24/04/2026
تازہ حمد
صبح کے مصلے پر جب وضو چمکتا ہے
سجدہ ریز ماتھے سے رنگِ ہُو چمکتا ہے
تیرا ہی تو پرتو ہے کائنات کا چہرہ
نور کی حقیقت میں تُو ہی تُو چمکتا ہے
روح میں تُو خوشبو ہے آنکھ میں تُو جلوہ ہے
کو بہ کو مہکتا ہے چار سُو چمکتا ہے
برگِ گُل کی نُزہت میں، تتلیوں کی رنگت میں
رنگ تیری قدرت کا، ہو بہو چمکتا ہے
نور تیری وحدت کا، طورِ جاں کے روزن سے
خلوتوں کے منظر کے، رُو بہ رُو چمکتا ہے
خوف جب مٹاتا ہے آس کے نشانوں کو
میری چشمِ تر میں لا تقنَطُو چمکتا ہے
اک طرف ہی رہنے دو، انتشار سمتوں کا
اس فقیر کا چہرہ، قبلہ رُو چمکتا ہے
احمد زوہیب