Save River Swat Campaign - دریائے سوات بچاؤ تحریک

  • Home
  • Pakistan
  • Swat
  • Save River Swat Campaign - دریائے سوات بچاؤ تحریک

Save River Swat Campaign - دریائے سوات بچاؤ تحریک Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Save River Swat Campaign - دریائے سوات بچاؤ تحریک, Environmental conservation organisation, Bahrain Swat, Swat.

A number of hydropower projects designed on the beautiful Swat River beyond the Madyan town in the Swat district wherein the River Swat is being diverted into tunnels are surely meant death to this beautiful river and the indigenous people around.

Have written a piece for Global Voices on the struggle by the Torwali people against the harmful Madyan Hydropower Proje...
08/05/2026

Have written a piece for Global Voices on the struggle by the Torwali people against the harmful Madyan Hydropower Project, the Indigenous status of the Torwali people and the World Bank's failure (so far) in releasing the rescreening report to determine the Indigeneity of the affected community, which the Bank had done in June 2025.
Please read the piece here and share.

For Torwali community in Pakistan’s Swat valley, rivers embody sacred identity and history. Government-backed hydropower projects threaten them, prompting resistance since 2023 to protect the Swat river and cultural survival.

16/04/2026

دریائے سوات بچاؤ تحریک کی کامیابی، مایوسی اور اگلے ارادے
۔۔۔۔
علاقے کے بیشتر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کو فنڈنگ فراہم کرنے والا ورلڈ بنک (World Bank) نے باقاعدہ طور پر صوبائی حکومت سے کہا کہ وہ مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کو رقوم فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ بنک نے باضابطہ طور پر حکومت سے کہا کہ اس منصوبے میں بڑی ماحولیاتی، مالی اور تیکنیکی نقائص ہیں اس لیے اس کو حکومت اس بڑے منصوبے (KHRE) سے نکال دے۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ دنوں صوبائی کابینہ نے مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کو اس پروگرام سے نکالنے کی منظوری دی۔
علاقے میں اس منصوبے کی فنی، ماحولیاتی، مالی، ذرعی اور دیگر خرابیوں کو سمجھ کر دریائے سوات بچاؤ تحریک جولائی 2024ء کو وجود میں آئی تھی اور اب تک قائم و دائم ہے۔ اس تحریک میں مختلف الخیال، مختلف نظریوں سے تعلق رکھنے والے اور کئی دیگر معاملات میں ایک دوسرے سے سخت اختلاف رکھنے والے لوگ شامل تھے اور ہیں۔ ایسے میں تحریک کےجلد ٹوٹنے کے امکانات بھی زیادہ تھے تاہم مٹی، دھرتی اور وسائل سے محبت رکھنے والے ان لوگوں نے اپنے دیگر اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اسی منصوبے کے پیچھے لگ گئے۔ انہوں نے مقامی طور پر کئی جرگوں، احتجاجوں اور ملاقاتوں کے علاوہ ورلڈ بنک ، حکومت اور بین الاقوامی اداروں سے بیسیوں اجلاس کیے اور سب اجلاسوں میں تحریک ہمیشہ ہر لحاظ سے اپنی بات کرنے میں حاوی اور دلیر رہی۔ ایک سابق ڈپٹی کمشنر نے تو یہاں تک کہا کہ ان کو سوات ضلعے میں ایسے لوگوں سے کبھی پالا نہیں پڑا جو بات کو مہذب طریقے سے اور اس قدر دلائیل کے ساتھ کرسکتے ہیں کہ ان کی بات کی نفی بڑے بڑے ماہرین بھی نہیں کرسکتے۔ ان ڈپٹی کمشنر کے نزدیک ان کی آنکھیں کھل گئیں کیوں کہ وہ بالائی سوات کے ان باشندوں کو زیادہ پسماندہ ذہن سمجھتا تھا۔ اسی طرح ایک بین الاقوامی اجلاس میں ایک امریکی سنیٹر نے کہا کہ اس کو توقع نہیں تھی کہ کسی پہاڑی آبائی کمیونیٹی کے بندے بھی اس بہتر انداز سے پریزیٹیشن دے سکتے ہیں اور اپنی بات دلائیل کے ساتھ اس خوداعتمادی کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں۔
