21/06/2020
وزیر اعلی صاحب ایک نظر ادھر بھی ۔۔۔۔
بجٹ 2021 میں ریسکیو 1122 کے دفاتر تمام آضلاع میں قائم کئے جائنگے۔۔۔۔۔باقی کوئی دوسرے مراعات کا ذکر نہیں ہے بجٹ میں ۔۔۔۔۔
افسوس صد افسوس
وزیر اعلی صاحب کو باقی سارے ڈپارٹمنٹ یاد ہیں پر COVID.19
کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کے ساتھ کھڑے ہونے والے عوام اور لاچار دوست ڈپارٹمنٹ ریسکیو 1122 گلگت بلتستان کا نام تک یاد نہیں اور اسمبلی میں نام لینا بھی گوارا نہیں کیا. ریسکیو ڈپارٹمنٹ 2012 میں بنایا پر ابھی 8 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی مراعات نہیں ہیں ہر لمحہ آگ اور مختلف جان لیوا ایمرجنسیز کو ڈیل کرتے ہوئے بغیر اپنی جان کی پرواہ کیے بگیر لوگون کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہین .مگر انکو نہ ہیلتھ اور لائف انشورنس کیا بندوبست ہے نہ رسک الاؤنس دیا جارہا ہے 24 گھنٹے ڈیوٹی پہ مامور ان بے چاروں کو FDA سے بھی محروم رکھا گیا ہے .نہ سروس سٹرکچر کی کوئی پیشرفت ہے جس کی وجہ سے ملازمین سارے مایوسی کا شکار ہیں کہ ان کا مستقبل دھیما نظر آ رہا ہے .
تمام ریسکیو 1122 کے ملازمین کے حکومت سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ ان مطالبات کا فوری طور پر سدباب کر کے اپنے فرائض کو.نبھاتے ہویے تمام ملازمین کو شکر گزاری کا موقع دے.۔۔۔۔۔