22/02/2025
نئے دیوبندی نمونے
*یہ کونسی نماز ہے یہ طریقہ کس نے بتایا ہے*
صحابی رسولﷺ نعمان بن بشیر رضیﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم اپنے ساتھی نمازی کے گھٹنے سے گھٹنا، کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنا ملا لیتے تھے
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا :’’ اپنی صفیں برابر کر لو ۔‘‘ آپ نے یہ تین بار فرمایا :’’ قسم اللہ کی ! (ضرور ایسا ہو گا کہ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا ۔‘‘ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا (ابوداؤد۔662)
یہ کسی مدرسے کے بچے ہیں انہوں نے اپنے پیر آپس میں جوڑ رکھے ہیں، انہیں شروع سے ہی غلط تعلیم دی جا رہی ہے بڑے ہو کر یہ حق کیسے قبول کریں گے؟؟