اس پہلی کامیابی کے بعد یہ لازمی ہے کہ اس تحریک کی نظم و ضبط کا تجزیہ کیا جائے۔ یہ کئی لوگوں کو معلوم ہے کہ تحریک کے ساتھیوں میں اختلافات بھی بلا کے تھے اور ان کے بیچ مخاصمت بھی بڑھائی جاتی تھی۔ تاہم یہ چیزیں ہر تحریک کا حصّہ ہوتی ہیں لہذا کوئی انوکھی بات نہیں اگرچہ کئی موقعوں پر اس کی وجہ سے مایوسی بھی بڑھی۔
تحریک کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے۔ مطلب یہاں عہدے نہیں ہیں۔ عارضی طور پر انتظام کاری کے لیے دو مہینوں کے لیے ایک صدر کا کثرت رائے یا اتفاق رائے سے انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ وہ مقامی طور پر تحریک کے ساتھیوں کا مشاورتی اجلاس بلا سکے ۔ یہ شخص بہ یک وقت اطلاعات کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس روایت کی وجہ سے عہدوں کے لیے کوئی مقابلہ نہیں رہا۔ کئی ساتھیوں کودوسری ذمہ داریوں کی وجہ سے ہمیشہ اس صدارت سے دور رکھا گیا۔
جب بھی کسی اجلاس کی اطلاع آتی تو اس سے پہلے دو دن تک تحریک کے ساتھی اپسمیں میں مشاورت کرتے کہ اجلاس میں مجموعی طور پر کیا مؤقف پیش کرنا ہے اور کس نے کب کیا اور کس طرح بات کرنی ہے۔ یہ بغیر کسی لکھت پڑھت کے طے ہوجاتا او اجلاس میں کسی نے تینیکی طور پر دلائیل دینے ہوتے تھے تو کسی نے کمیونیٹی سطح پر آکر بات کرنی ہوتی تھی۔ کسی نے تھوڑا غصّہ کرنا ہوتا تھا تو چند ایک ساتھیوں کی ذمہ داری میں سخت لہجے میں بات کرنی ہوتی تھی۔ یوں ماحول متوازن رہتا اور سامنے والوں کی ہر دلیل اور بات کا جواب دیا جاتا اور ساتھ کمیونیٹی کی طرف سے غصّے کا اظہار بھی کیا جاتا۔ اجلاس کے بعد مقابل فریقین کے ساتھ گلے ملا جاتا اور یہ باور کرایا جاتا کہ تحریک کا کسی کی زات سے کوئی مسئلہ نہیں۔ تحریک کا ہدف یہ منصوبہ ہے۔
تحریک کے اندر اگر کہیں کوئی غلط فہمی پیدا ہوجاتی تو اس کو دور کرنے کے لیے بندے مقرر تھے اور وہ اپنی روایت کے مطابق ایسی کسی منفی عمل کو روک لیتے۔
ایسا بین الاقوامی آن لائن اجلاسوں میں بھی کیا جاتا۔ اب تک ورلڈ بنک کے مینجمنٹ کے علاوہ اس کے ڈائریکٹرز کے ساتھ 10 سے زیادہ اجلاس ہوچکے ہیں جن میں برطانیہ کے ای ڈیز، آسٹریلیا کے ای ڈیز، جرمنی کے ای ڈیز، فرانس کے ای ڈیز، افریقی ای ڈیز، امریکی سنیٹرز اور ورلڈ بنک کے ای ڈیز شامل ہیں۔
ان اجلاسوں میں بھی ایک بندہ آن لائین ویڈیو پرزینٹیشن دیتا اور اس کا دورانیہ 20 تا 30 منٹس ہوتا۔ اس کے بعد تحریک کے اس بندے کے پیچھے دو اور بین الاقوامی ساتھی بیٹھے ہوتے تھے۔ کوئی بات اگر رہ جاتی تو یہ ساتھی کرلیتے۔ ان میں سے ایک ساتھی زیادہ تر پالیسی سطح کی بات کرتے اور دوسرا ساتھی ورلڈ بنک کے ساتھ تحریک کی مشاورت اور بنک کی طرف سے کمیوں کو زور دار لہجے میں سامنے رکھتا۔ پھر سوالات ہوتے۔ کمیونیٹی اور زمینی حقائق سے متعلق سوالات کے جوابات یہ پریزنٹر دیتا اور باقی تیکنیکی سوالات کے جوابات یہ دو بندے دیتے۔ یہ ایک شاندار طریقہ بن جاتا اور بہت مؤثر رہتا۔
کئی دیگر باتیں بھی ہیں تاہم یہ چند باتیں اہم تھیں ۔
آج یہ کہانی تب یاد اگئی جب ایک ساتھی نے کسی پرانے وقت کے واقعات سنائے۔ ایک کہانی ایسی تھی کہ جب ایک بہت بڑے تنازعے میں اس وقت ہمارے بڑے کمشنر کے آفیس میں اجلاس میں بلائے گئے۔ ان بڑوں میں جو اس وقت سب سے کم عمر تھے وہ اب حیات ہیں اور تقریباً 96 سال کے ہیں جبکہ دیگر سارے بڑے کئی سال پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب یہاں سے یہ پانچ بڑے اپنے اس کم عمر ساتھی کے ساتھ کمشنر آفیس پہنچے تو انہوں نے اپسمیں میں مشورہ کیا کہ ان میں سے ایک بندہ بات کرے گا اور باقی اس کی تائید کریں گے۔ ان بزرگوں نے اپنے اس چھوٹے ساتھی کو چنا۔ سب نے مشورہ کیا اور ایک مؤقف پر اتفاق کرکے کمشنر کے آفیس میں داخل ہوگئے۔ جن کو چنا گیا تھا انہوں نے ڈٹ کر مدلل انداز میں بات کی اور ایک ہارے ہوئے کیس کو اپنی طرف لانے میں کامیاب ہوئے۔
