذاب): کافر یا منافق کے غلط جواب پر اس کی قبر کو اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ پسلیاں ایک دوسرے میں دھنس جاتی ہیں۔ اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سے آگ کی لپٹ اور تپش آتی ہے اور اس پر عذاب شروع ہو جاتا ہے جو مسلسل رہتا ہے۔
خلاصہ:
موت کے بعد انسان عام خواب نہیں دیکھتا، بلکہ ایک نئی دنیا (عالمِ برزخ) میں قدم رکھتا ہے۔ قبر میں دفنائے جانے کے بعد روح جسم میں لوٹائی جاتی ہے، انسان باقاعدہ ہوش میں اٹھتا ہے، فرشتوں کے سوالات کا سامنا کرتا ہے، اور اپنے اعمال کے مطابق یا تو قیامت تک کسی پرسکون نیند میں چلا جاتا ہے یا پھر عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