مجھے یہاں کے سماجی معاملات میں رہتے ہوئےیا ان پر نظر رکھتے ہوئے کئی سال ہوگئے۔ اس دوران خود بھی کئی معاملات میں سرگرم رہا اور کئی سرگرمیوں کا خود مشاہدہ بھی کیا۔ اپنی ان سرگرمیوں اور مشاہدات کی بنا پر کافی مایوس ہوچکا ہوں۔ اس مایوسی کی کئی وجوہات ہیں:
1۔ معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں تگڑی قیادت نہیں رہی ہے۔ ایسی قیادت جو کسی مسئلے کو اجتماعی مان کر قیادت کرے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے بڑے بہت زیادہ سیاسی ہوچکے ہیں اور اسی میں اونچ نیچ کی وجہ سے عام لوگوں سے گلہ مند رہتے ہیں بلکہ طعنے بھی دیتے ہیں کہ ووٹ جس کو دیا ہے باقی مسئلوں کا حل بھی انہی سے مانگا جائے۔ چند ایک اڈھیڑ عمر کے بندے سیاست میں مخل ہیں تاہم ان کے سامنے نہ کوئی مقصد ہے اور نہ ہی کوئی منشاء۔ معذرت کے ساتھ ان بندوں نے خود کو کئی پارٹیوں میں اس لیے پایا کہ ان کا مدمقابل کسی اور پارٹی میں تھا۔ اس سے اوپر مجھے کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔
2۔ مجھے یہاں کے لوگوں کو ایک متحد قوم (یہاں قوم سے مراد خیل، قبیلہ یا گاؤں نہیں ہے بلکہ پورے توروالی پٹی اور اس کے بعد پورے کوہستان بلٹ کے لوگ ہیں) بنانے کی ارزو تھی اور ہے تاہم دکھتا یہی ہے کہ یکتا تو کجا ہم لوگ مزید تکڑوں میں اور ذیلی قبیلوں میں بٹتے جارہے ہیں۔ کسی کو اگر بڑے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو اس کو ہمیشہ گلہ مند ہی پایا گیا ہے۔
3۔ ہمارے گزرے ہوئے بڑے اپنے ہی خاندانوں میں بگڑوں کو قابو کرلیتے اور ان کومضر سرگرمیوں سے باز رکھتے تھے۔ اب ایسی ہر کوشش یا تو ناکام ہوجاتی ہے یا پھر دل سے نہیں کی جاتی ہے۔
4۔ قصبہ بحرین پورے پٹی بلکہ پورے تحصیل بحرین کا مرکز ہے اور اس کی طرف ہر گاؤں کے لوگ دیکھتے ہیں تاہم یہاں سے کوئی خاص مؤثر آواز ان مضافات کے لیے نہیں اٹھائی جاتی اور نہ ہی ان کو ان کے مسائل کے وقت یاد کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مضافات سے ووٹ اکثر مقامیوں کو نہیں ملتا۔
5۔ ہمارے ہاں صلح صفائی یا ثالثی کرنے والا کوئی جرگہ/یرک موجود نہیں رہا۔ جو چند لوگ اس مد میں اپنے طور پر کوشش کرتے ہیں ان پر ہنسا جاتا ہے یا وہ بھی کئی طرح کے مصلحتوں کے شکار ہوجاتے ہیں جن میں ووٹ ، خیل اور خوف پیش پیش رہتے ہیں۔ ایسے میں کوئی غیر جانب دار بااثر ثالثی والا جرگہ نہیں رہا۔ ثالثی کے کئ معاملات علماء کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ اس سے یہاں کی موجودہ قیادت کی بے بسی عیاں ہوجاتی ہے۔ مگر ان علماء کی طرف سے کسی ثالثی والے فارمولے کو بھی نہیں مانا جاتا ہے !
دوستو! ہمیں دریائے سوات بچاؤ تحریک کو ایک مستقل روایتی مگر منظم سماجی ادارے میں بدلنا ہے اور اس کا دائرہ پورے تحصیل بحرین اور اس کے بعد دیگر علاقوں جیسے کمراٹ وادی، کوہستان کے تین ضلعوں، چترال، دمامر اور گلگت بلتستان تک پھیلانا ہے۔
1۔ آبائیت Indigenous کے سوال پر نوجوانوں اور بڑوں کا ایک نمائندہ کونسل/یرک/جرگہ بنانا ہے۔
2۔ چند مخلص بڑوں پر مشتمل ایک نمائندہ یرک/جرگہ علاقے میں ثالثی کے لیے قائم کرنا ہے۔
3۔ تحریک کی ایک شاخ کو علاقے میں تعلیمی، رسائی اور صحت کی ترقی کے لیے مختص کرنا ہے۔
4۔ درال منصوبے میں جو وعدے کیے گئے تھے نا صرف ان کو حاصل کرنا ہے بلکہ دریا میں ہر وقت پانی کے بہاؤ کو بھی یقینی بنانا ہے۔
5۔ علاقے میں دریائے سوات کی کھدائی کے لئے مہم چلانی ہے تاکہ دریا 2010ء سے پہلے والی حدود میں چلا جائے اور کئی غریب لوگوں کی زمینوں کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔
6۔ اس تحریک کو کالام، اتروڑ، کمراٹ، دوبیر، داسو، دیامر بھاشا اور کالاش وادیوں تک پھیلانا ہے۔
7۔ ورلڈ بنک کے نکلنے کے بعد بھی اس مدین منصوبے پر کڑی نظر رکھنی ہوگی کہ کہیں حکومت کوئی اور کھیل نہ کھیلے۔
توجہ کا شکریہ
زبیر توروالی

Our panel’s theme was “From Global to Regional: Asia at the Heart of Energy Transition.” My challenge was to anchor this...
09/12/2025

Our panel’s theme was “From Global to Regional: Asia at the Heart of Energy Transition.” My challenge was to anchor this broad, continent-wide discussion in the specific realities of northern Pakistan—particularly the Madyan Hydropower Project. It was not easy. This was an international conference where the conversation revolved around energy policy, the transition from fossil fuels to solar and hydropower, and the geopolitics of Asia’s energy future. In one of the morning sessions, the Federal Minister Ahsan Iqbal described hydropower as green and clean energy, although he stopped short of calling it renewable. Still, “green and clean” implies energy systems with relatively lower climate impacts.
My two co-panelists were specialists approaching the subject from economic and geopolitical perspectives. Meanwhile, the conference organizers were anxious that the conversation should not devolve into a debate solely about hydropower. My original paper had already been modified, and I had been advised to avoid specific local examples.
But then what happened?
The moment the microphone was in my hand, I pulled the discussion from the abstract realm of international financial institutions (IFIs) and state policies and brought it back to the ground—to the people who actually bear the consequences of these policies. I reminded the audience that while IFIs and governments may be the official stakeholders, it is the local communities who end up paying the real price. From there, I drew a line across Asia and brought the discussion home to northern Pakistan—giving examples from Swat, Dir, Chitral, and Kohistan.
I questioned the future of the eighteen proposed projects on the rivers of Swat, and I highlighted what similar projects are doing to communities in Chitral and Kohistan. The entire session shifted. What began as a discussion about finance and state-level planning transformed into a session centered on affected peoples.

The resistance of the Save River Swat Movement was taken as a powerful example of local mobilization. Participants appreciated how this movement directly engaged with the World Bank and managed to reach international institutions and civil society networks. For many, this became a story of hope—a rare instance where Indigenous and local communities successfully entered global policy spaces.
One of the organizers remarked afterwards: “When the microphone reached you, you turned the whole panel in your direction.”
I replied, “Because I speak as an ordinary person. I do not lose myself in jargon; I speak from people’s lived experiences.”
Today is the second day of the conference, and in the very first panel, every discussion on the transition from one energy technology to another has repeatedly invoked Swat, the Swat River, and the Torwali people. What began as a global conversation has now been grounded in the experiences of northern Pakistan—exactly where it needed to be.

25/11/2025

دریائے سوات بچاؤ تحریک کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے گرینڈ جرگہ میں مختلف علاقوں سے آئے مشران کی کثیر تعداد میں شرکت

24/11/2025

Zubair Torwali speaks at the consultative Jirga of the Indigenous Torwali people against the Madyan Hydropower Project

24/11/2025

انعام اللہ مدین ہائیڈرو پاور کے بارے میں جرگے سے خطاب کر رہے ہیں۔

24/11/2025
23/11/2025

مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے خلاف بحرین نمائندہ جرگہ/یرک اور بحرین اعلامیہ/عہد
۔
’’مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اپنی موجودہ صورت میں اور بغیر فری، پرائر اینڈ انفارمڈ کنسلٹیشن (FPIC) کے، توروالی مقامی/اصل باشندوں کے لیے قابلِ قبول نہیں‘‘ یہ اعلان بحرین سوات میں توروالی قوم کی روایتی کونسل/یرک (جرگہ) نے 21 نومبر 2025ء کو بحرین میں کیا۔
توروالی بولنے والے علاقے، تحصیل بحرین سوات کے ہر گاؤں کی نمائندگی پر مشتمل روایتی جرگہ آج (21 نومبر) بحرین سوات میں ”دریائے سوات بچاؤ تحریک” کے زیرِ اہتمام مدعو کیا گیا تاکہ 207 میگا واٹ کے مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے عوامی مشاورت کی جائے۔ یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے ’’خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ انرجی پروگرام (KHRE)‘‘ کے تحت فنڈڈ ہے اور اس پر عمل درآمد پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (P**O) کر رہی ہے۔
اس جرگے میں مذکورہ پراجیکٹ کے ’’ایریا آف انفلوئنس (AOI)‘‘ کے ہر گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ دیگر تمام توروالی بستیوں ، گاؤں ، مدین اور کالام کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
جرگہ کے نمایاں مقررین میں سابق صوبائی وزیر ملک محمد دیدار خان، ملک خوشید علی، ملک نثار احمد، ملک بخت مند، ایڈوکیٹ اقبال شاہ، ملک دوست محمد خان، راجہ ممتاز، ملک آصف شہزاد، ملک طاوس، حاجی معراج الدین، ملک نوازش علی، صدر بحرین ٹریڈ فیڈریشن خانزادہ خان، انعام اللہ، بخت نواز چموٹ، زبیر توروالی اور نوجوانوں کے نمائندگان طارق حسین زیب جعفر شاہ اور دیگر شامل تھے۔
ملک محمد دیدار خان نے کہا کہ توروالی عوام گزشتہ پندرہ ماہ سے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہمارا اصل فوکس اس منصوبے کے مالی مددگار، ورلڈ بینک، پر ہے جو کہ مقامی اصل باشندوں کے مطالبات کے حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور P**O جیسے ٹھیکیدار ادارے کے حوالے کرکے عوام کو بس کے نیچے دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عوام اس منصوبے کو اس کی موجودہ شکل میں کبھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ ’’ترقی‘‘ کے نام پر P**O نے جو کچھ دارال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں کیا ہےلوگ اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔
ملک خوشید نے جرگے کو بتایا کہ ورلڈ بینک جیسے ادارے اور ان کے مقامی نفاذ کنندگان یا پرائیویٹ سیکٹر ہمارے وسائل کو تباہ کر رہے ہیں جو عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ملک نثار احمد نے دریائے سوات بچاؤ تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک پچھلے سولہ مہینوں سے بہترین کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبہ اپنی موجودہ صورت میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جب تک ہماری رضا مندی شامل نہ ہو ہم اس منصوبے کو بننے نہیں دیں گے۔
ایڈوکیٹ اقبال شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے استخراجی منصوبوں کے خلاف متحد ہو جائیں جو ان کے بنیادی حقوق؛ زمین، وسائل اور روزگار؛ کو پامال کرتے ہیں۔
انعام اللہ نے جرگے کو تحریک کے ایجنڈے اور بڑے مقصد سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ تحریک کسی بیرونی فنڈنگ پر نہیں چل رہی بلکہ اس کے کارکنان اپنی قلیل ذاتی وسائل سے اسے چلا رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تحریک پورے ملک کے لیے مثال ہے۔
ملک طاوس، ملک نوازش علی، حاجی معراج الدین، راجہ ممتاز اور دیگر نے اس منصوبے کو اپنے عوام کے لیے قتل سے متعارف کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہر حد تک جائیں گ۔ اس موقعے پر ضلعی زکا ت چئرمین ملک آصف علی شہزاد نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وہ اور اس کی پارٹی اس تحریک کے ساتھ ہیں اور مدین ہائیڈرو پاور منصوبے جیسے ماحول دشمن اور معیشت قاتل پراجیکٹ کو قبول نہیں کرتے۔
نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے طارق حسین زیب اور جعفر شاہ نے کہا کہ دریائے سوات بچاؤ تحریک ان کے مستقبل کو بچا رہی اور اس کا ساتھ دینا نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ ہم پر فرض بھی ہے۔
زبیر توروالی نے دریائے سوات بچاؤ تحریک کی سرگرمیوں اور اس کی ورلڈ بینک، دیگر بین الاقوامی اداروں، P**O اور حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ طویل مشاورت کی تاریخ پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے(ESIA) ماحولیاتی و سماجی اثرات کی تشخیصاور (RAP) ری سیٹلمنٹ ایکشن پلان) سمیت متعدد رپورٹوں میں P**O اور ورلڈ بینک کی غلطیوں کو بے نقاب کیا اور بتایا کہ ورلڈ بینک اور P**O خود ان غلطیوں کا اعتراف کر چکے ہیں اور ایک ’’ایکشن پلان‘‘ پر مذاکرات کے لیے متفق بھی ہوئے تھے۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اس ایکشن پلان پر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے کیونکہ ورلڈ بینک سامنے آ کر بات ہی نہیں کرتا اور P**O کے پاس ایسی مشاورت کی صلاحیت نہیں۔
انہوں نے جرگے کو آگاہ کیا کہ ورلڈ بینک نے اپنی ہی حفاظتی پالیسیاں اس منصوبے میں FPIC سے گریز اور توروالی مقامی باشندوں کی شناخت کی غلط ترجمانی کر کے پامال کی ہیں۔
آخر میں جرگے نے ایک عہد ’’مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے بحرین ڈیکلیریشن‘‘ منظور کیا اور اس پر دستخط کیے۔
اس ڈیکلیریشن کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
دریائے سوات کے تحفظ اور توروالی عوام کے حقوق کے حوالے سے بحرین ڈیکلیریشن
توروالی کمیونٹی کے بزرگوں کی جانب سے، وادی بحرین سوات
ہم، سوات کی بالائی وادی کے توروالی بزرگ اور نمائندگان جو اس سرزمین کے پہاڑوں، جنگلات، دریاؤں اور روایات کے امین ہیں، بحرین میں جمع ہوئے تاکہ مجوزہ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور اس کے اثرات پر غور و خوض کیا جائے۔ اجتماعی مشاورت کے بعد ہم اپنے قدرتی اور ثقافتی ورثے کے دفاع میں یہ اعلان جاری کرتے ہیں جسے ہم آنے والی نسلوں کے لیے امانت سمجھتے ہیں۔
صدیوں سے توروالی قوم دریائے سوات کے بالائی خطے—بحرین سے کالام تک—کے کنارے آباد ہے۔ ہماری روزی روٹی، ہماری زبان، ہمارے گیت، اور ہماری شناخت اس دریا سے جڑی ہوئی ہے جسے ہم ’’گھین نھد‘‘—اپنی زندگی کی شہ رگ—سمجھتے ہیں۔ اس کے اردگرد کے جنگلات، چراگاہیں اور گلیشیئر ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں، جو ہمارے رواجی نظام، باہمی تعاون اور فطرت سے احترام کے رشتے میں گندھے ہوئے ہیں۔
2۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ترقی اور توانائی کا حصول پاکستان کے لیے ضروری ہے، مگر ایسی کوئی ترقی قابلِ قبول نہیں جو ہماری زندگی، زمین، زبان، اور ثقافت کے بنیادی حقوق کو پامال کرے جن کی ضمانت پاکستان کا آئین اور اقوامِ متحدہ کا ’’اعلانِ حقوقِ مقامی اقوام (UNDRIP)‘‘ دیتا ہے۔
مدین ہائیڈرو پاور پراجیک جو FPIC کے بغیر بنایا گیا ہے، ترقی نہیں بلکہ وسائل سے ہماری بے دخلی ہے۔ یہ دریائے سوات کے ماحولیاتی توازن کو بگاڑے گا، ہمارے روزگار کو تباہ کرے گا اور پہلے سے کمزور مقامی اقوام کو مزید حاشیے پر دھکیل دے گا۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ:
1۔ توروالی قوم اس خطے کی اصل اور مقامی قوم ہے۔ ہماری موجودگی جدید ریاست سے پہلے کی ہے۔ زمین، جنگلات اور پانیوں پر ہمارے حقوق تاریخی، اخلاقی اور اجتماعی ہیں۔ ہر ترقیاتی منصوبہ ان حقوق کو تسلیم کرے اور ہمیں بنیادی اسٹیک ہولڈر کے طور پر شامل کرے۔
2۔ کوئی منصوبہ اس وقت تک قبول نہیں جب تک ہماری حقیقی FPIC نہ لی جائے۔ مشاورت نمائشی یا جلد بازی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے گاؤں میں، ہماری زبان میں، اور تمام دستاویزات کے درست ترجمے اور آزاد ماہرین کی مدد کے ساتھ ہونی چاہیے۔
3۔ ترقی وہ ہے جو تباہ نہ کرے بلکہ بہتر بنائے۔ اصل ترقی وہ ہے جو لوگوں کو بااختیار بنائے، ماحول کی حفاظت کرے اور مقامی ثقافت کو مضبوط کرے۔ وہ منصوبے جو کمپنیوں کو امیر اور مقامی لوگوں کو غریب چھوڑ دیں، ظالمانہ اور غیرپائیدار ہیں۔
4۔ حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی ادارے خصوصاً ورلڈ بینک اپنے ماحولیات اور مقامی عوامی حقوق کے تحفظ کے وعدے پورے کریں۔
ان سے انحراف ’’اعتماد شکنی‘‘ ہوگا اور نئے ناموں میں ’’نوآبادیاتی‘‘ استحصال کے مترادف ہوگا۔
5۔ دریائے سوات بچاؤ تحریک توروالی اور بالائی سوات کے دیگر پہاڑی لوگوں کی اجتماعی آواز کی نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اس تحریک سے نیک نیتی سے مذاکرات کریں۔
6۔ ہم ایسی متبادل ترقی کے حامی ہیں جو ماحولیاتی تحفظ، عوامی شراکت، ثقافتی تسلسل، اور انصاف پر مبنی ہو۔ ہائیڈرو پاور منصوبوں کو دوبارہ جانچا جائے—موسمیاتی تبدیلی، گلیشیائی نازکی اور مقامی پائیداری کے پیمانوں کو سامنے رکھتے ہوئے۔
7۔ ورلڈ بنک اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی نہ کرے اور کھل کر شفاف طریقے سے مقامی توروالی آبادی سے مشاورت کرے۔
8۔ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہمیں اس کے موجودہ صورت میں ہر گز منظور نہیں۔
آخر میں، ہم اعلان کرتے ہیں کہ دریا کوئی استحصالی وسیلہ نہیں—یہ ہمارا رشتہ دار ہے، ایک مقدس امانت۔
ہم اس کے تحفظ کے لیے پُرامن اور مسلسل جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ انصاف ہو، ہمارے حقوق تسلیم ہوں، اور ہمارا دریا آزاد بہتا رہے۔
یہ اعلامیہ مقامی توروالی بزرگوں کی جانب سے مدین، وادی سوات، پاکستان میں منظور کیا گیا۔ تفصیل شیرعلی خان بشری خیل کی اس رپورٹ میں

Address

Bahrain Swat
Swat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Save River Swat Campaign - دریائے سوات بچاؤ تحریک posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share